ضیا محی الدین اور کرکٹ
ضیا محی الدین کی کرکٹ سے جڑی ایک یاد 1946 میں سروسز الیون کرکٹ ٹیم کا لاہور جم خانہ میں میچ کھیلنا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ وہ کھلاڑی تھے جو دوسری جنگ عظیم میں لڑنے گئے اور جنگ کا خاتمہ ہونے پر ٹیم بنا کر برصغیر آئے، لنڈسے ہیسٹ جس کے کپتان تھے جو آسٹریلیا کے نامور کھلاڑی بنے۔ کیتھ ملرکی بہت تعریف کرتے ہیں، جو عمدہ بلے باز اور بولر تھے۔ ڈینس للی کا نام لیا تو بے ساختہ ان کے منہ سے واہ واہ نکلا۔ اس کے سٹائل کو سراہا اور ان کی بولنگ کو سینہ فگار قراردیا۔
ٹرومین بولر کے طور پر پسند ہیں لیکن اطوار کے اعتبار سے اسے اجڈ بتایا۔کہنے لگے کہ فاسٹ بولروں کی کھیپ تو ویسٹ انڈیز میں تیارہوئی۔ ویزلے ہال، گرفتھ، کولن کرافٹ ،جوئیل گارنر، مائیکل ہولڈنگ، مارشل، ان سب نے تہلکہ مچا دیا۔ ہولڈنگ کا ایکشن انھیں بہت خوبصورت لگتا ،انھیں نیچرل اتھلیٹ قرار دیتے ہیں۔ بتایا کہ فاسٹ بولنگ کی یہ عظیم روایت کورٹنی والش اور کرٹلی امبروز کے بعد دم توڑ گئی۔
کہتے ہیں ، وسیم اکرم نے اپنی کارکردگی سے تہلکہ مچا دیا۔ ناموری حاصل کی۔ لیکن ایکشن کے لحاظ سے ان کو وقار یونس بہت پسند تھے، جن کی بولنگ دیکھ کر ان کو خوشی ہوتی۔ ان کے یارکر کی بھی تعریف کرتے ہیں۔ عمران خان کی بولنگ بھی پسند تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ریورس سوئنگ کا سلسلہ پاکستان نے شروع کیا، جس کے موجد سرفراز نواز تھے جو ان کے خیال میں عجیب کرکٹر تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پسند نہ پسند کی بھی بات ہوتی ہے، جنوبی افریقہ کے بولرڈیل سٹین ٹیسٹ میں چار سو سے زیادہ وکٹیں لے چکا ہے اور اس کا بہت شہرہ ہے لیکن ایک دفعہ بولنگ کرتے دیکھا ، دوسری دفعہ دیکھنے کی ہوس نہیں‘‘
ممتاز اداکار پیٹر اوٹول کے کرکٹ کا رسیا ہونے کے بارے میں پڑھا سنا بہت۔ ضیا محی الدین ان کے ساتھ فلم لارنس آف عریبیہ میں کام کرچکے ہیں۔ ان سے آپ کی میل ملاقات رہی تو ہم نے کرکٹ کے بارے میں ان کی دل چسپی کا پوچھا تو کہا کہ کرکٹ کے بارے میں ان کا علم سطحی قسم کا تھا۔ اداکاروں میں صحیح معنوں میں کرکٹ کا شائق اگر انھوں نے کسی کو پایا تو وہ ٹریور ہاورڈ ہے جس سے ان کی بہت دوستی تھی۔ کہتے ہیں اسے کرکٹ کو اچھی سمجھ بوجھ تھی حالانکہ کھیلتا بہت برا تھا۔ بتایا کہ ایم سی سی کی ممبر شپ بھی اسے مل گئی تھی ، جس پر وہ بہت نازاں تھا۔ یہ بات تو ضیا محی الدین نے بتائی ، ایک بات ہم نے ان کے بارے میں ایک فیچر میں پڑھی جس میں ان کی بیوی نے بتایا تھا کہ وہ فلموں کے لیے اپنے کنٹریکٹ میں یہ نکتہ شامل کراتے کہ ٹیسٹ میچ کے دوران وہ شوٹنگ کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ ایک روز وہ صبح پانچ بجے اٹھ کر 180 میل دور ڈربی شائر میں میچ کھیلنے گئے اور پہلی گیند پر آؤٹ ہوگئے (اس سے ضیا صاحب کی بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ وہ کوئی اچھے کھلاڑی نہ تھے )
عبدالقادر کی صلاحیتوں کے معترف ہیں اور کہتے ہیں کہ گوروں نے ہمارے یہاں کے کسی اسپنر کو مانا ہے تو وہ عبدالقادر ہیں جن کی گگلی وہ سمجھ نہ سکے۔ لیگ اسپن بولنگ کا ذکر چھڑا تو ذہن معاً ان کی یادداشتوں کی کتاب A carrot is a carrot کی طرف مڑ گیا جس میں انھوں نے بچپن کے ایک محلے دار لیگ بریک بولر کو شین وارن سے بڑا بولر قرار دیا ہے۔ ہم نے اس بات کا حوالہ دیا توبتایا کہ وہ واقعی بہت عمدہ بولر تھا۔ اس زمانے کو آواز دی جب وہ آٹھ نو برس کے تھے اور لاہور میں گھوڑا ہسپتال کے سامنے ان کی رہائش تھی ۔ احمد شجاع پاشا جو اس زمانے میں ادب کا ایک معروف نام تھے ، ان کے بیٹے انور کمال پاشا محلے کی ٹیم کے کپتان تھے،ایک کچا سا میدان تھا جہاں کرکٹ ہوتی۔ کرکٹ کے بارے میں اس لیجنڈ سے ہونے والی گفتگو میں ان کی ذاتی زندگی سے متعلق ایک دلچسپ واقعے کا بیان ان کی زبانی سامنے آیا، جس کا موجب ہمارا یہ سوال بنا:
’’ سنا ہے کہ بچپن میں ایک دفعہ حساب میں صفر آنے پر آپ کے والد نے کرکٹ پر پابندی لگا دی تھی ؟‘‘ تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ صاحب طرز نثر نگار اور ممتاز دانش ور داؤد رہبر ان کے چچا زاد بھائی تھے ۔ جماندرو لائق فائق ۔ میٹرک کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کرنے پر ان کو حکومت نے وظیفہ دیا۔ ضیا محی الدین پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے، اس لیے گھر کا واحد لڑکا ہونے کی وجہ سے ان سے یہ توقع باندھ لی گئی کہ یہ بھی میٹرک میں داؤد رہبر کی تاریخ دہرائیں گے، شومئی قسمت انھی دنوں حساب میں صفر لے بیٹھے، جس سے ابا جی نے گیند بلے پر پابندی لگا دی اور انھیں حساب کا سبق سکھانے پر ایک صاحب کو مامور کردیا۔ یہ سب باتیں ہم نے داؤد رہبر پر ان کے خاکے ’’ کبیرے کا پنتھی ‘‘ میں پڑھ رکھی تھی، ان کا ذکر کیا تو ہم کو وہ کہانی بھی سنا دی جسے انھوں نے اس تحریر میں آئندہ کبھی سنانے کا وعدہ کیا تھا۔
’’ میں حساب میں بہت کمزور تھا۔ میٹرک کے لیے حساب میں پاس ہونا لازم تھا۔ میرے والد نے ریاضی میں ماہر ایک لڑکے کو مجھے ٹیوشن پڑھانے پر مامور کیا۔ لائلپور کے پاس واقع سمندری شہر کا وہ رہنے والا تھا۔ باقی سب لڑکے پتلون شلوار پہن کر آتے وہ تہمد پہن کر آتا، جسے اس لیے برداشت کر لیا جاتا کہ وہ لائق بہت تھا۔ اس نے تین چار مہینے مجھے حساب سکھانے کی کوشش کی ، جس کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ میرے بس کی بات نہیں۔ اس نے صاف کہہ دیا کہ تمھارے پلے کچھ نہیں پڑتا۔ کہا کہ میں ایسا کچھ انتظام کرتا ہوں کہ کچھ ایسے سوالات تیار کردوں جو امتحانات میں اکثر آتے ہیں، مراد گیس پیپرز۔ کہا کہ تمھارا حافظہ اچھا ہے تم ان کو یاد کرلو ان سے ملتے جلتے سوال شاید امتحان میں آجائیں اور تمھارا کام بن جائے۔ اس تجویز کی بھنک ہم نے والد صاحب کو نہ پڑنے دی۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ میں حساب سیکھ رہا ہوں۔ پچھلے آٹھ دس سال کے غیر مجلد گیس پیپرز وہ میں نے اچھی طرح رٹ لیے۔ اتفاق سے اس سال اسی قسم کے سوالات امتحان میں آگئے اور آپ کو حیرت ہوگی ، میرے سارے خاندان کو حیرت تھی، میرے اتنے نمبر آئے کہ وہ داؤد رہبر صاحب کے نمبروں سے بڑھ گئے۔ مجھے وظیفہ ملا۔ پہلے تیس چالیس لوگوں میں میرا نام تھا۔ حساب میں سو میں سے سو۔ داؤد رہبر مجھ سے چار سال بڑے تھے لیکن ان سے میری بہت دوستی ہوگئی تھی تو میں ان سے کہا کرتا تھا کہ میٹرک میں میرے آپ سے زیادہ نمبر تھے۔ ‘‘
ہم نے ان سے کہا کہ مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ وہ ایک عرصے تک ریاضی میں اپنے کمزور ہونے کو مسلمان ہونے کی دلیل سمجھتے رہے، کہنے لگے کہ اس معیار پر مجھے پرکھیں تو بہت بڑا مسلمان ہوں۔





Comments are closed.