اردشیر کائوس جی کی باتیں
ایک ایسا وقت بھی آیا تھا، جب کائوس جی اپنے کالموں کی اشاعت کے لیے نئے امکانات پر غور کرنے لگے تھے۔
معروف ادیب اور صحافی، انور سن رائے یہ واقعہ سُناتے ہوئے 94ء میں پہنچ جاتے ہیں۔ اُن دنوں وہ روزنامہ پبلک، کراچی کے ایڈیٹر تھے۔ انقلاب ماتری اخبار کے سرپرست تھے، جن کے کائوس جی سے دوستانہ روابط کی بنا پر ’’ڈان‘‘ میں شایع ہونے والا اُن کا کالم، اردو میں ترجمہ ہو کر ’’پبلک‘‘ میں چَھپا کرتا۔ انور صاحب کے مطابق، کبھی کبھار کائوس جی کالم لے کر خود بھی چلے آتے۔
انور سن رائے کے بہ قول، اُن ہی دنوں کائوس جی نے اپنے ایک کالم میں فیڈرل سیکریٹری، سلمان فاروقی کو موضوع بنایا۔ ماتری صاحب سے مشورے کے بعد ’’بپلک‘‘ میں کالم، اگلے روز تک کے لیے، روک لیا گیا۔ اتفاقاً وہ ’’ڈان‘‘ میں بھی نہیں چھپا۔
اِس پر ناراض کائوس جی ’’پبلک‘‘ کے دفتر پہنچے۔ انور صاحب سے، اپنا تکیہ کلام برتتے ہوئے، کہا،’’تم نے میرا کالم نہیں چھپا۔ ۔۔۔۔ کیا تم پیسے لیتا ہے؟‘‘
انور سن رائے اُنھیں بیٹھے کے لیے کہا۔ اِسی اثنا میں ماتری صاحب بھی آگئے۔ کالم کے کا موضوع زیر بحث آیا۔ دونوں نے اپنا نقطۂ نظر پیش کیا۔
اگلے ہفتے بھی کائوس جی کا کالم ’’ڈان‘‘ میں نہیں چھپا۔ اِسی اثنا میں ایک بڑے میڈیا گروپ نے اُن سے رابطہ کیا، اور اپنے انگریزی اخبار کے لیے لکھنے کی پیش کش کر دی۔ وہ اِس بابت سنجیدگی سے سوچنے لگے۔
کچھ روز بعد کائوس جی پھر ’’پبلک‘‘ کے دفتر میں موجود تھے۔ یہی پیش کش موضوع بحث تھی، جس پر ماتری صاحب کے تحفظات تھے۔ انور صاحب بتاتے ہیں، ماتری صاحب نے اُنھیں سمجھایا کہ ماضی میں اُن کے تمام کالم، اپنے سخت لہجے کے باوجود، چھپتے رہے ہیں، فقط ایک کالم شایع نہ کرنے پر اپنے اخبار سے ناتا توڑ لینا دُرست نہیں۔ احتجاجاً یہ بھی کہا،’’اگر آپ کے کالم اُس اخبار میں چھپیں گے، تو ’پبلک‘ انھیں نہیں چھاپے گا۔‘‘ یہ سوال بھی زیر بحث آیا کہ کیا اُنھیں پیش کش کرنے والا میڈیا گروپ انگریزی اخبار کے ساتھ اپنے اردو اخبار میں بھی اُن کا کالم چھاپے گا؟
چند روز بعد، انور صاحب کے بہ قول، کائوس جی پھر ’’پبلک‘‘ کے دفتر آئے، اور بتایا کہ اُس گروپ نے اُن کے کالم کا اردو ترجمہ چھاپنے سے انکار کر دیا ہے۔ تب ماتری صاحب نے کہا،’’اب آپ نے اندازہ لگایا کہ ہر اردو اخبار آپ کا کالم ہضم نہیں کرسکتا!‘‘
خیر، بعد میں کائوس جی نے اخبار تبدیل کرنے کا خیال ترک کر دیا، اور زندگی کے اختتام تک ’’ڈان‘‘ ہی میں لکھتے رہے۔
معروف صحافی اور اینکرپرسن، مظہر عباس کو کائوس جی کے کالموں میں جہاں ’’خبریت‘‘ نظر آتی ہے، وہیں وہ اُن میں موجود بھٹو مخالف عنصر کا بھی ذکر کرتے ہیں۔
وہ کائوس جی کے بے لاگ تبصروں اور مخصوص زبان کے استعمال کے تعلق سے کہتے ہیں، اُنھیں جب پروگرام میں مدعو کیا جاتا، تو احتیاط کے پیش نظر کوشش کی جاتی کہ ’’لائیو‘‘ کرنے کے بجائے پروگرام ریکارڈ کر لیا جائے کہ کوئی ایسی ویسی بات ’’آن ایئر‘‘ نہ چلی جائے۔ یادیں کھنگالتے ہوئے کہتے ہیں، ایک بار پروگرام ایڈٹ کرتے ہوئے، غالباً وقت کی کمی کے باعث اُن کی گفت گو کے چند حصے کٹ گئے، جس پر اُنھوں نے فون کرکے اپنے مخصوص انداز میں چبھتا ہوا سوال کیا۔
مظہر صاحب کے مطابق کائوس جی وقت کے بہت پابند تھے۔ اُن کی اِس عادت کے پیش نظر، خیال رکھا رکھا جاتا کہ پروگرام وقت پر مکمل ہو جائے، مگر قومی اسمبلی میں ریکارڈ ہونے والے ایک پروگرام کے دوران تیکنیکی مسائل کی وجہ سے کچھ تاخیر ہوگئی۔ اُس روز خاصی گرمی تھی۔ مظہر صاحب نے محسوس کیا کہ کائوس جی خاصے بے آرام ہیں، تاہم وہ حرفِ شکایت زبان پر نہیں لائے۔
مظہر صاحب کے مطابق کائوس جی ایک جی دار انسان تھے، اور اُنھوں نے اپنے صحافتی کیریر میں فقط ایک بار اُنھیں پریشان دیکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب اُن کے مخالفین فتوؤں کے ساتھ میدان میں اتر آئے تھے۔ اِس اقدام نے اُنھیں دل برداشتہ کر دیا، اور کچھ عرصہ وہ بیرون ملک رہے۔
حس مزاح کائوس جی کی شخصیت کا نمایاں حوالہ تھی۔ سینئر ٹی وی پروڈیوسر، ساجدہ زیدی اِس تعلق سے اپنے تجربات بانٹتی ہیں۔
اُن کے بہ قول، رتی جناح پر پروگرام ریکارڈ ہونا تھا، وہ کائوس جی کو مدعو کرنا چاہتی تھی، لیکن وہ کسی طرح قابو میں نہیں آرہے تھے۔ گھر فون کیا جاتا، تو کوئی ملازم یا رشتے دار ریسور اٹھاتا۔ خدا خدا کرکے رابطہ ہوا۔ اُنھوں نے چُھوٹتے ہی پوچھا،’’میں کیوں پروگرام میں آئوں؟ میرا اِس موضوع سے کیا تعلق؟‘‘
اس روز خاصی نوک جھونک ہوئی۔ ساجدہ زیدی نے اُن کے تند و تیز سوالات کا جہاں مدلل جواب دیا، وہیں حس مزاح بھی برتی۔ یوں معلوم ہوتا تھا، جیسے دو دوستوں میں بحث ہورہی ہے۔ خیر، وہ راضی ہوگئے۔
بعد میں ایک اور پروگرام کے لیے اُنھیں مدعو کیا گیا۔ ساجدہ صاحبہ بتاتی ہیں، پروگرام کے دوران جب کبھی کوئی مہمان اُن سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرتا، تو پلٹ کر جواب دینے کے بجائے، خود کو انتہائی لاتعلق ظاہر کرتے ہوئے وہ سر جھکا کر آنکھیں بند کر لیتے۔ ایسا ظاہر کرتے، جیسے وہ سو رہے ہیں۔ یوں ایک مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوجاتی، لوگوں کے لیے ہنسی روکنا مشکل ہوجاتا۔ کیمرے کے پیچھے سے ساجدہ زیدی پکارتی، ’’کائوس جی!‘‘ وہ ایک آنکھ کھول کر دیکھتے۔ مسکراتے۔ پھر دوبارہ بند کر لیتے۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے






