جمہوریت اقتدار کی پر امن منتقلی کا اکلوتا طریقہ ہے۔ بے شک ہر سیاسی نظام کی طرح جمہوریت کی بھی اپنی محدودات ہیں، مگر تاریخ کے اوراق تصدیق کرتے ہیں کہ سوائے جمہوری نظام کے انسانی فکر ایسا کوئی ڈھانچا متعارف نہیں کرا سکی، جس میں اقتدار کی موثر اور پر امن منتقلی کا امکان موجود ہو۔ ورنہ بادشاہت ہو آمریت یا پھر انقلاب، اقتدار کی منتقلی نے ہمیشہ خون سے اپنی پیاس بجھائی ہے، اور لاشوں کے پہاڑ سر کیے ہیں۔
یہ درست کہ تاریخ کے چند مراحل پر انقلاب بنیادی مطالبہ بن کر ابھرا۔ فرانس ہو یا امریکی انقلاب، یا پھر گزشتہ صدی میں سوویت یونین اور پھر چین میں بپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب۔ بلاشبہ سوشلسٹ انقلاب کے وسیلے عالمی سیاست اور جغرافیے میں بڑی تبدیلیاں آئیں، مگر اس نئے نظام میں اقتدار کی موثر منتقلی نہ ہونے کے باعث چند عشروں بعد دراڑ پڑ گئی۔ سوویت یونین ہو یا چین، بعد کے برسوں میں ایک نیم آمرانہ نظام وجود میں آیا، جس کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔
Read more