جنگ، فکشن اور محمد حمید شاہد کا ماسٹر اسٹروک

یہ تجسس اور تحیر کی کیفیت تھی، جسے میں نے ناول ”جنگ میں محبت کی تصویر نہیں بنتی“ کے خاتمے پر محسوس کیا۔ جذبات کی فراوانی اور ایک توانا احساس کہ یہ جو صاحب ہیں محمد حمید شاہد، یہ دراصل موجودہ اردو فکشن کے مضبوط ترین جوازوں میں سے ایک ہیں۔ یہ ہمیں خبر دیتے ہیں کہ آج کا اردو فکشن کیا ہے؟ اسے کیسا ہونا چاہیے؟ اور اس میں کتنے امکانات ہیں؟ برسوں قبل ”مٹی آدم کھاتی ہے“ سے

Read more

دس مئی کی صبح، بھارتی شکست اور ڈونلڈ ٹرمپ

دس مئی کی صبح حیرتوں کے ساتھ طلوع ہوئی۔ سرحدوں کے دونوں طرف لوگ قبل از وقت بیدار ہو گئے۔ آسمان وقت سے پہلے روشن ہو گیا۔ اس روشنی کا ماخذ پاکستانی فوج کی جانب سے بھارتی جارحیت کا وہ جواب تھا، جو اب لازم ٹھہرا تھا۔ ”آپریشن بنیان مرصوص“ کا آغاز ہوا۔ پاکستان نے فتح میزائل، جے ایف 17، جے 10 سی طیاروں، ڈرونز اور سائبر ہتھیاروں کو استعمال کرتے ہوئے سرحد پار اپنی فضائی برتری کی ایسی دھاک

Read more

کرکٹ، مودی سرکار کا اگلا نشانہ؟ گواسکر کا متنازع بیان اور ایشیا کپ

ابھی جاوید اختر کے متنازع بیان کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سنیل گواسکر ایک جانب دارانہ بیان کے ساتھ میدان میں کود گئے، اور گودی میڈیا کے جنگی ہیجان کو مزید ایندھن فراہم کر دیا۔ اسپورٹس اور آرٹ ؛ یہ دو ایسے ذرائع ہیں، جو دلوں کو قریب لاتے ہیں، کدورتیں مٹاتے ہیں، اور مخالفین کو ایک کر دیتے ہیں۔ برصغیر کے عوام اچھی کرکٹ کے شائق ہیں، یہ آرٹ کو سراہتے ہیں، اور ادیب اور فن

Read more

مودی سرکار کی بوکھلاہٹ، جاوید اختر اور گودی میڈیا

جب سے جنگ کا طبل بجا ہے، مودی سرکار کی بوکھلاہٹ عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ گودی میڈیا ہیجان پیدا کرنے کے مشن پر گامزن ہے، اور جاوید اختر جیسی روشن خیال شخصیات بھی جانب دارانہ بیانات کا ڈھول پیٹ رہی ہیں۔ اسے بدبختی ہی کہا جاسکتا ہے کہ جس سوشلسٹ سوچ کی جواہر لعل نہرو نے تقلید کی کوشش کی، اور جس سیکولر سوچ کو کانگریس نے کسی حد تک برقرار رکھا، وہ بی جے پی کی قوم پرستانہ

Read more

کڑی دھوپ میں ”سائبان“ کی خبر

صاحبو، ایک ایسے عہد خانہ خراب میں، جب بہتوں کے لیے کوئی سائبان نہیں ہے، ہمیں ”سائبان“ میسر ہے، جو ادب اور جمالیات کا آئینہ دار ہے، جس کا مرکز لاہور ہے۔ لاہور، جہاں سے مجھے بوئے یار آتی ہے، جہاں میرا دل دھڑکتا ہے وہاں ”بہاؤ“ جیسے ناول کا مصنف بستا ہے کہ وہاں میرا دوست محمود الحسن ادب کے تانے بانے بنتا ہے۔ وہیں ایک شخص، ایک درویش، حسین مجروح بھی ہے، جو والٹیئر کے کردار کاندید کی

Read more

کتھا، قاری، اور نور جونیجو کا ”مہذب وحشی“

یہ سندھ ہے، ہزار راتوں پر محیط داستان عشق۔ یہ سندھ ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا امین۔ صوفیوں کی سرزمین۔ علم کے متلاشیوں کا مرکز۔ اور اسی سندھ کے باطن سے نور جونیجو کے فکشن کے دھارے پھوٹتے ہیں۔ جدید سندھ سے، اُس کی انفرادیت، اس کے تفاخر، اور اس کے مصائب سے۔ اس کی آرزوؤں، اس کے اندیشوں سے۔ اس کے مرکز سے نور جونیجو کی کہانیاں نکلتی ہیں، اور بہتی چلی جاتی ہیں۔ اس کا ناول

Read more

کتھا، قاری، اور نور جونیجو کا”مہذب وحشی”

یہ سندھ ہے، ہزار راتوں پر محیط داستان عشق۔ یہ سندھ ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا امین۔ صوفیوں کی سرزمین۔ علم کے متلاشیوں کا مرکز۔ اور اسی سندھ کے باطن سے نور جونیجو کے فکشن کے دھارے پھوٹتے ہیں۔ جدید سندھ سے، اُس کی انفرادیت، اس کے تفاخر، اور اس کے مصائب سے۔ اس کی آرزوؤں، اس کے اندیشوں سے۔ اس کے مرکز سے نور جونیجو کی کہانیاں نکلتی ہیں، اور بہتی چلی جاتی ہیں۔ اس کا ناول

Read more

فرخ اور عرفان کا "قائد اسکواڈ”: ناول میں متوازی تاریخ کا تجربہ

  حضرات، میں روز ہی مزار قائد کے سامنے سے گزرتا ہوں، وہاں کا شور، ٹریفک، پریشان حال چہرے میرے لیے معمول کا واقعہ ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اگر کسی روز اچانک میری نظر وہاں موجود ایک پراعتماد نوجوان پر پڑے، جو اوروں سے کچھ مختلف ہو، اور جس میں محمد علی جناح کی جھلک نظر آتی ہو، تو وہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہوگا۔ یہی غیر معمولی واقعہ اس ناول کا مرکزی خیال ہے، جس کا عنوان قائد اسکواڈ

Read more

فکشن نگار، خاکہ نویس اور ٹی وی کی اسکرپٹ ہیڈ، سائرہ غلام نبی سے ایک مکالمہ

زندگی ایک عجب داستاں ہے۔ اس کے تنوع میں یکتائی ہے۔ وقت بیتتا ہے، زمانے بدلتے ہیں، مگر تبدیلیوں کے باوجود آپ اپنی جڑوں سے جڑے رہتے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی، جسے سائرہ غلام نبی جڑی رہیں، ادب کی زرخیز، پراسرار دنیا سے۔ لکھنے پڑھنے سے۔ گھر میں موجود کتب خانے سے یہ سفر شروع ہوا۔ بڑوں کی حوصلہ افزائی نے اسے مہمیز کیا۔ قلم اٹھایا، تو افسانے لکھے، ادبی ملاقاتوں کو خاکوں کی شکل میں ڈھالا، جو۔ کے عنوان

Read more

گاہک کی منتظر ایک کال گرل کا باپ (ایک تجزیہ)

بدھا نے کہا تھا: بھکشو زندگی دکھ ہے۔ ایک تیرہ سالہ لڑکی کا تصور کیجیے، جو کلکتہ کے بدنام زمانہ ریڈ لائٹ ایریا میں نیم برہنہ، بستر پر لیٹی اپنے کلائنٹ کی منتظر ہے۔ یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے، جس کی ماں کم سنی میں فوت ہو گئی، جس کا اکلوتا سہارا اس شفیق باپ تھا، مگر باپ کو فراڈ کے جھوٹے الزام میں پھنسا کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ باپ کا سایہ نہ رہا، تو آسمان

Read more

جناب حاشر ابن ارشاد کا انٹرویو

خیالات کا اظہار، فقط خیالات کی یلغار سے تو نتھی نہیں صاحب، اس لیے انھیں کہنے کا حوصلہ بھی چاہیے۔ اور اگر حوصلے کی منزل طے ہو گئی، تو اگلا مرحلہ ہے سلیقہ۔ جی، سلیقہ نہ ہو، تو نہ ہی منصور کا سر سلامت رہتا ہے، نہ ہی سرمد کا۔ حاشر ابن ارشاد نے جبر کے اس دور میں جن روشن خیالات کا علم اٹھا رکھا ہے، اس کے مطالبات کڑے۔ سامنے ہتھیار بند لشکر اور آپ کے حواری محدود

Read more

جناب ظفر عمران کا انٹرویو

کل شام آرٹس کونسل کی لابی میں، نیلگوں دھویں کے مرغولوں کے درمیان جو دراز گیسو شخص کاما سترا کے سیاق و سباق پر روشنی ڈال رہا تھا، آج دُپہر اپنی سوشل میڈیا وال پر نو جوان نسل کو اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے نظر آیا۔ رات برسات اتری، تو وہ ایک عاشق بن گیا، اور صبح دھوپ پھیلی، تو ایک مبلغ۔ یہ ظفر عمران کا تذکرہ ہے۔ مگر ظفر عمران کون ہے؟ ایک فکشن نویس یا ایک ڈراما نگار؟

Read more

ہم آپ سے سڑکوں پر برہنہ گھومنے کی آزادی نہیں مانگ رہے: ڈاکٹر رامش فاطمہ سے مکالمہ

انٹرویو: اقبال خورشید ۔ ۔ سرخیاں : کیا ”می ٹو“ اور ”فیمینزم“ پر تنقید کرنے والوں کو ان تحریکوں کا اوریجن پتا ہے؟ جذباتی وابستگی انسانوں سے ہو یا شہروں سے، وہ خراج مانگتی ہیں ایمرجنسی میں ڈیوٹی کے بعد لگا، جیسے لفظ پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہو کیا ہمیں عورت قبول ہے؟ وہ عورت، جو پراعتماد ہے، ہنس سکتی ہے، جو چاہے لکھ سکتی ہے، جہاں چاہے جا سکتی ہے۔ عورت، جو سوال اٹھا سکتی ہے؟ یہی

Read more

ادبی مباحث کی کمی کے باعث ہمارے یہاں نیم حکیم ادبی نقاد بن بیٹھے : رحمان عباس

سرخیاں اردو فکشن نگاروں کے لیے عالمی ادب کا اسٹیج سجنے کو ہے تنازعات ادبی مباحث کا حصہ ہیں، تشکیک کا شکار ہوں، خود کو دریافت کرنے میں ناکام رہا معروف فکشن نگار، رحمان عباس سے ایک دل چسپ مکالمہ انٹرویو: اقبال خورشید یہ ایک ایسی کہانی ہے، جس کے پلاٹ میں تنازعات کا تسلسل ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ایک ادیب ہے، ایک متنازع ادیب، جس نے فحش نگاری کے الزامات سہے، مقدمات کا سامنا کیا، اور اپنوں

Read more

ہم نے ہیرو ازم کے لیے غزنوی اور غوری کو ادھار پر لیا ہوا ہے: فرنود عالم

سرخیاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خطاطی کی طرح ماضی کا حوالہ بن جائے گا سوشل میڈیا سے پہلے روشن خیالوں کے لیے اظہار کے آزاد مواقع میسر نہیں تھے معروف کالم نگار، ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ اور سماجی مبصر، فرنود عالم سے ایک مکالمہ انٹرویو: اقبال خورشید جبر کی تاریکی میں اس کے الفاظ کی بازگشت امید افزا ہے، پرشور سناٹے میں اس کی آواز روشن خیالی کی نوید ہے۔ یہ اس شخص کا تذکرہ جو اندھیری سرنگ میں، بغیر رکے

Read more

اردو میں کتاب لکھ کر صرف عزت ملتی ہے، پیسہ نہیں ملتا: عدنان خان کاکڑ

سرخیاں : پاکستان کا مستقبل تاریک ہے، ہم طویل المدتی پلاننگ میں دل چسپی نہیں رکھتے کاغذی میڈیا یوٹیوب کا رخ کر رہا ہے، ظفر عمران کے املا کو زمانے نے مسترد کر دیا معروف صحافی، بلاگر اور ایڈیٹر ہم سب، عدنان خان کاکڑ سے ایک گپ شپ انٹرویو: اقبال خؤرشید ڈیجیٹل صحافت کے شہ سوار ہیں۔ کئی جہتیں ہیں۔ کبھی بلاگ کے سانچے میں ان کا مزاح جنم لیتا ہے، کبھی ولاگ کے فریم میں اپنے درشن کراتے ہیں۔

Read more

سول سپریمیسی کے لیے شفاف انتخابات کے سوا کوئی راستہ نہیں : عاصم اللہ بخش

سرخیاں : خدشہ ہے کہ سانحات کا سلسلہ ابھی تھما نہیں ابن انشاء کی شاعری کا حزن دل کے بہت قریب ہے، عالمی ادب میں ٹالسٹائی نے متاثر کیا ہم حادثہ سے کچھ سیکھنے کے بجائے سینہ کوبی کرتے ہیں، پھر اگلا ”حادثہ“ کر ڈالتے ہیں معروف کالم نگار، سماجی مبصر اور معالج، ڈاکٹر عاصم اللہ بخش سے گپ شپ انٹرویو نگار: اقبال خورشید یوں تو ان کا اصل شعبہ طب ہے، لیکن قلم ان کا نشتر بن جائے، تو

Read more

پاکستان میں وزیراعظم کا سب سے بڑا مسئلہ بے اختیار ہونا ہے: معروف صحافی اور کالم نگار فیض اللہ خان سے مکالمہ

جب ایک سیاسی راہ نما نے پرنم آنکھوں کے ساتھ، قید و بند کی صعوبتوں اور زنداں کی گرمی کا ذکر کرتے ہوئے سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کیا، تو میرا دھیان فیض اللہ خان کی داستان کی سمت چلا گیا۔ فیض اللہ خان، جسے افغانستان کی اجنبی سرزمین پر قید و بند کا عذاب جھیلنا پڑا۔ جرم اس کا شوق صحافت تھا، جس کا تعاقب کرتے ہوئے وہ افغان طالبان کے انٹرویوز کے ارادے سے، خفیہ طور پر

Read more

عرفان جاوید کا انٹرویو

ناپید ہوتی کتابوں کے ساتھ ہم بھی آہستہ آہستہ تحلیل ہو رہے ہیں پاکستانی ادیب کو ہمارے معاشرے میں کم ہی مرکزیت حاصل رہی اردو ناول کا مستقبل مضبوط ہے، البتہ افسانے اور خاکے کم زور نظر آتے ہیں باکمال خاکہ نویس اور فکشن نگار، عرفان جاوید سے چند دل چسپ سوالات انٹرویو نگار: اقبال خورشید کتابیں ان کا عشق۔ اسی عشق نے لکھنے کی جوت جگائی۔ تخلیق کی خواہش کو مطالعے کی کمک ملی، تو عرفان جاوید کا قلم

Read more

خواتین کو درپیش پہلا مسئلہ انہیں بحیثیت انسان قبول نہ کرنا ہے : شہناز شورو

سرخیاں یہ دور خاور مانیکاؤں اور چاہت علی خانوں کا ہے زیادہ تر میلے ٹھیلے اور کانفرنسیں خود نمائش و خود ستائش پر مبنی ہیں زندگی کی ناقد ہوں، یہ ایک غیر منطقی، بھونڈا مذاق ہے معروف فکشن نگار، کالم نویس، مدرس اور سماجی مبصر، ڈاکٹر شہناز شورو سے بات چیت انٹرویو نگار: اقبال خورشید یہ پندرہ برس پرانی یاد ہے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام کالج کی خاموش سیڑھیوں سے کچھ پرے، ایک روشن کمرے میں ایک میز تھی، جس پر

Read more

شاعر، فکشن نگار، مترجم اور صحافی سید کاشف رضا سے ایک مکالمہ

وہ شہر کراچی کا ایک کردار ہے۔ میں اسے سڑکوں پر چلتے پھرتے دیکھتا ہوں۔ کبھی وہ کسی سرد نیوز روم میں سر جھکائے خبریں بنا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کسی مشاعرے میں شعر کہہ رہا ہوتا ہے۔ میں نے اسے جنبش قلم سے ناول تخلیق کرتے ہوئے دیکھا، اور کی بورڈ کی ”ٹک ٹک“ میں کتابوں کے تراجم کرتے ہوئے۔ مگر سب سے پر وقت وہ منظر ہے، جس میں وہ مطالعہ کر رہا ہے، برادرز کراموزوف کا مطالعہ۔

Read more

شہاب نامہ عصری تاریخ کا بھرپور بیانیہ ہے

سرخیاں : ریاست کا انتظامی ڈھانچہ ادب دشمن ہے، پاکستان کو ایک حجاج بن یوسف درکار ہے شکم پرور معاشرے میں کتاب لکھنا شہر نابینا میں آئینوں کی فروخت کا سودا ہے اردو ادیب اپنے پیشگی ایصال ثواب کے لیے کتاب مفت کورئیر سے ترسیل کرتا ہے باکمال فکشن نگار، سابق بیوروکریٹ، اقبال دیوان سے خصوصی مکالمہ وسیع مطالعہ، نگر نگر کا سفر، اور کہانی کہنے کی للک۔ فکشن نگاری کی سمت آنا لگ بھگ طے تھا۔ ایک جانب جہاں

Read more

بڑے اخبار جلدی ختم نہیں ہوں گے، مغرب میں بھی یہ نوبت نہیں آئی: اسلم ملک

سرخیاں : سوچنے سمجھنے والا کوئی شخص غیر جانب دار ہو ہی نہیں سکتا سینسر شپ کے حوالے سے ضیا الحق کا دور بدترین تھا عمران دور میں سینسر شپ محض سوشل میڈیا پروپیگنڈا تھا، سب سے زیادہ تو اسی حکومت کے خلاف چھپتا رہا وبا کے بعد لاہور دوسرے شہروں جیسا ہی لگنے لگا ہے سینئر صحافی، قلم کار اور معروف علم دوست شخصیت، اسلم ملک سے ایک مکالمہ انٹرویو نگار: اقبال خورشید صحافتی سفر پانچ عشروں پر محیط،

Read more

پاکستان کے سنگین ترین معاشرتی جرائم رائٹ ونگ ہی نے کر رکھے ہیں: رعایت اللہ فاروقی

سرخیاں : اردو کالم تقریباً موت کے دروازے پر ہے سوشل میڈیا کا اسلوب مادر پدر آزاد ہے، جس کی وجہ سے یہ مستند نہیں بن سکتا نام ور صحافی اور کالم نگار، رعایت اللہ فاروقی سے خصوصی مکالمہ انٹرویو نگار: اقبال خورشید طویل صحافتی سفر نے تجربات سے لیس کیا، نظریات اظہار کی قوت بنے، اور مطالعے نے اسلوب کو جلا بخشی۔ رعایت اللہ فاروقی کا شمار اس عہد کے نمایاں کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔ اخباری کالمز کا

Read more

ہمارے ادب میں عورت استحصالی رویوں کا شکار رہی: طاہرہ اقبال

سرخیاں : شناخت اسی فن پارے کو ملتی ہے، جس پر مصنف کے دستخط ثبت ہوں ادب معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک خلاق ذہن کا اظہارِ ذات ہے صاحب اسلوب فکشن نگار، ڈاکٹر طاہرہ اقبال سے ایک منفرد بات چیت انٹرویو نگار: اقبال خورشید ان کا فکشن، ان کے پرقوت اسلوب کا عکاس ہے، جسے زبان پر ان کی گرفت، وسیع مشاہدہ اور مسلسل مطالعہ چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ایک روز اسد محمد خاں سے ہمارا

Read more

آج کل ہر طرف جعلی دانش وروں کا زور ہے : مبشر علی زیدی

۔ سرخیاں : لکھنے والا اپنی مٹی سے کٹ کر مٹی ہوجاتا ہے معیشت غرق ہو چکی، اگلا الیکشن جو بھی جیتے گا، وہ سر ہی پیٹے گا ہمارے ادیب اور شاعر ڈرے ہوئے ہیں، وہ صرف پی آر کے شوقین ہیں معروف، متنازع اور منفرد قلم کار و صحافی، مبشر علی زیدی سے ایک گپ شپ وہ آیا، اس نے کہانیاں سنائیں، اور سامعین کو گرویدہ بنا لیا۔ آج ہمارا موضوع ہیں ”سو لفظوں کی کہانی“ والے معروف صحافی،

Read more

لوگ پڑھنا چاہتے ہیں، مگر انھیں اردو میں اچھا مواد میسر نہیں : عامر ہاشم خاکوانی

لوگ پڑھنا چاہتے ہیں، مگر انھیں اردو میں اچھا مواد میسر نہیں : عامر ہاشم خاکوانی سے خصوصی بات چیت سرخیاں : ٭ تصوف اشفاق احمد کے تخلیقی عمل کا حصہ تھا، مفکر اب ہمارے ہاں کہاں رہے ٭ لکھنے کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اس سے پڑھنے والے میں کوئی تبدیلی آئے ٭ اردو ادیبوں میں اگر تصوف کے اثرات ہیں، تو مجھے اعتراض نہیں، مگر تصوف ان کے تخلیقی عمل کا حصہ ہو، وہ مصنوعی نہ لگے

Read more

اقبال کے کائنات کے بارے میں سوالات وقیع نہیں: علی اکبر ناطق کا خصوصی انٹرویو

* کبھی پذیرائی کو مدِ نظر رکھ کر نہیں لکھا، میری دوستی کی ایک قیمت ہے، جو ہر آدمی ادا نہیں کر سکتا۔ * جو ادیب یا شاعر اپنی مرضی کی بات کرتا ہے، اُسے تو اسٹیبلشمنٹ تو چھوڑیے، لبرلز اور نجی فیسٹیولز کے مالکان ہی لفٹ نہیں کراتے نام ور فکشن نگار، شاعر اور قلم کار، علی اکبر ناطق سے خصوصی بات چیت والٹیر کے لازوال کردار ”کاندید“ نے کہا تھا، ہمیں بلا چوں و چرا کام میں مصروف

Read more

کلایڈواسکوپ: نیٹ فلکس کا شاہ کار یا محض چربہ؟

اگر نیٹ فلکس کی تازہ سیریز ”کلایڈو اسکوپ“ پر یک لفظی تبصرہ کیا جائے، تو میں اسے ”متاثر کن“ ہی ٹھہراؤں گا۔ البتہ اس کے متاثر کن ہونے کا سبب اس کا منفرد آئیڈیا نہیں۔ نہیں، یہ پلاٹ کا طلسم بھی نہیں، نہ ہی کردار نگاری کا انوکھا تجربہ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم ایسے غم زدہ، مگر چالاک کرداروں کو، اس آئیڈیے کو اور ایسے پلاٹ کو ماضی میں بھی دیکھ چکے ہیں۔ یہی سچ ہے صاحب۔

Read more

فلم انیک: فکری جہت کی حامل ایک ”ناکام کوشش“

صاحبو، یہ ایک ایسی فلم کا تذکرہ ہے، جس نے پاکستانی ناظرین کی اکثریت سے داد بٹوری، اور سنجیدہ حلقوں کی جانب سے قابل ستائش ٹھہرائی گئی۔ انھوں نے اسے، حیرت اور تجسس کے ساتھ، ایک دلیرانہ، متاثر کن کوشش قرار دیا۔ اور میں ان سے اتفاق کرتا ہوں، گو یہ کام یاب کوشش نہیں، مگر بہ ہرحال، ایک دلیرانہ کوشش ضرور ہے، جو کہیں کہیں دل موہ لیتی ہے۔ اور آج راقم الحروف نے اسی کوشش کو نظری تنقید

Read more

خواجہ سرا، رکشے والا اور سرگوشیاں کرتی کہانیاں

حضرات، یہ امر کتنا دل چسپ ہے کہ قاری مطالعے کے آغاز سے بہت پہلے ہی کتاب سے جڑ جاتا ہے۔ اور یہ جڑت توقعات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ہم چند مصنفین، چند کتابوں سے بہت زیادہ توقعات باندھ لیتے ہیں۔ اور اکثر یہ توقعات پوری نہیں ہوتیں۔ جب راجا شہزاد کی کتاب ”لوگ سرگوشیوں میں گویا ہیں“ مجھ تک پہنچی، تب تک میں انھیں نہیں جانتا تھا۔ سو میرے دل میں کسی توقع نے انگڑائی نہیں لی۔ شعیب گنڈا

Read more

اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑی عورت

وہ اکثر رات کو اسٹریٹ لائٹ کے نیچے کھڑی دکھائی دیتی۔ رات گیارہ بجے میری شفٹ ختم ہوتی۔ جب میں دفتر سے باہر نکلتا، تو فضا میں خاموشی کا خفیف سا شور ہوتا۔ بوسیدہ عمارتوں کی اوپری منزلوں سے بے نام آواز سنائی دیتیں۔ پیڑ خاموش ہوتے۔ اور تاریکی میں مصنوعی روشنی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہوتی۔ جب میں آئی آئی چندریگر روڈ سے آرٹس کونسل کی سمت مڑ تا، تب، ایک اسٹریٹ لائٹ کے نیچے وہ عورت

Read more

دی پارٹی از ناٹ اوور

جمہوریت اقتدار کی پر امن منتقلی کا اکلوتا طریقہ ہے۔ بے شک ہر سیاسی نظام کی طرح جمہوریت کی بھی اپنی محدودات ہیں، مگر تاریخ کے اوراق تصدیق کرتے ہیں کہ سوائے جمہوری نظام کے انسانی فکر ایسا کوئی ڈھانچا متعارف نہیں کرا سکی، جس میں اقتدار کی موثر اور پر امن منتقلی کا امکان موجود ہو۔ ورنہ بادشاہت ہو آمریت یا پھر انقلاب، اقتدار کی منتقلی نے ہمیشہ خون سے اپنی پیاس بجھائی ہے، اور لاشوں کے پہاڑ سر کیے ہیں۔

یہ درست کہ تاریخ کے چند مراحل پر انقلاب بنیادی مطالبہ بن کر ابھرا۔ فرانس ہو یا امریکی انقلاب، یا پھر گزشتہ صدی میں سوویت یونین اور پھر چین میں بپا ہونے والا سوشلسٹ انقلاب۔ بلاشبہ سوشلسٹ انقلاب کے وسیلے عالمی سیاست اور جغرافیے میں بڑی تبدیلیاں آئیں، مگر اس نئے نظام میں اقتدار کی موثر منتقلی نہ ہونے کے باعث چند عشروں بعد دراڑ پڑ گئی۔ سوویت یونین ہو یا چین، بعد کے برسوں میں ایک نیم آمرانہ نظام وجود میں آیا، جس کی باقیات اب بھی موجود ہیں۔

Read more

نواز شریف کا اشارہ کس کی جانب تھا؟

آج کی تاریخ ساز اے پی سی میں میاں نواز شریف نے یہ دھماکے دار بیان داغا کہ ہمارا مقابلہ کپتان سے نہیں، بلکہ اس شخص سے ہے، جو کپتان کو لایا تھا۔

یہ بیان ہمارے لیے متوقع تھا، یوں جیسے ہمارے ہی قلم سے نکلا ہو۔ (ظاہر ہی، میاں صاحب کو ہمارے جیسے ہی کسی عالم فاضل صحافی نے لکھ کر دیا ہوگا) تو خیر، جب ہم نے سوشل میڈیا یہ بیان شیئر کیا، اور اس پر ہزاروں لائیکس آ گئے، تو سینئر صحافی اور ہمارے دوست، رانا محمد آصف کو، جن کے سامنے ہم سیاست، ادب، تصوف اور فلکیات پر کئی شہرہ آفاق تقاریر کر چکے ہیں، جنھیں وہ اپنے نام سے آگے سنا دیتے ہیں، تو انھیں یہ نیک خیال گزرا کہ اس کی ایک علیحدہ پوسٹ بنائی جائے۔

Read more

کتابیں، کاندید اور احفاظ الرحمان

کیا آپ نے والٹیئر کا شہرہ آفاق ناول "کاندید” پڑھا ہے، یا پھر ایلکس ہیلے کا "روٹس؟” کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے، اور میرے دفتری ساتھیوں نے، کم تن خواہوں کے باوجود ایک خاص نوع کے اطمینان کے ساتھ، یہ ناول کیسے پڑھے؟ آج سوچتا ہوں، تو حیرت ہوتی ہے۔ یہ ناول ہمارے میگزین ایڈیٹر، جناب احفاظ الرحمان نے ہمیں تھمائے تھے۔ اور صرف تھمائے نہیں، پڑھنے کی تحریک دی، اور بعد ازاں ان پر گفت گو کا

Read more

سندھ دھرتی اور لسانیت کے عفریت کا برہنہ رقص

مجھے وہ دن یاد ہیں، جب بیدار ہوتے ہی ہمیں خوف آن لیتا، موت کا خوف۔ ہم گھروں سے نکلتے، تو لاعلم ہوتے کہ دفتر پہنچ پائیں گے یا نہیں، ہر موڑ پر اندیشہ ہوتا، ہر سڑک پر خطرہ پھن پھیلائے کھڑا ہوتا۔ اور جب رات اترتی، اور ہم گھروں کو لوٹتے، تو اپنی ماؤں کی امیدوں کے سہارے ہوتے۔ ڈرے ہوئے، سہمے ہوئے ہم سڑکیں عبور کرتے کہ کہیں بھی، کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ یہ 2008 سے 2012 تک کا زمانہ ہے، جب سندھ پر خونیں تکون کی حکومت تھی۔

Read more

فہمیدہ ریاض، طالبان اور تنہائی

اب سن یاد نہیں، پی پی کا دور تھا۔ ایکسپریس کی دوسری عالمی اردو کانفرنس تھی۔ کراچی سے ادیبوں کا وفود لاہور جارہا تھا۔ احفاظ الرحمان صاحب قیادت کر رہے تھے۔ انھوں نے میری ڈیوٹی لگائی کہ جو ادیب ایئرپورٹ پہنچے، اُس کی بورڈنگ کرواتا جاؤں۔ اور یوں میں نے فہمیدہ ریاض کو اتنے قریب سے دیکھا، جیسے رانا بھگوان داس کو دیکھا تھا، اور اسی تجربے سے گزرے، جیسے اُس سہ پہر گزرا تھا۔

میری توقعات کے برعکس، وہ حیران کن حد سادہ نکلیں۔ بیٹھتے ہی مجھ سے پوچھنے لگیں : ”بیٹا، یہ بتاؤ، کیا یہ طالبان ہمیں بھی مار دیں گے؟ “
یہ وہ زمانہ تھا، جو خودکش دھماکے روز ہی سوختگی کی فصل بوتے، سوات ہمارے ہاتھ سے نکل چکا تھا، اور شہروں میں خوف دوڑ رہا تھا۔

Read more

جب برنا اور احفاظ الرحمان صحافیوں کے لیڈر ہوا کرتے تھے

صحافت، جو ریاست کا چوتھا ستون کہلاتا ہے آج لڑکھڑا رہا ہے۔ یہ کھوکھلا ہوچکا۔ شکست و ریخت کا شکار ہے۔ خود سہاروں کا متلاشی ہے کہ اب نہ تو وہ صحافی رہے، جن کا عزم آہنی تھا، جو جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ، سر بلند کیے زنداں جاتے، پیٹھ پر کوڑے کھاتے، بھوک ہڑتالیں کرتے، اور نہ ہی وہ صحافتی تنظمیں، جن میں اتحاد تھا، جو اصولوں کی پاس داری کو مقدم جانتی تھیں۔ صحافت کوآج اندر اور

Read more

احفاظ الرحمان اورعقیدت کی ایک لہر

جس سے آپ کچھ سیکھتے ہیں، وہ آپ کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے اور آدمی اپنی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔ وہ سات سو انٹرویوز، جو میں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر میں کیے، وہ کالمز اور صحافتی کہانیاں جو میں لکھتا رہا، وہ فکشن نگاری، جسے میں اپنا اصل حوالہ سمجھتا ہوں، اُن سب کے پس پردہ ایک قوت کار فرما رہی۔ ایک شخصیت، جس سے اتنی یادیں جڑی ہیں کہ ایک کتاب بن جائے اور

Read more

آدمی، جس پر نوٹ برسا کرتے تھے

ہم امجد صابری کے گھر سے چند قدم دور تھے۔ امجد صابری جسے چند برس بعد بے دردی سے قتل کیا جانا تھا۔ مگر ہماری منزل امجد صابری کا مکان نہیں تھا۔ ہم اس صبح صابری برادرز کے اٹوٹ انگ، فرید صابری کے چھوٹے بھائی مقبول صابری کے انٹرویو کی غرض سے نکلے تھے۔ دن کچھ ایسا گرم نہ تھا، مگر سورج اب دھیرے دھیرے اوپر آرہا تھا۔ حدت بڑھ رہی تھی، اور لیاقت آبادکی تنگ، قدیم گلیاں جاگنے لگی

Read more

کپتان، پومپیو اور مجوقسائی

” کپتان کا اصل نشانہ ٹرمپ ہے!“ جس روز مجو قسائی نے یہ دعویٰ داغا، گوشت کا ناغہ تھا، اور عوام اس سوچ میں غلطاں تھے کہ بھنڈی پکائیں یا دال۔ مجو کی بات سن کر ہم ہنس دیے۔ اور سلیم کے ٹھیے سے پکوڑے اٹھا کر کھاتے رہے، جن میں حسب سابق نمک تیز اور تیل زیادہ تھا۔ مجو نے اپنا قریشیوں والا سر ہلایا، اور کہا؛ امریکی وزیر خارجہ بھارت روانگی کے وقت سخت دباؤ میں تھے، بلڈ

Read more

جناب وزیراعظم، فرد نہ رہیں، عوام بن جائیں!

جناب عمران خان، عوام کو اس سے قطعی غرض نہیں کہ وزیراعظم کتنی بچت کر رہا ہے۔ انھیں اس کی بھی پروا نہیں کہ زرداری اور نوازشریف کے اکاؤنٹس میں کتنی رقم پڑی ہے۔ انھیں فکر ہے لوڈشیڈنگ کی، پانی کی قلت اور گیس کی عدم فراہمی کی، بے روزگاری کی۔ آپ لاکھ سادگی اپنائیں، وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں نیلام کر دیں، سارے ملازمین کو فارغ کر دیں، مہمانوں کی پانی سے تواضع کریں، گورنر ہاؤس کو زچہ بچہ سینٹر

Read more

کپتان اعظم کے نام ایک خط

عزت مآب عمران خان صاحب، قبلہ، خواہش توتھی کہ آپ کو وزیر اعظم کہہ کر مخاطب کروں، مگر مناسب جانا کہ اس معصومانہ خواہش کو آپ کی حلف برداری کی تقریب تک ٹال دیا جائے۔ یوں بھی راقم الحروف سمیت کئی گمنام لکھاری اِس ”تاریخ ساز‘‘ لمحے کی پہلے ہی پیش گوئی کر چکے تھے، جن کے بھروسے آپ کے چاہنے والے عرصے سے آپ کو وزیر اعظم عمران خان ہی کہہ کر پکار رہے ہیں۔ آپ کی مصروفیات کا

Read more

رام چندر جی اور نمک کا آدمی

اس شور سے،الزامات کی سیاست سے، جھوٹے دعووں، وعدوں سے کچھ دیر کے لیے دور چلے چلتے ہیں۔ پانچ سو قبل مسیح کے ہندوستان میں، رام چندر جی کے دور میں۔ کہتے ہیں، رام چندر جی اپنے پیروکاروں کو اکثر ایک کہانی سنایا کرتے تھے۔ ساحل پر چہل قدمی کرنے والوں کی کہانی، جو ایک سہ پہر اس بحث میں الجھ جاتے ہیں کہ سمندر کتنا گہرا ہے۔ چہل قدمی کرنے والوں میں نامی گرامی ہستیاں شامل تھیں۔ حاکم، جنگجو،

Read more

عمران خان کی بچت صدر بننے میں ہے

آپ سے ایک سوال ہے: کیا اُن چیزوں کے لیے جنگ جائز ہے، جنھیں ہمیں چھو کر محسوس نہیں کرسکتے؟ یعنی بجائے زر، زن اور زمین کے کیا اہم افکار، نظریات، حب الوطنی جیسے غیرمرئی معاملات میں ایک دوسرے پر بندوق تان سکتے ہیں؟ گیبرئیل گارسیا مارکیز کے شاہ کار "تنہائی کے سو سال” کے مرکزی کردار کرنل ارلیانو بوئندا کو بھی زیست کے ایک اہم موڑ پر یہی سوال ستاتا تھا، مگر پھر وہ ایک نظریے ہی کے تعاقب

Read more

الیکشن کے بعد کی پراسرار دنیا میں خوش آمدید

 ہم ناول کیسے لکھتے ہیں؟ پہلے مرحلے میں ہم منصوبہ بندی کرتے ہیں، کاغذ پر ایک خاکہ بناتے ہیں، کردار تراشتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں، اسلوب چنتے ہیں، ناول کی کائنات کا تعین کرتے ہیں۔ اور تب دوسرے مرحلے کا آغاز ہوتا ہے، اب ہم ہر شے سے لاتعلق ہو کر لکھنے کی میز تک جاتے ہیں ۔اور جب ہم قصہ لکھ ڈالتے ہیں، تب آتا ہے تیسرا مرحلہ۔ ناول کی ایڈیٹنگ کا۔اور یہ مرحلہ تب تک مکمل نہیں ہوتا،

Read more

جمہوریت پسند افراد اور جیت کا واہمہ

”ہم ڈٹ گئے ہیں، اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، مغرب کو شکست ہونے کو ہے، امریکا نیست و نابود ہوجائے گا!“ ایسے دعوے ہم نے ماضی قریب میں سنے۔ اور ہم انھیں سنتے آئے ہیں، مذہبی عسکریت پسندوں (ہمارے چچا، ہمارے بھائیوں، ہمارے بیٹوں) کی جانب سے، پیش گوئیوں میں گردن تک دھنسے کالم نگاروں کی جانب سے، کبھی اداروں، کبھی ریاستوں کی جانب سے۔ بے شک وہ نعرے گڑے گئے تھے، ملکی اسٹیبشلمنٹ اور عالمی اسٹیبشلمنٹ کی جانب سے، خطے

Read more

انعام، جو ہم نے کھو دیا

رقص تخلیق کا اوج ہے ۔ رقص، جس کی بلند ترین سطح پر عمل اور عامل ایک ہوجاتے ہیں، رقص اور رقاص کی تفریق مٹ جاتی ہے۔ تخلیق اور تخلیق کار میں دوئی نہیں رہتی۔ یہی عمل ہمیں ہر تخلیقی صنف میں دکھائی دیتا ہے۔ ہم مائیکل اینجیلو کو ’’ڈیوڈ‘‘ میں ، ڈی ونچی کو ’’مونا لیزا‘‘ میں دیکھ سکتے ہیں۔ ’’تکبر و تعصب‘‘ میں ہمیں جین آسٹن دکھائی دیتی ہے، ’’تنہائی کے سو سال‘‘ میں مارکیز اور ’’سرخ میرا

Read more

خان صاحب ، کراچی میں ناکام جلسے کی پیشگی مبارک باد

صاحبو، پی ٹی آئی 12 مئی کو کراچی میں ایک ناکام جلسہ کرنے جارہی ہے۔ مستقبل بینی کی صلاحیتوں سے محرومی کے باوجود یہ وہ دعویٰ ہے، جو فقیر اعتماد سے کر سکتا ہے کہ یہ سورج کی طرح عیاں ہے۔اس کے لیے راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں۔ ناکام جلسے کی پیش گوئی کے لیے آپ کو فقط ماضی میں جھانکنا ہوگا۔ 2013 کے بعد کے برسوں پر نگاہ جمائیں جب شہر قائد سے ساڑھے آٹھ لاکھ وو ٹ لینے

Read more

خبردار، یہ ایک متعصبانہ تحریر ہے!

مترو، لسانی شناخت ایک حساس اور پرپیچ معاملہ۔ بالخصوص ہجرت کے بعد سندھ میں آ کر بسنے والوں کے لیے معاملہ عرصے سے سنگین اور غمگین ہے۔ یہ طبقہ باقیوں سے نالاں، باقی اِن سے متنفر۔ ”جاگ مہاجر جاگ “جیسے نعروں سے حالات مزید کٹھن اور کڑک ہوجاتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اردو بولنے والوں کو تاریخ کا آئینہ دکھانے، فیس بک پر لتے لینے، لگے بندھے کلیے برتنے، نصیحتوں مشوروں سے یہ معاملہ سلجھ نہیں سکتا۔ کچھ روز ادھر فقیر

Read more

نواز شریف اور بھٹو کی کال کوٹھڑی

میاں نواز شریف نے منصف اعلیٰ پر جوڈیشل مارشل لاکا الزام عاید کیا، تو یکدم ذہن میں ذوالفقار علی بھٹو کے پھانسی سے سات گھنٹے قبل کہے جانے والے الفاظ گونجنے لگے۔ یہ 3 اپریل 1979کی شام کا ذکر ہے، جب پاکستان کا معزول وزیرا عظم پنڈی جیل کی ایک کال کوٹھڑی میں، سوجے ہوئے مسوڑوں کے ساتھ، زمین پربچھے گدے پر لیٹا تھا، اور سپرنٹنڈنٹ جیل اُسے بلیک وارنٹ پڑھ کر سنارہا تھا۔ بھٹو نے اطمینان سے اپنی موت

Read more

نواز شریف اور کرم کا قانون

کائنات مقام بازگشت ہے، ہر عمل کا یکساں ردعمل ہوگا، کرم کے قانون سے مفر نہیں۔ 2008 کے الیکشن کے چند روز بعد جب یکدم پرویز مشرف غیرمتعلقہ ہوئے، پیپلزپارٹی کے پھریرے لہرا نے لگے، تب کراچی کی ایک نیم گرم شام چند صحافی چائے پر اکٹھے ہوئے تھے اور یہ موضوع چھڑا تھا کس نے کس جماعت کو ووٹ دیا؟ ”میں نے شیر پر مہر لگائی! ‘‘ یہ ایک سینئرکے الفاظ تھے، جس کے پیچھے اس کا اعتماد تھا۔

Read more

اردشیر کائوس جی کی باتیں

قدیم دانش کے پرچارک، دیپک چوپڑا نے کہا تھا: ’’عمل، ایک یاد پیدا کرتا ہے!‘ یاد۔۔۔ ہاں تیکھے اسلوب کے حامل، رسیلے کٹیلے، گجراتی تڑکے کے ساتھ اردو بولنے والے اُس خوش لباس شخص اردشیرکائوس جی کا ہر عمل، ایک دمکتی یاد کی صورت، آج ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ اور اِسی بابت سوچتے ہوئے، دریا کو کوزے میں بند کرنے کی انوکھی صلاحیت سے مالامال، خلیل جبران کی طرف ذہن چلا جاتا ہے، جس نے لکھا تھا: ’’میرے خواب

Read more