سندھ دھرتی اور لسانیت کے عفریت کا برہنہ رقص

مجھے وہ دن یاد ہیں، جب بیدار ہوتے ہی ہمیں خوف آن لیتا، موت کا خوف۔ ہم گھروں سے نکلتے، تو لاعلم ہوتے کہ دفتر پہنچ پائیں گے یا نہیں، ہر موڑ پر اندیشہ ہوتا، ہر سڑک پر خطرہ پھن پھیلائے کھڑا ہوتا۔ اور جب رات اترتی، اور ہم گھروں کو لوٹتے، تو اپنی ماؤں کی امیدوں کے سہارے ہوتے۔ ڈرے ہوئے، سہمے ہوئے ہم سڑکیں عبور کرتے کہ کہیں بھی، کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ یہ 2008 سے 2012 تک کا زمانہ ہے، جب سندھ پر خونیں تکون کی حکومت تھی۔

Read more

فہمیدہ ریاض، طالبان اور تنہائی

اب سن یاد نہیں، پی پی کا دور تھا۔ ایکسپریس کی دوسری عالمی اردو کانفرنس تھی۔ کراچی سے ادیبوں کا وفود لاہور جارہا تھا۔ احفاظ الرحمان صاحب قیادت کر رہے تھے۔ انھوں نے میری ڈیوٹی لگائی کہ جو ادیب ایئرپورٹ پہنچے، اُس کی بورڈنگ کرواتا جاؤں۔ اور یوں میں نے فہمیدہ ریاض کو اتنے قریب سے دیکھا، جیسے رانا بھگوان داس کو دیکھا تھا، اور اسی تجربے سے گزرے، جیسے اُس سہ پہر گزرا تھا۔

میری توقعات کے برعکس، وہ حیران کن حد سادہ نکلیں۔ بیٹھتے ہی مجھ سے پوچھنے لگیں : ”بیٹا، یہ بتاؤ، کیا یہ طالبان ہمیں بھی مار دیں گے؟ “
یہ وہ زمانہ تھا، جو خودکش دھماکے روز ہی سوختگی کی فصل بوتے، سوات ہمارے ہاتھ سے نکل چکا تھا، اور شہروں میں خوف دوڑ رہا تھا۔

Read more

جب برنا اور احفاظ الرحمان صحافیوں کے لیڈر ہوا کرتے تھے

صحافت، جو ریاست کا چوتھا ستون کہلاتا ہے آج لڑکھڑا رہا ہے۔ یہ کھوکھلا ہوچکا۔ شکست و ریخت کا شکار ہے۔ خود سہاروں کا متلاشی ہے کہ اب نہ تو وہ صحافی رہے، جن کا عزم آہنی تھا، جو جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ، سر بلند کیے زنداں جاتے، پیٹھ پر کوڑے کھاتے، بھوک…

Read more

احفاظ الرحمان اورعقیدت کی ایک لہر

جس سے آپ کچھ سیکھتے ہیں، وہ آپ کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے اور آدمی اپنی ذات سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔ وہ سات سو انٹرویوز، جو میں نے اپنے پیشہ ورانہ سفر میں کیے، وہ کالمز اور صحافتی کہانیاں جو میں لکھتا رہا، وہ فکشن نگاری، جسے میں اپنا اصل حوالہ سمجھتا…

Read more

آدمی، جس پر نوٹ برسا کرتے تھے

ہم امجد صابری کے گھر سے چند قدم دور تھے۔ امجد صابری جسے چند برس بعد بے دردی سے قتل کیا جانا تھا۔ مگر ہماری منزل امجد صابری کا مکان نہیں تھا۔ ہم اس صبح صابری برادرز کے اٹوٹ انگ، فرید صابری کے چھوٹے بھائی مقبول صابری کے انٹرویو کی غرض سے نکلے تھے۔ دن…

Read more

کپتان، پومپیو اور مجوقسائی

” کپتان کا اصل نشانہ ٹرمپ ہے!“ جس روز مجو قسائی نے یہ دعویٰ داغا، گوشت کا ناغہ تھا، اور عوام اس سوچ میں غلطاں تھے کہ بھنڈی پکائیں یا دال۔ مجو کی بات سن کر ہم ہنس دیے۔ اور سلیم کے ٹھیے سے پکوڑے اٹھا کر کھاتے رہے، جن میں حسب سابق نمک تیز…

Read more

جناب وزیراعظم، فرد نہ رہیں، عوام بن جائیں!

جناب عمران خان، عوام کو اس سے قطعی غرض نہیں کہ وزیراعظم کتنی بچت کر رہا ہے۔ انھیں اس کی بھی پروا نہیں کہ زرداری اور نوازشریف کے اکاؤنٹس میں کتنی رقم پڑی ہے۔ انھیں فکر ہے لوڈشیڈنگ کی، پانی کی قلت اور گیس کی عدم فراہمی کی، بے روزگاری کی۔ آپ لاکھ سادگی اپنائیں،…

Read more

کپتان اعظم کے نام ایک خط

عزت مآب عمران خان صاحب، قبلہ، خواہش توتھی کہ آپ کو وزیر اعظم کہہ کر مخاطب کروں، مگر مناسب جانا کہ اس معصومانہ خواہش کو آپ کی حلف برداری کی تقریب تک ٹال دیا جائے۔ یوں بھی راقم الحروف سمیت کئی گمنام لکھاری اِس ”تاریخ ساز‘‘ لمحے کی پہلے ہی پیش گوئی کر چکے تھے،…

Read more

رام چندر جی اور نمک کا آدمی

اس شور سے،الزامات کی سیاست سے، جھوٹے دعووں، وعدوں سے کچھ دیر کے لیے دور چلے چلتے ہیں۔ پانچ سو قبل مسیح کے ہندوستان میں، رام چندر جی کے دور میں۔ کہتے ہیں، رام چندر جی اپنے پیروکاروں کو اکثر ایک کہانی سنایا کرتے تھے۔ ساحل پر چہل قدمی کرنے والوں کی کہانی، جو ایک…

Read more

عمران خان کی بچت صدر بننے میں ہے

آپ سے ایک سوال ہے: کیا اُن چیزوں کے لیے جنگ جائز ہے، جنھیں ہمیں چھو کر محسوس نہیں کرسکتے؟ یعنی بجائے زر، زن اور زمین کے کیا اہم افکار، نظریات، حب الوطنی جیسے غیرمرئی معاملات میں ایک دوسرے پر بندوق تان سکتے ہیں؟ گیبرئیل گارسیا مارکیز کے شاہ کار "تنہائی کے سو سال" کے…

Read more