اردشیر کائوس جی کی باتیں
ساجدہ صاحبہ اُن کے رکھ رکھائو کا بھی ذکر کرتی ہیں۔ بتاتی ہیں، ایک روز اتفاقاً اُن کی ایک اسپتال میں کائوس جی سے ملاقات ہوئی۔ وہ اُنھیں دیکھتے ہی کھڑے ہوگئے۔ بڑی محبت سے ملے، کرسی پیش کی۔
مرحوم کائوس جی کو جانوروں سے عشق تھا۔ اُنھیں بچوں کی طرح پیار کرتے تھے۔ اُن کی کوٹھی کی بیرونی دیوار پر، قدیم زبان کی ایک عبارت درج ہے، جو تنبیہ کرتی ہے، ’’جو شخص جانوروں سے نفرت کرتا ہے، وہ اِس گھر میں قدم نہ رکھے!‘‘ اگر اُن کے سامنے کوئی جانوروں سے سختی سے پیش آتا، تو وہ فوراً ڈانٹ دیتے۔ روزنامہ ایکسپریس سے وابستہ فوٹو گرافر، اشرف میمن بھی، 2009 کی ایک صبح، کچھ ایسے ہی تجربے سے گزرے۔
اُس روز وہ انٹرویو نگار کے ساتھ کائوس جی کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے ہی تھے کہ قوی الجثہ، کاکاٹو نسل کے پالتو طوطے کی تیز، کاٹ دار آواز نے اُن کا استقبال کیا۔ پھر جیک رسل ٹیریر نسل کا کتا کمرے میں داخل ہوا، جو دو اجنبیوں کو دیکھ کر بھونکنے لگا۔ اشرف میمن نے اُسے اونچی آواز میں ’’دھمکانے‘‘ کی کوشش کی۔ بس، اُسی پل کائوس جی پردے کے پیچھے سے نمودار ہوئے، اور یہ منظر دیکھتے ہی آگ بگولا ہوگئے۔ ڈانٹنے لگے،’’تم کو شرم نہیں آتی۔ یہ میرے بچوں کی طرح ہے۔ اِسے مارتا ہے۔ اِسے (اشرف میمن کو) باہر نکالو۔‘‘ خیر، کسی نہ کسی طرح اُنھیں ’’شانت‘‘ کیا گیا۔ انٹرویو شروع ہوا۔ دوران انٹرویو کائوس جی اپنے پالتو کتے کو گود میں لیے بیٹھے رہے، جس کی وجہ سے تصاویر اتارنے میں خاصی دقت پیش آئی۔ بعد میں کائوس جی نے اشرف میمن کو کتے کی پیٹھ تھپتھپانے کا حکم صادر کیا۔ حکم کی تکمیل کے بعد اُن کا غصہ دور ہوگیا۔ بعد میں لان میں لے جاکر ان کی تصاویر اتاری گئیں۔
ایک بار اشرف میمن کا سوک سینٹر، کراچی میں کائوس جی سے سامنا ہوا تھا۔ وہ میئر کے دفتر سے باہر نکل رہے تھے۔ اشرف تصاویر اتارنے کے لیے آگے بڑھے۔ نہ جانے کائوس جی کس سوچ میں غلطاں تھے کہ جُوں ہی کیمرے کا فلیش چمکا، وہ غصے میں آگئے۔ اپنے مخصوص انداز، مخصوص تکیہ کلام کے ساتھ چلائے،’’۔۔۔۔تم میرا تصویر بنا کر کیا کرے گا؟‘‘ پھر باقاعدہ چھڑی گھمائی، اور کہا،’’تم میرے خلاف کچھ نہیں کر سکتا۔ میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں!‘‘ اور بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے۔
لگ بھگ تین عشرے قبل مراسلہ نگار سے کالم نویس کے قالب میں ڈھلنے والے، تیکھے اسلوب کے حامل اردشیر کائوس جی نے 13 اپریل 1926 کو کراچی میں مقیم ایک قدیم اور معروف پارسی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اُن کے والد، رستم کائوس جی شپنگ کے میدان کا مستحکم نام تھے۔ تقسیم کے وقت اُن کی کمپنی ساحلی شہر کی سب سے بڑی شپنگ کمپنی تصور کی جاتی تھی۔
بی وی ایس ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کائوس جی نے ڈی جے کالج سے گریجویشن کا مرحلہ طے کیا، جس کے بعد وہ کاروبار میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے لگے۔ 1953 میں وہ نینسی ڈنشا سے شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ نینسی سے اُن کے دو بچے تھے۔ بیٹی، ایوا نے شعور کی دہلیز عبور کرنے کے بعد خاندانی کاروبار میں دل چسپی لی۔ بیٹے، رستم نے آرکیٹیکٹ بننے کا فیصلہ کیا، اور نئے امکانات کی تلاش میں امریکا کا رخ کیا۔ 1992 میں کائوس جی کو اپنی زوجہ کی وفات کا کرب سہنا پڑا۔
1973 میں، جب ذوالفقار علی بھٹو کرسیِ اقتدار پر براجمان تھے، کائوس جی کو پاکستان ٹورازم ڈیویلمپنٹ کارپوریشن (PTDC) کے مینیجنگ ڈائریکٹر کا عہدہ سونپا گیا۔ بھٹو دور ہی میں اُن کی کمپنی قومیانے کی زد میں آئی، اور اُسی حکومت میں، بدلتے حالات اُنھیں جیل یاترا پر لے گئے، جہاں اُنھوں نے 72 دن بیتائے۔ عام خیال ہے کہ اِس کا سبب بھٹو صاحب کے اختیارات پر کائوس جی کی بے لاگ تنقید تھی۔
آنے والے برسوں میں اُن کے خطوط ڈان اخبار میں شایع ہونے لگے۔ ’’لیٹر ٹو دی ایڈیٹر‘‘ کے لیے بھیجی جانے والی تحاریر کچھ عرصے بعد اُنھیں کالم نگاری کے میدان میں لے آئیں۔ کالموں کا بلند آہنگ اور تیکھا لہجہ جلد ہی توجہ کا مرکز بن گیا۔ بے لاگ تبصروں نے اُن کی شہرت کو مہمیز کیا۔ بڑے ہی مُنَظّم انداز میں اُنھوں نے بدعنوانی، نااہلی اور قبضہ مافیا کے خلاف آواز اٹھائی۔ 1988میں شروع ہونے والے سفر کے طفیل چند ہی برس میں اُنھوں نے ملک گیر شہرت حاصل کر لی۔ آنے والے وقت نے اُنھیں بیرون ملک بھی شناخت عطا کردی۔ سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروہوں پر، اپنے مخصوص انداز اور ترش لہجے میں کڑی تنقید کے باعث وہ متنازع بھی ٹھہرے۔
سماجی سرگرمیاں بھی اُن کی شناخت بنیں۔ ’’کائوس جی فائونڈیشن‘‘ نے تعلیم کے میدان میں خاصا کام کیا۔ کئی طلبا کو اسکالر شپ اور اداروں کو گرانٹ دی۔ لیاری میں ماڑی پور روڈ پر بھی اُن کا اسکول کیمپس ہے۔ یہ بات بہت کم لوگ جانتے تھے کہ وہ باقاعدگی سے نوجوان لکھاریوں کی مالی معاونت کیا کرتے تھے۔ شعبۂ صحت کے لیے بھی اُنھوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
وہ لگ بھگ 25 برس ڈان میں لکھتے رہے۔ اُن کا آخری کالم دسمبر 2011 میں شایع ہوا، جس میں اُنھوں نے لکھا تھا:’’اب، جب کہ میں 85 برس کا ہوچکا ہوں، تھکن سے چور، التباسات میں گھرا ہوا، ایک ایسے ملک میں مقیم، جو خود کو متحد اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں ناکام نظر آتا ہے، میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب یہ سلسلہ (کالم نگاری) ترک کر دیا جائے!‘‘
وفات سے چند ہفتوں قبل دیے جانے والے اپنے ایک انٹرویو میں اُنھوں نے کہا تھا: ’’اب میں 86 برس کا ہوگیا ہوں، اتنا بوڑھا کہ ہفتہ وار کالم نہیں لکھ سکتا۔ اور پھر بات یہ ہے کہ لکھنے کے لیے ہے ہی کیا؟ وہی پرانی سیاست، پرانے چہرے۔ میں اُن کے بارے میں لکھ لکھ کر بور ہوچکا ہوں!‘‘
24 نومبر 2012 کو 86 برس کی عمر میں اردشیر کائوس جی طویل علالت کے بعد جہانِ فانی سے کوچ کر گئے۔






