لاؤ تو اعمال نامہ اپنا

پردیس میں ایک عمر گزار کے یہ سمجھ آئی کہ زندگی اور دنیا کی رنگارنگی ہی اس کی اصل ہے۔ دیکھیے، میں ایک مذہبی انسان ہوں اور میرا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر خدا سب کو ایک جیسا اور ایک جیسی سوچ اور عقیدے کا مالک بنانا چاہتا تو اس کے لئے یہ مشکل نہیں تھا اور نہ ہے۔ تو یہ اتنے رنگ برنگے لوگ اور عقیدے اور مذاہب اور زبانیں کس لئے ہیں؟ میری رائے میں یہ سب اس کے ڈیزائن کا حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی خدا کی بنائی دنیا میں بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے خدا کو ہی نہیں مانتے تو خدا ان کی آکسیجن بند نہیں کرتا۔ ان پربھی سورج ویسے ہی چمکتا ہے۔ ان کے دن میں بھی 24 گھنٹے ہیں۔ وہ بھی دولت کماتے ہیں۔ زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کو بھی بیماری سے شفا ملتی ہے۔
خدا ان سے یہ نہیں کہتا کہ چونکہ تم مجھے جاننا تو دور کی بات، مانتے بھی نہیں اس لئے اپنی دنیا میں رہنے کا حق میں تم کو نہیں دوں گا اور تم سب کو فنا کردوں گا۔ جی نہیں؛ خدا ایسا نہیں کرتا۔ خدا نے انسان کو بنایا۔ اسی نے انسان کو انسان ہونے کے حقوق دیے تو کوئی انسان کسی سے یہ حق نہیں چھین سکتا کیونکہ یہ خدائی ڈومین ہے۔ حیات بعد از موت کا تصور بھی میری رائے میں اس کی تصدیق کرتا ہے کہ تب خدا سب کو لائن حاضر کرکے پوچھے گا کہ ہاں، اب بولو کہ تم دنیا میں کیا گل کھلا کے آئے ہو۔ حساب دو۔ نکتہ یہ ہے کہ عقیدوں اور اعمال کا حساب خدا لے گا۔ ہم آپ ایک دوجے سے یہ حساب لینے کے مجاز نہیں۔
کسی انسان سے اعمال و عقائد کا حساب مانگنے سے پہلے خدائی کا دعوی یاد سے کرلینا چاہیے۔

