لبرل فیمینسٹ نیک مادام

ہر دور کی ظلمت کو دور کرنے والوں کو یہ سب تو سہنا ہی پڑتا ہے۔ ہم بھی خوش سے برداشت کر رہے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ساتھ شاید قندیل بلوچ کی روح کاسکون کھڑا ہے ہاں یاد آیا وہ ڈیرہ اسماعیل خان کی شریف بچی سرِبازار برہنہ کی گئی تھی اُس کا کیا بنا؟ ایک پاکباز بچی کے بارے میں لکھنے کے قابل ہم ہیں ہی کہاں، یہ کام تو ہمارے پاکباز طرز فکر رکھنے والوں کا ہے ہم لکھتے تو وہ بچی بدنام ہوجاتی لوگ کہتے وہ اٹھی موم بتی مافیا کی رکن۔ ہاں ہم نے زینب کیس کے بعد سیکس ایجوکیشن کے لیے بڑا زور مارا مگر اس میں دینی جماعتوں نے رخنہ ڈال دیا کہ اس واقعہ کو ہائپ دینا سازش ہے سو ہم نے چپ سادھ لی۔ مولانا یہ تو بتائیں کہ ہمارے چپ ہو جانے کے بعد آپ نے کیا اقدامات کیے ہیں۔ معاشرے کی اصلاح کے لیے۔
یہ میں کیوں آئے روز زیادتیوں کے واقعات دیکھتی ہوں۔ اِن کو رک جانا چاہیے تھا۔ سیکس ایجوکیشن تو معاشرے کو بگاڑ دیتی یہ مطالبہ تو اب زور پکڑ رہا تھا مگر مولانا آپ تو پچھلے ہزار سال سے اصلاح بانٹ رہے ہیں۔ آپ نے ٹھیک سے اپنا فرض انجام نہیں دیا یا ہمارے لوگ ہی آپ کی بات پر دھیان نہیں دیتے۔ مجھے لگتا ہے دھیان دیتے ہیں بھی تو اتنی شاندار مساجد کی تعمیر چندے پر جارے و ساری ہے۔
میں بھی پتہ نہیں کہاں کی بات کہاں لے جاتی ہوں اصل بات تو مجھے یہ کرنا تھی کہ یہ عورتیں آج کل اتنی بڑ بڑ کیوں کر رہی ہیں۔ انہیں نہیں پتا کہ آپ حضرات ہمارے تحفظ کے لیے موجود ہیں۔ پھر فکر کا ہے کی۔ مضبوط مرد، جی ہاں آپ ہمارے دینی بھائی بڑی بری بات ہے۔ عاصمہ جہانگیر کے جنازے کی شہرت ابھی معدوم ہوئی نہ تھی کہ عورتوں نے ایک اور واردات کر دی ہے۔ یہ جو آٹھ مارچ کو عورتوں نے مردوں کو نعروں کے ذریعے للکارا اُف توبہ! سرِعام اتنی کھلی بغاوت، مولانا خادم رضوی کو دیکھیں کیسے اپنے جلسوں کے ذریعے عوام میں گیان بانٹتے ہیں۔ نہ آپ نے راستے بلاککیے نہ گالی دی بس نکل پڑیں سڑکوں پر پہلے پلے کارڈ اٹھا کر چپ چاپ اور تو اور چند ایک نے تو رقص بھی کیا۔ شکر کریں آپ کو مولانا خادم رضوی نے گالیاں نہیں دیں ورنہ آپ اپنے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈال لینے پر مجبور ہو جاتیں۔ باقی دین کی سربلندی کے لیے ارے تھوڑی بے حیائی کی باتیں اگر پھیل بھی جائیں تو کیا حرج ہے۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ آٹھ مارچ کو خواتین نے یہ اقدام اٹھایا کیوں جس سے مردوں کے وقار کو ٹھیس پہنچی۔ ملکی اور دینی وقار بھی زد میں آتا محسوس ہوا نہیں۔
اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ خواتین اپنا جائز حق مانگتی ہیں۔ جس کا عشر عشیر انہیں دے کر چپ ہوجانے کوکہا جاتا ہے یا تو آپ اکیسویں صدی کی عورت سے شعور چھین لیں یا انہیں عورت سمجھیں۔ عورت مردوں کی ذمہ داری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ حقوق بھی اپنے جنم کے ساتھ ہی اپنے نام لکھوا کر آتی ہے کہ اُسی قدر و منزلت بحیثیت فرد اسی طرح کی جائے گی جیسے مردوں کی وہ خود پر کاروبار، تعلیم، نوکری عزت، محبت اور گھر پر اُتنا ہی حق رکھتی ہیں جتنا کہ مرد۔ ہر کوئی اپنے گریبان میں جھانکے اور دیکھے کہ اُس سے کہاں کوتاہی ہوئی ہے۔
مان لیا کہ عورت مرد سے کمزور ہے تو کمزور کے حقوق طاقتوروں نے ادا نہیں کرنے تو کس نے کرنے ہیں۔ یہ قبول کہ مرد عورت پر حکمران ہیں تو کیا رعیت کے ساتھ اتنا غیر منصفانہ برتاؤ کیا جاتا ہے۔ ہر میدان میں استحصال؟ کیوں؟ ہو جو حقوق اپنے ساتھ لکھوا کر آتی ہیں ان پر عورت کی ہرزہ سرائی کیوں؟ آپ نے عورت کے حقوق کی تعظیم کی ہی نہیں۔ مگر ہمیں اپنی عزت کروانا آتی ہے۔ مان لیجیے کہ آپ حضرات سے خاص کر معاشرے کے نام نہاد ٹھیکے داروں سے بہت بڑی بھول ہوئی ہے۔ اس غلطی کی جڑیں صدیوں سے پھیل رہی ہیں۔ اب اگر عورت زور دار کلہاڑا چلا کر انہیں کاٹ رہی ہے تو آپ خاموش رہیں۔ آپ نے اپنی کوتاہیوں سے اپنی تفضیل خود کھوئی ہے۔ اپنی جگہ خود خالی کی ہے۔ اب اگر عورت آپ کے تختِ شاہی کو ہلا چکی ہے تو اس کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔ اپنا مقام کھو چکے ہیں آپ اور آپ کے تخت پر جلد ہی عورت اپنی پوری آن بان اور شان سے متمکن ہو جائے گی اور یہی موم بتی مافیا والے ہوں گے جن کے پاس آپ سچے لوگ فریاد لے کر آئیں گے کہ ہماری قوت کی مرگ پر کوئی موم بتی ہی جلا دو۔ بقول ساحر لدھیانوی بہت پہلے کہہ گئے ہیں کہ
نیک مادام! بہت جلد وہ دور آئے گا
جب ہمیں زیست کے ادوار پرکھنے ہوں گے
اپنی ذلت کی قسم، آپ کی عظمت کی قسم
ہم کو تعظیم کے معیار پرکھنے ہوں گے
