لہو رنگ 13 اپریل، جلیانوالہ باغ اور مشال خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امرتسر میرے آباء و اجداد کا شہر ہے اس لئے میرے قلب میں اس سنہری شہر کے لئے ایک ان دیکھی محبت اور احترام ہے۔ کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ امرتسر نام کے معنی امرت کا سرور یا آب حیات کا تالاب ہے، کیونکہ گوردوارہ ہرمندر صاحب یا المعروف گولڈن ٹیمپل میں ایک بہت بڑا تالاب ہے۔ یہ سکھ مذہب کی سب سے مقدس جگہ ہے۔

یہ 1919 کی اپریل کا مہینہ تھا۔ آنگریز حکومت کو خدشہ تھا کہ بغاوت پھوٹنے والی ہے۔ پنجاب میں جہاں بھی لوگ جمع ہوتے اور نعرے بازی یا آزادی کا مطالبہ ہوتا وہیں حکومت پر تشدد طریقوں سے ان آوازوں کو دباتی۔ تشدد ہمیشہ فساد کو جنم دیتا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ دو حریت پسند رہنماؤں کی رہائی سے شروع ہوا۔ پھر جہاں انہیں فرنگی نظر آتا، مظاہرین مشتعل ہو جاتے۔ یہاں تک کہ امرتسر میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگی۔ 13 اپریل 1919، ہندوستان کے مختلف حصوں سے لوگوں نے بیساکھی میلے میں شرکت کے لئے امرتسر میں قدم رکھا۔

بیساکھی سکھوں کا مشہور مذہبی و ثقافتی تہوار تھا۔ مارشل لاء سے لا علم لوگ جوق در جوق ہرمندر صاحب تشریف لائے۔ ایک اندازے کے مطابق 25000 افراد دربار سے متصل جلیانوالہ باغ میں تہوار کے لئے موجود تھے جب جنرل ڈائر نے بغاوت کے شک میں اپنی فوج بلوا کر گولیاں چلانے کا حکم دیا۔ گولیاں اس وقت تک چلتی رہیں جب تک ختم نہ ہوگئیں۔ کچھ لوگ بد حواس ہو کر باغ کے کنویں میں کود گئے۔

کچھ لوگ مارشل لاء کے باعث فوراً طبی امداد نہ ملنے پر زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔ کنویں سے 100 سے زائد لاشیں نکالی گئیں جبکہ باغ میں بچھی لاشیں ہزار سے زائد تھیں۔ ایک پرامن مذہبی تہوار کو سامراج سے بغاوت سمجھ کر شک کی بنیاد پر تاریخ کے صفحات میں ایک بدنما داغ بنا دیا گیا۔ گولی چلانے کا حکم جاری کرنے والے جنرل ڈائر کو برطانوی آشیرواد اور تعریف و توصیف عطا ہوئی۔ بعد ازاں 1940 میں اس سانحے کے وقت پنجاب کے گورنر مائیکل او ڈوائیر کو ایک پنجابی نوجوان نے اس سانحے کی حمایت کرنے پر قتل کر ڈالا۔ آج بھی اس سانحے کی دنیا بھر کے سکھ افراد بالخصوص اور احساس رکھنے والے تمام افراد ملامت اور مذمت کے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔ ملکہ برطانیہ اور وزیراعظم چرچل نے اس واقعے پر دکھ کا اظہار کیا لیکن 2013 میں ڈیوڈ کیمرون نے باقاعدہ اس باغ کا دورہ کر کے اس واقعے کو شرمناک قرار دے کر مذمت کی۔ یہ بڑی اقوام کی نشانی ہے کہ وہ اپنی تاریخی غلطیوں کو قبول کر کے آگے بڑھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

13 اپریل 2017: اس نوجوان کا نام مشال خان تھا۔ اس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ ان گدھوں میں سے نہیں تھا جن پر کتانیں لادی جا رہی تھیں۔ وہ سوچتا تھا اور بولتا بھی تھا۔ پھر یہی سوچ اور الفاظ اس کے دشمن بن گئے۔ اس کو مارا، پیٹا، برہنہ کیا، گھسیٹا، سر پھوڑا، اونچائی سے دھکا دیا، بھنبھوڑا، گولی ماری، مرتے کا کلمہ نہ سنا، پانی نہ دیا کیونکہ اس کے آس پاس کی ساری دنیا جنرل ڈائر بن گئی تھی جو شک کی بنیاد پر موت سے کم سزا پہ راضی نہ تھے۔ اس کے والدین نے قابل بنانے بھیجا تھا، وہ لاشہ بن کر لوٹ آیا۔ جوان بیٹے کا ادھڑا، پھٹا، بھنبھوڑا ہوا لاشہ سامنے رکھا ہے مگر مولوی صاحب تک شک پہنچ گیا۔ اب وہ جنرل ڈائر بن گئے۔ جنازہ پڑھانے سے انکار کا فرمان جاری ہوا۔ یعنی اسے جینے کا حق نہیں تھا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا حساب کتاب شروع ہو چکا تھا مگر اس کا ایمان انسانوں کے تول میں تھا جہاں تول میں جھول شامل ہو چکا تھا۔ ایک بوڑھے باپ کی اس سے بڑی بے بسی کیا ہو گی کہ اس کی جوان اولاد کو شک کی بنیاد پر نہ صرف مار دیا جائے بلکہ اس کا جنازہ پڑھانے سے بھی انکار کیا جائے۔ شاید ایسی ہی قیامت کی گھڑی میں آسمان کو دیکھ کر دل سے آواز نکلتی ہو گی کہ آسمان والے مالک! یہ زمین کے خدا ہمارے مالک کب سے بن بیٹھے؟

مگر یہ 13 اپریل بڑا خونی ہے۔ کبھی تو کسی معصوم جوان کے خواب کنویں کی گہرائیوں میں دم توڑتے ہیں اور کبھی مردان کی جھلستی دھوپ میں مرتا لڑکا اپنی ماں کو یاد کرنے کے بجائے دوسروں کو یقین دلاتا ہے کہ دیکھو میں کلمہ پڑھ رہا ہوں شک مت کرو۔

جنرل ڈائر کو اس وقت کے ”نجات دہندہ“ کا خطاب حاصل ہوا تھا۔ اس کے تشدد اور طاقت کے استعمال کو قبولیت کی سند حاصل ہوئی تھی۔ اسے ہیرو بنایا گیا تھا۔ مشال کے قاتلوں کو مجاہدین کا درجہ دیا گیا ہے۔ جو جیل سے آئے انہیں ہار پھول پہنائے تو وہ بھی پھول گئے اور بولے ہاں ہم ہی تو دین کو بچارہے تھے۔ ہم ہی تو ہیرو ہیں۔ بڑی قومیں وہ ہوتی ہیں جو اپنی غلطی کو مان لیں اور بہتری کا رستہ نکالیں۔ جو بہتری کو رد کرتے ہیں بربادی انہیں تھام لیتی ہے کیونکہ یہی قدرت کا اصول ہے۔ شرم کا مقام تو یہ ہے کہ ایک بچی کو اس ملک میں زیادتی کے بعد زندہ جلا دیا گیا ہے جہاں خدا، نبی اور عقائد کی دکان سجا کر لوگوں کو زمین پر ہی جنت اور جہنم کی اسناد بانٹی جاتی ہیں۔ لیکن چھوڑو ان سب باتوں کو۔ آو لڑیں کہ کھانا کون گرم کرے گا؟

12 اپریل 2018

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •