گزشتہ شب ایک ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک تھریڈ پوسٹ کیا گیا جس میں میڈیا سے تعلق رکھنے والے علی سلمان علوی پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنی بیگم پر تشدد، مختلف خواتین سے تعلقات، بلیک میلنگ اور بعد ازاں بیوی کے قتل میں ملوث ہیں۔ ان کی مرحومہ بیوی صدف زہرا کی بہن کا حوالہ دے کر یہ الزام عائد کیے گئے اور بعد ازاں علی سلمان علوی کے خلاف سرکاری کارروائی کا بھی آغاز ہو چکا۔ ٹاپ ٹرینڈ بھی ہو گیا۔ بحث بھی کہ مار پیٹ سے بہت بہتر طلاق ہوتی ہے تو ایسے انسان کو چھوڑ دیا جائے۔ طلاق کے حق میں دلائل پیش کیے گئے اور اس انسانی حق کو سماجی طور پر قابل قبول بنانے کا بتایا گیا۔ اب تھوڑا پچھلے سال میں جائیں۔
ایک مشہور کیس جو سوشل میڈیا سے وائرل ہوتا کورٹ تک پہنچا وہ اسما عزیز نامی خاتون کی روداد تھی کہ اس نے اپنے شوہر کے دوستوں کے سامنے ڈانس کرنے سے انکار کیا جس پر اس کے شوہر میاں فیصل نے دوست کے ساتھ اسے تضحیک و تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے سر پر ٹریمر پھیر دیا۔ پہل پہل کافی جوش سے خاتون کے حق میں بولا گیا کہ اچانک اس کے ڈانس کی ایک ویڈیو آئی۔ بعد ازاں ان دونوں کے طرز زندگی اور نشے کی لت کے بارے خبروں کے آتے ہی معاشرتی رائے اچانک تقسیم ہوتے ہوتے خاموشی میں بدل گئی۔
Read more