چھوٹے چور کو برہنہ کرنے والے اسلامی جمہوریہ کے باسی

اس کی قمیض پہ تحریر تھی کہ اپنا ٹائم آئے گا۔ اسے اب پتہ چل گیا ہے کہ چھوٹے چور کا ٹائم نہیں آتا۔ اس کی صرف شامت آتی ہے ہاں، بڑے چوروں کے پروڈکشن آرڈر آتے ہیں۔ اگر آپ کو اس ملک پہ حکمران بن کر جینا ہے تو بڑا چور بننے میں عافیت ہے۔ گرفتاریاں، جیل، سزائیں آپ کی شخصیت کے قد میں اضافہ کریں گی اور کوئی آپ سے لوٹ کا مال واپس لینے کی جرات بھی نہ کر سکے گا۔

یہ معاشرہ اس قدر جنسی گھٹن کا شکار ہے کہ بچہ، بچی، چور، مزدور، ہاری جو جس کے ہاتھ لگ جائے وہ سب سے پہلے اس کی شلوار اتارتا ہے۔

Read more

ہمارا سوشل میڈیا تقریباً بندر کے ہاتھ ماچس

موجودہ دور میں بے انتہاء بڑھتا کمپلیکس کتنے لوگ حقیقت سمجھتے ہیں؟ کیا خود پسندی واقعی مرض بنتا جا رہا ہے؟ کیوں ہر بندہ اپنی زندگی کی فرسٹریشن فیس بک اور ٹویٹر پہ اجنبیوں کو گالیاں دے کر برابر کر لیتا ہے؟ کیا واقعی ہمارے اطراف میں اتنے خوش اور کامیاب لوگ ہیں جتنے ہمیں…

Read more

لہو رنگ 13 اپریل، جلیانوالہ باغ اور مشال خان

امرتسر میرے آباء و اجداد کا شہر ہے اس لئے میرے قلب میں اس سنہری شہر کے لئے ایک ان دیکھی محبت اور احترام ہے۔ کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ امرتسر نام کے معنی امرت کا سرور یا آب حیات کا تالاب ہے، کیونکہ گوردوارہ ہرمندر صاحب یا المعروف گولڈن ٹیمپل میں ایک بہت…

Read more

ان کا قاتل “دہشتگرد” ہمارا قاتل “غازی

آپ کو پتہ ہے وہ مر چکے ہیں؟ جی۔ کیا آپ مطمئن ہیں جو کچھ آپ نے کیا؟ جی بالکل مطمئن ہوں۔ بالکل مطمئن۔ آپ کا نام کیا ہے خطیب حسین۔

بہاولپور کے ایک گورنمنٹ کالج کے انگلش ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ پروفیسر خالد حمید نے کیا غیر شرعی کام کیا تھا؟ کیا گستاخی کی تھی؟ بقول بے خوف قاتل اسلام کے خلاف بولتے تھے؟ جب پوچھا گیا کیا بولتے تھے تو فرمانا تھا کہ بس ہر وقت بولتے تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق انہیں نئے داخلہ سال کے آغاز پر مخلوط ”ویلکم پارٹی“ منعقد کرنے کے جرم میں اس خودساختہ مومن، مجاہد، غازی اور کامل ایمان کے درجے پر فائز طالبعلم نے اپنی پست سوچ کی عدالت میں خود ہی مقدمہ پیش کر کے، خود ہی فیصلہ سنا دیا۔ سزائے موت کے لئے چھریوں کے وار کا انتخاب کیا اور اس جہالت میں ڈوبے کم عقل نے یہ سمجھا کہ اس نے اپنا دین زندہ کر دیا۔

Read more

ہندو اور ہندوستانی میں فرق

بابائے چین ماؤزے تنگ کا ایک مشہور قول ہے کہ جنگ ایک سیاست ہے جس میں خون خرابہ ہوتا ہے۔ جنگل کے دو بڑے ہاتھی اگر آپس میں لڑ پڑیں تو نقصان جنگل کا بھی ہے اور جنگل میں بسنے والے دوسرے جانوروں کا بھی۔ کون کون زد میں آ جائے کسے خبر۔ یہی صورتحال…

Read more

ساہیوال قتل عام: وردی کے رنگ جدا مگر طاقت ایک ہے

17 مئی 2011 کو کوئٹہ کے نزدیک خروٹ آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری نے 5 چیچن باشندوں کو ماورائے عدالت قتل کر دیا۔ ابتداء میں حکام کا یہ دعوی تھا کہ ان افراد کے خودکش بمبار ہونے کی اطلاع تھی اس لیے ان پر فائرنگ کی گئی تاہم بعد میں سامنے آنے والی وڈیو میں یہ لوگ نہتے نظر آتے ہیں۔ ویڈیو اب بھی شاید یوٹیوب پہ موجود ہو مگر میرے دماغ پہ نقش ہے کہ مرتے مرتے بھی ایک ہاتھ اٹھا فائرنگ سے منع کر رہا تھا کیونکہ ایک وجود میں دوسرا وجود پل رہا تھا۔ ان افراد میں 2 مرد اور 3 عورتیں تھیں، ایک عورت 7 ماہ کی حاملہ تھی۔ اطلاعات کے مطابق مقامی پاسبان نے پہلے ان افراد سے مختلف مقامات پر رشوت لی اور بعد میں جب یہ لوگ شکایت کے لیے سرحدی سپاہ کی چوکی کی طرف جانے لگے تو پاسبان نے سپاہ کو اطلاع کی کہ خودکش بمبار ان کی چوکی کی طرف آرہے ہیں۔

Read more

آپ کو پتہ نہیں کہ آپ کا فیس بک فرینڈ دو سال قبل مر چکا ہے

ایک کمرہ ہے جس میں بظاہر چار افراد بیٹھے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر قریب جا کر سمجھ آتا ہے کہ ہر ایک کے پاس موبائل ہے اور وہ ایک دوسرے کو یا تو سوشل میڈیا پر چلنے والی کوئی افواہ خبر سمجھ کر بتا رہے ہیں یا پھر کسی واقف کی وال سے…

Read more

عاصیہ اور مشال، جو چاہے آپ کا ملا فتنہ فساد کرے

بھارت میں 4 کروڑ پیروکار، 400 آشرم اور 10 ہزار کروڑ سے زائد کی جائیداد کے مالک اسومل ہرپلانی المعروف گرو آسارام باپو کو ایک نابالغ بچی کے ساتھ زنا بالجبر کے الزام میں مجرم قرار دے دیا گیا۔ ایک اور گرمیت رام رحیم جو ڈیرہ سچا سودہ کا سربراہ تھا اور تقریبا ایک کروڑ…

Read more

بچوں کو شو پیس بناکر بچپن نہ چھینیں

آپ نے ٹھیلے پر پھل، سبزی، جوتے، کپڑے وغیرہ وغیرہ کو آواز لگا کر بیچنے کا منظر دیکھا ہو گا، آج کل ایک بازار اور وجود میں آیا ہے۔ وہ ہے انٹرنیٹ کا سوشل میڈیا بازار۔ یہاں خبر جھوٹی سچی ہونے کی کوئی تصدیق نہیں کرتا بس بک جاتی ہے۔ آگے سے آگے بڑھتی ہے اور وائرل کا درجہ پاتی ہے۔ اسی طرح اچھے، برے فنکار بھی وائرل ہو جاتے ہیں۔

لوگ اپنے خاندان کی شادی بیاہ، جنازوں تک کی تصاویر یا ویڈیو وائرل کرنا چاہتے ہیں۔ بچوں سے مار پیٹ یا بڑوں سے ہاتھا پائی کے کارنامے بھی وائرل ہو جاتے ہیں مگر ایک نیا رجحان بھی آیا ہے۔ بچوں سے اسکرپٹڈ اداکاری کروا کر ان کی معصومیت کو وائرل کی بھینٹ چڑھانے کا۔ اس ضمن میں دو بچوں کا ذکر یہاں ہو گا۔ ایک بچی فاطمہ جس کی ویڈیو غالبا ان کی والدہ بناتی ہیں اور ایک بچہ احمد۔ جن کی پہلی ویڈیو شاید ان کے استاد نے بنائی اور اب ان کے گھر والے انہیں وائرل کونٹینٹ کی لائن میں کھڑا رکھتے ہیں۔

Read more

معاشرتی دباؤ کا انتخاب کون کرتا ہے؟

میں بچپن سے اس کھوج میں ہوں کہ معاشرتی دباؤ کا انتخاب معاشرہ کن بنیادوں پر کرتا ہے اور آخر کون ان بنیادوں کا تعین کرتا ہے؟ بس میں روزانہ ہزاروں لڑکیاں کنڈیکٹر سے لے کر مسافر تک سب کی نگاہ عذاب کو جھیلتی ہیں۔ کوئی معاشرتی دباؤ ان کے دفاع کو نہیں آتا۔ کراچی…

Read more