نوجوان سعید شارق کا ”سایہ“

”میں شاعری نہیں پڑھتا“۔
میرے لبوں سے یہ ادا ہونا تھا، کہ نوجوان کے چہرے پر عجیب ناچاری کی سی کیفیت پیدا ہوئی، جیسے اُس کا کسی جاہل سے واسطہ پڑا ہو۔
تھوڑی دیر بعد رحمان حفیظ وہیں آ دھمکے، اور نوجوان کا تعارف کروایا:
”یہ سعید شارق ہیں“۔
ساتھ ہی ساتھ سعید شارق کے لیے توصیفی جملے کہے۔ رحمان حفیظ یوں تو ہر ایک کو سراہتے ہیں، خصوصا نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں، لیکن جس انداز میں سعید شارق کے مستقبل کے بارے میں امید کا اظہار کیا، میں شاعر سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکا:
”آپ مجھے اپنی کتاب دے سکتے ہیں“؟

بوجھ کم تو نہیں لیکن وہ سڑک آتے ہوئے
اپنی ویرانی مرے شانوں پہ دھرسکتی ہے
اب میں پٹڑی نہیں بستر پہ پڑا ہوں، لیکن
ریل اب بھی مرے اوپر سے گزرسکتی ہے
۔۔۔۔
سانس کی دھار زرا گھِستی، زرا کاٹتی ہے
کیا درانتی ہے، کہ خود فصلِ فنا کاٹتی ہے!
۔۔۔۔
ہجر درپیش تھا، سو پہلے سے تیاری کی
نئی گھڑیوں، نئی آنکھوں کی خریداری کی
خواب در خواب یونھی چلتا رہوں، چلتا رہوں
کاش! حاجت نہ رہے، حالتِ بیداری کی
نئے کپڑے یونھی افسردہ پڑے رہتے ہیں
کون سمجھے یہ اذیت مری الماری کی
۔۔۔۔
کوئی دروازہ کھٹکھٹانے سے
تجھ کو روکا تھا، یاد آنے سے
چھوڑ آیا ہوں، سب وہیں کا وہیں
کیسا نقشہ ملا خزانے سے
میں نے آنکھوں پہ کرلیا تکیہ
اور نیند اٹھ گئی سرھَانے سے
اب جزیرہ ہے اور میں، شارق
کیا ملا کشتیاں جلانے سے
۔۔۔۔
شام کی سرد دھوپ تھک کے گری تھی لان میں
اور میں غرق ہوگیا دھند بھرے گمان میں
آنکھوں پہ رینگتی رہیں رنگ برنگی چیونٹیاں
جانے وہ کیسا شہد تھا نیند کے مرتبان میں
۔۔۔۔
کیسا رشتہ ہے مرا خواب کے گل دانوں سے
جو پٹختا ہوں پرانا، تو نیا ٹوٹتا ہے
ٹھیک ہوں میں تو یہ دراڑیں کیسی!
نقش در نقش پس آئنہ کیا ٹوٹتا ہے
اتنا بکھراو تو ممکن نہیں ہم دونوں کا
لازما کوئی ہمارے بھی سوا ٹوٹتا ہے
۔۔۔۔
سعید شارق 3 جون 1993ء کو اسلام آباد میں پیدا ہوئے؛ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے چار برسوں کی مشق کا حاصل ہے۔ محض چوبیس سال کے نوجوان کا مجموعہ ”سایہ“، مثال پبلشرز، فیصل آباد کے زیر اہتمام شایع ہوا ہے۔ ابھی اس کتاب کا مطالعہ کرنا باقی ہے۔

