امریکہ میں معذور یا بوڑھا شہری بھی زندگی جیتا ہے


ہمارے ہاں پچاس سال کی عمر میں لوگ خود کو بوڑھا سمجھ لیتے ہیں۔ ساٹھ سال والے کے لیے سٹھیانے کی ترکیب گھڑی گئی ہے۔ اس عمر کے بعد سوائے جج کے، سب ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ ساٹھ سے اوپر کے جج سپریم کورٹ بھیج دیے جاتے ہیں۔

پینسٹھ کے بعد کی عمر ایسی سمجھی جاتی ہے جیسے کوئی زبردستی اوورٹائم لگارہا ہو۔ بندے کو خود سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں؟ کوئی اس سے بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا تو وہ سجدوں میں شکوے شکایات کرنے مسجد پہنچ جاتا ہے۔

امریکا میں ریٹائرمنٹ کی کوئی عمر مقرر نہیں۔ یہاں کام کرنے والے کی مرضی ہے کہ وہ کب ریٹائرمنٹ لیتا ہے۔ اسی پچاسی اور نوے سال کی عمر کے لوگ اگر کام کرسکتے ہیں تو کررہے ہیں۔

ہمارے ہاں کوئی معذور ہوجائے تو اس کی زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے بیشتر لوگ گھر پر پڑے رہنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے۔ یہاں کوئی گھر نہیں بیٹھتا۔ الیکٹرونک وہیل چئیر پر بیٹھ کر اکیلے نکل جاتے ہیں۔ پاکستان میں سڑکیں تک ڈھنگ سے نہیں بنائی جاتیں۔ یہاں ہر فٹ پاتھ پر وہیل چئیر اترنے چڑھنے کی جگہ ہے۔ ہر بس اور ٹرین میں بزرگ اور معذور افراد کی نشستیں مخصوص ہیں جن پر کوئی اور نہیں بیٹھ سکتا۔ بس اڈے اور ٹرین اسٹیشن پر ایسے افراد کے لیے مخصوص کی گئی لفٹیں ہیں۔

معذور افراد گاڑیاں بھی چلاتے ہیں۔ میں نے کوئی پارکنگ ایسی نہیں دیکھی جہاں معذور افراد کی گاڑیوں کے کیے مخصوص جگہ نہ ہو۔
میں نے ابھی تک یہاں ٹریفک پولیس نہیں دیکھی۔ جابجا سگنل لگے ہیں اور جہاں نہیں ہیں، وہاں ہر موڑ پر اسٹاپ کا سائن ہے۔ آپ نے لازماً تین سیکنڈز ان پر ٹھہرنا ہے۔ ہر سڑک پر ٹریفک نشانات ہیں کہ رفتار کی حد کیا ہے، کہاں موڑ آنے والا ہے، کہاں زیبرا کراسنگ ہے۔ اب ہر فون میں گوگل میپ یا ایسی ہی ایپلی کیشنز ہوتی ہیں۔ لیکن نہ ہوں تو بھی آپ راستہ نہیں بھول سکتے۔ ہر سڑک پر ہدایات درج ہیں۔ کوئی گاڑی غلط مقام سے آپ کی لین میں نہیں گھس سکتی۔ کسی ایک لین میں دو گاڑیاں نہیں چل سکتیں چاہے کتنی چوڑی سڑک ہو۔

پاکستان کے ڈرائیور کو یہاں کچھ دقّت ہوتی ہے کیونکہ اسٹئیرنگ وہیل بائیں جانب ہوتا ہے۔ کچھ تجربہ کار لوگ پہلی باری میں ڈرائیونگ ٹیسٹ میں فیل ہوجاتے ہیں۔ لیکن امریکا آکر ڈرائیونگ سیکھنے والے عموماً پہلی کوشش میں لائسنس لے لیتے ہیں۔ یہاں دبئی کی طرح چکر بازی نہیں ہے۔ وہاں پیسے بنائے جاتے ہیں، یہاں ڈرائیور بنائے جاتے ہیں۔

میں ایک کہانی میں لکھ چکا ہوں کہ واشنگٹن میں سب نہیں تو متعدد سگنلوں پر آڈیو چلتی ہے۔ نابینا افراد سن سکتے ہیں کہ سگنل ریڈ ہے یا گرین ہوگیا ہے۔ وہ آگے بڑھیں یا کھڑے رہیں۔ لیکن وہ چل بھی پڑیں تو سارا ٹریفک رک جاتا ہے۔ کبھی کبھی آنکھوں والے پیدل افراد بھی غلطی کرجاتے ہیں۔ گاڑی والے ان کا بھی خیال کرتے ہیں۔

امریکا میں ہنگامی امداد کا فون نمبر نائن ون ون ہے۔ آپ نے غلطی سے بھی گھما دیا تو رضاکار چند منٹ میں گھر پہنچ جائیں گے۔ یہاں امدادی اداروں میں سرکاری ملازم بھی ہیں لیکن بہت سے عام شہری بھی رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہ فائر بریگیڈ سنبھالتے ہیں۔ خود ہی چندہ کرتے ہیں، وقت دیتے ہیں اور آگ بجھاتے ہیں۔ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔ خدمت خلق کا معاوضہ کیسا؟

Facebook Comments HS

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 194 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi