نواز شریف کو دفعات باسٹھ تریسٹھ جج بننے سے نہیں روکتیں

ہمارے ذہن میں ایک ایسی تجویز ہے جس پر عمل کر کے نواز شریف صادق اور امین ہوئے بغیر بھی سیاست کر سکتے ہیں۔ آپ پوچھیں گے کیسے؟ آپ کو یاد ہو گا کہ جب اس وقت کے صدر زرداری کو میمو گیٹ میں گھیرنے کی کوشش کی جا رہی تھی تو نواز شریف کالا کوٹ ڈانٹے سپریم کورٹ میں بنفس نفیس وکالت کرنے پہنچ گئے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی ہوئی ہے۔ یعنی وہ ایک مستند وکیل ہیں۔
ملکی سیاست سے باہر پھینکے جانے کے بعد اگر نواز شریف دوبارہ کالا کوٹ پہن لیں تو بار کونسل کی سیاست میں آ سکتے ہیں۔ ہماری ناقص رائے میں، جس کی درستی پر ہمیں ہرگز بھی اصرار نہیں ہے، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن وغیرہ کی سیاست یا صدارت کے لئے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کی صادق اور امین ہونے والی شرط نہیں ہے۔ یعنی میاں صاحب چاہے جتنے بھی دروغ گو اور دھوکے باز ہوں، وہ سپریم کورٹ بار کے صدر منتخب ہو سکتے ہیں۔
لاہور بار ایسوسی ایشن پاکستان کی سب سے بڑی وکلا تنظیم ہے اور اس وجہ سے نہایت اہم ہے۔ ادھر حامد خان اور عاصمہ جہانگیر کے گروپوں میں انتخابی معرکے گرم ہوتے تھے۔ اب میاں صاحب چاہیں تو عاصمہ جہانگیر کے بعد وہ اپنا گروپ بنا سکتے ہیں۔ یوں وہ تحریک انصاف کے وکلا کو شکست دینے کا خواب بھی پورا کر لیں گے، اور اس طریقے سے وہ اثر بڑھا کر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بھی منتخب ہو جائیں گے۔

لیکن میاں صاحب کا دل سیاست سے واقعی اوب گیا ہے تو پھر ایک اور تجویز بھی ہمارے ذہن میں موجود ہے۔ وہ یہ کہ اب میاں صاحب شاہد خاقان عباسی یا شہباز شریف کو مستقل وزیراعظم بنا دیں۔ اس عنایت پر بس ایک گرو دکشنا طلب کریں کہ وہ بطور وزیراعظم میاں صاحب کو سپریم کورٹ کا جج مقرر کر دیں گے۔ قانون کے مطابق کوئی ایسا وکیل جو پندرہ برس ہائی کورٹ کی وکالت کا تجربہ رکھتا ہو، سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا جا سکتا ہے۔
ہم نے قانون دان نہ ہوتے ہوئے بھی ججوں کی تقرری سے متعلق آئینی شقوں یعنی 175 سے 177 تک کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ آئین کسی شخص کی بطور سپریم کورٹ کے جج کی تقرری کے لئے اس پر آئین کا آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ لاگو نہیں کرتا ہے، یعنی نواز شریف صادق اور امین نہ ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کے جج مقرر کیے جانے کے اہل ہیں۔ بس ایک معمولی سی اڑچن ہے۔ آرٹیکل 179 یہ کہتا ہے کہ سپریم کورٹ کا جج پینسٹھ برس کی عمر میں ریٹائر ہو جائے گا اور میاں صاحب اس وقت اڑسٹھ برس کے ہیں۔ لیکن جہاں وزیراعظم ان کی تقرری کے لئے اتنی مشقت کریں گے تو وہ سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا کر پچھتر برس بھی کر سکتے ہیں تاکہ میاں نواز شریف سپریم کورٹ کے جج بن سکیں۔
اب دو تجاویز ہم نے پیش کر دی ہیں۔ یعنی میاں صاحب اگر سیاست کھیلنے کے موڈ میں ہیں تو وہ سپریم کورٹ بار کے الیکشن لڑنا شروع کر دیں۔ اگر وہ سیاست کرنے سے تھک گئے ہیں تو بطور جج تقرری کی کوشش کر لیں۔ فیصلہ ان کا ہے۔

