میں پوری نہیں بھرپور ہوں

ہم شوہر سے کیوں دل کا حال بیان کریں جب ہمیں وقت ہی نہیں ان کے کھانے پکانے سے، بچوں کی ٹیوشن اور اسکول کے معاملات سے اور شام کی چائے سے جو ضرور ہی بنانی پڑجاتی ہے چاہے خود بنائیں یا خانساماں سے بنوائیں۔ آخر دماغ میں تو ہمارے ہی خیال آتا ہے کہ چائے کا وقت ہوگیا اور اپنے گلے کو بھی زحمت دینی پڑجاتی ہے آواز لگا کر، ارے چائے بنادو۔ مرد کو تو اپنا ہی رونا یاد رہتا ہے ہم کیا اپنا درد سنائیں اور دل ہی جلے گا یہاں تو مرد کا بس نہیں چلتا کہ ہمیں بیل گاڑی بنا لے یہ بھی کردو، سنو امی آرہی ہیں خیال رکھنا کوئی شکایت نہ ہو۔ بس عورت ہی پر کام کے بادل چھائے رہتے ہیں بس نہیں چلتا کہ عورت پر برس برس کر کوئی نئی جدید محنت و مشقت کی جڑی بوٹی پیدا کروا دیں اور عورت مزید سگھڑاپے اور سلیقے کا سبق سیکھ سیکھ کر اپنی قبر کا کتبہ بھی گھر ہی میں تیار کر کے الماری میں سجالے۔
کیوں عورت عورت کا رونا پیٹا ہوا ہے بہنو! نہ بناؤ روٹی نہ بناؤ کھانا، جو چاہو پہنو جہاں چاہو جاؤ بس تماشا نہ بناؤ اپنا۔ آپ کا شوہر اگر آپ کا خیال نہیں رکھتا یا نہیں رکھے گا تو اس کا علاج تو آپ خود ہی کرسکتی ہیں۔ عورت کو یقینا مشین نہیں سمجھنا چاہیے اور ہر بات کی توقع صرف عورت سے ہی نہیں رکھنی چاہیے یہ بات سو فیصد درست ہے، لیکن جو طریقہ کار اپنایا جارہا ہے مرد کو اخلاقیات کا سبق سکھانے کا اس کا انداز درست نہیں چاہے عورت ہو یا مرد یہ طریقہ کسی طور درست نہیں، یہ معاملات تو سارے تربیت کے ہوتے ہیں بچے جو ماں باپ کو کرتا دیکھتے ہیں اسی کے نقوش ان کے دل و دماغ میں پیوست ہوجاتے ہیں اور وہ صحیح یا غلط یا ظلم وذیادتی میں تفریق کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔
مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے اور خیال رکھنے کا کوئی پیمانہ نہیں ہوا کرتا کہ کھانا پکالیا تو خیال رکھ لیا، روٹی بنادی تو خیال رکھ لیا، میرا ماننا ہے کہ ہمارے والدین کو اب ضرورت ہے کہ وہ ہمیں کچھ دین کی باتیں بھی سکھادیں تاکہ دماغ کا خلل دور ہوسکے اگر بچپن میں انہیں وقت نہیں مل سکا ہماری تربیت کرنے کا تو اب کچھ مہربانی فرمائیں اور ”تو کون میں کون“ والی جنگ سے نجات دلوائیں۔ خواتین مارچ میں ایک بینر پر نظر پڑی تو پتا چلا عورت آدھی نہیں پوری ہوتی ہے جبکہ میرا ماننا ہے کہ عورت پوری نہیں بھرپور ہوتی ہے، اپنے اندر ایک مکمل شخصیت، اسے کسی بینر کو تھامنے کی ضرورت نہیں، وہ جب خود سے ہار مان لیتی ہے تو دوسروں کو سبق سکھانے کا سوچ لیتی ہے، ضرور سکھائیں مگر شروعات اپنے گھر سے کریں اس کے بعد دوسروں کو سبق پڑھائیں۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ میں نے دوران تدریس جامعہ کراچی سے ماسٹرز کرنے کے دوارن جو کہ ایوننگ پروگرام تھا اسکول میں بھی پڑھایا ہے اور زیادہ تر مرد حضرات کو خواریاں بھگتتے ہوئے بھی بخوبی دیکھا اور پیرنٹس ڈے میٹنگز بھگتائیں ہیں جن میں طلبا و طالبات کے والدین میں ذیادہ تر صرف والد کو ہی پایا اور وہ ہی صبح بچوں کو کبھی موٹر سائیکل تو کبھی گاڑی میں اسکول چھوڑنے آتے تھے اور ایسے بچوں کو بھی دیکھا جو اسکول میں صرف اس لئے دیر سے حاضر ہوتے تھے کیونکہ ان کی امی کی آنکھ نہیں کھلی اور والد آدھا گھنٹہ لیٹ بچے کو اسکول چھوڑتے تھے اور معصوم بچہ ایک گھنٹہ کھڑا رہ کر سزا بھگت رہا ہوتا تھا، اس وقت دل خون کے آنسو روتا تھا کے کیسے بچے کا بستہ لے کر اسے کلاس میں چھوڑ آؤں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتی تھی ہاں البتہ ایڈمنسٹریٹر جو کہ کوئی وظیفہ پڑھ رہے تھے ان سے گزراش کی آج چھوڑ دیں بستہ بہت بھاری ہے میں بات کروں گی خود والدہ سے بچے کی، بچے کا کیا قصور تو انہوں نے یہ کہہ کر رد کردیا ”مس روز کا معمول ہے آپ یہ تماشا آج دیکھ رہی ہیں کیونکہ نئی آئی ہیں“۔
میں ماں نہیں ہوں اور نہ ہی کوئی شادی شدہ عورت لیکن میں وہ درد و ندامت محسوس کررہی تھی جو اس بچے کی آنکھوں سے عیاں تھا، وہ تو بس اپنی ماں سے مخلص تھا اور روز اپنے کاندھوں پر اس بوجھ کو اٹھائے جارہا تھا جو ماں روز باپ اور باپ روز بچے پر ڈال رہا تھا کیونکہ شاید وہ بھی ایک باضمیر مرد کی طرح اپنی روٹی خود ڈال رہا تھا اور بچے کو بھی خود پال رہا تھا، اسے کہتے ہیں پوری اور بھرپور عورت جو مرد کو بھی عورت بناسکتی ہے اور بچوں کو اپنا غلام۔

