زچگی کے بعد طاری ہونے والا ڈپریشن خطرناک ہو سکتا ہے
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا اثر بچے کی نشوونما پر خاصی حد تک ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد پہلا بندھن اپنی ماں کی جسمانی اور ذہنی قربت کے نتیجے میں بندھنتا ہے لیکن ڈپریشن کی صورت میں ماں کا منفی ردعمل اس رشتے کو قائم ہونے سے روک دیتا ہے۔ اس کو بچہ ایک بوجھل ذمہ داری محسوس ہوتا ہے اور اس کی اداسی اور بیزاری اس کے عمل اور چہرے کے تاثرات سے عیاں ہوتی ہے۔ اس ماحول میں پلنے والے بچے شروع سے زود حس اور غصہ ور ہوتے ہیں اور کھانے اور نیند کے سلسلے میں مسئلہ پیدا کرتے ہیں۔ ان کی ذہنی، جذباتی اور سماج سے وابستگی کی رفتار سست ہوتی ہے، وہ دیر سے بولتے اور ان میں ڈپریشن کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔
حفاظتی اقدامات اور تدارک:۔ اکثر مائیں اپنی اس کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے ندامت محسوس کرتی ہیں کہ انہیں اس پرمسرت موقع پر ڈپریشن اور رونا آرہا ہے لیکن اس کا گفتگو کے ذریعے اظہار انتہائی ضروری ہے چاہے وہ گھر کا فرد ہو، ڈاکٹر ہو یا مڈوائف تاکہ صحیح تشخیص اور دوا تجویز کی جاسکے۔ اس سلسلے میں کچھ مددگار اقدامات مندرجہ ذیل ہیں۔
۔ 1 پیدائش کے بعد زیادہ سے زیادہ آرام کریں خصوصاً جس وقت بچہ سو رہا ہو آپ خود بھی سونے کی کوشش کریں۔
۔ 2 اس بات کی کوشش نہ کیجئے کہ گھر کا سب کام کرلیں، اتنا ہی کریں کہ جتنا آسانی سے ہوسکے۔
۔ 3 گھر کے کاموں کے لئے کسی کی مدد لیں، اس لحاظ سے مشرقی معاشرہ مغرب کے معاشرے سے بہتر ہے کہ جہاں گھر والے اور خاندان کے مزید افراد مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔ بعض صورتوں میں پڑوسی بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
۔ 4 تادیر اکیلے رہنے سے گریز کریں، تیار ہو کر باہر نکلیں اور چہل قدمی کریں۔
۔ 5 دوسری ماؤں سے گفتگو کرکے ان کے تجربات سے سیکھیں۔
۔ 6 ایسے معاون گروپ (جو خصوصاً مغرب میں عام ہیں) سے رابطہ میں رہیں کہ جو ڈپریشن پر قابو پانے میں آپ کے مددگار ثابت ہوں۔
۔ 7 معمولی نوعیت کے ڈپریشن کا علاج گفتگو سے بآسانی کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں سوشل ورکر، نفسیات دان اور آپ کے معالج بتا سکتے ہیں کہ منفی سوچوں کا رخ کس طرح مثبت اندازِ فکر سے بدلا جاسکتا ہے تاہم انتہائی صورت میں ڈپریشن پر قابو کے لئے ادویات کا استعمال ضروری ہوجاتا ہے۔ اس مضمون کا مقصد علاج سے متعلق دواؤں کی فہرست کا احاطہ نہیں، وہ آپ کے معالج کا کام ہے۔ یہاں اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے کہ بچوں کو صحتمند ماں کی ضرورت ہے اور ماں کا بھی حق ہے کہ وہ زندگی کی سب سے اہم خوشیوں کو سمیٹ سکے لہٰذا ضروری ہے کہ کسی بھی قسم کے ڈپریشن کا اندازہ ہوتے ہی اپنی بیماری کو تنہا جھیلنے کے بجائے اپنے شوہر اور گھر والوں کو اپنی ذہنی کیفیت بتائیں تاکہ علاج کی شکل میں اس پر حتی المقدور قابو پایا جاسکے۔

