آزادی صحافت: دہ سنگہ آزادی دہ؟


وائس آف امریکا کی ایک خبر کے مطابق نادیدہ قوتیں اظہار پر پابندی لگارہی ہیں۔ پاکستان میں مارشل لا کے ادوار میں صحافیوں نے کوڑے کھائے لیکن اظہار سے باز نہیں آئے، لیکن جمہوری دور میں نادیدہ قوتیں اظہار پر پابندی لگارہی ہیں۔ بابر ستار، گل بخاری، مشرف زیدی اور وجاہت مسعود کے حوالے سے کہا گیا کہ ان کے کالم روک لیے گئے ہیں۔ ارشاد احمد عارف نے نادیدہ قوتوں کا دفاع کرتے کہا، کہ کالم نگاروں کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ کیا لکھ رہے ہیں۔ جب کوئی تحریر چھپ جاتی ہے، تو اڈیٹر اور ادارہ اس کا جواب دہ ہوتا ہے۔ اڈیٹر اگر آئین و قانون اور معاشرتی اقدار کے خلاف کالم روکتا ہے، تو ٹھیک کرتا ہے۔

راقم الحروف یہ خبر پڑھ کے دیر تلک بھالو ڈانس کرتا رہا۔ بھالو ڈانس کیسے کیا جاتا ہے، یہ عدنان خان کاکڑ کر کے دکھا سکتے ہیں۔ آپ پوچھیں گے، بھالو ڈانس کیوں کیا؟ اس لیے کہ ان ناموں میں وجاہت مسعود وہ نام ہے، جنھوں نے یہیں ”ہم سب“ پر میرے چند ایک آرٹیکل رد کردیے، کہ ”نادیدہ قوت“ برا نہ مان جائے۔
”حال مل گیا تمھارا اپنے حال سے“۔

پھر دیدہ قوت کو ”نادیدہ“ لکھنا بتاتا ہے، کہ ”دیدہ و بینا“ کا رزق اس جہاں سے اُٹھ گیا ہے۔ یہی نہیں ”دیدہ“ کو ”نادیدہ لکھنے ہی سے آزادی صحافت کے ڈھول کا پول کھل کے سامنے آ جاتا ہے۔ ”دہ سنگہ آزادی دہ“، کہ آپ ”نادیدہ قوت“ کا نام تک نہیں لے سکتے۔

(قاری کے لیے) اپنے دو چار ”نادیدہ“ رہ جانے والے بلاگز کا حشر دیکھ کر فدوی نے سوچا کیوں نہ ہنس کی چال چلا جائے۔ لہاذا شاعری، ادب، اور فلم کو موضوع بناتے کچھ بلاگز لکھنے کا ارادہ کیا۔ ”پاکستان میں شوبز انڈسٹری کا خاتمہ قریب ہے“۔ اس موضوع کا چناو کیا ہی تھا، کہ مذکورہ بالا خبر پڑھ کر رہا نہیں گیا، کہ اس میں ”نادیدہ“ لفظ نے میرے لسان کے شوق کو ابھاردیا۔ سوچا پہلے اس لفظ کی وضاحت ہوجائے، پھر شوبز انڈسٹری کا نوحہ بھی لکھ دیتے ہیں۔

”نادیدہ“ کا سیدھا مطلب ہوا، وہ جو دکھائی نہ دے۔ جب کہ یہاں وہی ایک قوت دکھائی دیتی ہے، بل کہ پاکستان کی سب سے بڑی قوت ہے۔ ارشاد احمد عارف ہوں، یا اس نادیدہ قوت کا دفاع کرنے والے دیگر ”نیک نام“ صحافی، ان کے اخبارات اٹھا کے دیکھ لیں، یہ سیاست دانوں کو دُنیا کی سب سے غلیظ قوم بنا کر پیش کرتے ہیں۔ کسی نے ایک نیا محاورہ گھڑا ہے، ”آئین و قانون گیا تیل لینے“، اس محاورے کا یونھی ذکر آ گیا، موضوع یعنی معاشرتی اقدار کی بات کرتے ہیں۔ یہ نشریاتی ادارے معاشرتی اقدار کا کتنا خیال کرتے ہیں، بس اتنا جان لیں، معاشرتی اقدار کا حوالہ دینے والوں کا بس چلے، یہ سیاست دانوں کے بیڈ رُوم سے لے کر کے ان کے غسل خانوں تک میں کیمرے نصب کردیں۔ آئین و قانون و عدل و مذہب و اخلاقیات، صحافتی اقدار، اسلام اور دیگر ”ٹیگ“ تب یاد آتے ہیں، جب ”نادیدہ قوت“ کا دفاع مقصود ہو۔

بھئی ہم جیسے پارٹ ٹائم ”بلاگر“ کی اوقات ہی کیا، یہاں کوڑے کھانے والے صحافی تک تائب ہوچکے ہیں۔ صحافت کوئی مقدس پیشہ نہیں رہا؛ جب کہ صحافی علی اعلان کہتے ہیں، کہ صحافی غیر جانب دار نہیں ہوسکتا۔ گویا خبر دینے والا، سچ سنانے والا چاہے تو خبر کو اپنی مرضی کا رنگ دے، چاہے تو اپنی منشا کے مطابق سچ گھڑے، تجزیہ کرے، ان کی نگہ میں یہی صحافت ہے۔ شوبز انڈسٹری کا زوال کیوں نہ قریب ہو، کہ “نیوز انڈسٹری“ کے اداکاروں کے بھاو بڑھ گئے ہیں۔ سب کا رُخ اس منڈی کی طرف ہے۔

”نادیدہ قوت“ کے وکالت کرتے اشخاص، نشریاتی ادارے یا تو انتہائی بزدل ہیں، بزدل نہیں ہیں، تو منافق بہ ہر حال ہیں۔ انھیں ضرورت پڑے تو یہ ”نادیدہ قوت“ کا دفاع کرنے کے لے مخالف نقطہ نظر کو ”لبرل“، ”ملک دشمن“، ”غدار“، ضمیر فروش“ جیسے القابات دینے سے باز نہیں آتے، لیکن ”نادیدہ قوت“ کے غیر آئینی اقدام پر انگلی اٹھائی جائے تو یہی صحافی تان پورہ لے کر آئین و قانون، معاشرتی اقدار کا راگ الاپنے لگتے ہیں۔

منظور پشتین دھرنا دیے بیٹھا ہے، نامعلوم پاکستانیوں کی بازیابی کا مطالبہ کرتا ہے، تو معاشرتی اقدار اور صحافت کو مقدس پیشہ کہنے والے یہ گنہ گار منظور پشتین کی خبر تک نہیں چھاپ سکتے۔ کچھ کہنا ہی پڑے تو اسے ملک دشمن بتانے سے نہیں چوکتے، کیا یہ نہ کہا جائے کہ آئین و قانون ایک جھانسا ہے اور کچھ نہیں؟ ورنہ قانون کے تحت ان صحافیوں، ان اڈیٹروں کو عدالت میں گھسیٹا جاتا، کہ آپ کس ثبوت کے تحت کسی شہری کو غیر ملکی ایجنٹ یا دشمن ملک کا کاسہ لیس کہتے ہیں۔ ”نادیدہ قوت“ منظور پشتین کے مقابل ”سرکاری محب وطن“ گروہ کھڑا کردے، جس میں پانچ چھہ سو افراد یونیفارم اُتار کر شریک ہوں، محب وطن اخبارات، محب وطن ٹیلے ویژن چینل اسے نمایاں کوریج دیتے ہیں۔ صحافت کی اعلا اقدار کا اس سے بہ ترین نمونہ اور کیا دکھایا جائے۔

عرض ہے اس تھوڑے کو بہتا جانیے، کہ مجھے بھی ”محب وطن“ کہلانا ہے۔ محب وطن صحافی کا اولین فرض ہے کہ پارلیمان کے بخیے ادھیڑے، سیاست دان کو ہر دم چور کہے، جمہوریت پر لعن طعن کرے، اور ایسا نہ کرنے والے کو لبرل، غیر ملکی ایجنٹ، اسلام دشمن اور جو جو من میں آئے کہے، کہ قانون، آئین، معاشرتی اقدار کا تعین اسی نے کرنا ہے۔ ”پاکستان میں شوبز انڈسٹری کا خاتمہ قریب ہے“ مجھے اس موضوع پر مضمون لکھنا ہے؛ اجازت دیجیے۔ خدا حافظ۔

Facebook Comments HS

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran