پنجاب کی تقسیم کیوں ضروری ہے؟ بنیادی محرکات


جب بھی الیکشن نزدیک آتے نئے صوبے کے حامی اور جنوبی کے محرومیوں پر دل گرفتہ لوگ اکٹھے ہو نا شروع ہو جاتے ہیں کیوں کہ انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ عوام اس نعرہ پر انہیں ووٹ دیں گے۔ دوسری جانب صوبہ مخالف لابی فوری طورپر بہاول پور صوبہ بحالی کے حامیوں کو متحرک کر دیتی ہے تاکہ پنجاب کی تقسیم کا ایشو کو یہ کہہ کر دبا دیا جائے کہ جنوبی پنجاب میں کئی صوبوں کی تحریکیں ہیں کسے کسے صوبہ دیں۔ اس کے ساتھ فوری طور پر ہزارہ اور کراچی صوبے کی باتیں شروع کردی جاتی ہیں۔
صوبہ مخالف قوتیں پورے پاکستان میں صوبہ بنانے کی ہوا اڑا کر جنوبی پنجاب یا سرائیکی علاقوں کے عوام کی آواز کو دبا دیتی ہیں۔

نئے صوبوں کا قیام کے حوالے سے اس وقت بحث زوروں پر ہے کل تک جو پنجاب کی تقسیم کے مخالف تھے آج وہ اس کے حق اتحاد بنا رہے ہیں اور اس کے حق میں ریلیاں نکال رہے ہیں۔ اوریہ وہ کھلاڑی ہیں جو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ چلو انہیں ہوش تو آئی اور یہ آج جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن ہم سب کو یہ سمجھنا ضروری ہے۔ کہ یہ کوئی سیاسی کھیل نہیں یہ ایک حقوق کی منظم تحریک ہے۔ جو کئی دہائیوں سے اس خطہ میں موجود ہے۔

جنوبی پنجاب سرائیکی وسیب 13 اضلاع پر مشتمل پنجاب کا پسماندہ ترین خطہ ہے۔ جو سابقہ تین ڈویژنل، ہیڈ کواٹرز، ملتان، بہاولپور، ڈیر ہ غازی خان ڈو یژن پرمشتمل ہے۔ یہ علاقہ گزشتہ70 سال سے اپنے اور پرائے لوگوں کے استحصال کا شکار رہا اس خطہ کی پسماندگی کی بے شمار وجوہات ہیں۔

لیکن سب سے اہم اور بنیادی وجہ اس خطہ کا جاگیردارانہ نظام اور وڈیرہ شاہی ہے۔ لیکن میرے لئے حیران کن بات تھی کہ وہی جاگیردار وڈیرے آج جنوبی پنجاب صوبے کی حمایت میں نکل کھڑے ہوئے تھے۔ جو کل تک صوبے کا نام لینے والوں کو غدار کہتے تھے۔ انگریز کی وفاداری کے بدلے جائیدیں حاصل کر نے والے اس خطہ کے جاگیر دار جو انگریز دور سے آجتک اس علاقے سے اقتدار میں رہے ہیں۔ صدر پاکستان، وزیر اعظم، وزیر اعلی سمیت کوئی اعلی منصب ایسا نہیں جو اس خطہ کے جاگیرداروں نے جو حاصل نہ کیا ہو۔ نواب مشتاق گرمانی ون یونٹ کا سربراہ، مصطفی کھر وزیر اعلی، گورنر، حنا ربانی کھر وزیر خارجہ، مظفرگڑھ تمام سرکاری اعداد شمار تعلیم، صحت، پانی کی فراہمی، میں پنجاب کے نچلے درجے میں موجود ہ ہے۔ آج بھی اس کا شمار پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے؟

فاروق لغاری صدر، ذولفقار کھوسہ، گورنر پنجاب، مزاری، دریشک، ہر اقتدار کا حصہ راجن پور اور ڈیرہ غازی خان آج کے پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں شامل؟ ایسے ہی آپ ملتان، لیہ، بھکر، لودھراں، بہاولپور، رحیم یار خان، خانیوال کے اعداد شمار نکال لیں یہ اضلاع پنجاب کے نچلے درجہ پر فائز نظر آئیں گے۔ اس سب پسماندگی کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وہی لوگ پھر صوبے کا مطالبہ لے کر آئے ہیں اور الیکشن کے بعد بھول جائیں گے۔ لیکن میں اس موقع پر ان تمام مقامی سیاسی کارکنان کو سلام پیش کرنا چاہوں گا۔ جو کئی دہائیوں سے پنجاب کی تقسیم اور علیحدہ صوبے کامطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ کل تک جو لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے، آج وہ بھی ان کے ہم نوا نظر آتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ صوبے کے مطالبے کے دو بنیادی محرکات ہیں جن کو اس مضمون میں زیر بحث لانا چاہتا ہوں۔ پہلی وجہ آبادی ہے کیو نکہ 12کروڑ کی آبادی پر مشتمل ایک صوبہ کا انتظام کسی طرح بھی نہیں چلایا جاسکتا۔ دنیا میں کہیں بھی اتنی آبادی پر مشتمل صوبہ نہیں۔

جن قوموں نے ترقی کی انہوں نے اپنی آزادی کے بعد انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا. دنیا کے نقشے پر صوبہ پنجاب واحد صو بہ ہے جس کی آباد ی 12کروڑ ہے (عزیز من ،ہمسایہ ملک بھارت میں اترپردیش کی آبادی 20 کروڑ 72 لاکھ ہے۔ مدیر) دنیا میں44 مما لک ایسے ہیں جن کی آبادی، آ مدنی اور رقبہ پنجا ب کی آمدنی اور رقبہ سے کم ہے۔ اب ذرا ترقی یافتہ دنیا کو دیکھیں کہ وہ اپنا نظام کتنے صوبوں میں چلا رہے ہیں۔ فرانس کل آبادی 5 کروڑ 5 لاکھ صوبوں کی تعداد96۔ جاپان کل آبادی 11کروڑ 40 لاکھ صوبوں کی تعداد 48۔ ایران کل آبادی 3 کروڑ 60 لاکھ صوبے 25۔ انڈونیشیا کل آبادی 17 کروڑ28 لاکھ صوبو ں کی تعداد 28۔ سعودی عرب آبادی 1 کروڑ 1 لاکھ صوبوں کی تعداد 19۔ ملائیشا آبادی 1 کروڑ 25 لاکھ صوبے 14 بنگلہ دیش آبادی 19کروڑ صوبے19 اسی طرح دنیا کی سیکڑوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں جبکہ پاکستان کی آبادی 18 کروڑ ہے اورصوبے 4ہیں۔ اس صورتحال میں مزید صوبوں کی ضرورت ایک بنیادی ضرورت ہے جسے کوئی بھی ذی شعور انسان جھٹلا نہیں سکتا۔

دوسرا اور انتہائی اہم محرک اس خطہ کی پسماندگی ہے۔ کیونکہ یہ خطہ ہر لحاظ سے پنجاب کے دیگر حصوں کی نسبت نظر انداز ہے۔ اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

گزشتہ70 سالوں سے اقتدار کے مزے لوٹنے والوں نے ان 13 اضلاع کی عوام کو تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور شعور جیسی دولت سے محروم رکھا۔ اس خطہ کے سیاسی رہنماہر دور اقتدار میں اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔ دور آمریت کا ہو یا جمہوریت کا ہر دور میں اس خطے کے سیاست دان اقتدار کے اعلی ایوانوں میں موجود رہے لیکن اس خطہ کے اعداد شمار اس بات کے گواہ ہیں کہ ان وڈیروں، سیاستدانوں، جاگیرداروں نے اس خطہ کو پنجاب کے دیگر اضلاع کے برابر ترقی کے دھارے میں شامل کرانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہیںکیے ورنہ پسماندگی اور مسائل کی یہ صورتحال نہ ہوتی جو اس وقت نظر آتی ہے۔ اس خطہ کے سیاستدانوں کو پنجاب کی وزارت اعلی، گورنر شپ مختلف وفاقی وزارتوں کا نہ صرف موقع ملا بلکہ صدر پاکستان بھی اسی خطے سے رہے اور اس وقت بھی وزیر اعظم سمیت اہم وفاقی وزارتیں اس خطے کے سیاست دانوں کے پاس ہیں۔

جنوبی پنجاب کی ترقی کے دعوی کرنے والوں کے لئے سرکاری اعداد شمار کا فی ہیں جن سے کو ئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ 70 سال سے اقتدار کے مزے لوٹنے والوں سے یہ اعداد شمار سوال کرتے ہیں کے آپ کو کبھی اس خطہ کے غریب کسان، مزدور اور محنت کش کا خیال نہیں آیا۔ کیا آپ کو خیال نہیں آیا کہ سب سے زیادہ کپاس پیدا کرنے والے اس خطہ کو زرعی یونیورسٹی کی ضرورت ہے۔ ؟ کیا آپ کو یاد نہیں تھا کہ سب سے میٹھا آم پیدا کر نے والے اس خطہ کے کسان کو جیم جیلی اور جوس کی انڈسٹری کی ضرورت ہے۔ ؟ کیا اس خطہ میں اچھے تعلیمی ادارے بنانا آپ کی ذمہ داری نہ تھی؟ سرکاری اور غیر سرکاری رپورٹس اور غیر جانبدار تجزیوں کا کا اگر مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ کس طرح اس خطہ کے عوام کا استحصال ہو تارہا۔ اور آج یہ استحصال پنجاب کی تقسیم کی آواز بن کر ابھری ہے۔ اور جو تیزی سے پھیل رہی ہے۔

ہم کچھ اس رپورٹ کو دیکھتے ہیں اور اس کے ذریعے جنوبی پنجاب کے 13 اضلاع کا موازانہ پنجاب کے دیگر اضلاع کرتے ہیں تاکہ وہ وجہ جان سکیں جس بنیاد پر آج علیحدہ صوبہ کی بات ہو رہی ہے۔ ساڑھے پانچ کروڑ عوام کا یہ خطہ ہر لحاظ سے پنجاب کے دیگر اضلاع سے پیچھے ہے۔ غربت کی شرح یہاں سب سے زیادہ ہے۔ گزشتہ دنوں جنوبی پنجاب کے حوالے سے ایک تحقیقی رپورٹ تیار کی تھی جس میں زیادہ تر اعداد شمارحکومت پنجاب کے ڈسٹرکٹ بیس ملٹی انڈکیٹر سروے جو یونیسیف کے تعاون سے کرایا گیا تھا سے لیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ میں دیگر اداروں کی تحقیق سے بھی حوالے لیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ترقی کے اعداد شمار پانچ سب سے بہتر اضلاع میں لاہور، سیال کوٹ، راولپنڈی، فیصل آباد گوجرنوالہ جبکہ پسماندہ ترین اضلاع میں، مظفر گڑھ، راجن پور، ڈیرہ غازی خان، لودھراں، لیہ شامل ہیں۔ اگر ہم اس کی تفصیل میں جاتے ہیں تعلیم صحت، روزگار، مواصلات، صنعت، زراعت، ہر شعبے میں یہ 13 اضلاع پنجاب کے باقی اضلاع سے پیچھے ہیں۔

پنجاب حکومت کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس وقت پنجاب کے صرف 24 فیصد افراد کو صاف پانی میسر ہے جن اضلاع کے 24 فیصد افراد کو صاف پانی میسر ہے وہ زیادہ تر اپر پنجاب سے ہے۔ جنوبی پنجاب مطفر گڑھ، ملتان، خانیوال، لیہ، بھکر کے پانچ اضلاع ایسے ہیں۔ جہاں ایک فیصد سے کم آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ جنوبی پنجاب کے باقی 5 اضلاع جن میں لودھراں، راجن پور، ساہیوال، پاکپتن، جھنگ، شامل ہیں کو 10 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر ہے۔ اب ذرا سو چیں! پینے کا صاف پانی جو ہر شہری کا بنیادی حق ہے اس سے بھی اس خطہ کے لوگ محروم ہیں۔

پنجاب کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق جن 58 فیصد کو سیوریج کی سہولت حاصل ہے۔ جن اضلاع کو یہ سہولت بہتر انداز میں میسر وہ
پنجاب کے ترقیاتی اضلاع ہیں اور سیوریج کی سہولت کے اعتبار سے پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں راجن پور، لیہ، مظفر گڑھ سرفہرست ہیں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان اضلاع کی 70 فیصد آبادی سیوریج اور نکاسی آب سے محروم ہے۔

پنجاب کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق یہ شرح 54 فیصد بتائی گئی ہے تعلیم کے اعتبار سے پنجاب کے پسماندہ ترین اضلاع میں بھی زیادہ تر جنوبی پنجاب کے اضلاع ہیں۔ ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور، بہاولپور، بھکر ایسے اضلا ع ہیں جہاں 60 فیصد سے زیادہ لو گ ان پڑھ ہیں ان اضلاع میں شرح خواندگی 34 سے 40 فیصد تک ہے جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے شہر ملتان کی شرح خواندگی46 فیصد ہے۔ اعلی تعلیم کے ادارے سب کے سب کچھ خاص اضلاع کے لئے ہیں۔

عالمی بنک کے سڑکوں کے معیار کے مطابق ایک مربع کلو میٹر میں سڑکوں کی لمبائی نصف کلو میٹر ہونا چاہیے۔ پنجاب کے بعض ترقی یافتہ اضلاع میں سٹر کیں عالمی معیار سے زیادہ ہیں اس میں لاہور، راولپنڈی، سب سے آگے ہیں ان کے بعد سرگودھا، فیصل آباد او ر گوجرنوالہ جہاں نصف کلو میٹر سے زائد سڑکیں موجود ہیں لیکن صوبہ کے سڑکوں کے اعتبار سے سب سے پسماندہ اضلاع راجن پور، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر، میانوالی، بہاول نگر، رحیم یار خان ہیں۔

یہ رپورٹ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ صوبہ پنجاب کے کچھ علاقے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور کچھ اضلاع بہت زیادہ پسماندہ ہیں اور جو اضلاع ہر لحاظ سے پسماندہ ہیں۔ اُن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہیں تعلیم، پینے کا صاف پانی، صحت اور ذرائع آمدرفت ہر لحاظ سے پسماندہ ہیں۔ اور اس پسماندگی کو دور کر نے واحد راستہ پنجاب کی تقسیم ہے۔ 20لاکھ آبادی پر مشتمل گلگت۔ بلتستان کو صوبائی خود مختاری دی جا سکتی ہے۔ توپھر پنجاب میں کیوں مزیدصوبے نہیں بن سکتے؟ حال ہی میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے نام سے کچھ مسلم لیگ ن کے منحرف ارکان نے اتحاد قائم کیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ اتحاد صرف الیکشن تک ہے یا ان کو بعد میں بھی صوبی کا وعدہ یاد رہتا ہے۔

صوبوں کی تقسیم نہ صرف وفاق کے مفاد میں ہے بلکہ سیاسی پارٹیوں کے بھی مفاد میں ہے۔ تاہم اس حوالے سے سر دست پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، مسلم لیگ ق اور آزاد گروپ کھل کر صوبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن مخالف نہیں کر رہی تاہم وہ کھل کر حمایت میں بھی نہیں نظر آتی لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ قومی سطح کی پارٹیوں کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ نئے صوبے کے قیام کا فیصلہ اور اعلان بھی مشترکہ طور پر کریں۔ کیونکہ سب پارٹیوں کے اندر بھی ایک بڑی تعداد نئے صوبے پر متفق ہے اور بہت سے لوگ کھل کر اس کا اظہار کر رہے ہیں۔ اب سیاسی پارٹیوں کے لئے موقع ہے کہ وہ نئے صوبے کے قیام کا اعلان کر دیں اس قبل کہ یہ تمام آوازیں منظم عوامی تحریک بن جائے۔ اور 2018میں جنوبی پنجاب میں الیکشن صوبے کی نعرہ پر ہو۔

Facebook Comments HS