پیپلز پارٹی، پنجاب اور کفن چور


2013 کے الیکشن میں پی پی پی کے مبینہ انتقال کے بعد ایک سال کے بعد پی پی پی کے اندر سے پانچ سابق وزرا کی آواز بہت طاقت سے گونجی کہ پی پی پی پنجاب دو وجہ سے مر رہی ہے پہلے منظور وٹو جیسا غیر نظریاتی اور لوٹا صدر اور دوسرے مفاہمت کی پالیسی۔

صدر زرداری لاہور آئے پانچ مجوزہ باغی سابق وفاقی وزرا جن کے بارے میں پی ٹی آئی قیادت افواہیں پھیلا رہی تھی کہ وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو چکے ہیں۔ ان سے پارٹی کارکنان اور عہدیداروں کےسامنے ڈائیلاگ کیا اور بتانے کی کوشش کی کہ پنجاب پی پی پی کی تباہی کی ذمہ داری کیونکر پارٹی لیڈرشپ پر ڈالی جا سکتی ہے۔ جب وفاقی وزرا اپنی سیٹیں نہ بچا پائے۔ انہوں نے مفاہمت کی پالیسی ختم کرنے اور پارٹی قیادت تبدیل کرنے کا بھی اعلان کیا اور پنجاب پی پی پی ان پانچ وفاقی وزرا کے حوالہ کر دیا۔

موجودہ پنجاب پارٹی نے دن رات کرکے پنجاب میں پی پی پی کا امیج بہتر کیا نظریات کی لڑائی لڑی اور ایک ایک کرکے تمام معاملات کی منظوری کے باوجود پی پی پی چھوڑتے چلے گئے۔
بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جب کوئی کسی بھی وجہ سے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس میں اس قدر اخلاقی جرآت ہونی چاہیے کہ وہ یہ اعلان کرے کہ اپنے بہتر مستقبل اور اپنے خاندان کی تھانہ کچہری پر مضبوط گرفت اب پی پی پی کے ساتھ ایسوسی ایٹ نہیں رہ گئی ہے۔ لہذا میں اپنے روشن مستقبل کے لئے پارٹی چھوڑ کر دیگر پارٹی اے بی سی میں جا رہا ہوں۔

مجھے ہرگز کوئی پریشانی نہیں ہو گی اگر پنجاب پارٹی کے صدر قمرالزماں کائرہ بھی الیکشن سے پہلے پارٹی چھوڑ جائیں۔ ایسے موقع پر یہ بتانا انتہائی غیر ضروری اور غیر اہم ہوتا ہے کہ ان کی فیملی میں کتنے لوگ جیل گئے یا شہادت کا شکار ہوئے۔ برادر شہید محترمہ کے ساتھ پچاس لوگ شہید ہوئے کتنے لوگوں کے وارث وفاقی وزیر رہے۔ آپ تو ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے مشقت کے ایک ایک لمحہ کا منافع کشید کیا۔ میرا موضوع اس وقت کرپشن یا بددیانتی ہر گز نہیں ہے۔ پارٹی کی نمایندگی کے لئے ایک شخص کو سال بھی میں میڈیا میں بیسیوں گھنٹے کا ایئر ٹائم ملنا۔ بغیر اطلاع کے کسی بھی وقت صدر پاکستان کو مل لینا اور وزرات جیسے عہدوں پر رہ کر نیک نامی سے کام کرنا بھی ایک معاوضہ ہی ہے۔

پی پی پی ایک سیاسی جماعت ہے اور ملک کی باقی ماندہ سیاسی جماعتوں میں میں محض اے این پی کو ہی جماعت سمجھ سکتا ہوں۔ یہ ایک دریا ہے۔ ضروری نہیں دریا کے منبع سے جو جو قطرہ پانی کا اس میں آئے وہ سمندر تک پہنچے۔ بہت سے پانی کو چند فٹ۔ چند گز۔ چند فرلانگ۔ چند کلومیٹر پر ہی دریا سے الگ ہو جانا ہوتا ہے۔ اور نئے پانی کا شامل ہو نا ایک فطری تقاضہ ہے۔
بھٹو صاحب کی پی پی پی شہید بینظیر بھٹو کے ساتھ نہیں چلی۔ شہید بینظیر بھٹو نے ایک نئی پی پی پی کی قیادت کی جسے محترمہ نے خود تعمیر کیا تھا۔

محترم آصف علی زرداری کو اپنی نئی پی پی پی تعمیر کرنا ہے اور اس کے بعد بلاول بھٹو، یا آصفہ بھٹو کو نئی پی پی پی بنانا ہے۔ ہر بندے کے پارٹی چھوڑنے کے بعد ایک مخصوص مافیا۔ زرداری کے بوجھ سے پی پی پی بیٹھ گئی کی مالا جپنا شروع کر دیتا ہے۔ برادر یہ ایک طےشدہ امر ہے کہ سندھ۔ بلوچستان۔ کے پی۔ گلگت بلتستان اور کشمیر میں پی پی پی ماضی کی نسبت آج بہتر مقام پر ہے۔ اور آیندہ الیکشن کی علامات نمایاں ہیں۔ البتہ پنجاب کی حد تک میں ابھی اس خوف کا شکار ہوں کہ نادیدہ ہاتھ ابھی تک پی پی پی کو فری ہینڈ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ تو کیا ہوا۔ ہم سیاست ہیں۔ ہم پاکستان ہیں۔ ہم مزید انتظار کر لیں گے۔

ٹینیور والوں کو جانا ہی ہے۔ جانا ہی ہو گا۔ جس روز بھی آصف علی زرداری۔ بلاول بھٹو کو لاہور میں پیدل گھومنے پھرنے کا موقعہ ملا پنجاب بھٹو کا۔ باقی سب کفن چور ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).