صوبے دار شبیر، منظور پشتین اور سرخ جھنڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شبیر صاحب، ایک ایسے حوالدار تھے جن کی فراست اور نقشہ بینی پہ کرنل صاحب کو پورا اعتماد تھا۔ ان کی دو باتیں مجھے کبھی نہیں بھولتیں، گرقستان اور لال جھنڈی ۔

پنوں عاقل میں سال کے تین موسم ہوتے تھے۔  گرمی، مزید گرمی اور شدید گرمی۔ 2003 کی گرمیوں کا موسم، 2003 کی مزید گرمیوں میں داخل ہوتا تھا کہ اورئینٹئرنگ (Orienteering)   کے مقابلوں کا اعلان ہو گیا۔ نقشہ، کمپاس اور قطبی ستارے کے آسرے، مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے سٹارٹ پوائنٹ اور فنش پوائینٹ کے درمیان کا یہ سفر، ذہنی استعداد اور جسمانی مشقت، دونوں کا امتحان تھا۔ انفنٹری کی پلٹنیں، طاقت پہ بھروسہ رکھتی تھیں اور توپخانے والوں کا ماننا تھا کہ نقشہ، کمپاس اور توپچی کی لکیر مل جائے تو خط مستقیم ہی صراط مستقیم ہوا کرتا ہے۔

ٹیم میں ایک افسر کا ہونا، مقابلے کی بنیادی شرط تھی سو شبیر صاحب کی معیت میں جو ٹیم مقابلے میں اتری، اس کی کپتانی کا بوجھ، میری لفٹینی کا اعزاز ٹھہرا۔ مقابلے کی تیاری کا  معمول کچھ یوں تھا کہ نقشے پہ کچھ مقامات چنے جاتے اور پھر ٹیم انہیں ایک مقررہ وقت میں ڈھونڈا کرتی۔ نقشے کے ان نشانات کو معمول میں سی پی (کنٹرول پوائنٹ) کہا جاتا اور زمین پہ واضح کرنے کے لئے، سرخ جھنڈیاں لگائی جاتیں۔ رجمنٹ کی ٹیم کئی سال سے شبیر صاحب کو مرکز مان کر یہ مقابلے جیتتی چلی آئی تھی۔ اس بار تاریخ  نکلی اور ٹیم کی بے ضابطہ بیٹھک ہوئی تو پتہ چلا کہ شبیر صاحب کا تعلق ،گرقستان سے کسی جغرافیائی وجہ سے نہیں جوڑا جاتا بلکہ وہ قبرستان کو چند لسانی مجبوریوں کے تحت، قبرستان کہنے سے قاصر تھے اور اسے گرقستان پکارتے تھے۔ ایک اچھا سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ، شبیر صاحب ایک اعلی ظرف اور وسیع القلب انسان بھی تھے جو مذاق کو مذاق ہی سمجھتے تھے۔

کچھ دن گزرے تو حوالدار میجر نے سرکولر رجسٹر دکھایا جس میں ٹیم کی پہلی پریکٹس کا وقت لکھا تھا۔ اگلی سویر سب اکٹھے ہوئے۔ تلاوت اور او کے رپورٹ کے بعد جوانوں کو مقابلے کی افادیت سے آگاہ کیا گیا۔ اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے اور دوڑ شروع ہوگئی۔ پہلی سی پی پہ شبیر صاحب نے سب کو اکٹھا کیا اور یوں گویا ہوئے۔

“یہ جو سرخ جھنڈی ہے۔ اسے جھنڈی کوئی نہیں سمجھے گا۔ یہ دشمن ہے۔ ہر وقت چلتے ہوں یا بھاگتے، سرخ جھنڈی کو ذہن میں رکھنا ہے اور نگاہ دوڑاتے رہنا ہے۔ نقشہ میری اور لفٹین صاحب کی ذمہ داری ہے، ہم آپ کو جنرل ایریا میں لے جائیں گے ۔۔۔لیکن سرخ جھنڈی جس کسی کو بھی نظر آئے فورا اشارہ کرے گا۔ سب لوگ جھنڈی کی طرف ایسے بھاگیں گے جیسے دشمن کی طرف بھاگتے ہیں۔”

اب اسے شبیر صاحب کی بریفنگ کہئے، لیفٹینینٹ ارشد خان کی قیادت سمجھئے یا ٹٰیم کی محنت، اگلے تین سال تک ٹرافی، یونٹ کے دفتر ایریا میں براسو کے کارن، چمک دکھاتی رہی ۔

پلوں کے نیچے، اب بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ شبیر صاحب، نائب صوبیداری کے ایک ستارے سے صوبیدار کے دو ستارہ اختیار تک پہنچے اور ریٹائر ہو گئے۔ میں بھی دیس پردیس کا منڈوا دیکھتے دیکھتے، نئے پانیوں میں پرانے ساحل ڈھونڈھتا ہوں، مگر سرخ جھنڈٰی کی بات باقی ہے۔

منظور پشتین، وزیرستان کا ایک نوجوان ہے۔ اس کے لہجے کی تلخی، راولپنڈی کے کچہری چوک کا وہ اشارہ ہے جس سے سوال پوچھنے کا حق مانگنے والے ایک طرف اور حب الوطنی کا سرنامہ بانٹنے والے دوسری طرف مڑ جاتے ہیں۔ واٹس ایپ کی کائنات میں لاتعداد گروپس کے سیارے ہیں۔ ہر سیارے کا دعوی ہے کہ اسے زمین، کہا، سنا اور پکارا جائے کہ جیسی انسانی حیات کی نمو اس کھڑکی میں ممکن ہے، ویسی کہیں اور میسر نہیں۔ نون میم راشد کہتے ہیں کہ “تمنا کی وسعت کی کس کو خبر ہے” مگر اس وسعت کے باوصف، پشتون تحفظ موومنٹ وہ سرخ جھنڈی بن چکی ہے جسے ۔۔۔۔جھنڈی کوئی نہیں سمجھتا۔ سماجی رابطے کے کسی پلیٹ فارم پہ اس بارے بات کرنے کی کوشش کریں تو لٹھ بردار، نظریہ پاکستان سے شروع ہوتے ہیں اور را، این ڈی ایس تک جا پہنچتے ہیں۔ شبیر صاحب کی آواز کی بجائے قومی سلامتی اور ملکی سالمیت  کے زوردار کاشن ہیں جو تقریبا آٹھ لاکھ مربع میل پہ پھیلے اس ڈرل سکوائر میں اختلاف کی ہر سرخ جھنڈی کے بارے میں یہی جملے دہراتے ہیں۔۔۔

“یہ جو سرخ جھنڈی ہے۔ اسے جھنڈی کوئی نہیں سمجھے گا۔ یہ دشمن ہے۔ ہر وقت چلتے ہوں یا بھاگتے، سرخ جھنڈی کو ذہن میں رکھنا ہے اور نگاہ دوڑاتے رہنا ہے۔”

دیدہ اور نادیدہ اختیار سے سرشار آواز، کئی لہجے اختیار کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ ” نقشہ میری اور لفٹین صاحب کی ذمہ داری ہے، ہم آپ کو جنرل ایریا میں لے جائیں گے لیکن سرخ جھنڈی جس کسی کو بھی نظر آئے فورا اشارہ کرے گا اور سب لوگ جھنڈی کی طرف ایسے بھاگیں گے جیسے دشمن کی طرف بھاگتے ہیں۔”

یاد رہے، اختلاف کی جھنڈٰی، راستہ کی نشاندہی کے لئے لگائی جاتی ہے۔

پنوں عاقل چھائونی کے آس پڑوس چھوٹے چھوٹے کئی گائوں تھے۔ چھائونی کی حد کہاں ختم ہوتی تھی اور گائوں کے شاملات کہاں شروع ہوتے تھے، یہ ہیڈ کوارٹرز میں لگے نقشوں پہ کھنچا تھا یا پٹوار خانوں میں پڑے لٹھوں میں درج تھا۔ کمپاس کی سوئی، زمینی پگڈنڈیوں سے کہاں اتفاق کرتی تھی سو اکثر نقشے کی لکیریں، کھیتوں کے بیچ سے نکلتی اور منڈیروں کا راستہ کاٹتی، چھائونی سے باہر نکل جاتیں۔ پریکٹس کے دوران کئی بار ایسا ہوا کہ جنرل ایریا میں پہنچنے سے پہلے ہی کسی نے سرخ جھنڈی کی نشاندہی کی، سب لوگ بھاگے۔ بہت سی ہل چلائی ہوئی پیلیوں میں ڈی ایم ایس کے بھاری نشان چھوڑنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ سرخ جھنڈٰی نہیں تھی بلکہ رنگدار کپڑے کا کوئی چیتھڑا تھا جو کسی نے راستے کی نشانی کے طور پہ لگایا تھا۔

پس نوشت : ایک بار میں نے جھنڈٰی کی غلط نشاندہی کرنے والے کی سرزنش کی تو شبیر صاحب میرے پاس آئے۔ ایڑیاں جوڑیں، ہاتھ پیچھے کئے اور سلام کیا۔ میں نے پوچھا “جی شبیر صاحب۔۔۔”

شبیر صاحب بولے : “سر۔۔ وہ ایک ریکوئسٹ کرنی تھی۔ جھنڈٰی کی غلط نشاندہی کرنے پہ کسی کو سمجھائیں تو اگلی دفعہ لوگ نشاندہی نہیں کرتے۔ اس لئے جھنڈی ہو یا نا ہو، نشاندہی کرنے والے کا مورال ڈائون نہیں ہونا چاہئے۔”

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •