گرو آسارام کا جرم اور مذہب کا منافع بخش کاروبار

جس متاثرہ لڑکی سے زیادتی کا الزام آسارام پر لگایا گیا اس کا پورا خاندان آسارام کا عقیدت مند تھا۔ یہاں تک کہ اس لڑکی کے والد نے اپنے پیسوں سے آسارام کا آشرم تعمیر کروایا تھا اور بہتر تربیت و تعلیم کے لئے اپنے بچوں کو آسارام کے سائے میں دے دیا کہ وہ ان سے ”فیض“ حاصل کریں مگر آسارام نے ہوس کے ہاتھوں مغلوب ہو کر ان کی 16 سالہ بیٹی کو ایک دن اپنی کٹیا میں بلایا اور اس سے زیادتی کر ڈالی۔
آسارام کے علاوہ ان کے بیٹے پر بھی زنا بالجبر کے الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ ناجائز قبضے کی زمین پر آشرم کی تعمیر، کالا جادو، زمینوں پر قبضے اور ناجائز اثاثوں کے الزامات بھی شامل فہرست ہیں۔ آسارام کے خلاف گواہوں پر مختلف اوقات میں جان لیوا حملے ہوتے رہے، گواہوں پر تیزاب سے بھی حملہ کیا گیا اور کچھ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ ایک گواہ تاحال لاپتہ ہے۔ آسارام کو مجرم قرار دینے کے بعد جودھپور میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی اور 4 ریاستوں میں اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی۔

مندرجہ بالا دو واقعات کے علاوہ پوری دنیا میں اور ہمارے ملک پاکستان میں ایسے بہت سے واقعات ہیں جہاں مذہب یا عقیدے کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کا جسمانی، ذہنی اور مالی استہصال کیا جاتا ہے۔ گرو، بابا، سائیں یا پیر صاحب کے ہاتھوں جنسی زیادتی، جسمانی تشدد، دولت لٹانا یا اپنے ہی کسی پیارے کی جان لے لینا وہ واقعات ہیں جو ہم متعدد بار خبروں کی زینت بنتے دیکھتے ہیں اس کے باوجود ایسے واقعات بار بار ہوتے رہتے ہیں۔

اسی جہالت کی پٹی آنکھوں پر باندھ کر ذہن کو ماوف کرنے والے دراصل انسان ہی ہوتے ہیں جو اپنی خواہشات کو پورا کرتے ہوئے مذہب اور عقیدے کی آڑ لیتے ہیں کیونکہ دنیا میں عقائد سے زیادہ آج تک کوئی منافع بخش کاروبار نہ آ سکا۔ مذہب سے اچھی مارکیٹنگ اسٹریٹیجی کوئی اور بن نہ سکی اور روحانیت سے زیادہ کبھی کوئی کسی سے بلیک میل ہو نہیں پایا۔
آپ نے دیکھا ہو گا مشہور کھلاڑی، فنکار، سیاستدان اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کسی انگوٹھی، مٹی، پتھر، رنگ، کپڑے، موتی، ڈوری، لاکٹ میں قید ہوتے ہیں۔ وہ دراصل خوش بختی یا نحوست کے دائرے میں گھوم رہی ان کی اپنی ذہنیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کسی انسان کی انگلی کے اشارے پر اٹھ بیٹھ رہے ہوتے ہیں بلکہ آپ نے ہمارے یہاں تو دیکھا ہو گا کہ کوئی سیاستدان پہاڑ پہ چڑھ گیا، کوئی سمندر سے قریب اپنے گھر میں رہنے لگا، کسی کھلاڑی نے مساجد بنوانی شروع کر دیں تو کوئی جا کر کسی پیر کے ہاتھ چومنے لگا۔
ان تمام کاموں کے پیچھے دراصل خوش بختی کا لالچ ہوتا ہے جو کسی انسان کے کہنے پر مختلف کام کرواتا ہے۔ مذہب اور عقیدہ کسی بھی انسان کا حق اور ذاتی معاملہ ہے۔ آپ نہ کسی سے یہ چھین سکتے ہیں اور نہ کسی پر مسلط کر سکتے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہب کے ہی نام پر انسان دوسرے انسان کو سب سے زیادہ بلیک میل کرتا بھی ہے اور خود بھی ہوتا ہے۔ اتنی پابندیاں انسان پر خدا نہیں لگاتا جتنی دوسرا انسان لگا دیتا ہے۔ اتنا عاجز انسان اپنے خالق کے آگے نہیں ہوتا جتنا وہ دوسرے انسان کے آگے جھکا جاتا ہے۔ یہ سب صرف ذہن کی غلامی اور نفسیات کا کھیل ہے جس میں ایک انسان دوسرے سے کھیل رہا ہے اور دوسرے کو پتا بھی نہیں کہ وہ اپنے ہی جیسے ایک انسان کا کھلونا بن چکا ہے۔
(تصاویر: بشکریہ گوگل امیجز)

