عذرا چوہدری، ڈھاکے کی مالا اور امی کے نام ایک خط


میں نے دھیرے سے کپکپاتے ہاتھوں کے ساتھ خط کھولا تھا، ہمیشہ کی طرح سفید کاغذ پر ایک طرف لکھا ہوا خط تھا جو شروع کرتے ہی تیر کی طرح میرے دل میں اترگیا۔ مجھے لگا جیسے مجھے ہارٹ اٹیک ہوگیا ہو۔ مجھے یقین نہیں آتا کہ یہ ہوگیا ہوگا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے، یہ کیسے ہوگیا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آیا اور آتا چلا گیا۔ وہ لوگ رات کے اندھیرے میں وحید کو تلاش کرنے آئے تھے جو عوامی لیگ کا، کارکن تھا مگر مالا کولے کر چلے گئے تھے۔ پاکستانی فوج کے سپاہی۔ دو دنوں کے بعد مالا کی لاش ملی تھی، ادھڑی ہوئی، نچی ہوئی، پامال ک ہوئی۔ بنگلہ دیش تو آزاد ہوگیا تھا مگر رومان کا خاندان ختم ہوگیا تھا۔

وحید کا کچھ پتہ نہیں لگا تھا۔ ماں جی ”مالا مالا“ چیختی رہی تھیں۔ پھر ایک دن ان کی بھی لاش ہی ملی تھی۔ انہوں نے خاموشی سے خودکشی کرلی تھی۔ وہ مالا کی ادھڑے ہوئے بدن کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتی تھیں۔ رومان نے لکھا تھا کہ زندگی اس دھان منڈی کے بنگلے میں ہے مگر خالی ہے۔ وقت گزررہا ہے، وردی پہنے ہوئے ہر آدمی سے نفرت ہوگئی ہے، دل کرتا ہے سب کا گلا گھونٹ دوں۔ ہر ایک کے جسم سے وردی کھنچوا کر پھینک دوں، ان کا ڈھیر لگا کر ان میں لگادوں۔ اس نے لکھا تھا کہ پاکستانی فوجیوں کے بعد مکتی باہنی کے وردی پوشوں نے بہاریوں اور مغربی پاکستان کے حامی بنگالیوں کے ساتھ بھی وہی کیا تھا جودشمن کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ اغوا، قتل، عزتوں کی پامالی، مکانوں جائدادوں پر قبضہ، گھروں میں زندہ جلانے کی داستانیں۔ نہ جانے رومان نے یہ خط کیسے لکھا تھا۔ وہ دن اور دوسرا دن، پھر تیسرا دن بھی ایسے گزرا جیسے میں مرچکا ہوں۔ بار بار مالا کا چہرہ سامنے آجاتا تھا۔ کنول جیسی مسکراتی ہوئی آنکھیں، سانولا سا کھلتا ہوا چہرہ جس پر لانبے لانبے بال تھے۔ وہ چلتی تھی تو ایسا لگتا تھا کہ جیسے سارا جہان ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے بن کر مجھے ایک سوئٹر دیا تھا جوابھی تک میرے پاس محفوظ تھا۔ اس معصوم کو ان لوگوں نے پامال کردیا۔ مجھے اپنے آپ سے، اپنے نام سے نفرت سی ہوگئی تھی۔ میں رومان کے خط کا جواب نہیں دے سکا تھا۔ نہ مجھ میں ہمت تھی، نہ میرے پاس الفاظ تھے، نہ میرے پاس کہنے کو کچھ تھا، نہ ہی دلاسا دینے کے لئے کوئی مثال تھی۔ میں ہارے ہوئے انسان کی طرح تھا، ایک ٹوٹے ہوئے ستارے کی مانند۔ میں نے رومان کو تو خط نہیں لکھا مگر امی کے لئے اک خط ضرور لکھا۔

پیاری امی جان

میں عذرا چوہدری سے شادی نہیں کرسکتا ہوں۔ مجھے میری گستاخی پر معاف کردیں۔ آپ جو میری سب کچھ ہیں، یہ صرف میں آپ کو ہی لکھ سکتا ہوں۔ مجھے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کی اسسٹنٹ پروفیسری نہیں چاہئے۔ نہ لندن کے اس فلیٹ کی چابی جس کا ذکر آپ نے اپنے خط میں کیا ہے۔ ان دسیوں مکانوں اور کاروں کا کیا کروں گا جن کے پیچھے انسانی خون کے جوہڑ بنے ہوئے ہیں، جہاں پر بہت سی مالاﺅں کی لاشیں ٹنگی ہوئی ہیں۔ میری بہن مجھ سے بڑے بہیمانہ طریقے سے چھین لی گئی ہے۔ اب میں کسی وردی پوش کے ساتھ اپنے آپ کو عزت دار محسوس نہیں کروں گا۔ میرے لئے یہ ہزیمت اٹھالیں، جنرل صاحب سے کہہ دیں انہیں بہت مل جائیں گے۔ میرے لئے کوئی سفید پوش خاندان تلاش کریں، کوئی شریف لوگ جن کا چھوٹا سا گھر ہو۔ جہاں ایمانداری سے کمایا ہواپیسہ ہو، جہاں فرج ، ایئرکنڈیشنر، کاریں، لندن کے اپارٹمنٹ کی چابی نہ ہو۔ سوچتا ہوا دماغ ہو، پیار بھرا دل ہو اور دال کی پلیٹ میں بھی دوسرے کو حصہ دینے کی خواہش ہو۔ مجھے تو کوئی ایسی تصویر بھیجیں جس میں کوئی وردی پوش تمغے والا نہ ہو، جس کو دیکھ مجھے ان گنت لوگوں کے لاشوں کے ڈھیر نظر آنے لگیں، مالاﺅں کی پامالی یاد آجائے۔ دوستوں، یاروں، ماﺅں، بہنوں کے اجڑے ہوئے گھر نظر آئیں۔ مجھے تو اب اس تصویر سے ہی گھن آرہی ہے۔

اس خط کے ساتھ ہی میں نے رومان الرحمان کا خط بھی اپنی امی کو بھیج دیا تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2