عوام الناس سرکاری ہسپتال کے اوقات دیکھ کر مرا کریں


راولپنڈی اسلام آباد کے صحافی خرم بٹ صاحب نے ایک تصویر بنائی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد ڈسٹرکٹ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے سامنے کھڑے ہیں، سٹریچر پر ایک شخص بے ہوش پڑا ہوا ہے۔ ایمرجنسی کا دروازہ بند ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب راؤنڈ کر رہے ہیں۔ لواحقین نے اپنی ڈیوٹی ادا کرنے والے ہسپتال کے عملے کو خوب پریشان کیا کہ دروازہ کھولو، بلکہ ان میں سے بعض پر تو غشی طاری ہو گئی۔ لیکن عملے نے استقامت سے کام لیا اور ایمرجنسی کا دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔

مریض کے لواحقین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ ڈاکٹر حضرات ایمرجنسی کا وزٹ کر رہے ہیں اور ایسی حالت میں یہ مناسب نہیں ہے کہ ان کو کسی بگڑے ہوئے مریض کا مشاہدہ کرا کر ڈسٹرب کیا جائے۔ ہم خود کشت و خون یا مرگ کے مناظر دیکھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر بھی انسان ہی ہیں، وہ کیوں نہیں ہوتے ہوں گے؟ یہ لواحقین اگر پہلے اپنے مریض کو کہیں سے مناسب طبی امداد دلوا کر اس وقت ایمرجنسی میں لاتے جب وہ بھلا چنگا ہو جاتا تو بہتر ہوتا۔

ہمارے ملک میں جہالت کی سطح بہت بلند ہے۔ اب یہی دیکھیں کہ پہلے تو یہ شخص سرکاری ہسپتال کے اوقات کار چیک کیے بغیر ہی بے ہوش ہو گیا۔ حالانکہ اسے چاہیے تھا کہ پہلے ہسپتال سے کنفرم کرتا کہ اس وقت ایمرجنسی کھلی ہے یا نہیں، کوئی ڈاکٹر مریض دیکھ رہا یا نہیں، اور اگر دیکھ رہا ہے تو صرف پہلے سے موجود مریض ہی دیکھ رہا ہے یا نئے مریضوں کی جان بچانے پر بھی توجہ دے سکتا ہے یا نہیں۔ یہ سب امور دیکھنے کے بعد ہی اس شخص کو اپنی طبیعت بگڑنے دینی چاہیے تھی۔

یہ عام مناظر ہیں کہ لوگ سرکاری ہسپتال کی سہولت کا خیال کیے بغیر ہی کچھ کر بیٹھتے ہیں۔ کبھی کسی کو شکایت ہو جاتی ہے کہ اسے دل کا دورہ پڑ گیا ہے۔ کبھی کوئی سڑک پر کسی گاڑی کے نیچے آ جاتا ہے۔ کبھی بلاوجہ ہی انفیکشن کرا کر قریب المرگ ہو جاتا ہے۔ یہ اچھی بات نہیں ہے۔ سرکاری ہسپتال انسان ہی چلاتے ہیں۔ اپنی رحم دلی کے باعث اگر انہوں نے ایمرجنسی کے باہر یہ لکھ دیا ہے کہ وہ چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ اس اعلان کا ناجائز فائدہ اٹھا کر کسی وقت بھی بیمار پڑ جائیں۔

لیکن یہ آج کا مسئلہ نہیں ہے۔ ابن انشا بھی 1960 کی دہائی میں قوم کی اس حالت پر نوحہ کہہ چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کراچی میں کتوں کے کاٹنے کے اوقات مقرر ہو گئے۔ اس پابندی کا علم انہیں کراچی کے سول ہسپتال کے ذریعے ہوا تھا جس نے کتے کے کاٹے کے علاج کی سہولت کے اوقات صبح نو بجے سے شام چار بجے تک مقرر کر دیے تھے۔ ابن انشا کا گمان تھا کہ کتوں سے کوئی شریفانہ سا معاہدہ ہو گیا ہے کہ وہ ان ہی اوقات میں کاٹا کریں گے۔ لیکن انہوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اس کی مناسب پبلسٹی کی جانی چاہیے تاکہ شہری آبادی کو علم ہو جائے کہ انہیں صرف ان مقرر کردہ اوقات میں خود کو کتے سے کٹوانا چاہیے۔

ہماری رائے میں راولپنڈی کے سول ہسپتال کو بھی ایسی تشہیر کر دینی چاہیے تاکہ لوگ صرف مقرر کردہ اوقات میں ہی شدید بیمار پڑ کر یا حادثے کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچیں۔ ویسے یہ بھی ممکن ہے کہ وارڈ کی اندرونی حالت جاننے والے ہسپتال کے دربانوں نے مریض پر رحم کھایا ہو اور اسی وجہ سے اس کو ایمرجنسی میں داخل نہ ہونے دیا ہو۔ ایمرجنسی وارڈ کی اندرونی حالت سے ایک پرانا قصہ یاد آتا ہے۔

کوئی بیس برس پہلے کی بات ہے۔ ہمارے ایک دوست کسی وجہ سے ڈاکٹر بن گئے اور ہاؤس جاب مکمل کرتے ہی لاہور کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں میڈیکل آفیسر بھی تعینات ہو گئے۔ ایک دن ملے۔ بتانے لگے کہ کل رات ایمرجنسی میں ڈیوٹی تھی۔ دو ڈھائی بجے ایک پینتیس چالیس سالہ مریض آیا۔ ساتھ اس کی اہلیہ تھیں۔ میرے جیسے تین چار ڈاکٹر موجود تھے مگر ہم طے نہیں کر پائے کہ مریض کو دل کا دورہ پڑا ہے یا کوئی دوسرا معاملہ ہے۔ دل کے دورے سے بچاؤ کا ٹیکا پانچ ہزار کا آنا تھا۔ ہم نے اس مریض کے پیسے بچانے کی کوشش کی اور محض شک کی بنیاد پر وہ ٹیکا لگانا مناسب نہ سمجھا۔ مریض مر گیا۔ واقعی دل کا دورہ پڑا تھا۔ اس کے بعد اس کی اہلیہ ہمیں کہتی رہی کہ مجھے سے لاکھ، دو لاکھ، پانچ لاکھ کچھ بھی لے لو لیکن میرے شوہر کو بچا لو۔ ہم نے اسے بتایا ہی نہیں کہ ہم نے اس کے پانچ ہزار بچا لیے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے یہ بات ہنستے ہوئے بتائی تھی۔ لیکن برسوں کی رفاقت رکھنے والا ایک قریبی دوست اس ہنسی میں چھپا ہوا شدید کرب محسوس کر سکتا تھا۔ وہ ہنسنے والا درحقیقت اپنی بے بسی پر رو رہا تھا کہ لاہور کے اس بڑے ہسپتال کی ایمرجنسی میں نہ اس وقت کوئی سینئیر ڈاکٹر موجود تھا جو درست تشخیص کر پاتا اور نہ ہی وہاں ایمرجنسی میں جان بچانے والا یہ قیمتی ٹیکا سرکار کی طرف سے فراہم کیا گیا تھا کہ وہ تین چار جونئیر ڈاکٹر مریض کے پیسے بچانے کی بجائے اس کی جان بچانے پر فوکس کر پاتے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar