اوئے خبردار! روٹ لگا ہوا ہے


ہوش سنبھالتے ہی تم یہ سنہرے خواب دیکھنا شروع کردیتے ہو کہ تمہاری ریاست فوری طور پر ایک جدید فلاحی ریاست میں بدل جائے جہاں مفت رہائش، تعلیم، علاج اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد آسودہ زندگی تمہارا مقدر ہو۔ ساتھ ہی ساتھ تمہارے بچوں کے روشن مستقبل کی حقیقی ذمہ داری بھی ریاست پر ہو بلکہ کم آمدنی کی وجہ سے تمہارے یو ٹیلیٹی بلوں کی ادائیگی بھی ریاست ہی کے ذمہ ہو یعنی زندگی گزارنے کے لئے ایسی محفوظ جگہ جہاں تم کسی کو دھوکا دینے کا سوچو اور نہ ہی کوئی دوسرا بلاوجہ تمہارے معمولاتِ زندگی میں دخل اندازی کرے۔ مزید یہ کہ تمہارا پاسپورٹ اتنا طاقت ور ہو کہ پوری دنیا کے دروازے بغیر کسی ویزا کے تمہارے لئے کھلے ہوں اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کے لوگ تمہاری اس فلاحی اور مثالی ریاست دیکھنے کے لئے بے تاب ہوں۔ (یہ ہے تمہارے خواب کا ایک حصہ)

ٹیکنالوجی کےاس جدید دور میں تمہارا یہ عذر کسی طور قابل قبول نہیں رہا کہ جب تک ریاست کا سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا، اس وقت تک یہاں کوئی بھی معاملہ بہتر نہیں ہوسکتا۔ یہ تو اب ایک رٹا رٹایا بہانہ ہے جس کی سب سے بڑی مثال ہمارے معزز عوامی نمائندے ہیں جو اپنی تمام تر ناکامیوں اور نا اہلیوں کا ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ کو قرار دے کر اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ستر سال بعد بھی کسی عوامی نمائندے میں اتنی اخلاقی جرأت پیدا نہ ہوسکی کہ وہ سرعام یہ اعلان کرے کہ چوں کہ مجھے جمہوری طریقے سے کام کرنے نہیں دیا جا رہا ہے، اس لئے میں احتجاجاً اپنے عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں اور دوبارہ عوام کے پاس جاکر حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ریاستی فیصلے عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھوں میں آسکیں اور وہ ملک و قوم کو جمہوریت کے ثمرات سے بہرہ ور کرسکیں۔

بد قسمتی سے پاکستان کی ستر سال کی تاریخ میں مثتثنیات کو چھوڑ کر قریباً سارے جمہوری حکمران صرف اور صرف اپنے سرمائے کو بڑھانے اور اس کو تحفظ دینے کے لئے عوام کے ساتھ الیکشن الیکشن کا کھیل کھیلتے ہیں۔ ان کے اس مجرمانہ فعل میں ایک شہری کی حیثیت سے تمہارا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا کہ نامعلوم افراد کا۔ اس بحث کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ملک میں جمہوری عمل کی مخالفت کی جائے۔

تمہاری ریاست کے معاشرے کی بگاڑ کے ذمہ دار صرف حکمران ہیں یا تم نے خود بھی کبھی اپنے گریبان میں جھانکا ہے کہ اس میں تمہارا اپنا کتنا حصہ ہے؟ تھوڑی سی اگر اس پہ نظر ڈالیں تو پتا چلتا ہے کہ ستر سال سے تو تم اپنی تھوک پھینکنے کے لئے مناسب جگہ تلاش نہیں کر پائے۔ رفع حاجت کی سہولت کی معلومات صیغہ راز میں رکھنا ہی مناسب ہے۔ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لئے سالوں سے اس انتظار میں بیٹھے رہتے ہو کہ ریاست خود چل کر تمہارے گھر آئے اور کان سے پکڑ کر تمہارے بچوں کو اسکول پہنچائے اور پھر ہر درجہ کے امتحان میں تمہیں نقل مارنے کی دیرینہ خواہش سے باز رکھنے کے لئے نیم فوجی دستوں کو تعینات کرے کیوں کہ اس سے کم پر تمہیں سنبھالنا مشکل ہے۔

تمہارے اندر قوتِ برداشت اتنی ”زیادہ‘‘ ہے کہ اگر غلطی سے تمہیں قطار میں کھڑا ہونا پڑ جائے تو ذرا سی بے ترتیبی پر پے درپے لاتوں گھونسوں سے اپنے مخالف کا حلیہ ہی بگاڑ دیتے ہو۔ لالچ اور راتوں رات پیسہ کمانے کی دوڑ میں تم اندھے پن سے بھی کسی اگلے مرحلے میں داخل ہو چکے ہو۔ جس کے لئے تم کھانے پینے کی عام اشیاء سے لے کر جان بچانے والی ادویات میں ملاوٹ کرنا فرضِ عین سمجھتے ہو۔ اگر ریاست نے غلطی سے ایک آدھ دفعہ تمہارے علاقے کی صفائی کروا دی تو تم اس کو گندہ کرنے میں ذرا سی دیر بھی نہیں لگاتے اور اپنے گھر کا کچرا کھلے عام باہر پھینکنے میں ذرا سی شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔ دوسرے کے مال کو مالِ مفت دلِ بے رحم کے مصداق ایسی آسانی سے ہڑپ کرجاتے ہو جیسے یہ تمہارا ہی مال ہو جسے دوسرے شخص نے ہتھیا لیا تھا۔

دنیا تو اب یہ بھی سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ آیا ریاست نے تم سے سیکھا ہے یا ریاست نے تمہیں سکھایا ہے کہ تمہیں اپنے گھر سے زیادہ دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی کا زیادہ شوق ہے اور اب تو دوسرے کے ایمان کا فیصلہ کرنا بھی تمہاری بنیادی ذمہ داری بن چکی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ معاشرے کے ہر دوسرے شخص نے ”ایمانیات‘‘ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بغل میں چھپا کر رکھی ہو، ایسے جیسے ہمارے ازلی دشمن نے بغل میں چھری منہ میں رام رام والی ذمہ داری اب ہماری سپرد کردی ہو۔

کافروں کے معاشرے کی ہر اچھی بات کو اپنے دین کے ساتھ تو جوڑ لیتے ہو کہ یہ انھوں نے ہمارے مذہب سے اخذ کی ہے لیکن خود کو اس پر عمل کرنے کا روادار نہیں سمجھتے جس سے یوں لگتا ہے جیسے تمہارا دین صرف مغرب کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہو۔ خود تمہارے لئے بالکل نہیں۔

ایسا تم کب تک خود کو اور دنیا کو دھوکے میں رکھ سکوگے۔ اگر تم نے خود اپنے آپ کو اندر سے نہیں بدلا تو کوئی دوسرا باہر سے بھی تمہیں بدلنے نہیں آئے گا اور تمہاری قسمت میں یہ چمچماتی گاڑیاں غراتے ہوئے ہوٹروں کے ساتھ گرد و غبار کے طوفان اڑاتی رہیں گی اور ان میں براجمان تمہارے ووٹوں سے منتخب ہونے والی جنتی مخلوق یوں ہی اپنی بیش قیمت امپورٹڈ گاڑیوں کی ٹائروں تلے تمہارے خوابوں کو روندتی رہے گی اور پہلے سے تمہاری مجروح عزت نفس کو مزید کچوکے لگانے کے لئے تمہارے کان یہ آوازیں سنتے رہیں گے کہ ”اوئے تم اندھے ہو، تمہیں نظر نہیں آتا کہ روٹ لگا ہوا ہے۔ پھر بھی تمہیں اپنے بچے کو ہسپتال لے جانے کی جلدی ہے۔ ‘‘

Facebook Comments HS