بھاگو یہاں سے، تاحیات نا اہل کہیں کا

دیکھو دو باتیں ہیں۔ ایک تو ہمیں سلائی اور ڈانگ کا فرق سمجھانے کی سفارش، کوشش اور ضد نہ کرو۔ یہ سب رائیگاں جائے گا۔ یہ دیکھنے والے کی پوزیشن پر ہے کہ اسے کیا نظر آئے گا۔ ”سلائی“ یا ”ڈانگ“۔ اور پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ سلائی سلائی ہی رہے گی اور کل ڈانگ نہیں بن جائے گی۔ اس لیے عقل مندی اور سٹریٹیجی یہی ہے کہ سلائی کے ساتھ اسی وقت نپٹ لیا جائے جب وہ ابھی سلائی ہی ہو۔ نہیں تو یہ کل ڈانگ بنے گی اور ڈانگ سے بلاواسطہ خود میدان میں آ کر نپٹنا پڑتا ہے۔ بالواسطہ کام نہیں چلتا۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ ”زبر“ جو ہے وہی ہے۔ ہم صرف ایک ہی ”زبر“کو برداشت، نہیں معافی چاہتا ہوں، میں یہ کہنا چاہتا تھا کہ ایک ہی ”زبر“ پر فخر کریں گے، اسی کی حفاظت کریں گے اور اسے ہی پروان چڑھائیں گے جیسا کہ ہم سے پہلے لوگوں نے فخر کیا، تحفظ دیا اور پروان چڑھایا۔ کیونکہ اس کی اشد ضرورت بھی تھی۔ یہی ضرورت بعد میں باقاعدہ ایک نظریہ بن کر سامنے آئی اور مشہور ہو گئی۔
نونہال سرمہ صاحب، ضرورت کا نام تو آپ نے بھی سن رکھا ہو گا۔ اور ہاں اب آگے سے ہمیں کسی بحث میں الجھانے کی کوشش نہ کرنا کہ ”مکا“ یعنی کہ ”گھسن“ کتنا قریب ہے یا کتنا دور ہے اور یہ کہ اس کے صوتی اور غیر صوتی اثرات سے اگلے دن کے اخبارات کی سرخیاں کتنی چمک اٹھتی ہیں۔ یہ میڈیا کے کام ہیں اور انہیں ہی سجتے ہیں۔ اس میں ڈانگ کا کوئی تعلق یا اثر نہیں۔
اور ہاں یاد رکھو ڈانگ بانجھ ہوتی ہے۔ یہ قدرت کا خاص کرم بھی ”بائی چائس“ ہے۔ کس کا چائس، ”آف کورس“ ڈانگ کا۔ اس لیے ڈانگ بچے نہیں دیتی، اکیلی تھی اور اکیلی ہی رہے گی۔ وہ پھیلتی تو ہے لیکن اکیلے ہی۔ اس لیے جب کسی ”سلائی“ کو اپنے ساتھ منسلک بطخوں کی تعداد کی وجہ سے ”زبر“ کا احساس ہونا شروع ہو جائے تو اس ”ایول“ کو وہیں دفن کر دیا جاتا ہے۔ ایسے حیرانی سے نہ دیکھو، میں گورکن نہیں ہوں، وہ تو مردوں کو دفناتا ہے۔ میرا مینڈیٹ تو زندہ ”سلائیوں“ کو دفنانا ہے کیونکہ وہ اپنی ”زبر“ کا احساس ہو جانے کی وجہ سے ایک ڈانگ میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
یہ اس کو دیکھو۔ اوئے، تمھارا نام کیا ہے؟ یہ کیا رٹ لگارکھی ہے، یہ جو ہے، یہ جو ہے، یہ اصل میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سب تمھاری غلط فہمی ہے۔ نام بتاؤ سیدھی طرح سے۔ نہیں بتانا تو جاؤ ہم تمھارے گواہ سے ہی کام چلا لیں گے۔ ہاں ڈڈو تم بتاؤ۔ نہیں جناب یہ میرا گواہ نہیں ہے۔ اس کی تو ٹرین وقت سے پہلے آ گئی ہے اور اب یہ واپسی کی ٹرین لینے کو تیار ہی نہیں ہے۔ وہ تو ہم دیکھتے ہیں ناں۔ واپسی کی ٹرین تو اسے بھی لینی پڑے گی لیکن ٹکٹ خریدنا پڑے گا، مفت کے مزے وزارت کے ساتھ ہی رخصت ہو جائیں گے۔
چلو ٹھیک ہے یہ اگر تمھارا ڈڈو نہیں ہے تو ہمارے سوالوں کے جواب خود دو۔ تم یہ کیا بار بار چوہے چھوڑتے رہتے ہو؟ او نہیں جناب یہ لفظ ”چوہے“ نہیں، بلکہ یہ دو الگ الگ الفاظ ہیں۔ ”جو“ اور ”ہے“۔ آپ نے شاید غلطی سے اسے جوڑ کر چوہے سمجھ لیا ہے۔ خیر اس بات کا فیصلہ تو ہم بعد میں کریں گے کہ یہ ایک لفظ ہے یا دو۔ لیکن میں ”قسم“ اٹھا کر بھی ثابت کر سکتا ہوں کہ اس میں میری کوئی غلطی یا بدنیتی نہیں ہے۔ اب اگر میری قسم کا تمہیں یقین نہیں ہے تو اور پھر کس کی قسم کا یقین کرو گے۔ اور یہ بھی میں تمہیں بتا دوں کہ میز کے دونوں طرف کھائی جانے والی قسمیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ ان میں بہت فرق ہے۔ آف کورس میز کی دونوں اطراف ایک جیسی نہیں ہوتیں تو قسمیں، وعدے اور حلف کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں۔
اچھا تو بتاؤ ”کامے“ اور ”اقامے“ میں کیا فرق ہے؟ اس سے پہلے کہ تم چوہے چھوڑنا شروع کرو، میں خود ہی تمہیں بتاتا ہوں۔ ہماری دلچسپی ان دونوں کے درمیان فرق میں نہیں بلکہ مشترک میں ہے۔ یعنی ان میں کامن کیا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دونوں ہی وزیر نہیں بن سکتے۔ یا یوں کہو کہ وزیر اگر بن بھی جائیں تو ”کامے“ ہی رہتے ہیں۔ تم شاید محمد خان جونیجو مرحوم کو بھول گئے ہو۔ پگاڑا صاحب نے جب ان کے لیے نوکری کی سفارش کی تھی تو انہوں نے مرد مومن مرد حق کو جونیجو صاحب کے متعلق جو کچھ بتایا تھا اس کا بہترین ترجمہ ”کاما“ ہی تھا۔ لیکن جونیجو صاحب بھی کچھ عرصے بعد اپنا اصلی رول بھول گئے۔ نتیجہ تو تمہیں بھی یاد ہی ہو گا۔ خیر چھوڑو ہسٹری کو، ہمیں کیا غرض ہے۔ تم بھاگو یہاں سے، تاحیات نا اہل کہیں کا۔

