لاہور کی بالی اور خیر پور کے میر علی نواز ناز کی محبت


سندھ کے باسی میر علی نواز ناز اور بالی کی پیار و محبت کی داستان اور میر علی نواز ناز کی شاعری، عاشقی اور دلی لگی سے تو واقف ہی ہیں۔ جگر مراد آبادی نے بھی کیا خوب کہا تھا

یہ عشق نہیں آساں، اتنا ہی سمجھ لیجئے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

 ناز صاحب اپنی پوری زندگی عشق اور مہتاب میں الجھے نظر آئے۔ میر علی نواز ناز اپنے دور کے ایک بڑے شاعر بھی تھے انہوں نے کئی زبانوں میں شاعری کی اور اپنا لوہا منوایا۔

میر علی نواز ناز اور اقبال بانو (بالی) کے معاشقے کا قصہ اور عشق و محبت کی لازوال داستان سن کر انسان اس میں گم ہوکر رہ جاتا ہے اور یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ عشق کرو تو میر علی نواز جیسا۔ میر علی نواز ناز کی محبوبہ بالی کا اصل نام اقبال بیگم تھا جو لاہور کی ایک رقاصہ تھی۔ لاہور کی نازنین کے حسن و جمال کے جادو میں خیرپور ریاست کے ولی عہد میر علی نواز تالپر ہمیشہ کے لیے کھو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے بالی کے پیار میں ایسے بے تاب ہوگئے کہ شادی کر کے بالی کو ہمیشہ ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کی ٹھان لی۔ کہاں خیر پور ریاست کا شہزادہ تو کہاں لاہور کی بدنام زمانہ بازار کی رقاصہ۔ مگر میر علی نواز نے نا زمانے کی پرواہ کی نہ ہی خاندانی دباؤ کا شکار ہوئے بس انہوں نے عشق کی سولی پر چڑھنا پسند کیا۔ میر علی نواز ناز نے اپنے خزانے کی تجوریاں بالی کے گھر والوں پر لٹا دیں تب جاکے بالی کے گھر والے اس شادی پر راضی ہوئے۔ سنہ 1924 میں جب یہ شادی ہو رہی تھی تب روای لکھتے ہیں کہ پوری خیرپور ریاست میں صرف طبلوں اور گھنگھروں کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ پاک و ہند کے مشہور و معروف گویے اور رقاصائیں مہمانوں کے منورنجن میں مصروف تھے اور کئی مہینوں تک شادی کے شادیانے بجتے رہے۔

بالی بیگم کا بنگلہ: خیرپور

میر علی نواز تالپرنے بالی کی محبت میں خیر پور میں دلشاد منزل بنوائی جو اب بالی کے بنگلے کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بالی کے بھائیوں کے لیے یہ مشہور تھا کہ میر علی نواز ناز نے ان کو اتنی دولت دی تھی کہ وہ اکثر محفلوں میں اپنے سگار کو کرنسی نوٹ جلا کر سلگاتے تھے۔

پھر یوں ہوا کہ ایک دن بالی کسی بات پر میر علی نواز ناز سے ناراض ہو کر واپس لاہور چلی گئی اور میر علی نواز ناز نے بالی کو منانے کی کئی کوششیں کی مگر بالی واپس آنے کو تیار نہ تھی۔ پھر ایک دن میر صاحب خیر پور ریاست سے سو لوگوں کا قافلہ لیکر بالی کو منانے کے لیے لاہور کے لیے روانہ ہوئے ۔ میر سمیت قافلے کے سارے لوگ کالے کپڑے پہنے، ننگے سر اور پاؤں بالی کو منانے اس کے گھر پہنچے اور میر ہاتھ باندھے آنسوؤں میں ڈوبے بولے

تہنجی رمز سوہنا ما شھا سمجھاں (تمہاری اداؤں کو سمجھنا بہت مشکل ہے)

آسان بھی آ دشوار بھی آ (تم آسان بھی ہو اور مشکل بھی)

تہنجے واعدے تے اعتبار کیڑو (تمہارے وعدے پر کیا اعتبار کروں)

اعتبار بی آ تہ انکار بی آ (اعتبار بھی ہے تو انکار بھی ہے)

میر علی نواز ناز شادی کے تقریباً دس سال بعد فوت ہوگئے۔ میر علی نواز ناز اور بالی دونوں اس فانی دنیا میں تو نہیں ہیں مگر میر علی نواز ناز کی محبت کی داستان لوگ صدیوں تک یاد رکھیں گے کہ اپنا پیار و محبت مال و دولت سب کچھ لٹانے کے باوجود وہ بالی کو سمجھنے سے قاصر رہے اور عشق کی آگ میں جلتے جلتے راکھ ہو گئے۔

Facebook Comments HS