ادب کے نام پر بےحیائی
یہ طرز استدلال اور یہ طرز فکر ہے جو ہمارے زمانے کا نیا ادیب ہر لڑکی، شاید خود اپنی بہن اور اپنی بیٹی کو بھی سکھانا چاہتا ہے۔ اس کی تعلیم یہ ہے کہ ایک جوان لڑکی کو چاندنی رات میں جو گرم سینہ بھی مل جائے، اس سے اس کو چمٹ جانا چاہیے، کیوں کہ اس صورت حال میں یہی ایک طریق کار ممکن ہے اور جو عورت بھی ایسی حالت میں ہو، وہ اس کے سوا کچھ کر ہی نہیں سکتی۔ یہ فعل گناہ نہیں بلکہ قربانی ہے۔ اور اس سے عصمت پر بھی کوئی حرف نہیں آتا۔ بھلا خیالات کی پاکیزگی کے ساتھ کنوار پن قربان کر دینے سے بھی کہیں عصمت جاتی ہو گی؟ اس سے تو عصمت میں اور اضافہ ہوتا ہے، بلکہ یہ ایک ایسا شاندار کارنامہ ہے کہ ایک عورت کی زندگی میں سنہرے الفاظ سے لکھا جانا چاہیے اور اس کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس کی ساری کتاب زندگی ایسے ہی سنہرے الفاظ سے لکھی ہوئی ہو۔ رہی سوسائٹی تو وہ اگر ایسی عصمت مآب خواتین پر حرف رکھتی ہے تو وہ فسادی اور چڑیل ہے۔ قصور وار وہ خود ہے کہ ایسی ایثار پیشہ لڑکیوں پر حرف رکھتی ہے، نہ کہ وہ صاحب زادی جو ایک رومانی رات میں کسی کھلی ہوئی آغوش کے اندر بھینچے جانے سے انکار نہ فرمائیں۔ ایسی ظالم سوسائٹی جو اتنے اچھے کام کو برا کہتی ہے، ہرگز اس کی مستحق نہیں کہ اس سے ڈرا جائے اور یہ کارخیر انجام دے کر اس سے منھ چھپایا جائے۔ نہیں، ہر لڑکی کو اعلانیہ اور بے باکانہ اس فضیلت اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور خود شرمندہ ہونے کے بجائے، ہو سکے تو الٹا سوسائٹی کو شرمندہ کرنا چاہیے۔ یہ جرات و جسارت کبھی بازار میں بیٹھنے والی بیسواؤں کو بھی نصیب نہ تھی، کیوں کہ ان بد نصیبوں کے پاس ایسا فلسفہ اخلاق نہ تھا جو گناہ کو ثواب اور ثواب کو گناہ کر دیتا۔ اس وقت کی بیسوا عصمت تو بیچتی تھی مگر اپنے آپ کو خود ذلیل اور گناہ گار سمجھتی تھی۔ مگر اب نیا ادب ہر گھر کی بہو اور بیٹی کو پہلے زمانے کی بیسواؤں سے بھی دس قدم آگے پہنچا دینا چاہتا ہے ، کیوں کہ یہ بدمعاشی و فحش کاری کی پشت بانی کے لیے ایک نیا فلسفہ اخلاق پیدا کر رہا ہے۔
ایک اور رسالے میں جس کو ہمارے ملک کے ادبی حلقوں میں کافی مقبولیت حاصل ہے، ایک افسانہ "دیور” کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ مصنف ایک ایسے صاحب ہیں جن کے والد مرحوم کو عورتوں کے لیے بہترین اخلاقی لٹریچر پیدا کرنے کا شرف حاصل تھا، اور اسی خدمت کی وجہ سے غالباً وہ ہندوستان کی اردو خواں عورتوں میں مقبول ترین بزرگ تھے۔ اس افسانے میں نوجوان ادیب صاحب ایک ایسی لڑکی کے کیریکٹر کو خوش نما بنا کر اپنی بہنوں کے لیے نمونے کے طور پر پیش کرتے ہیں، جو شادی سے پہلے ہی اپنے دیور کی بھرپور جوانی اور شباب کے ہنگاموں کا خیال کر کے اپنے جسم میں تھرتھری پیدا کر لیا کرتی تھی، اور کنوارے پنے ہی میں جس کا مستقل نظریہ یہ تھا کہ "جو جوانی خاموش اور پر سکون گذر جائے، اس میں اور ضعیفی میں کوئی فرق نہیں۔ میرے نزدیک نوجوانی کے ہنگامے ضروری ہیں جن کا مآخذ کشمکش حسن و عشق ہے۔ ” اس نظریے اور ان ارادوں کو لیے ہوئے جب یہ صاحب زادی بیاہی گئیں تو اپنے داڑھی والے شوہر کو دیکھ کر ان کے جذبات پر اوس پڑگئی اور انھوں نے پہلے سے سوچے ہوئے نقشے کے مطابق فیصلہ کر لیا کہ اپنے شوہر کے حقیقی بھائی سے دل لگائیں گی۔ چنانچہ بہت جلد ہی اس کا موقع آ گیا۔ شوہر صاحب حصول تعلیم کے لیے ولایت چلے گئے اور ان کے پیچھے بیوی نے شوہر کی اور بھائی نے بھائی کی خوب دل کھول کر اور مزے لے لے کر خیانت کی۔ مصنف نے اس کارنامے کو خود اس مجرمہ کے قلم سے لکھا ہے۔ وہ اپنی ایک سہیلی کو، جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے، اپنے تمام کرتوت آپ اپنے قلم سے لکھ کر بھیجتی ہے، اور وہ تمام مراحل پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے جن سے گذر کر دیور اور بھاوج کی یہ آشنائی آخری مرحلے تک پہنچی۔ قلب اور جسم کی جتنی کیفیات صنفی اختلاط کی حالت میں واقع ہو سکتی ہیں، ان میں سے کسی ایک کو بھی بیان کرنے سے وہ نہیں چوکتی۔ بس اتنی کسر رہ گئی ہے کہ فعل مباشرت کی تصویر نہیں کھینچی گئی۔ شاید اس کوتاہی میں بھی یہ بات مد نظر ہو گی کہ ناظرین و ناظرات کا تخیل تھوڑی سی زحمت اٹھا کر خود ہی اس کی خانہ پری کرلے۔
اس نے نئے ادب کا اگر فرانس کے اس ادب سے مقابلہ کیا جائے جس کے چند نمونے ہم نے اس سے پہلے پیش کیے ہیں تو صاف نظر آئے گا کہ یہ قافلہ اسی راستے سے اسی منزل کی طرف جا رہا ہے، اسی نظام زندگی کے لیے ذہنوں کو نظری اور اخلاقی حیثیت سے تیار کیا جا رہا ہے اور عنان توجہ خاص طور پر عورتوں کی طرف منعطف ہے تاکہ ان کے اندر حیا کی ایک رمق بھی نہ چھوڑی جائے۔
(اقتباس از پردہ)

