غیرت کے نام پر خواتین کا قتل عام، چند اعداد و شمار


میڈیا کے جس شعبے میں کام کام کررہی ہوں، اسے نیوز اینکرنگ کہا جاتا ہے۔ نیوز اینکر کے لئے وقت ہمیشہ مسائل پیدا کرتا رہتا ہے۔ کسی بھی وقت خبر آجائے، ہمیں بھاگ کر بریکنگ نیوز کرنی پڑتی ہے اور پاکستانی نیوز چینلز میں بریکنگ نیوز کا ایسا کلچر ہے کہ ہر وقت بھاگ دوڑ کا سماں رہتا ہے۔ پاکستانی نیوز چینلز میں ایک وقت ایسا ہوتا ہے جسے پرائم ٹائم کہا جاتا ہے، وہ فی میل اینکرز جو پرائم ٹائم شفٹ کرتی ہیں، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ کس طرح کی صورتحال سے گزرتی ہیں۔ پرائم ٹائم شفٹ کی وجہ سے گھر پہنچتے پہنچتے رات کے ڈیڑھ بج جاتے ہیں“۔

پرائم ٹائم کے ختم ہوتے ہی، اب مجھے گھر جانے کی جلدی ہوتی ہے۔ اس وقت صرف ذہن میں یہی ہوتا ہے کہ کسی طرح جلد سے جلد گھر پہنچ جاوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اماں ابا میرا انتظار کررہے ہوتے ہیں۔ پیارے بانا کچھ زیادہ ہی فکر مند ہوتے ہیں، تھوڑی سی دیر ہوجائے تو وہ بار بار فون کرتے ہیں، ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہاں ہو ابھی تک پہنچی کیوں نہیں؟ اکثر وبیشتر ایسا بھی ہوتا ہے کہ اماں ابا دونوں گاڑی لے کر رات کو ساڑھے بارہ بجے نیوز چینل مجھے لینے آجاتے ہیں۔

خوش نصیب ہوں کہ محبت کرنے والے والدین نصیب ہوئے ہیں، ایک معصوم سا چھوٹا بھائی ہے جس کو چوبیس گھنٹے آپی کی فکررہتی ہے، وہ میرا بہت خیال رکھتا ہے، حلانکہ ہر وقت چھوٹی چھوٹی بات پر میں اسے ڈانٹتی رہتی ہوں۔ خوش نصیب ہیں وہ انسان جو اس طرح کے خوبصورت اور اور احساس سے بھرپور رشتوں سے مالا مال ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے اس سماج میں ہر لڑکی بابا کی رانی اور بھائی کی آنکھ کا تارا نہیں ہوتی۔

اس بات کا احساس مجھے گجرات میں غیرت کے نام پر قتل ہونے والی بدقسمت ثناء چیمہ کے واقعے کے بعد ہوا۔ آخرکار 26 سالہ ثناء چیمہ کا قصور کیا تھا؟ یہی کہ اسے ایک لڑکے سے محبت ہو گئی، اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتی تھی؟ کیا اسلام بالغ لڑکی اپنی پسند کی شادی کرنے کی اجازت نہیں دیتا؟ اسلام دنیا کے تمام خوبصورت مذاہب میں ایک ایسا دین ہے جو لڑکی اور لڑکے کو پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے! پسند کی شادی کی خواہش نے ثنا جیسی تعلیم یافتہ لڑکی کی زندگی چھین لی۔ غیرت کے نام پر بے غیرت باپ نے بھائی اور بیٹے کے ساتھ ملکر ثناء کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سلادیا۔ معلوم نہیں اس معاشرے میں غیرت جاگتی بھی ہے تو کس انداز میں جاگتی ہے۔ تصور کریں وہ باپ کس قدر ظالم اور پاگل پن کا شکار ہوگا جو اپنی ہی بیٹی کو غیرت کے نام پرقتل کردتیا ہے۔ وہ صرف ایک معصوم سی زندگی کا قتل نہیں کرتا، بلکہ خوبصورت رشتے، الہامی احساس کا بھی قتل کرتا ہے۔ وہ صرف غیرت کے نام پر پوری انسانیت کا قتل نہیں کرتا بلکہ وہ ایسا اقدام کرکے یہ ثابت کرتا ہے کہ اسے تو مرد ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ثناٗ جو اپنا وطن، گھر اور رشتے چھوڑ کر پڑھنے کے لئے دوسرے ملک گئی تھی، جو اعلی تعلیم حاصل کررہی تھی، جسے اس بات پر فخر تھا کہ اس کے والدین نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے باہر بھیجا ہے۔ جب تک وہ ایک ایسے سماج کا حصہ رہی جہاں سب غیر مسلم تھے، محفوظ رہی، جب اپنوں میں آئی تو غیرت کے نام پر قتل کردی گئی، ایک ایسی لڑکی جسے اعلی تعلیم کے لئے اٹلی بھیجا گیا، شعور اور آگہی اس کا بنیادی حق تھا، جب وہ باہر علم کے حصول کے لئے جارہی تھی تو کیا ان نام نہاد غیرت مند مردوں کو معلوم نہیں تھا کہ اپنی پسند کی شادی کرنا بھی اس کا بنیادی اسلامی اور انسانی حق ہے اور وہ یہ حق کبھی بھی استعمال کرسکتی ہے؟

کاش اس معصوم کو اس دھرتی کی غلیظ ترین روایت غیرت کی حقیقت کو جانتی اور کبھی اپنے وطن اور اس گھر نہ لوٹتی جو اس کے لئے قتل گاہ ثابت ہوا۔ وہ باپ جو اس سے محبت کرتا تھا، اس سے شفقت سے پیش آتا تھا، اس کی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں پوری کرتا تھا، گدگدی کرکے اسے ہنساتا تھا، وہ مسکراتی تھی تو باپ بھی خوش ہوجاتا، آج وہی باپ غیرت کے نام پر درندہ بن گیا اور اس نے خوبصورت اور معصوم پھول کو مسل کر رکھ دیا۔ وہ بھائی جو لاڈلی بہن کا محافظ تھا، وہ بھی اس گھناونے عمل کا حصہ بن گیا۔ بھائی تو بہنوں کے لاڈ پیار پر جان چھڑکتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں معلوم نہیں ہر روز کتنی ثناء قتل ہوتی ہیں، جن بیچاروں کی خبریں رپورٹ ہی نہیں ہو پاتی۔ پاکستان اس خطے کا وہ بدقمت ترین ملک ہے جہاں ہر سال ہزاروں لڑکیاں اور خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوتیں ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم ”عورت فاونڈیشن“ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 2013 میں پاکستان میں غیرت کے نام پر پر 869 خواتین قتل کی گئی۔ 2014 میں ایک ہزار پانچ خواتین اور لڑکیاں غیرت کی بھینٹ چڑھی۔ مکروہ غیرت کا جن قابو کرنے کے لئے کمیشن کا قیا م عمل میں لایا گیا۔ اس کے باوجود بھی غیرت کے بھیس میں بے غیرتی کا کاروبار نہ رک سکا۔ 2015 میں 1096 ہوا کی بیٹیاں قتل کی گئی۔ پنجاب جسے ترقی یافتہ صوبہ کہا جاتا ہے، اس کا صورتحال ملاحظہ فرمایئے۔

فیصل آباد میں 2013 کے دوران غیرت کے رکھوالوں نے 28 خواتین کو زبح کیا۔ 2014 کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ غیرت کے نام پر قتل فیصل آباد میں ہوئے جن کی تعداد 45 تھی۔ 2008 تک فیصل آباد کی 200 خواتین اور لڑکیوں کو پسند کی شادی کی خواہش پر قتل کیا گیا۔ لاہور جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے، لاہور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے یہاں سب سے زیادہ تعلیمی درسگاہیں ہیں، لاہور جسے ماڈل شہر قرار دیا جاتا ہے۔ لاہور جسے باغوں، پارکوں اور پھولوں کا شہر کہا جاتا ہے، لاہور جہاں میٹرو سروس بن چکی اور اورنج ٹرین منصوبہ مکمل ہونے کو ہے، لاہور جو پنجاب کا دارالحکومت ہے، یہاں بھی غیرت کا خونی رقص جاری ہے، 2014 میں غیرت کے نام پر قتل ہونی والی خواتین کی تعداد 29 تھی۔ 2008 سے 2014 کے درمیان 163 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔

جنوبی پنجاب کے ترقی یافتہ ضلع رحیم یار خان زراعت کی زرخیزی کے حوالے سے مشہور ہے، یہاں پر خواتین کھیتی باڑی میں مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ 2014 میں اس ضلع میں 20 خواتین کاخون کیا گیا، 2015میں یہاں پر 15 لڑکیاں کو غیرت کی گھٹیا رسم کا نشانہ بنیں۔

اب آتے ہیں صوبہ سندھ کی جانب، یہاں پر 2008 سے 2014 تک مجموعی طور پر سینکروں خواتین کو سفاکانہ انداز میں قتل کیا گیا۔ جنت نظیرکشمیر پاکستان میں غیرت کے حوالے سے پانچویں نمبر پر ہے۔ کشمیر میں بھی درجنوں خواتین کو موت کے گھاٹ اترا گیا۔ جیکب آباد صوبہ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع ہے، 2008 سے 2014تک 222 وارداتیں رپورٹ کی گئی۔

پٹھانوں کے صوبے خیبرپختونخوا میں 2014 میں 12 خواتین بغیر کسی قصور کے موت کی وادی میں چلی گئیں۔ سوات وہ علاقہ ہے جہاں خواتین سب سے زیادہ خودکشی کرتی ہیں۔ مطلب یہ کہ انہیں اس قدر ذہنی تناؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ہی اپنا قتل کردیتی ہیں۔ خواتین کی زندگیاں محفوظ کرنے کے لئے قوانین ہیں، مگر عملا اس قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ کہنے کو تو اس ملک میں انسانی حقوق کمیشن بھی ہے، خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والی درجنوں این جی اوز بھی ہیں۔

پاکستان میں ہر سال خواتین کے حقوق پر سیمینارز بھی منعقد کیے جاتے ہیں، سیاستدان، دانشور بڑے بڑے لکچر بھی جھاڑتے ہیں مگر حقیقی صورتحال خوفناک اور ڈراونی ہے۔ عزت و غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کے مقابلے مردوں کے قتل کا تناسب ایک فیصد ہے۔ خواتین کے قتل میں30فیصد ان کے اپنے شوہر ملوث ہوتے ہیں، وہ شوہر جنہیں وہ مجازی خدا مانتی ہیں۔ خواتین کے بیس فیصد قتل عام کے پیچھے ان کے باپ اور بھائیوں کا ہا تھ ہوتا ہے۔ اس ساری صورتحال کو تصور کریں ہم کس طرح کے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں، جہاں باپ بیٹی کا قتل کرتا ہے، انتہا پسند مذہب کے نام پر دوسرے عقائد اورمذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانوں کا قتل کرتا ہے۔

ہم اپنے آپ کو اشرف المخلوقات سمجھتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے؟ جب اسلام اور الباکستان کا قانون کسی بھی خاتون کو اپنی پسند کی شادی کرنے کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے تو کیوں اور کیسے ان خواتین کا قتل عام ہورہا ہے؟ ثناء جیسی معصوم بیٹیاں ہر روز پاکستان کے کسی نہ کسی حصے میں اپنوں کے ہاتھوں قتل ہورہی ہیں۔

حکومت، معاشرے، عدالتی نظام اور میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے گھناونے واقعات روکنے کے مربوط پالیسیاں ترتیب دے۔ میڈیا پر اس حوالے سے مہم شروع کی جائے، عدالتی سسٹم میں اس طرح کے سخت قوانین بنائے جائیں کہ کوئی بھی خاتون اس طرح قتل نہ ہو سکے۔ کب تک ہوا کی بیٹی کو درندے اس طرح قتل کرتے رہیں گے؟ دنیا چاند سے مریخ اور دوسرے سیاروں پر پہنچ گئی ہے اور وہاں پر انسانیت کو بسانے کے خواب دیکھ رہی ہے اور یہاں غیرت کے نام پر خواتین کا قتل عام جاری ہے؟ ذرا سوچیے

Facebook Comments HS