خوش رہنے کا طریقہ

اکتیسویں صدی کے آغاز میں جب ماڈرن زندگی کے جذباتی سوالات آئے تو اس نئے دور میں تشخیص وہی رہیں، جو پچھلے دوروں میں بھی رہتی تھیں۔ خوشی، اطمینان، اور آرام کی تلاش آج بھی انسانیت کا اصل مقصد رہی ہے، لیکن ماڈرن زمانے میں یہ تلاش اور مشکل ہو گئی ہے۔ ہم جیون کے چکر میں ایسے آتے ہیں کہ ہم اپنی خوشی کے پیچھے بھاگتے ہیں، لیکن جواب ہماری اندرونی تسلی اور سکون میں نہیں پایا جا سکتا۔

Read more

سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا منفی کردار

ہم کس جدید دور میں رہتے ہیں اس بات کا احساس تو مجھے شاید بہت پہلے سے ہی تھا۔ لیکن اس کا مکمل یقین مجھے اس وقت ہوا جب میرے سوشل میڈیا کے فیس بک اکاونٹ پرایک دوست کی ریکویسٹ موصول ہوئی۔ چونکہ ریکوسٹ ایک لڑکی کی تھی اور ہمارے کافی باہمی دوست بھی ظاہر ہورہے تھے اور وہ لڑکی میڈیا سے بھی وابستہ تھی۔ تو میں نے بنا کسی ہچکچاہٹ کے اس کی دوستی کو قبول کرلیا۔ ٹھیک اس کے

Read more

میرے پیارے کپتان قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے

آج کل ہمارا پیارا پاکستان ایک عجیب وغریب بیماری میں مبتلا ہے۔ اس ایک بیماری کی وجہ سے کئی مزید نئی بیماریاں وطن عزیز سے چمٹتی جارہی ہیں۔ تقریبا دو ڈھائی سال پہلے اس بیماری کی شروعات ہوئی تھی اور آج اس کے منفی اثرات چاروں اطراف ناچتے اور رقص کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ میرے پیارے کپتان نے نوجوانوں کو امید اور دلاسے سے اپنی کپتانی کا آغاز کیاتھا۔ اس کے بعد تبدیلی کی لہر چلی جس نے دیکھتے

Read more

میں ترکی کی خوبصورتی کی گرویدہ ہوگئی

اب میں اور بھی زیادہ پریشان ہوگئی۔ پہلے فلائٹ مس کردی، نیند اور بھوک تو ایک طرف مگر میرے پاس تو اب میرا سامان بھی نہیں تھا۔ میں نے سامنے بیٹھے اس افسر کو دوبارمخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سامان کیسے واپس مل سکتا ہے جس پر اس نے ایک فارم نکالا اور اس کو پر کرنا شروع کردیا، چند لمحوں بعد اس نے مجھے وہ فارم دیا اور اس پر ہاتھ سے درج ایک نمبر کی طرف پنسل سے اشارہ کرتے ہوئے بولا ’یو کین کال ہیر، ٹل دیم اباؤٹ یور بیگ‘ ۔

میں نے اس سے وہ کاغذ لیا اور کمرے سے باہر آگئی۔ اس ساری کشمکش کے دوران پیاس کی شدت تک کو گئی تھی۔ خیال آیا کہ کیوں نہ میں پانی ہی پی لوں، اسی غرض سے میں نے ارد گرد نظریں دوڑائیں تو ایک مشین پر نظر پڑ گئی۔ اس لال رنگ کی مشین میں آپ پیسے ڈالیں اور جوس، پانی جو چاہیے نکال لیں۔ پاکستان میں یہ مشین عام نہیں ہے کہیں ایک دو جگہوں پر اتفاق ہوا تھا کہ میں نے دیکھیں ہوں مگر استعمال کرنے کا اتفاق کبھی بھی نہیں ہوا پر اب تو یہ ضروری تھا۔ میں اس مشین کے پاس گئی اور کافی دیر کوشش کرتی رہی مگر اس پردرج ترکش زبان کی وجہ سے کچھ خاص کام نہ بنا۔ بل آخر میں نے کسی سے مدد مانگ لی مگر وہ الٹا ہی گلے پڑگئی کیوں کہ اس کو یہ سمجھانے میں مجھے آدھا گھنٹہ لگ گیا کہ مجھے پانی پینا ہے۔

Read more

ایک پاکستانی لڑکی کے عربوں اور ترکوں کے بارے میں تاثرات

عربوں کی زندگی ہماری زندگی سے بڑی مختلف ہوتی ہے اس بات کا احساس مجھے ان کے درمیان رہ کے ہوا۔ وہاں پر پاکستان کو اور پاکستانیوں کو کس طرح دیکھا جاتا ہے یہ بات بھی عیاں ہوئی۔ ایک بات ان میں یکساں تھی اور وہ عاجزی کی کمی۔ مجھے وہاں 15 گھنٹے گزارنے کے بعد معلوم ہوا کہ اللہ نے زیادہ تر پیغمبر عرب میں ہی کیوں بھیجے۔ سعودی عرب جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ان کا قومی لباس ثوب ہے پر انہوں نے اسے بھی کس حد تک فیشن کی نظر کردیا ہے یہ ان کے ثوب کی بناوٹ سے ظاہر ہوجاتا ہے۔

عربی بہت حد تک برانڈ کونشیس ہوتے ہیں۔ ان کے پرفیوم سے لے کر ان کے ہاتھ میں موجود گھڑی تک سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میں بھی ان تمام گھنٹوں میں اپنی اور ان کی قوم میں فرق دیکھا۔ اس کے علاوہ ہم میں بس اسلام ہی سانجھی چیز ہے۔ چونکہ میں نے واہاں ایک لمبا وقت گزارا اس لیے میں نے لاؤنج کی ساری جگہ دیکھ لی۔ بوریت کی وجہ سے کبھی لیپ ٹاپ کھولتی کبھی کتاب پڑھتی۔ اس دوران رضوان میرے پاس آیا اور ایک مسکراہٹ کہ ساتھ بولا اب ٹھیک ہیں آپ؟

Read more

جدہ میں ترکی کی فلائٹ مس ہونے کے بعد مجھ پر کیا گزری؟

میں نے بارہا کاؤنٹر پر کھڑے اس شخص کو دیکھا، ایک لمحے کو دل چاہا رودوں پر پھر تھوڑی ہمت کرکے اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ (Can you tell me the way to get the new ticket؟ ) اس نے میری طرف دوبارہ دیکھا اوراپنے برابر میں کھڑے شخص سے عربی زبان میں بات کرنے لگ گیا۔

جس قدر غصہ مجھے خود پر سو جانے کی وجہ سے تھا اس سے کئی زیادہ غصہ اس شخص کو مجھ پر میری فلائٹ چھوٹ جانے کا تھا۔ میں نے اس کے ساتھ کھڑے افسر کو مخاطب کیا اور کہا کہ میرے پاس کوئی سم کارڈ ہے نہ ہی وائی فائی تک رسائی۔ خدا جانے اس پر میرے اس جملے کا کیا اثر ہوا۔ اس نے میری جانب پہلے تو حیرانی سے دیکھا پھر مجھ سے میرا بورڈنگ پاس مانگ لیا۔ میں نے بھی تاخیر کیے بغیراسے اپنا بورڈنگ دے دیا۔

اس نے جلدی جلدی میں بورڈنگ پاس پر کچھ لکھا پھر ساتھ والے خشم آلود نگاہوں والے افسر کو عربی زبان میں کچھ کہا پھر اس افسر نے بھی میری طرف دیکھ کر اسے واپس جواب دیا، اس کے بعد اس شخص نے میرا بورڈنگ پاس مجھے واپس دیا جس پرعربی میں کچھ لکھا ہوا تھا۔

Read more

ترکی کا تنہا سفر تھا اور جہاز میرے بغیر اڑ گیا

8 فروری کا دن تھا رات کے گیارہ بج رہے تھے، بورڈنگ ہو چکی تھی اور میں لاؤنج میں بیٹھ کر 12:15 بجنے کا انتظار کر رہی تھی۔ گھر والوں سے رخست لے چکی تھی اور عجیب سا ڈر تھا۔ گھرسے دور جانے کا ڈر۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ میرا زندگی کا پہلا بیرون ملک سفر تھا اور وہ بھی تنہا۔ اسی سوچ کے ساتھ میں لاؤنج میں بیٹھی اور پھر اپنے گھر والوں سے متعلق سوچنے لگی یہ کیفیت بڑی عجیب تھی، وقت گزارنے کے لیے میں کبھی ساتھ بیٹھی چینی لڑکی کو دیکھتی تو کبھی گھڑی پر نظر ڈالتی۔اس دوران پرواز کے انتظار میں میں نے گھر والوں سمیت تمام رشتہ داروں سے بات چیت بھی کر لی اور سب کو اپنی خیر وعافیت سے آگاہ بھی کر دیا۔ کچھ دوستوں سے بات کی اور بتایا کہ میں ایک یکسچینج پروگرام پر ترکی جا رہی ہوں، چونکہ قریبی دوست جانتے تھے کہ میں ہمیشہ سے ہی ترکی کا سفر کرنا چاہتی تھی اس لیے وہ سب میرے لیے بہت خوش تھے۔ اور مجھے بھی سب افسانوی لگ رہا تھا مگر ایک چیز جو حقیقت تھی وہ یہ کہ میں اب دو ماہ کے لیے کچھ نیا سیکھنے جا رہی ہوں۔ جن سے بات نہیں ہو پائی ان کو مسیج پر آگاہ کر دیا۔ سب نے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔

Read more

کیا یہ دنیا آزاد ہے؟

صبح کے گیارہ بج رہے تھے اسٹینڈ بائے مکمل ہوچکا تھا اور میں عموماً اس وقفے میں نیوز روم جایا کرتی ہوں۔ آج ہر روز کی طرح یہی سوچا کہ بقیہ آرٹیکل پڑھوں گی اور 12 بجے کے بلیٹن کے لگے رن ڈاون پر ایک نظٖر ڈالوں گی تاکہ آج کے اہم ایشو کے بارے میں تیاری کر لی جائے۔ اس بات کو سوچتے ہوئے اسٹوڈیو سے اٹھی اور نیوز روم کا رخ کیا۔ نیوز روم پہنچ کر اپنی نشست کے قریب پہنچی تو ان پٹ ہیڈ اور انٹرنیشنل ڈیسک کے ایک صاحب کسی اہم ایشو پر تبادلہ خیال کر رہے تھے، ۔

سلام کرنے کے بعد مناسب یہی سمجھا کہ ان اشخاص کے پاس بیٹھا جائے۔ اور جو موضوع زیر بحث ہے اسے سنا جائے۔ چونکہ وہ ایک انٹرنیشنل ٹاپک پر گفتگو کر رہے تھے اس لئے شغف بڑھ گیا۔ موضوع تھا کہ 17 سال سے امریکہ نے جو کچھ بھی افغانستان میں کیا ہے اس کے بعد کیا افغانستان اپنی اصل حالت میں واپس آپائے گا؟ باتیں ہوتی رہیں او میں بھی یہ گفتگو غور سے سنتی رہی۔ اس ساری گفتگو میں جو ایک بات توجہ طلب تھی اس نے مجھے سوچنے اور لکھنے پر مجبور کردیا۔ یونہی ایک سوال اٹھا کہ کیا واقع ہی یہ دنیا آزاد ہے؟

Read more

حرمان نصیبی اب بھی قائم

سال بدلا، انداز بدلا نہ بدلی تو قسمت! 2007 میں پاکستان میں % 34 لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ 2008 میں پاکستان میں آمریت کا سازٹوٹا اور جمہوریت نے ایک عرصہ بعد کھل کر سانس لیا۔ لوگوں کی توقعات بڑھی اور یوں لگا کہ اب ان بے قصوروں کی بھی فریاد سنی جائے گی۔ بے نظیر بنا اور بعدازاں پی پی کی حکومت نے خواتین کو ہنر سکھانے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ پنجاب میں چونکہ ن لیگ کی حکومت تھی تو وہاں بھی بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔

غریب کے لیے سستی روٹی سکیم اور دیگر منصوبے شروع تو کیے لیکن ان کی دردناک زندگی میں راحت کے کیے کچھ نہ کیا گیا 2009 میں یہ شرح % 36 ہوگئی۔ وقت کے ساتھ درد کم ہوا نہ ہی شرح غربت۔ 2012 میں یہ خوفناک اذیت مزید بڑھی اور وطنِ عزیز کے % 38 لوگ اس کی تحویل میں تھے۔ عام انتخابات میں ن لیگ نے وفاق میں حکومت بنائی اور پھر ملک میں بڑھتی ہوئی غربت کے بارے میں کچھ نہیں کیا گیا یوں 2015 میں یہ شرح بڑھ کر % 39.0 ہوگئی۔

Read more

مختاراں مائی سے ننھی زینب تک

9 جنوری 2018 کا دن شاید ہی میں کبھی بھلا پاوں، شام کے پانچ بج رہے تھے اور ہیڈلائنز کا وقت ہونے کو تھا کہ ایک خبر آتی ہے کہ قصور میں ایک کچرے کے ڈھیر سے ایک سات سالہ بچی کی لاش ملی ہے۔ اس خبر کو پڑھتے ہوئے زبان لڑکھڑا رہی تھی۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ خبر میں پڑھ رہی ہوں۔ میرے قریبی دوست اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ میں اس طرح کی خبروں

Read more

ڈپریشن میں پاکستان دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے

دس اکتوبر کو ہر سال ذہنی صحت کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد دنیا میں بڑھتی ہوئی ٹینشن اور اعصابی دباؤ سے نمٹنا ہے۔ اس دن کا آغاز 10 اکتوبر 1992 کو مغرب میں اس وقت ہوا جب ذہنی دباؤ سے اموات میں اضافہ ہونے لگا۔ شروع میں یہ دن امریکہ انگلینڈ سکینڈینوا تک محدود تھا مگر پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ تبدیلیاں کی گئیں اور آج یہ عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انسان کی ذہنی صحت کی بربادی میں کچھ چیزیں اپنا کردار ادا کرتی ہیں ان میں ڈپریشن، انزائٹیُ، شراب اور ہر چیز کو اس کی اہمیت سے زیادہ اور بلاوجہ سوچنا ہے۔

اس عالمی دن پر اگر بات کی جائے ان ممالک کی کہ جہاں سب سے زیادہ لوگ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو اس میں چین 1، بھارت 2، امریکہ 3، روس 4، برازیل کا 5، اندونیشیا کا 6، پاکستان کا 7 بنگلہ دیش کا 8، نائجیریا کا 9 اور جرمنی کا 10 نمبر ہے۔

Read more

کیا اس معاشرے میں عورت ہی عورت کی دشمن ہے؟

نیوز روم اینکرز کے لئے سیکھنے کی بہترین جگہ ہوتی ہے۔ یہاں پر شور شرابا تو روز مرہ کا معمول ہے۔ مگر یہ شور شرابہ ہی نیوز روم کا حسن بھی کہلاتا ہے۔ دوران ڈیوٹی نیوز روم میں میرا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ آج میں اپنی شفت ختم ہونے کے بعد بھی نیوز روم میں موجود رہی۔ چونکہ میں کافی دیر سے بیٹھی نیوز روم میں کتاب پڑھ رہی تھی اور وقت کا اندازہ نہیں ہوا اسی دوران ایک

Read more

اس جولائی کا الیکشن بھی خون مانگ رہا ہے

آج سے ٹھیک دس سال پہلے کی بات ہے۔ شام کا وقت تھا اور لیاقت باغ عوام سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر شخص آنکھوں میں امید لیے موجود تھا تھی۔ ایک خاتون اپنی گاڑی کے سن روف سے باہر نکلیں عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں مزید جوش بڑھا رہی تھی۔ ہر شخص اسی کو دیکھ رہا تھا۔ اس نڈر خاتون کی آنکھوں میں بہادری کی مسکراہٹ بتا رہی تھی کے میں آگئی! اس ملک کو بچانے اپنے

Read more

ایک سیاسی مباحثہ اور نانی اماں کی نصیحت

رات کے بارہ بج چکے تھے،محفل ابھی تک برخاست نہیں ہوئی تھی ۔گھر کے لان میں ہم پانچوں دوستوں کی گپ شپ جاری تھی کہ اسی دوران نانی اماں آگئی اور ہمارے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔ اسی دوران ہماری ایک دوست فضا وہاں سے اٹھی اور کہنے لگی ،دوستو بہت دیر ہو گئی ہے ،میں چلتی ہو ،ایسا نہ ہو کہ صبح دیر ہو جائے اور میں آفس نہ پہنچ سکوں،کسی صورت بھی میں آفس لیٹ نہیں پہنچنا چاہتی ۔۔۔

Read more

کیا واقعی ہم اشرف المخلوقات ہیں؟

مسلسل بارش اور رات کا آخری پہر، یہ وہ کیفیت تھی جسے میں انجوائے کررہی تھی۔ حالانکہ بارش سے پہلے آندھی کا طوفان برپا ہوا تھا جس سے شہر بے مثال کے بہت سے علاقے فیڈر ٹرپ ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوب گئے تھے۔ کمرے میں عجیب سی پراسرار خاموشی تھی، میرا دھیان بارش کے گرتے معصوم قطروں سے ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ بے دھیانی میں بہت وقت گزر گیا اور میں اب بھی

Read more

الیکشن 2018: لاہور کیا سوچ رہا ہے؟

جس شعبے سے میں وابستہ ہوں،اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ سیاست سے لیکر سماج،معیشت تک گفتگو اور بحث و مباحثہ کرنا عام سی بات ہے۔ اینکر سے لیکر دفتر کی کچن میں کام کرنے والے تک ہر انسان سیاسی تجزیہ کار ہوتا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شعبے سے منسلک ہر انسان کا تجزیہ یا تبصرہ دوسرے سے مختلف و منفرد ہوتا ہے۔ دو روز پہلے میری کچھ خواتین دوستوں کی محفل سجی

Read more

بھارت میں شرمناک رسم کی داستان اور کچھ خوفناک اعداد وشمار

کچھ روز پہلے ایک دوست کے گھر محفل سجی، جس میں پاکستانی سیاست و سماج کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی عالمی پالیسیوں پر بھی بحث و مباحثہ ہوتا رہا۔ علمی و فکر سے مزین نشست کے دوران پربھوداسی نظریئے پر بھی بحث کی گئی، اس حوالے سے دوستوں نے بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ گفتگو کے دوران کہا گیا کہ روشن اور سیکولر بھارت میں لاکھوں کی تعداد میں ایسی بچیاں بھی ہیں جنہیں پربھوداسیاں کہا جاتا

Read more

پاکستان میں پانی کا بحران، عوام اور حکومت کیا کرہے ہیں؟

خالق کائنات کی ان گنت نعمتیں ہیں ،جس کو انسان شمار بھی نہیں کرسکتا،اللہ تعالی کی بے شمار نعمتوں میں ایک اہم ترین نعمت پانی بھی ہے ،جس پر انسان کی بقا اور حیات موقوف ہے ۔پانی بہت بڑی ہے نعمت ہے ،انسان کو ا س کی اہمیت اور ضرورت اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب پیاس کی شدت اس کو بے چین و بے قرار کردے ،تب اسے ایک گھونٹ پانی کی قدر کا احساس ہوگا اور سمجھ

Read more

پاکستان میں معذور افراد کی حالت زار

یہ فقرہ ہمیں بچپن سے نصابوں میں پڑھایا اور روزمرہ میں بولا بھی جاتا ہے۔ یعنی دنیا کی ہزار نعمتیں ایک طرف اور تندرستی ایک طرف۔ اس فقرے کی اہمیت کا احساس مجھے اس وقت ہوا جب آج سے دس دن پہلے ہفتے کی رات کمر میں اچانک شدید تکلیف شروع ہو گئی، شدید تکلیف پر قابو پانے کے لئے ادھر ادھر کے ٹوٹکے استعمال کئے ،لیکن درد تھا کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔

Read more

کاش یہ قوم ماں کا تحفظ کرنا سیکھ جائے

جب میں چھوٹی سی بچی تھی تو ہمیشہ بزرگوں ایک نصیحت کیا کرتے تھے، بزرگوں کی وہ نصیحت اس وقت سمجھ میں نہیں آتی، ان کی نصیحت پر مسکرادیا کرتی تھی، بڑے بزرگ کہا کرتے تھے کہ ماں کو ہر روز ایک بار محبت سے لبریز نگاہ سے دیکھ لینا چاہیے، اس سے ایک حج کے برابر ثواب ملتا ہے۔ آج جب سوچتی ہوں تو دماغ میں ایک خیال سا آتا ہے کہ بزرگوں کی نصیحت کتنی اہم ہے۔ اس

Read more

کاش اگلے سال کی لسٹ میں ورشا کا نام بھی ہو

گزشتہ روز یونیورسٹی میں پیاری دوست ورشا سہیل سے ملاقات ہوگئی، ورشا اداس اور دکھی دکھائی دے رہی تھی، چہرے کا رنگ زرد تھا، وہ اپنی عمر سے دس سال بڑی محسوس ہو رہی تھی، میں نے کہا ورشا تم تو خوبصورت اور شرارتی لڑکی تھی، یہ اپنا کیا حال کر لیا ہے؟ کہنے لگی چلو کنٹین پر بیٹھتے ہیں اور یونیورسٹی زمانے کی باتیں کرکے دل بہلاتے ہیں، ہم دونوں کنٹین پر چلے گئے، ملک شیک کا آرڈر دیا

Read more

کیا یہ دس ہزار خواجہ سرا انسان نہیں؟

میرا تعلق پاکستان کے ترقی یافتہ صوبے پنجاب کے شہر لاہور سے ہے، لاہور کے علاقے جوہر ٹاون کی ایک ہاوسنگ سوسائیٹی میں رہتی ہوں۔ جس ہاوسنگ سوسائیٹی میں رہتی ہوں، سامنے جناح اسپتال ہے، ہر روز جناح اسپتال کے سامنے والی سڑک سے میرا آنا جانا رہتا ہے۔ گزشتہ بارہ سالوں سے میں اور میری فیملی جوہر ٹاون کے رہائشی ہیں، ان بارہ سالوں میں چار سال ایسے ہیں جب مجھے ہر روز ایک دردناک منظر دیکھنا پڑتا ہے۔

Read more

اہل مغرب خوش ہم پریشان کیوں؟

ہفتے میں ایک دن ایسا آتا ہے، جب آفس سے چھٹی ہوتی ہے، سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمین اس دن کو ویکلی آف کا نام بھی دیتے ہیں، جی ہاں میرا بھی ویکلی آف تھا، گھر میں جوش و خروش کی سی کیفیت تھی، ابو، امی اور بھائی خوش دیکھائی دے رہے تھے، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آج سب گھر والے خوش کیوں دکھائی دے رہے ہیں؟ اسی دوران امی نے آواز دی، بیٹا تیار ہو جاؤ

Read more

غیرت کے نام پر خواتین کا قتل عام، چند اعداد و شمار

میڈیا کے جس شعبے میں کام کام کررہی ہوں، اسے نیوز اینکرنگ کہا جاتا ہے۔ نیوز اینکر کے لئے وقت ہمیشہ مسائل پیدا کرتا رہتا ہے۔ کسی بھی وقت خبر آجائے، ہمیں بھاگ کر بریکنگ نیوز کرنی پڑتی ہے اور پاکستانی نیوز چینلز میں بریکنگ نیوز کا ایسا کلچر ہے کہ ہر وقت بھاگ دوڑ کا سماں رہتا ہے۔ پاکستانی نیوز چینلز میں ایک وقت ایسا ہوتا ہے جسے پرائم ٹائم کہا جاتا ہے، وہ فی میل اینکرز جو پرائم

Read more

اگر پاکستانی امریکی بن جائیں اور امریکی پاکستانی تو کیا ہو گا؟

گزشتہ کچھ دنوں کی نسبت آج دن خاصا گرم تھا اور کام بھی عام دنوں کی نسبت کچھ زیادہ تھا، یا پھر یوں کہیے کہ یہ سب موسم کا اثر تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیوز اینکر کے لیے کام کبھی کم یا زیادہ نہیں ہوتا البتہ خبریں، ان کی اہمیت اور نوعیت ہم پر بھی اثر رکھتی ہیں۔ آج خبریں بھی موسم کی طرح گرما گرم تھیں، میں نے اپنا سٹینڈ بائے مکمل کیا اور سٹوڈیو سے

Read more

مہکتے پھولوں کو مت مسلیں

آج دل بہت اداس، دُکھی اوربوجھل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج جب میں دوپہر کو گاڑی لے کر نکلی، تو شدید گرمی تھی۔ گاڑی کا اے سی آن کیا تاکہ کچھ سکون نصیب ہو۔ پاکستان میں شدید گرمی میں اے سی بہت بڑی نعمت ہے۔ گاڑی پر سفر جاری تھا، کچھ دیربعد اشارے پر گاڑی رکی تو ایک معصوم سی پھول جیسی لڑکی دیکھی، یہ خوبصورت لڑکی سڑک پر ہاتھ میں گلاب کے پھول لئے ہوئی تھی،

Read more

اور خطرے کی گھنٹی بج گئی

آج صبح نیند سے اٹھی تو وقت بہت ہو چکا تھا۔ تیار ہونے لگی تو معلوم ہوا کہ پانی کی موٹر خراب ہے اور ٹینکی میں پانی جتنا بھی تھا وہ استعمال ہو چکا۔ اب جو ذرا سا پانی موجود تھا بھی اس وجہ سے استعمال نہیں کیا جا رہا تھا کہ اگر شام تک پانی کی موٹر ٹھیک نہ ہوئی تو کیا کریں گے۔ خیر پانی کی عدم دستیابی کا سننا ہی تھا کہ چودہ طبق روشن ہوگئے۔ گہری

Read more