عمران خان کے چودہ نکات: نشانِ منزل یا اک سراب


فاٹا ، جنوبی پنجاب، میئر کا براہ راست الیکشن اور بلدیاتی نظام

عمران خان صاحب نے فرمایا کہ وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائیں گے اور فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں ضم کریں گے ۔ چونکہ یہ پی ٹی آئی کے بارہ سینٹرز کے ساتھ ممکن نہیں۔ اس لئے اس خواب کو بیچنے کا مقصد کیا ہے۔ اگر تو اس کا مقصد پنجاب کے اُس حصے کے ووٹ کھینچنا ہیں جہاں کئی دہائیوں سے ن لیگ کی حکمرانی ہے۔ تو وہ حصہ تو پنجاب کی تقسیم کا حامی ہی نہیں۔ ان کو جی ٹی روڈ سے پنجاب کی تقسیم کے نام پر کون ووٹ ڈالے گا؟ بلدیاتی نظام یا مئیر کا براہ راست انتخاب بھی آئین میں تبدیلی کا مرہونِ منت ہے ورنہ خیبر پختونخؤاہ میں ایسی تبدیلی سے خان صاحب کو پانچ سال تک کس نے روکا تھا؟

انصاف کا نظام اور سول مقدمات کا فیصلہ

سول مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایسا نظام بنانا ممکن ہے جس میں عدالت آنے سے پہلے ہی معاملے کو نپٹا دیا جائے۔ ہمسایہ ملک بھارت میں اسکی بہت سی کامیاب شکلیں موجود ہیں۔ خیبر پختونخؤاہ میں پچھلے پانچ سالوں میں آسانی کے ساتھ پنچائیت یا جرگے سے ملتے جلتے نظام کے ذریعے لوگوں کے سول معاملات کو حل کیا جا سکتا تھا۔ بدقسمتی سے پانچ سال حکومت کرنے کے باوجود اس معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ قومی انتخابات سے پہلے اس نقطے کی تشہیر درحقیقت الیکشن جیتنے کی ایک کاوش ہے۔ خان صاحب اصل میں لوگوں کو باور کروانا چاہتے ہیں کہ وہ الیکشن جیتنے کی صورت میں آئین میں تبدیلی کے ذریعے انصاف کے پورے نظام کو از سر نو مرتب کریں گے۔ مگر یہ تب ممکن ہو گا جب سینٹ میں ان کی دو تہائی اکثریت ہو، جو نہیں ہے۔

یکساں تعلیم کی فراہمی

اس نقطے کا بنیادی مقصد ایسے شہری پیدا کرنا ہیں کہ جو ترقی اور خوشحالی کی ضمانت ہوں جو نالج کے بغیر ممکن نہیں۔ بدقسمتی سے پوری دُنیا میں نالج ایک کاموڈٹی ہے۔ یہ ایک شے ہے۔ اس کو خریدا جاتا ہے۔ جسکے پاس جتنا مال ہے وہ اُتنی بہتر چیز خریدتا ہے۔ پاکستان میں یہ کیسے ممکن ہے کہ حکومت اسے مفت فراہم کرئے۔ جس حکومت کے پاس صاف پانی فراہم کرنے کے وسائل نہیں وہ نالج کہاں سے فراہم کرئے؟

اس وقت محکمہ تعلیم کے ملازمین کی تعداد کسی بھی دوسرے سول محکمے کے مقابلے سب سے زیادہ ہے۔ یہ لوگ سرکاری ملازم ہیں اور انہیں نوکری سے برخاست نہیں کیا جا سکتا۔ یہ لوگ ایک خاص مزاج اور قابلیت رکھتے ہیں جس کا اندازہ تعلیم کے عمومی معیار سے لگایا جا سکتا ہے۔ خان صاحب کے پاس وہ کیا طریقہ ہے جس کے ذریعے وہ امتحان کے پیمانے کو، نصاب کو، اساتذہ کی اہلیت اور قابلیت کو، سکولوں کی حالت زار کو، تدریس اور کتاب کے معیار کو ایک دم سے ٹھیک کر دیں گے؟ ٹھیک کرنے سے مراد کیا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میٰں جو اساتذہ اس وقت سرکاری سکولوں میں پڑھاتے ہیں اور جو ان سکولوں سے نکل کر بعد میں استاد بن جاتے ہیں۔ خان صاحب انہی کے ذریعے ان سب کو کیسے ٹھیک کریں گے؟ یہ ایک ناممکن کام ہے۔ اسے بتدریج اگلے بیس سے تیس سالوں میں تو بہتر کیا جا سکتا ہے مگر الیکشن کے بعد کے پانچ سال میں بس اتنا ہی ممکن ہے جتنا خیبر پختونخؤاہ میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کر کے دکھایا۔ بدقسمتی سے چونکہ اتوار والے جلسے میں اپنی حکومت کی کارکردگی کو خان صاحب نے قابل ذکر ہی نہیں سمجھا ورنہ شاید کچھ تو اندازہ ہوجاتا کہ جس تبدیلی کی یہ وعید سُنا رہے ہیں وہ کیسی دکھے گی۔

ٹیکس کی بنیاد میں اضافہ اور ٹیکس کے نظام میں شفافیت

خان صاحب کے ان دونوں نکات کا تعلق دو سچائیوں سے ہے۔ پہلی یہ کہ لوگ ٹیکس نہیں دینا چاہتے۔ دوسری یہ کہ ٹیکس کے محکمے میں جو بھی نظام رائج ہے وہ شفاف نہیں۔ ایک جانب خان صاحب کو پنجاب کا ووٹ چاہیئے۔ پنجاب یا جی ٹی روڈ کے ووٹر ٹیکس نہیں دیتے نا ہی دینا چاہتے ہیں۔ جو محکمہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ ان سے ٹیکس وصول کرئے اسے ٹھیک کرنے کے لئے دو تہائی اکثریت چاہیئے تا کہ وہ بنیادی آئینی اصطلاحات کے ذریعے اس معاملے کو سُدھار سکیں۔ وہ ووٹ کی مرہونِ منت ہیں۔ ووٹر یہ چاہتا ہی نہیں۔ تو پھر اس نقطے کا مقصد؟

 مفت ہسپتالوں کا قیام

دُنیا کا وہ کون سا ملک ہے جہاں ہسپتال مفت ہیں۔ اسکا جواب دیتے ہوئے ہم اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ وہ تمام ممالک دو کام ایسے کرتے ہیں جو پاکستان میں اب تک ناممکن رہے ہیں۔ ایک یہ کہ ان ممالک میں لوگ اپنی آمدنی پر ستر فیصد تک ٹیکس اداء کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ لوگ صحت کے مسائل سے آگاہ ہیں۔ اُنکا عمومی طرز زندگی ہیلتھی ہے۔ جہاں تک ہیلتھ کارڈ کا تعلق ہے اگر اس مسئلے کا ہیلتھ کارڈ ہوتا تو آج بھی خیبر پختونخؤاہ کے لوگ لاہور کے ہسپتالوں میں دھکے کیوں کھاتے؟ خان صاحب اقتدار کے پانچ سال بعد بھی جس ہسپتال کی مثال پیش کرتے ہیں وہ پشاور کا لیڈی ریڈنگ نہیں بلکہ شوکت خانم ہے۔ یہ ہسپتال پہلے دن سے لے کر آج تک چندے کی اپیل کا محتاج ہے۔ اسکے باوجود ہزاروں کی تعداد میں لوگ یہاں سے نامراد واپس جاتے ہیں کیونکہ اتنے چندے کے باوجود علاج کو مکمل طور پر مفت فراہم کرنا ممکن نہیں۔ جس ہسپتال کی مثالیں دیتے خان صاحب کو بیس سال ہو گئے، وہ ہسپتال بھی آنے والے تمام مریضوں کا مفت علاج کرنے سے قاصر ہے۔ 22 کروڑ لوگوں کو مفت علاج کی فراہمی کیسے ممکن ہے؟

زرعی معیشت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری

آخری نقطے کا تعلق زرعی معیشت سے ہے۔ زراعت ایک ایسا شعبہ ہے جس پر بیس کروڑ کی آبادی والا کوئی بھی ملک انحصار نہیں کرتا۔ پاکستان میں زراعت تین بڑے مسائل سے دوچار ہے۔ پانی کی قلت ، کاشکاری کے دقیانوسی طریقہ کار، اور ناقص منڈیاں۔ خان صاحب کے نزدیک سستے قرضے اور بجلی کے ذریعے و ہ ملکی پیداوار میں اضافہ کرلیں گے۔ پہلی بات تو یہ کہ اسکی کوئی مثال ہی موجود نہیں کہ جس میں زراعت کی بنیاد پر معیشت نے ترقی کی ہو۔ ہر ترقی یافتہ معیشت کی بنیاد انڈسٹری، کارپوریٹ سیکٹر، ہیومن ریسورس اور نالج اکانومی ہے۔ یہ کیسے ممکن ہو سکتی ہے، خان صاحب کی گھنٹوں پر محیط درجنوں نہیں سینکڑوں تقریریں ہیں جن میں سے کوئی ایسے آثار دکھائی نہیں دیتے جو اس سوال کا جواب فراہم کریں۔ دس ارب درخت لگانے کیسے ممکن ہوں گے۔ اس کا معیشت پر کیا اثر ہو گا۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کیوں نہیں ہوتی۔ سستی بجلی اور قرضوں سے بیرونی سرمایہ کاری کیسے ہونے لگے گی؟

بدقسمتی سے خان صاحب کے چودہ نکات وہ خواب اور تجزیئے ہیں جنکے لئے سب سے بہترین جگہ نائی کی دوکان یا چائے کا کھوکھا ہے۔ بھٹو کے زمانے میں لوگوں کو ایسی گولیاں دینے سے افاقہ ہو جایا کرتا تھا مگر پچاس سال سے وہی گولیاں کھانے کی وجہ سے اب انکا اثر ختم ہو چکا ہے۔ خان صاحب اگر الیکشن جیتنا چاہتے ہیں اور انکو واقعی ہی جی ٹی روڈ والے پنجاب کا ووٹ چاہیئے تو وہ تاجر برادری، چھوٹے کاشتکار، درمیانی صنعتوں اور شہری علاقوں کے مسائل پر بات کریں۔ آسان اور سیدھے حل دیں تاکہ لوگ ان کو ووٹ دینے کے بارے سوچیں۔ ورنہ ایسے درجنوں جلسوں میں کیمروں اور لائیو آڈئینس کی توجہ کا مرکز بنے رہیں اور اسی کو اپنی سیاست کی معراج سمجھیں۔

Facebook Comments HS