روس پاک سفارتی تعلقات کی 70 ویں سالگرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(ماسکو ریڈیو اور ریڈیو صدائے روس کی سابق مترجم اور میزبان، شعبہ اردو کی سابق سربراہ)

یکم مئی کو محنت کشوں کی بین الاقوامی یکجہتی کا دن منایا جاتا ہے۔ اس روز مختلف ملکوں میں جلسے اور مظاہرے منعقدکیے جاتے ہیں لیکن روس اور پاکستان کے عوام کے لیے یہ ایک اور خاص اہمیت کا دن ہے۔ بات یہ ہے کہ ٹھیک طور پر 70 برس قبل یعنی یکم مئی سن 1948 کو ہمارے ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کیے گئے تھے۔

ان 70 برسوں کے دوران ہمارے باہمی تعلقات مختلف ادوار سے گزرے اور ماننا پڑے گا کہ کبھی کبھار وہ زیادہ خوشگوار نہیں تھے۔ افغانستان کے واقعات کا بھی دوطرفہ روابط پر ناگوار اثر پڑا تھا جن میں دونوں ملک پھنسے ہوئے تھے۔ لیکن پھر بھی سوویت یونین اور پاکستان کا کئی میدانوں میں تعاون جاری رہا۔ مثال کے طور پر کراچی میں سوویت یونین کے تعاون سے اسٹیل مل تعمیر کی گئی تھی جو پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی اداروں میں سے ایک ہے۔ گدو میں سوویت ماہرین کی مدد سے تعمیر کردہ بہت بڑا تھرمل بجلی گھر بھی قابل ذکر ہے۔ سوویت یونین نے پاکستان کو تیل اور گیس کی صنعت کی ترقی میں بھی مدد دی تھی اور پاکستان کو سوویت زرعی مشینوں کی سپلائی بھی جاری رہی۔

بین الاقوامی میدان میں تعلقات کے حوالے سے یہ بات قابل توجہ ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوتین نے شنگھائی کی تنظیم تعاون میں شامل ہونے کی پاکستان کی خواہش کی بھرپور حمایت کی تھی جو سن 2017 میں پوری ہو گئی۔ تو آج کل پاکستان اور روس بین الاقوامی میدان میں اہم پارٹنر بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان نہ صرف علاقائی سطح پر اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ اسے اسلامی دنیا میں بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔

ہمارے دونوں ملکوں کو کئی ایسے مسائل سے نمٹنا پڑتا ہے جو بڑی حد تک مشابہ ہیں، ان میں دہشت گردی کے خلاف جد و جہد خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ روس اور پاکستان کے سربراہ بنیادی اہمیت رکھنے والے علاقائی اور دوطرفہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا کرتے ہیں جس کی بدولت باہمی روابط کو مزید تقویت پہنچتی ہے۔ غرضیکہ کئی میدانوں میں باہمی تعاون فروغ پا رہا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک تجارت، معیشت اور کئی دوسرے میدانوں میں بھی باہمی تعاون خاطر خواہ سطح کو پہچا نہیں ہے۔ لیکن امید ہے کہ دونوں ملکوں کا تعاون فروغ پاتا رہے گا اور ترقی کرتا رہے گا۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، دینا امید پر قائم ہے۔

آخر میں آپ کی توجہ ایک اور بات پر مبذول کرنا چاہوں گی جو میرے خیال میں بے حد اہم ہے۔

یہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے کئی بار آپ کے خوبصورت ملک کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ہم نے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ریڈیو ”صدائے روس“ کے اردو سامعین کی کانفرنسوں کا انعقاد کیا تھا جو بہت ہی کامیاب رہ گئیں شکر اللہ کا۔ لیکن پہلی بار میں سن 1988 میں پاکستان گئی تھی جب افغان جنگ ہو رہی تھی اور ہمارے ملکوں کے تعلقات اچھے نہیں تھے۔ لیکن جس بات نے مجھے خاص طور پر اور بے حد متاثر کیا وہ پاکستانیوں کی جانب سے ہم روسیوں کے لیے بہت اچھے دلی جذبات تھے۔ اور جب ماسکو واپسی پر میرا انٹرویو کیا گیا تو اس سوال کے جواب میں کہ کس بات نے آپ کو خاص طور پر متاثر کر دیا، میں نے فوراً سیدھا جواب دیا: ہم روسیوں کی طرف پاکستانی لوگوں کے دلی دوستانہ جذبات۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آج بھی آپ لوگوں کے دلوں میں یہ جذبات برقرار ہیں جیسا کہ ہم روسی لوگ بھی پاکستانی عوام کے لیے بہت اچھے، پرتپاک جذبات رکھتے ہیں۔ اور اگر دونوں عوام کے ایسے باہمی جذبات ہیں تو دونوں ملکوں کی دوستی اور تعاون بے شک ترقی کرتے رہیں گے انشا اللہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارینا ماکسی مینکو

ارینا ماکسی مینکو روسی اردو دان، مترجم اور صحافی ہیں۔ وہ برسوں ماسکو ریڈیو، پھر صدائے روس اور بعد میں سپتنک ایجنسی کے شعبہ اردو میں کام کرتی رییں۔ اپنے کام کے دوران انہوں نے ریڈیو پروگراموں کی میزبان کی حیثیت سےبرصغیر کی بہت سی نمایاں شخصیات کے انٹرویو کیے۔ انہوں نے کئی مشہور اردو مصنفین کے افسانوں کا روسی زبان میں ترجمہ بھی کیا۔ آج کل وہ روس کے متعلق اردو زبان میں فیس بک 'جانیے روس کے بارے میں' پیج کی مدیر ہیں

irina-maximenko has 8 posts and counting.See all posts by irina-maximenko