شٹر ڈاؤن ہڑتال اور ادویات سازی کی صنعت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ لوہاری بازار ہے۔ ہر صبح یہاں دودھ دہی کی دکان کھولے کئی دکاندار گاہکوں کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن لوہاری کے میڈیکل سٹورمہینے بھر سے بند ہیں۔ وجہ پوچھنے والے بہت ہیں ۔ بتانے والے چند ایک۔ مسئلہ اصل میں یہ ہوا کہ یہاں سپورئس اور سب اسٹینڈرڈ ادویات بکنے لگی تھیں۔ پھر آئے روز چھاپے پڑنے اور رفتہ رفتہ کاروبار زندگی بند ہونے لگا۔ آخر ان سٹور مالکان نے فیصلہ کیا کہ ہم ہڑتال کرتے ہیں ۔ یوں یہ ہڑتال غیر علانیہ تو تھی مگر غیر معینہ مدت کے لیے تھی۔ ابھی تک جاری ہے۔

معاملہ لوہاری سے آگے بڑھ آیا۔ لاہور شہر میں جہاں جہاں بھی ادویات کی ہول سیل مارکیٹ تھی شٹر ڈاؤن ہونے لگی اور اب ریٹیل مارکیٹ بھی ہڑتالوں پر چل رہی ہے۔ معاملہ صرف لاہور تک رہتا تو سنبھالا بھی جا سکتا تھا۔ آج کل تو پنجاب بھر میں ایسی صورت حال چل رہی ہے۔ جہاں دیکھو ادویات بیچنے والے سٹورز بند ملیں گے۔ پھر ایک مسئلہ یہ بھی ہوا کہ ادویات بنانے والی نیشنل کمپنیاں مارکیٹ بند ہونے کی وجہ سے ادویات کو اسٹاک میں رکھے جا رہی ہیں۔ اور مزدور کے ہاتھ ہلکے کیے جا رہے ہیں۔ کیا ہے کہ مزدور کو زبردستی چھٹی دی جائے گی یا ریسٹ دی جائے گی وہ ایک دن خوش ہو گا، دو دن، تیسرے دن تو اس کے گھر بھی فاقے پڑیں گے۔ اور چیخے گا تو وہ بھی۔ بہر حال فیکٹری مالکان اور انڈسٹری والے سارا نزلہ خود تو برداشت کرنے سے رہے۔ وہ چھت کے ساتھ بعد میں لگتے ہیں، اپنے کانفرنس روم کو آسمان پر بعد میں اُٹھاتے ہیں پہلے مزدوروں کی دیہاڑی کاٹتے ہیں۔ تو کیا ہے کہ مزدور کے گھر کے فاقے نارمل سی بات ہے۔

اب ہوا یہ ہے کہ یہ ہڑتال جو درحقیقت خود سٹور مالکان اور مزدوروں کی ذات کے منافی ہے کرنی پڑ رہی ہے۔ لیکن وہ کرنے پر مجبور ہیں۔ اور منظور پشتین کی بات یاد آ گئی کہ ہڑتال کا مطلب ہے کہ بھائی ہم آپ کو اپنا وقت نہیں دیں گے، ہم کوئی کام نہیں کریں گے۔ اب مزدور کا کچومر نکالنا ہو تو سیدھی سی بات ہے اسے فاقوں پر لے آؤ۔ ویسے بھی انہیں تو فاقے کرنے کی عادت ہے۔

لیکن میرے دماغ میں مزدوروں کے ساتھ ہمدردی سے زیادہ یہ سوال گھوم رہا تھا یہ سب اسٹینڈرڈ تو سمجھ آتا ہے سپوریس کیا بلا ہے۔ کافی دیکھ پرکھ کے بعد پتہ چلا کہ سپوریس ادویات وہ ادویات ہیں جن کی لیبلینگ میں کوئی مسئلہ نکل آئے یا ٹرانسپورٹیشن میں کوئی ایشو آئے جس کے دوائی یا گولی کے اجزا پر فرق نہ پڑے۔ مثال کے طور پر پینا ڈول کے ایک پتے میں  10 گولیاں ہیں۔ ٹراسپورٹیشن میں کچھ ایسا ہوتا ہے جس سے گولی اپنی پیکنگ کے اندر ہی دو یا تین حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے ۔ لیکن دوائی کھا لینے بعد درد کا آرام آ جائے تو وہ دوائی سب اسٹینڈرد یا نیم معیاری نہیں بلکہ سپوریس ہوئیں۔ اب ہوا یہ کہ سپوریس ادویات جن کے ہاں مینیوفیکچرنگ تاریخ ٹیڑھی لگی ہے یا لیبل الٹا لگا ہوا ہے تو یہ ادویات سپوریس کہلائی جائیں گی۔ میڈیکل یا ڈرگ ریگولیرٹی اتھارٹی اسے بہر حال دوائی کہتی اور کنزیومر کے ساتھ دھوکے میں شمار نہیں کرتی رہی۔ اور ان ادویات کے استعمال کے کسی طرح کا خاص مسئلہ سامنے نہیں آیا۔اب یہ ادویات جعلی کہلائی جاتی ہیں اور ان کی سیل پر مکمل پابندی ہے۔ میرے خیال میں سپورئس کا مطلب انگریزی ڈکشنری میں نقلی یا جعلی ہے غیر معیاری اور نیم معیاری کا تو معاملہ ہی نہیں تو سپوریس ٹرم ہی بدل جانی چاہیے۔ لیکن سپورئس ادویات جن کا لیبل کا مسئلہ ہے اس کے ذمہ داران کوالٹی اشورینس منیجرز کو ڈرگ کورٹ میں بلانا چاہیے یا شو کاز نوٹسز جاری کرنے چاہئیں۔ ہمیشہ درمیانی راہ نکالتے ہیں نہ کہ نیشل ڈرگ انڈسٹری کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جائیں۔ سپورئس ادویات تو ایبٹ ، گولڈ سمتھ کلین اور دوسری ملٹی نیشنل کمپنیز کی بھی ہو سکتی ہیں۔ ان انٹرنیشنل کمپنیز کے یونٹس بھی یہیں کام کر رہے ہیں۔ تو چیک اینڈ بیلنس سبھی کا ہونا چاہیے۔

دوسرا اہم مسئلہ عطائی ڈاکٹرز کا ہے۔ ہوا یہ کہ گاؤں میں چھوٹی ڈسپنسریز ہوا کرتی تھیں۔ مجھے بھی پرانی جہلم کی پرانی ڈسپینسری سے ہی پانچ حفاظتی ٹیکے لگے تھے۔ تو وہاں کمپناؤنڈر اور ایک ڈاکٹر بیٹھتا تھا جو کھانسی اور بخار کی دوائی دیا کرتا تھا۔اب وہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔ اب وہ ڈاکٹرز جن کے پاس ڈپلومہ سرٹیفیکیٹ ہیں وہ بھی ڈاکٹرز نہیں ہیں۔ پھر حد یہ ہو گئی کہ ایک ایم بی بی ایس جسے فرسٹ ایڈ آنی چاہیے، کم از کم ٹیکہ لگانا آنا چاہیے اب وہ پیناڈول اپنے پاس سے نہیں دے سکتا چاہے انتہائی سخت کنڈیشن ہو مریض کی۔ وہ صرف پریسکرائب کر سکتا ہے اور یہ مریض کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ میڈیکل اسٹور پر جائے دوائی خریدے اور کھائے۔ یہ ایک طرح سے اچھا عمل بھی ہے۔ ڈیفینٹلی اب یہ کہنے سننے کو نہیں ملے گا کہ ڈاکٹر نے ٹیکہ لگایا تھا لڑ گیا، یا ڈاکٹر نے دوائی دی تھی جی! پتہ نہیں کونسی تھی، بی بی مر گئی۔ ان جملوں کا وجود جزوی طور پر موجود رہے گا۔

تیسرا اہم مسئلہ ٹیکنیکل ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ منیوفیکچررمارکیٹنگ منیجر اور ڈسٹریبیوٹر کو وارنٹی جاری کرتے ہیں کہ آپ ان ادویات کے ڈسٹری بیوٹر ہو مارکیٹ میں جہاں ڈیمانڈ ہے وہاں بیچو۔ بات ختم! تو مسئلہ کیا ہوا؟ کہ 2017ء کے ڈرگ ایکٹ میں ہر لائسنس یافتہ ہول سیلر کو وارنٹی ملنے پر ادویات کی فروخت کی اجازت دی گئی۔ یہ ناممکن سی بات ہے کہ آپ کے علاقے میں اگر پندرہ سو ہول سیلز آفیسر اور ریٹیلر بیٹھے ہیں تو آپ سب کے لائسنس چیک کریں اور انہیں وارنٹی جاری کریں۔ منیوفیکچرر کا کام ادویات بنانا ہے مارکیٹ میں ڈسٹریبیوشن کا کام تو ڈسٹری بیوٹر کا ہونا چاہیے اور ہے مگر اس نئی فیٹیگ سے وقت ضائع کرنے والی باتیں سامنے آئیں۔ یہ قانون بہر حال فضول ہے۔ مارکٹنگ آفیسر کا یہ کام بنتا ہے کہ وہ لائسنس اگر ویریفائی کرنے ہیں تو کرائے اور اپنا کام کرے ، منیو فیکچرر کا یہ کام نہیں۔ باقی تو ایکسپرٹس بھی بہتر اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں تا کہ ہمیں بھی معلوم ہو کہ اس قانون کے پیچھے کیا لاجک ہے؟

ان سب کرتا دھرتاؤں کے نتائج آرٹیفیشل بے روزگاری، ادویات سازی کی صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کا وجود اورمہنگی ادویات کی فراہمی نیز کسی بھی دوائی کی لانگ ٹرم عدم دستیابی جیسے مسائل ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیکل کے حالات پہلے ہی اتنے برے ہیں۔ بڑے اسپتال صرف بڑے شہر کے لوگوں کی ہی نہیں دور دراز کے گاؤں کی ضرورت پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ میرا اپنا دونوں جلے ہوئے پیروں کا علاج جہلم ہیڈ کوارٹر اسپتال اورکمبائن ملٹری اسپتال کی بجائے کسی زمانے میں گنگا رام اسپتال سے ہوا تھا۔ اب تو جلے ہوؤں کا نام نشان تک نہیں۔ لیکن کتنے ایسے مریض ہیں جو صرف انتظار کی نذر ہو جاتے ہیں۔ بڑے شہروں کے اسپتال بہر حال ناکافی ہیں۔ چھوٹے اسپتالوں کا قیام اور فیملی اسپتال اور کلینکس البتہ جگہ جگہ موجود ہیں جو بڑھتی ہوئی آبادی میں ناکافی تو دور بہت بہت کم ہیں۔ جہاں 10,000لوگوں کے لیے ایک جنرل فزیشن ہو وہاں اور کس قسم کے حالات کی توقع کی جا سکتی ہے؟بہر حال شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ ادویات مل نہیں رہیں تو ایسے میں ہونے والی اموات کا ذمہ دار کون ہے؟ کون یہ ذمہ داری لینے کو تیار ہے اور کون ایسا انسان ہے جو ایمانداری سے اور اخلاقی جرات کے ساتھ ان مسائل کی طرف توجہ دیتا ہے ؟ مجھے شیخ اختر سے اس کی ہر گز کوئی توقع نہیں نہ وہ ڈرگز کے معاملے کے حل کو لے کر سنجیدہ معلوم ہوتے ہیں۔جہاں صحت مند مکالمہ ہونا چاہیے وہاں شٹر ڈاؤن کاروبار ہے۔ امید کا صرف درخت اُگا کر پھل آنے کا انتظار کیا جا سکتا ہے اور وہ تو ہم جانے کب سے کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •