کچھ ادبی ناقدین کے بارے میں

جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ حجور والا مجھے کچھ عرصے سے لاہور میں بسنے والے ہر اس ذی روح سے الجھن ہو چلی ہے جو بنا کسی جواز کے ادب کو پرکھنے میں جُڑ گیا ہے۔ یہ تو سننے میں بہت آتا ہے کہ اردو زبان میں اچھا لکھنے والے اب نہیں رہے مگر جو لکھ رہے ہیں ان کی حوصلہ افزائی تو دور اِن کی ٹانگیں کھینچ باقاعدہ گروپ بندی کی جا رہی ہے۔ معاف کیجیے میں کسی بھی لحاظ سے ان سورماؤں پر تنقید نہیں کر رہی لیکن میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں اس مقام پر لانے والا اور کوئی نہیں بلکہ یہی باپ دادا ہیں۔

Read more

کچھ باتیں ریڈیو کی اور کچھ محبت کی

چند دن پہلے 13 فروری کو ریڈیو کا عالمی دن منایا گیا۔ ’ریڈیو شاید کسی کو یاد بھی نہ ہو‘ ایسا کہنا غلط ہے۔ ریڈیو پاکستان میڈیم ویو 630 اب بھی اپنی تاب کے ساتھ سنا جا رہا ہے۔ مجھے براڈکاسٹنگ کا تجربہ صرف ریڈیو پاکستان سے حاصل نہیں ہوا۔ میں اس سے پہلے سن رائز ایونیو کے ساتھ منسلک رہی۔ تین سال ریڈیو جہلم کے ساتھ منسلک رہنے سے مجھے مائیک کے جو اصول معلوم ہوئے شاید وہ اصول اب تک ریڈیو پاکستان کے براڈکاسٹنگ سنٹر میں نہیں بتائے گئے۔

Read more

چاند رات اور ایک تصویر جو ادھوری رہ گئی

لوگ چاند رات پر شہر بازار کی رونق بنتے ہیں اور دوسروں سے گلے ملتے ہیں۔ کچھ خصوصی خدمات سر انجام دیتے ہیں تا کہ لوگ اپنے عید فیسٹول کو اچھے سے منا سکیں۔ جیسا کہ بیوٹی پارلر میں مہندی لگاتی خوبصورت تتلیاں، اور چاند رات پر دکانوں میں بیٹھے کچھ لوگوں کے کپڑے خراب…

Read more

شٹر ڈاؤن ہڑتال اور ادویات سازی کی صنعت

یہ لوہاری بازار ہے۔ ہر صبح یہاں دودھ دہی کی دکان کھولے کئی دکاندار گاہکوں کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن لوہاری کے میڈیکل سٹورمہینے بھر سے بند ہیں۔ وجہ پوچھنے والے بہت ہیں ۔ بتانے والے چند ایک۔ مسئلہ اصل میں یہ ہوا کہ یہاں سپورئس اور سب اسٹینڈرڈ ادویات بکنے لگی تھیں۔ پھر آئے…

Read more