ناکام جلسہ کامیاب پبلسٹی!
الیکشن کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، سیاسی جماعتیں بڑھ چڑھ کر جلسے کررہی ہیں، کہیں مجھے کیوں نکالا کا شور ہے، کہیں سارے چور ہیں کا نعرہ ہے اور کہیں اپنے اوپر لگے الزامات دھوئے جارہے ہیں اور صفائیاں پیش کی جارہی ہیں، وفاداریاں بھی تبدیل ہورہی ہیں، جماعتیں بھی بدلی جارہی ہیں۔ اسی سلسلے کی کڑی پچھلے اتوار کو کراچی میں ایک جلسے کا انعقاد تھا سندھ کی حکومتی پارٹی کی جانب سے۔ کراچی میں لیاقت آباد میں فیڈرل کیپیٹل ایریا میں رینجرز ہیڈکوارٹر کے عقب میں ٹنکی گراؤنڈ، پی پی پی نے ایک جلسہ کیا۔ جلسے کی مختصر الفاظ میں تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ ”ناکام جلسہ کامیاب پبلسٹی“۔
جلسے سے ایک دن پہلے کی روداد کچھ یوں ہے کہ رنگ برنگی جھنڈیوں اور برقی قمقموں سے جگمگاتی جلسہ گاہ ایک میلے کا سماں پیش کررہی تھی، موسیقی اور نغموں کا شور، پارٹی کے جھنڈوں اور اسی رنگ کے لباس سے اپنے آپ کو سجائے مرد وزن لڑکے بالے ناچ رہے تھے گارہے تھے۔ اس جلسے کی دھوم بہت تھی، کراچی کے عوام جو کم ردِعمل دکھاتے ہیں خاموش بیٹھے کسی تازہ ہوا کے جھونکے کے منتظر تھے کیونکہ جلسے سے نوجوان لیڈر بلاول بھٹو زرداری کو خطاب کرنا تھا۔ جلسے کی تیاری میں عام لوگوں نے بھی حصہ لیا اور جلسے سے ایک دن پہلے ایک پر رونق رات گذاری، دوسرے دن اتوار تھا اور اس دن جلسہ تھا۔
بہت زور شور سے جلسہ گاہ کی فوٹیج دکھائی جارہی تھی کراچی کے عوام منتظر تھے چیئرمین بلاول کے خطاب کے لیکن دیکھنے ہم بھی گئے پر تماشہ نہ ہوا۔ جلسہ گاہ میں اتنا بڑا اسٹیج تھا کہ لاکھوں کے مجمعے سے خطاب کی تیاری ہے۔ کچھ تو موسم کی گرمی اور کچھ سیاست کی گرما گرمی عوام کی تعداد مناسب حد تک بھی نہ پہنچی، اور جو لوگ جلسہ گاہ میں آگئے تھے وہ افراتفری کا شکار رہے، تقاریر شروع ہوئیں لیکن سوائے اپنی شیخی، دوسروں کی برائی کے سوا تقریر میں کچھ نہ تھا۔ وزیر اعلی موصوف فرماتے ہیں جتنی تعداد یہاں موجود ہے اس سے بڑی تعداد اندر آنے کے لیے بے چین ہے وہ کس کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے تھے۔ بلاول کی تقریر سے مایوسی ہوئی کاش ان کی تقریر لکھنے والے ان کو یہ بھی سکھا دیتے کہ زخموں پہ مرہم کیسے رکھا جاتا ہے۔
اس وقت کراچی کے عوام بکھرے بکھرے اور ذہنی طور پر الجھے ہوئے ہیں اس وقت انھیں ایسے بیانات کی ضرورت ہے جو ان کے الجھے ذہنوں کو کوئی حل، کوئی لائحہ عمل بتائے جو ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جو پورے ملک کو پال رہا ہے ستر فیصد ریوینیو دینے والے شہر کے لوگوں کو کوئی ریلیف نہیں، کراچی کی آبادی کو مردم شماری میں کم دکھا کر جو کارنامہ انجام دیا گیا ہے اس کو درست کرنے کی بات کرتے یہ تو عام آدمی بھی جانتا ہے کہ نادرا کے ریکارڈ میں زیادہ آبادی ہے اور مردم شماری میں کم۔ اگر بلاول اس نکتے پر بات کرتے تو بلا شبہ ایک پڑھا لکھا ذہن ان کے بیانیہ کو قبول کرتا، اس کے علاوہ کراچی کے کچرے کا مستقل علاج اور صفائی کے لیے تقریر میں کچھ اقدامات کرتے کیونکہ اپنی حکومت میں کراچی کو اپنا کر، کراچی کے غریب عوام کی ہمدردی اور ووٹ حاصل کیے جاسکتے ہیں، لیکن موقع گنو ادیا۔
کراچی کو اپنانا ہے تو پیپلزپارٹی کو آنکھوں سے تعصب کی پٹی اتار کر حقی معنوں میں کراچی کی بھلائی سوچنا ہوگی، کوٹا سسٹم کا مکمل خاتمہ کیا جائے، کراچی میں پورے شہر کی بھلائی کا سوچا جائے صرف کلفٹن ڈیفینس کراچی نہیں ہیں، نیو کراچی، نارتھ کراچی، ملیر، لانڈھی، سرجانی، بلدیہ، لیاری بھی کراچی ہیں اور یہیں اصلاحات کرکے آپ ووٹ بینک حاصل کر سکتے ہیں، یہاں بجلی، پانی، گیس، ٹرانسپورٹ، صحت، تعلیم کے مسائل حل کرو اور ووٹ لو۔ چار منٹ کی تعصبی تقریر مین کراچی کی بھلائی اور تعمیر کا کوئی ذکر نہیں، اگر ہم اب بھی سانپ نکلنے کے بعد لکیر پیٹتے رہیں گے تو کراچی کا ووٹر تو پورے پاکستان کے ووٹرز سے زیادہ سمجھدار ہے اور تخت کو تختے میں بدل سکتا ہے چاہے آپ کتنے بھی حربے آزما لیں بقول شاعر
کچھ لوگ خواب بیچنے آئے ہیں شہر میں
وہ خواب جو نکل چکے اکثر خراب تر
بلاول نے اتنا اچھا موقع گنوا دیا لیکن اب بھی وقت ہے کھلے دل سے مہاجروں کو گلے لگاؤ جیسے تمھارے آباء نے کیا تھا۔ اس وقت کراچی کے سیاسی افق پر بہت دھند چھائی ہوئی ہے اور یہ صرف اس وقت چھٹے گی جب باتوں کے علاوہ کام بھی ہوگا۔ کراچی کے لیے جو جماعت سوچے گی وہ یہاں سے کامیاب ہوگی اس لیے میری نظر میں یہ ناکام جلسہ تھا جس کی پبلسٹی بہت کامیاب تھی۔


