کرکٹ کی کِٹ کِٹ اور سیاست!

وکٹ گرادی، وکٹ اڑادی، ایمپائر کی انگلی کھڑی ہوگئی اللہ جانے پاکستان کی سیاست ہے یا کرکٹ میچ، ہم تو ویسے ہی کرکٹ میچ پسند نہیں کرتے تھے اب تو سیاست سے بھی بد دل ہوگئے جب دیکھو کرکٹ کی اصطلاحیں استعمال ہورہی ہیں ارے بندہء خدا آپ ملک کے وزیر اعظم ہو، میچ کے کپتان نہیں کچھ تو بردباری دکھاؤ، پچھلے دس سال کا رونا رونے کے بجائے پچھلے آٹھ ماہ کا حساب کرو کیا کھویا کیا پایا۔

آپ کے بیان میں ذرا جو سنجیدگی کی رمق ہو، سارے وفاداروں کو تبدیل کرتے کرتے کہیں خود بھی کسی کے حق میں دستبردار نہ ہو جانا۔ ایک حد تک تو یہ مثالیں جچتی تھیں لیکن اب یہ مثالیں بالکل ہضم نہیں ہو رہیں، کیونکہ حکومت بھی آپ کی، ریاست بھی آپ کی بیانیہ بھی آپ کا تو بھیا وزیراعظم سوچ سمجھ کر چلو۔ تم نے اپنی جھولی میں وہی کھوٹے سکے بھر لیے جو پہلے ہی نہ چل سکے، اب لوگ مذاق نہ اڑائیں تو کیا کریں۔

Read more

جیسے اعمال ویسے حکمران

دہشگردوں کا کوئی مذہب نہیں، دہشتگردوں کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے وہ نہ مسلمان ہوتے ہیں، نہ عیسائی، نہ ہندو بلکہ وہ اس سکون اور پیار کی فضا کے دشمن ہوتے ہیں جہاں انسان بستے ہیں۔ پاکستان میں والے تو ایک عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں، پاکستان کا تقریباً ہر شہر ہی دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں بھی دہشت گردوں کا جہاں بس چلتا ہے اپنا ہاتھ دکھا دیتے ہیں۔ اس وقت حالیہ دہشت گردی کا بڑا واقعہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کی دو مساجد میں پیش آیا، جس میں پچاس سے زیادہ مسلمان ہلاک اور بہت بڑی تعداد میں شدید زخمی ہوئے۔

Read more

بچت اور سادگی کے نام پہ کھلواڑ!

بچت اور سادگی رویہ ہے جس کے تحت انسان زندگی کے فطری پن کو برقرار رکھتا ہے لیکن ہماری موجودہ حکومت بچت اور سادگی کے نام پہ بے جا اخراجات کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی، سادگی کا مظاہرہ تو سعودی ولیعہد کی آمد پہ دیکھ ہی چکے ہیں، ہیلی کاپٹر میں وزیراعظم ہاؤس تک سفر، کٹوں کا نیلام، گاڑیوں کا نیلام لیکن پروٹوکول حسب معمول، اسمبلی ممبران کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ، کہاں کی سادگی کہاں کی بچت۔

اب آتے ہیں موضوع پہ حکومت نے ایک نیا شوشا چھوڑا ہے، ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس برائے سادگی اور ادارہ جاتی اصلاح نے بچت اور سادگی کے سلسلے میں جب کچھ نہ بن پڑا تو قومی زبان اردو کے فروغ اور ترویج کے اداروں اردو سائنس بورڈ اور اردو لغت بورڈ کراچی کو ادارہ فروغِ قومی زبان میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا اور ان دونوں کی موجودہ شناخت ختم کرکے انھیں ادارہ فروغِ قومی زبان کا نام دیا جائے، اور ادارہ فروغ قومی زبان کو ماتحت ادارے کے بجائے خود مختار ادارہ بنا دیا جائے، موجودہ سربراہ فروغِ زبان اردو اور سربراہ اردو سائنس بورڈ کی قطعی نہیں سنی گئی جبکہ سربراہ لغت بورڈ کو اس اجلاس میں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔

Read more

ہیجڑے سے ٹرانس جینڈر تک

شادی کا گھر، لاڑکانہ شہر، موسم کچھ کچھ سرد، چھوٹے شہروں میں صبح جلدی ہوجاتی ہے، ہم بچوں کو بڑے چچا کی شادی کی خوشی الگ ہی تھی، آج ولیمہ تھا سب صبح سے ہی بیدار ہونا شروع ہوگئے تھے۔ میں غسلخانے میں لگے ہینڈ پمپ کے نیم گرم پانی سے منھ دھو کر نکلی…

Read more

معصوم ذہن کیا سوچتے ہیں؟

پچھلے دنوں دہشت گردی کے واقعات ایسے ہوئے ہیں جو ذہن سے ہٹ ہی نہیں رہے ہیں خاص طور پر ساہیوال واقعہ۔ اس پر اتنا لکھا جاچکا ہے اور پڑھا جاچکا ہے، ہر محفل کا موضوع گفتگو یہی واقعہ تھا، لیکن جس نکتہ نظر سے میں دیکھ رہی ہوں وہ اتنا خطرناک ہے کہ اس طرف کوئی سوچ بھی نہیں رہا ہے۔ جس طرح آرمی پبلک اسکول میں بچوں کی شہادت کے بعد چھوٹے بچوں کے اذہان سے اس واقعے کو محو کرنے میں مہینوں لگے تھے اسی طرح کا یہ واقعہ بھی ہے۔

کھانے کی ٹیبل پر مجھ سے حسین نے یہ سوال کیا کہ ”ان بچوں کا کیا قصور تھا ان کے امی ابا اور بہن کو کیوں مارا گیا“ ، حسین کی امی نے فوراً کہا ”یہ بڑوں کی بات ہے بچے نہیں بولتے“ ، حسین نے ٹی وی کی طرف اشارہ کرکے کہا ”یہ بچے ہی سے پوچھ رہے ہیں، کہ گولی کیسے چلی، آپ کہاں جارہے تھے، ہمارے اسکول میں سب بچوں کو پتہ ہے کیا ہوا ان بچوں کے ساتھ“ ۔ اب چونکنے کی باری میری تھی۔

Read more

انصافی وزیر اعظم انصاف چاہیے!

ماڈل ٹاؤن واقعہ ہوا سیدھی گولیاں چلتے ہزارہا لوگوں نے دیکھیں، گلوبٹ کی کارستانیاں بھی پوشیدہ نہیں رہیں، مشہور زمانہ دھرنے ناچ گانا، کھانا کسی سے چھپا نہ رہا، سپریم کورٹ کی دیواروں پر شلواریں سوکھتی بھی کسی کی نظروں سے پوشیدہ نہ رہ سکیں، پی ٹی وی پہ حملہ کی فوٹیج بھی دیکھی، حد تو یہ ہے کہ تحریک لبیک کے دھرنے مین گالیوں سے بھری تقاریر زبان زدِ خاص و عام ہوئیں اسی سیل فون کی بدولت۔ اب نہ پولیس جھوٹ بول سکتی ہے نہ عوام نہ حکومت، سب کا سچ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔

چینلز کی بہتات اور سوشل میڈیا نے عام آدمی کو بھی بہادر بنادیا ہے، ہر ہاتھ میں سیل فون ایک خبر کا ذریعہ بنا ہوا ہے، جہاں ظلم وستم ہوتے دیکھا سیل فون ویڈیوبنائی اور جناب سوشل میڈیا پہ اپ لوڈ کردی یا کسی چینل کو بھیج دی اور خبر جنگل کی آگ تو پھیلنے میں تھوڑا وقت لیتی ہے ہوا کے رخ کی محتاج ہوتی ہے لیکن چینل کی آگ چند سیکنڈ میں بریکنگ نیوز بن کر سب کے حواس پر چھا جاتی ہے۔ یہ غلط ہے یا صحیح لیکن اس سے اتنا تو ہوا پولیس کی کارکردگی کا پول سرِ عام کھل جاتا ہے، وہ کچھ اور بیان دیتے ہیں اور ویڈیوز کچھ اور مناظر دکھاتی ہیں۔

Read more

مجھے نیا نام نہ دو!

میں نیا ہوں نہ پرانا میں صرف پاکستان ہوں جناب ِ عالی، میرا تشخص بگاڑنے کا کسی کو حق نہیں، پاکستان کے حکمرانوں کو بھی نہیں، نہ پاکستان میں رہنے والوں کو۔ سیاسی نعرے بازی ایک طرف لیکن میں پاکستان ہوں صرف پاکستان، نہ نیا نہ پرانا، یہ پاکستانی اچھی طرح سے جان لیں۔ نئے…

Read more

ٹوٹی کمر کے دہشت گرد اور کراچی

ٹوٹی کمر والے دہشت گرد دوبارہ اپنے کام پر لگ گئے ہیں، کراچی میں دہشت گردی کے خاتمے کے بڑے بڑے دعوے کیے گئے، منوں ٹنوں اسلحہ کراچی کے ایک علاقے عزیز آباد سے برآمد کیا گیا اور اب بھی اسلحہ نکلتا ہی جارہا ہے ایسا لگتا ہے وہاں در و دیوار پر اسلحہ اگ رہا ہے، اتنی کارروائیوں کے بعد بھی دہشت گرد نکل آتے ہیں پچھلے دو ماہ کے اندر قائد آباد دھماکہ چینی سفارتخانے پہ حملہ، گلستان جوہر میں ایم کیو ایم پاکستان کے میلاد میں بم دھماکہ اور قیادت کو مارنے کی سازش، لیاقت آباد میں ٹارگٹ کلنگ، دو دن پہلے پی ایس پی کے دو کارکنوں کی شہادت اور اب کراچی کے ہونہار، جوان رعنا علی رضا عابدی کو دہشت گرد ماہرانہ انداز میں نشانہ بناکر ان کے گھر کے سامنے شہید کر گئے۔ یہ کس طرف جارہے ہیں حالات، کراچی کو دوبارہ سے جہنم بنانے کی تیاریاں ہیں۔ کیا کراچی کے نوجوانوں کی قسمت میں شہادت، بے روزگاری اور بے جا گرفتاریاں لکھ دی گئیں ہیں۔

Read more

اقبال، سقوطِ ڈھاکہ اور فیض!

علامہ اقبال کی شاعری بچپن سے پسند تھی۔ جب ہم اسکول میں تقریری مقابلوں میں علامہ کے اشعار کی ادائیگی زور ِ بیان سے کرتے یارب دل مسلم کو زندہ تمنا دے جو روح کو تڑپا دے جو قلب کو گرما دے جوشِ خطابت سے چہرہ تمتما اٹھتا اور واقعی ننھا سا دل اسلام کی…

Read more

ساحلی ڈھابے تجاوزات نہیں عام شہریوں کے لیے تفریح کی جگہ ہیں

کراچی شہر مصروف ترین شہر جہاں سگے بہن بھائیوں کو ملے ہوئے مہینے ہوجاتے ہیں، ایک تو فاصلے بہت، ٹریفک کے مسائل پھر مصروفیت، کہیں گھومنے پھرنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ صبح سویرے گھر سے نکلنا رات گئے گھر پہنچنا ہفتے میں چھ دن اور کہیں پانچ دن یہی روٹین ہے، ایسے میں پورے ہفتے کے بعد کسی کو ایک دن، کسی کو دو دن تفریح اور گھر کے کام نمٹانے کے ملتے ہیں، دوست احباب سے ملنے کے بھی یہی دن ہیں۔ چھٹی کے دن گھر کا ہفتہ بھر کا راشن سبزی، چھوٹے موٹے گھریلو کام کرتے کرتے شام ہوجاتی ہے، بچوں کو لے کر گھومنے نکلتے ہیں تو ساحل سمندر سے زیادہ مناسب جگہ سمجھ میں نہیں آتی، کہیں پلے لینڈ ہیں جہاں بچے کھیل لیتے ہیں، ساحل کنارے چائے کے ڈھابے ایک بہت بڑی نعمت کی صورت نظر آتے ہیں، کم خرچ بالا نشین، چائے پراٹھا لکڑی کے کیبن میں بیٹھ کر کھانا اور گھر واپس آکر لمبی تان کر سونا پھر نئے ہفتے کے کام کے لیے تیارہو جانا، یا پھر کسی تقریب یا رشتے دار کے ہاں ویک اینڈ گزارنا، بچوں کے امتحان ہوں تو یہ بھی ممکن نہیں ہوتا یہ ہے کراچی کے اوسط گھرانوں کی سادہ سی مصروف زندگی۔

Read more