بچت اور سادگی رویہ ہے جس کے تحت انسان زندگی کے فطری پن کو برقرار رکھتا ہے لیکن ہماری موجودہ حکومت بچت اور سادگی کے نام پہ بے جا اخراجات کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی، سادگی کا مظاہرہ تو سعودی ولیعہد کی آمد پہ دیکھ ہی چکے ہیں، ہیلی کاپٹر میں وزیراعظم ہاؤس تک سفر، کٹوں کا نیلام، گاڑیوں کا نیلام لیکن پروٹوکول حسب معمول، اسمبلی ممبران کی مراعات اور تنخواہوں میں اضافہ، کہاں کی سادگی کہاں کی بچت۔
اب آتے ہیں موضوع پہ حکومت نے ایک نیا شوشا چھوڑا ہے، ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس برائے سادگی اور ادارہ جاتی اصلاح نے بچت اور سادگی کے سلسلے میں جب کچھ نہ بن پڑا تو قومی زبان اردو کے فروغ اور ترویج کے اداروں اردو سائنس بورڈ اور اردو لغت بورڈ کراچی کو ادارہ فروغِ قومی زبان میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا اور ان دونوں کی موجودہ شناخت ختم کرکے انھیں ادارہ فروغِ قومی زبان کا نام دیا جائے، اور ادارہ فروغ قومی زبان کو ماتحت ادارے کے بجائے خود مختار ادارہ بنا دیا جائے، موجودہ سربراہ فروغِ زبان اردو اور سربراہ اردو سائنس بورڈ کی قطعی نہیں سنی گئی جبکہ سربراہ لغت بورڈ کو اس اجلاس میں مدعو ہی نہیں کیا گیا۔
Read more