عمران خان کے گیارہ تاریخ ساز نکات لاجواب ہیں
ساتواں نکتہ: پاکستان کو ٹورازم کا ہب بنادیں گے جس کے ذریعے بے روزگاری ختم ہوگی۔ دنیا کے بے شمار ممالک ٹورازم سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ پاکستان میں گرما گرم ریتلے ساحل بھی ہیں اور ہڈیوں میں گودا جما دینے والے سرد پہاڑ بھی۔ اگر تحریک انصاف تنگ نظری کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو گئی اور سعودی شہزادے محمد بن سلمان کے نقش قدم پر چل کر غیر ملکی سیاحوں کے لئے ایسے سیاحتی علاقے بنانے لگی جن میں دیسی قانون کا اطلاق نہ ہو تو واقعی اربوں ڈالر پاکستان میں آئیں گے۔
آٹھویں نمبر پر عمران خان زرعی ایمرجنسی نافذ کریں گے اور کسانوں کا معاشی قتل روکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملک کو شوگر مل مافیا سے نجات دلائیں گے۔ آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ خاص طور پر مسلم لیگ ن کی حکومت کسان دشمن پالیسیاں بناتی رہی ہے۔ پچھلے دنوں آلو اور پھر گنے کے کاشتکاروں کا برا حال کر دیا گیا تھا۔ ان کو لاگت بھی واپس نہیں ملی تھی منافع کہاں سے ملتا۔ تحریک انصاف کی خوش قسمتی ہے کہ اس میں شوگر انڈسٹری کا ٹائیکون جہانگیر ترین شامل ہے جو کسانوں کو شوگر مافیا کے پنجے سے بچانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
نویں نمبر پر عمران خان فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کریں گے اور جنوبی پنجاب کو انتظامی بنیادوں پر صوبہ بنائیں گے۔ حکومت میں آنے کے بعد وہ وفاق کو مضبوط کریں گے اور صوبوں کو ان کے حقوق دیں گے۔ یعنی بنیادی طور پر عمران خان صاحب اٹھارہویں آئینی ترمیم کو مزید طاقت بخشنے کے لئے ویسی مزید ترامیم لانے کی بات کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس کے بعد صوبائی حکومتوں کو ٹیکس، تعلیم اور ایسے دوسرے منصوبوں میں بہتری لانے کے لئے مرکز کی حکومت کا محتاج نہیں ہونا پڑے گا اور وہ خود سے کام کر کے ان امور کو بہتر کر سکیں گی۔
دسویں نمبر پر خان صاحب ماحولیات کو بہتر کریں گے اور ملک بھر میں دس ارب درخت لگائیں گے۔ یہ بہترین منصوبہ ہے۔ درخت جتنے بھی ہوں وہ کم ہے۔ لیکن جن ناقدین کو ایک ارب درخت دکھائی نہیں دیے ان بد نظروں کو دس ارب کہاں دکھائی دیں گے؟
گیارہویں نمبر پر عمران خان پولیس اور انصاف کا نظام درست کریں گے اور حکومت میں آ کر پولیس کو ٹھیک کر دیں گے۔ واقعی یہ وقت کی ضرورت ہے کہ پولیس کو ٹھیک کیا جائے۔ پے در پے دھرنوں اور سیاسی عدم استحکام نے خان صاحب کو مہلت نہیں دی ورنہ پختونخوا کی پولیس بھی ایک مثالی پولیس بن جاتی۔ اپوزیشن کو اس عوام دشمنی پر شرم کرنی چاہیے۔ وہ کم از کم عوامی فلاح کے کاموں میں تو عمران خان کا ہاتھ بٹا دیں۔
ہم عظیم لیڈر عمران خان کی قیادت میں نئے پاکستان کی منزل کے بہت قریب ہیں۔ یہ گیارہ نکات ملک کی تقدیر بدل ڈالیں گے۔ جس طرح پچھلے پانچ برس میں پختونخوا کا صوبہ باقی ملک سے کہیں آگے نکل گیا ہے، ویسے ہی باقی سارا ملک بھی ترقی کرے گا۔ لاہور بھی پشاور جیسا ہو جائے گا۔ سیاسی لوگ جلسے کرنے موچی دروازے یا مینار پاکستان پر نہیں جائیں گے بلکہ ان کا رخ قصہ خوانی بازار کی جانب ہو گا۔
امید ہے کہ مرکز اور چاروں صوبوں میں اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران خان ایک مثالی فلاحی ریاست کو عظیم سے عظیم تر بنانے کے لئے مزید تین نکات پیش کریں گے اور نسل در نسل ہمارے طالب علم عمران خان کے ان تاریخ ساز چودہ نکات کے اسی طرح رٹے لگایا کریں گے جیسے وہ قائد اعظم اول کے چودہ نکات کے رٹے لگاتے ہیں۔

