عمران خان کے گیارہ تاریخ ساز نکات لاجواب ہیں


جناب عمران خان نے 29 اپریل کو مینار پاکستان پر عوام کے ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر سے خطاب کرتے ہوئے ایک ولولہ انگیز خطاب میں وہ گیارہ تاریخی نکات پیش کیے ہیں جن سے پاکستان چند ہی برسوں میں ایک عظیم فلاحی مملکت بن جائے گا۔ وہ نکات کچھ یوں ہیں۔

عمران خان نے تعلیم کو پہلا نکتہ قرار دیا ہے اور انہوں نے نئے پاکستان میں یکساں تعلیمی نصاب متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک ترقی نہیں کرسکا جس نے تعلیم پر زور نہیں دیا۔ یہ بات برحق ہے۔ تمام بچے اسی وقت یکساں مقابلے میں آ سکتے ہیں جب ان کا نصاب یکساں ہو گا۔ ورنہ امیر کا بچہ ہمیشہ آگے رہے گا اور غریب کا غریب ہی رہے گا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ صوبے میں تین چار نظام تعلیم اور نصاب نہ چل رہے ہوں۔ کہیں او لیول کا کیمبرج کا نصاب پڑھایا جا رہا ہوتا ہے، کہیں سرکاری ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابیں اور کہیں درس نظامی۔

تحریک انصاف کے مخالفین یہ اعتراض کرتے ہیں کہ پانچ سال میں تحریک انصاف جب صوبے میں یکساں نصاب نہیں لا سکی تو مرکز میں آ کر کیسے صوبوں میں نصاب کا تعین کرے گی جبکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تو تعلیم ایک صوبائی معاملہ ہے اور مرکز کا کنٹرول صرف وفاقی تعلیمی اداروں اور علاقوں تک محدود ہے۔ حق بات تو یہ ہے کہ عمران خان نے مقدور بھر کوشش کی۔ مولانا سمیع الحق کے مدرسے کو 57 کروڑ بھی دیے کہ وہ ان کی مدد سے جدید تعلیم شروع کر دے۔ مگر زیادہ مدارس پر مولانا فضل الرحمان کا کنٹرول ہے اور وہ عمران خان کی حکومت کو اپنے معاملات میں دخل اندازی کرنے نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ پرائیویٹ سکولوں کا مافیا بھی بہت تگڑا ہے اور اس سے ٹکر لینا وفاقی عسکری اداروں کی بھرپور مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ مرکز میں حکومت بنانے کے بعد عمران خان یہ کر گزریں گے۔

دوسرے نمبر پر صحت کا شعبہ بہتر بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے اور غریبوں کے لئے ایسے ہسپتال بنانے کا اعلان کیا ہے جہاں غریب کو پیسے کی فکر نہیں ہو گی۔ معترضین دوبارہ یہی کہتے ہیں کہ پانچ سال میں صوبے میں یہ نظام کیوں نہیں لایا گیا؟ چار ارب سے اگر شوکت خانم کینسر ہسپتال بن سکتا ہے تو صوبائی حکومت نے ریپڈ بس منصوبے پر انچاس ارب روپے لگانے کی بجائے سرکاری شعبے میں ویسے ایک درجن ہسپتال کیوں نہیں بنائے گئے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ بس منصوبے کے لئے قرضہ مل گیا تھا اور ہسپتال کے لئے نہیں مل سکا۔ مرکز میں حکومت ملنے کے بعد ہسپتال بنانے کے لئے قرضے کا حصول آسان ہو گا اور عمران خان ایسا کر ڈالیں گے۔

تیسرے نمبر پر ٹیکس کا نظام درست کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ خان صاحب نے درست نشاندہی کی ہے کہ ملک چلانے کے لئے پیسہ نہیں ہوتا اس لئے قرضہ لینا پڑتا ہے۔ خان صاحب موجودہ حکومت کے مقابلے میں دگنا ٹیکس وصول کر کے دکھائیں گے۔ ٹیکس سسٹم ٹھیک کریں گے اور8 ہزار ارب روپے (جسے اردو میں غالباً 80 کھرب روپے کہتے ہیں) ہر سال قوم سے اکٹھے کرکے ملک کو قرضے سے نجات دلائیں۔ یہاں بھی مخالفین یہ کہتے ہیں کہ بے شمار ٹیکس صوبہ جمع کرتا ہے، تو کیا ان کی وصولی دگنی ہوئی ہے؟ ایمانداری سے دیکھا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ وصول ڈبل نہیں ہوئی ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شہری سے بھی ٹیکس وصول کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ یا تو دوسرے صوبے چلا جاتا ہے یا افغانستان جہاں صوبائی حکومت کا زور نہیں چلتا۔ مرکز میں حکومت بننے کے بعد یہ لوگ ملک بھر میں جہاں بھی چلے جائیں ان سے ٹیکس وصول کر لیا جائے گا۔

چوتھے نمبر پر کرپشن کا خاتمہ کرتے ہوئے نیب اور عدالتوں کو مضبوط کیا جائے گا۔ اپوزیشن ادھر بھی نہایت بے شرمی سے یہ پوائنٹ اٹھا رہی ہے کہ فروری 2016 میں خیبر پختونخوا احتساب کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے استعفے کے بعد سے اب تک اس پوسٹ پر تقرری کیوں نہیں کی گئی۔ جنرل حامد خان نے اس عہدے سے اس وجہ سے استعفی دیا تھا کہ احتساب کمیشن کے ہاتھ باندھ دیے گئے تھے کہ وہ ممبران اسمبلی اور سرکاری افسران کو سپیکر اور چیف سیکرٹری کی اجازت کے بغیر گرفتار نہ کرے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج کل دیانت دار آدمی چراغ لے کر بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتا ہے، تو دیکھے بھالے بغیر کیسے اس کلیدی پوسٹ پر کسی نا اہل شخص کا تقرر کر دیا جائے؟ صرف اس وجہ سے یہ پوسٹ خالی پڑی تھی کہ میرٹ پر پورا اترنے والا شخص نہیں مل رہا تھا۔

پانچویں نمبر پر ملک میں سرمایہ کاری لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاری کسی ملک کی ترقی کے لئے لازم ہے۔ مگر ہمیں خطرہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کی کامیابی سے خوفزدہ ہو کر اس وقت کی اپوزیشن جماعتیں یعنی مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی وغیرہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا پیدا کرنے میں جت جائیں گے اور کبھی دھرنے اور کبھی جلسے جلوس سے تحریک انصاف کی حکومت گرانے کی کوشش کریں گی۔ سرمایہ کار سیاسی عدم استحکام دیکھ کر دوڑ جاتا ہے۔ بہرحال ہماری دعا یہ ہے کہ خان صاحب اپنے مقصد میں کامیاب ہوں اور خدا اپوزیشن کو ہدایت دے۔

چھٹے نمبر پر نوجوانوں کو نوکریاں دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ پچاس لاکھ نئے گھر بنائے جائیں گے تاکہ غریب اپنے گھر کا مالک بن سکے۔ یہ ایک بہترین منصوبہ ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت پختونخوا میں بھی بے شمار گھر بنانے کی کوشش کی گئی تھی مگر یہاں بھی کسی نے قرضہ نہیں دیا۔ خیر مرکزی حکومت میں آنے کے بعد جب 80 کھرب روپے ٹیکس کی مد میں وصول ہوں گے تو ان میں سے دس بیس کھرب روپے کے یہ گھر بنانا مشکل نہیں ہو گا۔

مضمون کا  بقیہ حصہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar