جون ایلیا۔ ایک دانشور شاعر
جن لوگوں نے جون ایلیا کو صرف مشاعروں میں سٹیج پر غزلیں سناتے دیکھا ہے ان کے خیال میں تو جون ایلیا ایک کھوئے کھوئے، بکھرے بکھرے، الجھے الجھے، بے ترتیب اور پریشان حال شاعر ہو سکتے ہیں لیکن جن لوگوں نے ان سے تنہائی میں ملاقات کی ہے وہ جانتے ہیں کہ اس نیم ڈرامائی اور نیم دیوانی شخصیت کے پسِ پردہ ایک قد آور فلسفی بھی چھپا ہوا تھا جو زندگی، ادب، محبت، معاشیات، روحانیات اور سماجیات کے بارے میں سنجیدہ رائے رکھتا تھا۔
میری جون ایلیا سے جب بھی ملاقات ہوئی وہ مجھ سے نہایت شفقت سے پیش آئے اور مختلف موضوعات پر سنجیدگی سے تبادلہَ خیال کرتے رہے۔ بدقسمتی سے بہت سے لوگ جون ایلیا شاعر سے محظوظ ہوتے رہے لیکن ان کی جون ایلیا دانشور تک رسائی نہ ہو سکی۔
جب جون ایلیا کے دوستوں نے ان کا مجموعہِ کلام مرتب کیا تو انہوں نے جون ایلیا سے درخواست کی کہ وہ اپنے مجموعے کے لیے ایک تعارف، پیش لفط یا دیباچہ لکھیں۔ جون ایلیا مان گئے۔ جب دوست ایک ماہ کے بعد گئے تو جون ایلیا تین سو صفحات لکھ چکے تھے اور لکھنے کا سلسلہ ابھی جاری تھا۔ دوست کہنے لگے کہ وہ دیباچہ ہونے کی بجائے بذاتَ خود ایک کتاب ہے۔ آخر فیصلہ کیا گیا کہ ان تین سو صفحات کا خلاصہ تیار کر کے کتاب میں شامل کیا جائے۔ میری نگاہ میں جون ایلیا کا مجموعہِ کلام ”شاید“ درحقیقت دو کتابیں ہیں۔ وہ شاعری کا مجموعہ بھی ہے اور اس کا دیباچہ ایک فلسفے کا کتاب بھی ہے جو اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اسے نہایت سنجیدگی سے پڑھیں کیونکہ جون ایلیا کی شخصیت اور شاعری کی تفہیم کے لیے اس کا مطالعہ نہایت ضروری ہے۔
میری نگاہ سے اردو ادب کے صرف تین شاعروں کے ایسے مجموعہِ کلام گزرے ہیں جن کے دیباچوں میں زندگی اور ادب کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کی گئی تھی۔ وہ تین شاعر ن۔ م۔ راشدؔ، عارفؔ عبدالمتین اور جون ایلیا ہیں۔ جون ایلیا نے اپنے نثر پارے میں، جو فلسفیانہ شہ پارہ بھی ہے، نہ صرف ادب اور فلسفے، شاعری اور ریاضیات، نفسیات اور سماجیات، مذہب اور سیاست کے رشتوں پر روشنی ڈالی ہے بلکہ اپنی ذاتی زندگی کے بہت سے ایسے پہلوؤں کو بھی اجاگر کیا ہے جس کا حوصلہ اردو کے بہت کم ادیبوں اور شاعروں کو میسر آتا ہے۔
جون ایلیا نے اپنی کتاب کے پہلے صفحے پر ہی لکھ دیا ہے ”یہ ایک ناکام آدمی کی شاعری ہے۔ یہ کہنے میں کیا شرمانا کہ میں رائیگاں گیا“، نفسیات کے حوالے سے یہ ایک اہم سوال ہے کہ جون ایلیا کی نگاہ میں کامیابی اور ناکامی کا کیا تصور تھا۔ جون ایلیا اپنی ناکامی کے تصور کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں ”مجھے رائیگاں ہی جانا بھی چاہیے تھا۔ جس بیٹے کو اس کے انتہائی خیال پسند اور مثالیہ پرست باپ نے عملی زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ نہ سکھایا ہو بلکہ یہ تلقین کی ہو کہ علم سب سے بڑی فضیلت ہے اور کتابیں سب سے بڑی دولت تو وہ رائیگاں نہ جاتا تو اور کیا ہوتا“ ۔ اس تشریح سے یہ تو واضح ہو جاتا ہے کہ جون ایلیا کی نگاہ میں کامیابی سے مراد شاید مالی اور دنیاوی کامیابی ہے۔ جون ایلیا چونکہ اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے ایک دنیادار اور مالدار انسان ہونے کی بجائے ایک درویش منش شاعر اور دانشور ہونے کو زیادہ ترجیح دی۔ وہ شاید کہنا چاہتے تھے I WAS AN IDEALIST RATHER THAN A REALIST اور اس قبیلے میں مشرق کے نجانے کتنے سنجیدہ شاعر اور ادیب شامل ہیں جن کے شعر تو زباں زدِ خاص و عام رہے لیکن وہ خود عمر بھر نانِ شبینہ کو ترستے رہے اور قرض پر زندگی گزارتے رہے۔ غالبؔ نے اپنے ایک شعر میں اس المیے کی طرف اشارہ کیا ہے
؎ قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
جون ایلیا کو شروع سے ہی کتابوں کا شوق تھا اور ان کا خیال تھا کہ کتابوں کے اس شوق اور عشق کی وجہ سے وہ زندگی اور محبت دونوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔ وہ کہتے ہیں
؎ ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
مژدہ عشرت انجام نہیں پا سکتا
زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا
جون ایلیا کی پرورش جن خوابوں اور آدرشوں کے سائے میں ہوئی تھی ان کا انہوں نے آخری عمر تک پاس رکھا اور اپنے آفاقی اور اجتماعی خوابوں کو شرمندہِ تعبیر کرنے کے لیے ساری عمر قربانیاں دیتے رہے۔
جون ایلیا نے جوانی میں ہیوم جیسے فلسفیوں کا مطالعہ کیا جن کی تحریروں نے ان کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑے۔ لکھتے ہیں ”ہیوم کو پڑھنے کا مشورہ مجھے دلی کے مشہور کمیونسٹ اور ترقی پسند ادیب ڈاکٹر عبدالعلیم نے دیا تھا۔ میں دنیا کا تو پہلے بھی نہیں تھا۔ یہ کتاب پڑھ کر دین سے بھی گیا“۔
جون ایلیا نے اپنی تحریروں میں اس بات کی وضاحت کی ہے کہ بڑا فلاسفر بننے کے لیے بڑے سوال پوچھنا بہت اہم ہے۔ جون ایلیا اپنی جوانی میں ہی بڑے سوال پوچھنے گھر سے نکل پڑے اور اس سوالوں کی تلاش میں نہ صرف روایتی سوچ کو بلکہ خدا اور مذہب کو بھی پیچھے چھور آئے
؎ حاصل ”کن“ ہے یہ جہانِ خراب
یہی ممکن تھا اتنی عجلت میں
؎ اتنا خالی تھا اندروں میرا
کچھ دنوں تو خدا رہا مجھ میں
جون ایلیا نے اپنے اشعار میں جس صاف گوئی سے اپنے خیالات، تجربات، تصورات اور نظریات کا اظہار کیا ہے اس کے لیے جرات رندانہ کی ضرورت ہے۔ مذہبی معاشرے میں بہت سے ادیب، شاعر اور دانشور ایسے ہوتے ہیں جو خدا اور مذہب پر ایمان نہیں رکھتے لیکن اس کا برملا اظہار نہیں کرتے اور ایک منافقت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن جون ایلیا نے نہ کبھی مصلحت سے کام لیا تھا اور نہ ہی وہ عوام، خواص یا حکومت سے خوفزدہ تھے۔
جون ایلیا کی نگاہ میں مذاہب کا پرچار کرنے والے ماضی پرست ہوتے ہیں اور اپنے حال اور مستقبل کو ماضی کے فرسودہ نظاموں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ وہ سینکڑوں سال پرانے آئین کو زبردستی نافذ کرنا چاہتے ہیں
؎ گزشتہ عہد گزرنے میں ہی نہیں آتا
یہ حادثہ ہے لکھو معجزوں کے خانے میں
جو رد ہوئے تھے جہاں میں کئی صدی پہلے
وہ لوگ ہم پہ مسلط ہیں اس زمانے میں
جون ایلیا اس بات سے بھی فکرمند تھے کہ جب مذہب کے پرستاروں کے پاس دولت، طاقت اور حکومت آ جاتے ہیں تو چاروں طرف خوف و ہراس پھیل جاتا ہے
؎ یہ عہد وہ ہے کہ دانشورانِ عہد پہ بھی
منافقت کی شبیہوں کا خوف طاری ہے
نمازِ خوف کے دن ہیں کہ ان دنوں یارو
قلندروں پہ فقیہوں کا خوف طاری ہے
جون ایلیا ہم سے رخصت ہو گئے لیکن ان کے اشعار اور خواب ہمارے پاس ہیں۔ وہ خواب جو شرمندہِ تعبیر ہونے کے منتظر ہیں تا کہ اس کرہِ ارض پر جبر و استبداد، جہالت اور تعصب کی صدیوں کی فرسودہ روایات سے بالاتر ہو کر ساری انسانیت کے لیے ایک پرامن، پر امید اور پرسکون معاشرہ قائم ہو سکے۔
میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے زندگی کے چند لمحات جون ایلیا جیسے دانشور شاعر کے ساتھ گزارے ہیں۔

