ووٹ سے پہلے ووٹر کو تو عزت دو

ہم انتخابات والے دن پولنگ بوتھ میں اپنے ووٹ کی طاقت کا استعمال کرنے کی بجائے پکنک منانے یا گھر بیٹھ کر فلم دیکھنے کو ترجیح دیتے ہیں اور اگر آپ کو اختلاف ہو تو آپ اپنے ارد گرد نظر دوڑا سکتے ہیں، اس ملک نے کئی مرتبہ دیکھا کہ اس ووٹ کی طاقت سے منتخب کردہ نمائندوں کو ان کے ملازموں نے روند ڈالا اور ووٹ سے منتخب ہونیوالے نمایندوں نے بھی اس کی لاج نہ رکھی، اگر رکھی ہوتی تو یقین کیجئے اس ملک کے ووٹر کی حالت زار ایسی نہ ہوتی۔ بہرحال، بات کرتے ہیں میاں صاحب کے نعرے ”ووٹ کو عزت دو“ کی۔ میاں صاحب کا نعرہ تو بالکل مناسب ہے لیکن اس سے پہلے بھی کچھ آتا ہے اور ووٹر کا تقدس ہے۔
آپ ووٹر کا احترام نہیں کر سکتے تو آپ کبھی ووٹ کا احترام نہیں کر سکتے اور آپ کی جماعت کے لوگ کبھی ووٹر کے تقدس کی بات نہیں کر سکتے۔ معذرت کیساتھ، آپ کی جماعت میں رانا ثناءاللہ، طلال چوہدری، دانیال عزیز اور عابد شیر علی جیسے لوگ شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو جلسوں میں یا پریس کانفرنسز میں کھڑے ہو کر اس قوم کی ماؤں بیٹیوں اور بہنوں کے لئے وہ الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ جو ایک سڑک چھاپ بازاری آدمی بھی کسی شریف زادی کے بارے میں کرنے سے پہلے کم از کم دس مرتبہ سوچے۔
اب ایک نظر اس عزت پر ڈالیں جو آپ اپنے ووٹر کو اپنی کارکردگی سے دے رہے ہیں۔ آپ کا ووٹر بھوک اور افلاس کے باعث مر رہا ہے، آپ کے ووٹر کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی جان اور مال، آپ کے ووٹر کا بچہ سکول جانے کی بجائے فٹ پاتھوں پر مختلف مزدوریاں کرنے پر مجبور ہے۔ آپ کے ووٹر ہسپتالوں کی سیڑھیوں پر ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر رہا ہے۔ آپ کا ووٹر اب تک انصاف کی راہ تک رہا ہے اور یہ عزت ہے جو آپ نے اپنے ووٹر کو دی ہے ان پانچ سالوں کے دوران جبکہ دوسری طرف اسی ووٹر کے نمائندے پر تعیش زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اگر آپ واقعتاً اس ملک میں ووٹ کا تقدس بحال کرنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اپنے ووٹر کا تقدس بحال کرنا ہوگا۔ آپ کو اس ووٹر کو سسٹم میں اس کی اہمیت کا اندازہ کروانا ہوگا۔ اس ووٹر کو اس کے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ کروانا ہوگا۔ اس بات کا یقین دلوانا ہوگا کہ جو بھی ہو ہر حال میں ووٹر سپریم ہےاور اس کا ووٹ سپریم ہے۔
اس کے بعد آپ کو ”ووٹ کو عزت دو“ کا مقدمہ لڑنے کی ضرورت نہیں، اس ملک کا ووٹر اپنے حقوق کی جنگ لڑنا جانتا ہے۔

