جمہوری ثقافت میں جنسی آزادی کا کردار


The Kiss – Rodin

کچھ افراد کا موقف ہے (اور میں اس موقف سے اتفاق رکھتا ہوں) کہ جنسی تفصیلات سے لاعلمی بذات خود جنسی استحصال کا راستہ کھولتی ہے۔ یہ مفروضہ خوش فہمیوں کا بے بنیاد قلعہ ہے کہ سب انسان جبلی طور پر جنسی معاملات کو سمجھتے ہیں۔ ہر علمی موضوع کی طرح جنس بھی ایک نیم تاریک، نیم روشن اور مزید تحقیق و دریافت کے لیے کھلا منطقہ ہے۔ یہ عجیب و غریب خیال ہے کہ ڈیڑھ سو برس پہلے انسان بدن میں دل کا بنیادی منصب یعنی صاف خون کو جسم کے دوسرے حصوں تک بھیجنا تک تو ہم نہیں جانتے تھے۔ خون کے مختلف گروپوں سے آگاہ نہیں تھے۔ ہوا میں موجود آکسیجن اور خون میں موجود ہیموگلوبن کا رشتہ نہیں جانتے تھے لیکن یہ کہ جنس کے بارے میں سب حقائق انسانوں کو معلوم تھے، نیز یہ کہ وہ یہ فیصلہ بھی کر سکتے تھے کہ انہیں اور ان کی آنے والی نسلوں کو جنس کے بارے میں کیا معلوم ہونا چاہئیے اور کن معاملات سے بے خبر رہنا ہی بہتر ہے۔ یہ سوچ بذات خود علم کو ایک جامد اور مستقل مظہر کے طور پہ فرض کرتی ہے۔ یعنی ہم گلی کوچوں میں گندے پانی کے نکاس کا بندوبست تبدیل کر سکتے ہیں، دم توڑتے ہوئے انسان کو مصنوعی طور پر آکسیجن اور خون لگا کر جان بچانے کا فیصلہ کر سکتے ہیں، لیکن انسانوں کے دل و دماغ میں جنس کے بارے میں چھائی دھند پر غور و فکر کرنے سے ہماری سوچ میں گندگی در آتی ہے؟ کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم گندگی کے مفہوم ہی کو پورا نہیں سمجھتے؟

صرف چند دہائیاں پہلے تک انسان دماغی امراض کے وجود سے بھی ناآشنا تھے۔ دماغی خلل یا عوارض کو شیطان کی کارستانی قرار دیتے تھے۔ 1974 تک خود لذتی کو طب کی کتابوں میں ایک مرض کے طور پہ پیش کیا جاتا تھا۔ ان گنت زندگیاں ہم نے احساس گناہ میں مبتلا کر دیں۔ انسانی تاریخ میں عقلمند لوگوں نے کبھی جنسی امور پر غور و فکر کو غلط نہیں سمجھا۔ زیادہ دور نہ جائیے، لاکھوں اور کروڑوں برس کی تاریخ ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ صرف اڑھائی ہزار برس پہلے کا یونان دیکھ لیجیے۔ یونان کے ادب، فلسفے اور تاریخ پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ قدیم عربی شاعری پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا مفید ہو گا۔ ہندوستان کی تہذیب میں ایلورا اور اجنتا کے شاہ پاروں پر توجہ دیجیے۔ مولانا رومی کی مثنوی پڑھ لیجیے، شیخ سعدی کی تصانیف پڑھ لیجیے، افریقہ کے رقص، موسیقی اور رسم و رواج پر غور کیجیے، چین کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیے۔

کیا انسانی تاریخ کا کوئی حصہ ایسا ہے جس میں انسانوں نے جنسی تلذز میں گہری دلچسپی نہ لی ہو۔ جنسی سرگرمی کو طاقت، اختیار اور اجارے کے زاویوں سے نہ دیکھا ہو؟ کیا قدیم ترین انسانی تاریخ میں جنسی تلذذ کو طبی تحقیق کا مرکز نہیں بنایا گیا؟ کیا جائیداد کی نسل در نسل منتقلی کے عمل سے جنسی اقدار کشید نہیں کی گئیں۔ کیا جنسی لذت پر کچھ گروہوں کا اجارہ قائم نہیں کیا گیا۔ مشرق بعید کے وسیع منطقوں میں عورتوں کے پاؤں زبردستی چھوٹے کرنے کی رسم کیا جنس کی بنیاد پر غلامی کی ایک شکل نہیں تھی۔ کیا ستی کی رسم معاشی بالادستی کا شاخسانہ نہیں تھی؟ کیا انسانوں کو زبردستی جنسی خصوصیات سے محروم کرنا اور آختہ کرنا جنسی خوشی پر اجارے کی ایک صورت نہیں تھا۔ کیا افریقا کے وسیع علاقوں میں عورتوں کے جنسی اعضا زبردستی کاٹنے کی رسم جنسی خوشی کو کچھ انسانوں تک محدود کرنے کی سازش نہیں تھی۔ جنس انسانی زندگی میں ہمشہ سے موجود رہی ہے۔ عصمت فروشی جنسی لذت پر اجارے کی ایک صورت ہے۔ جموری خطوط پر تمام انسانوں کے لئے صنف اور معاشی حیثیت کی تفریق کے بغیر جنسی آزادی کا مطالبہ انسانی مساوات کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

انسانی تاریخ میں سیاسی اور معاشرتی اختیار جسمانی قوت کے اصول پر قائم رہا ہے۔ جنگ میں بھاری بھر کم ہتھیار اور زراعت میں جسمانی طاقت کی ضرورت نے عورتوں کو فیصلہ سازی سے بے دخل کیا۔ مشین کی آمد سے جسمانی قوت کا سوال ختم ہو گیا ہے۔ اب معاشی صلاحیت جسمانی قوت پر انحصار نہیں کرتی۔ اسی طرح جنسی فعل کا حمل اور جائیداد کی آئندہ نسلوں کو منتقلی کے معاملات سے گہرا تعلق رہا ہے۔ علاج معالجے کی بہتر سہولتوں کے باعث انسانی آبادی صرف 75 برس کی مدت میں دو ارب سے ساڑھے سات ارب تک جا پہنچی ہے۔ جنسی سرگرمی اور نسل انسانی کی بقا میں رشتہ غیر اہم ہو چکا ہے۔ اب جنسی فعل کا تولیدی عمل سے تعلق ناگزیر مجبوری کی بجائے انفرادی اختیار کے منطقے میں داخل ہو چکا ہے۔ جنسی فعل اور تولید میں لازم و ملزوم کا رشتہ معاشی اور معاشرتی اسباب کی بنا پر تبدیل ہو رہا ہے۔ ہمیں جنسی سرگرمی کو ایک بنیادی، لاینفک اور قابل احترام انفرادی انسانی آزادی کے طور پر تسلیم کرنا ہو گا۔

انسانی تاریخ میں مطلق العنان بادشاہت اور لامحدود جنسی تلذذ میں کیا تعلق رہا ہے؟ بادشاہ سلامت ہماری بہو بیٹیوں کی عزت کے درپے کیوں رہتے تھے؟ ہمیں کیا تکلیف تھی کہ جاگیر دار، منصب دار، سرمایہ دار اور حاکم وقت ہماری بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ بلا روک ٹوک جنسی تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں کیا مسئلہ تھا کہ ہم جنسی فعل پر اجازت نامے کی شرط عائد کرتے تھے۔ اس میں سادہ اصول یہ ہے کہ جوابدہی سے بالا اختیار کی موجودگی میں فرد کی رضامندی بے معنی تھی۔ ایسی رضامندی کے بغیر دو طرفہ خوشی ممکن نہیں۔ ایسا جنسی تعلق انسانی احترام سے متصادم ہے۔ حاکم اپنی خواہش اور جسمانی ضروریات کو دوسرے انسانوں کی ذات خواہش ضروریات اور حقوق سے ماورا سمجھتا تھا۔ یہ تقسیم ماننے میں ہماری توہین تھی۔ ہمیں جنسی تعلق کے حقیقی اور ناگزیز ہونے سے انکار نہیں تھا لیکن ہم اپنی جھونپڑی میں اپنی مرضی سے جو تعلق قائم کرتے تھے اس میں ہماری خوشی کا سامان تھا۔ اس میں دو طرفہ مساوات کا امکان تھا۔ اس میں ہم بے اختیار نہیں تھے۔ ہم کسی کی دھمکی، جبر اور دھونس کے ماتحت نہیں تھے۔ جنسی سرگرمی کو جبر، دھونس، خوف اور مجبوری سے آزاد کئے بغیر جنسی فعل میں مسرت کا امکان پیدا نہیں ہوتا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3