دو محبت کرنے والے اور چیک پوسٹ قالندیا
شارلیٹ اوراحمد کی ملاقات یروشلم کے باہر فلسطین میں ہوئی تھی جہاں احمد کا ایک بھائی فلسطینی بچوں کے لئے سرکس کا انعقاد کررہا تھا۔ یہ سرکس بیلجیئم کی حکومت کی مدد سے قائم کیا گیا تھا۔ اس سرکس کا مقصد یہ تھا کہ وہ بچے جنہیں اسرائیلی حکومت کی وحشیانہ کارروائی کی وجہ سے اپنے گھروں، خاندان اور والدین سے جدا ہونا پڑا، جو اپنے والدین کھوبیٹھے ہیں جن کا نہ گھر ہے نہ مکان اور نہ ہی خاندان، انہیں زندگی کی دوڑ میں شامل کیا جائے۔ احمد اس سرکس میں اپنے بھائی کی مدد کررہا تھا۔ اس دن بھی وہاں آئی تھی اور شو ختم ہونے کے بعد اس کی ملاقات احمد سعید سے ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں ہی وہ اسے پسند کر بیٹھی۔
احمد نے شارلیٹ کے تحقیقی کام میں اس کی معاونت کی۔ اسے اسرائیل، حیفہ، ویسٹ بینک، غزہ کے علاقے دکھائے۔ اپنے خاندان سے ملایا، اسے جمہوری اسرائیل کے اندر ایک اور اسرائیل دکھایا ۔ محبت اور دکھوں کے مارے ہوئے معصوم فلسطینی جو زندگی کے عذاب سہے جارہے ہیں اور ان کے وہ رہنما بھی جو بدعنوانی، بے ایمانی کے لحاف کو اوڑھے مسلسل طاقت کا استعمال کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جو فلسطینیوں کے نام پہ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو انہیں نہیں کرنا چاہئیے۔ وہ بنیاد پرست مسلمان جو اسرائیل سے تو آزادی چاہتے ہیں مگر اپنی عورتوں کو آزادی دینے کو تیار نہیں اور وہ عیسائی فلسطینی جن کا دکھ اتنا ہی شدید ہے جتنا کسی عربی فلسطینی کا ۔اس نے اسے فلسطین کے اندر بھی کئی اور فلسطین دکھائے۔ دوستی محبت میں بدلی اور دونوں شادی کر بیٹھے۔
احمد سعید کی وجہ سے مجھے بھی فلسطینیوں کی زندگی کے کئی پیچ و خم سمجھ میں آئے۔ اس نے مجھے بتایا کہ کس طرح سے جنگ عظیم دوم کے بعد راتوں رات ہزاروں فلسطینیوں کو اپنے گھروں اوراپنی زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔ ہٹلر کے ستائے ہوئے یہودیوں نے اپنے مقصد کے لئے سینکڑوں انسانوں، عورتوں، بچوں، بوڑھوں، جوانوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ کان یونس، سفاف، زیتون، اورنہ جانے کتنے دیہات آبادیوں سمیت یہودیوں نے تباہ کردیئے۔ اس وقت جب ہٹلر کو مرے ہوئے دس سال بھی نہیں ہوئے تھے،اس ہٹلر کو جس نے یہودیوں کو جرمنی سے نیست و نابود کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ حال ہی میں شتالی کے کیمپ میں اسرائیلی جنرل شیرون نے جو خون کی ہولی کھیلی تھی وہ کس سے چھپی ہوئی ہے۔ نازیوں سے بدتر کام کیا شیرون نے۔ یہودیوں نے اسے اپنا وزیراعظم بنا ڈالا۔
”میری سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا یہودی اندھے ہوگئے تھے جب وہ یورپ چھوڑ کر اسرائیل آئے اوران کے سامنے آہستہ آہستہ فلسطینیوں کو بے گھر کیا جا رہا تھا، ان کی عورتوں کو پامال کیا جارہا تھا، ان کے بچے ظلم و ستم کا شکار ہو رہے تھے۔ انہیں ختم کیا جا رہا تھا ایک اور نسل کا خاتمہ ایک اور زمین پر قبضہ، صیہونیت سے مجھے شکایت نہیں ہے۔ ان کا تو نظریہ ہی نسلی امتیاز پر مبنی ہے مجھے تو دنیا بھر کے ان یہودیوں سے شکایت ہے جو امن و انصاف اور آزادی کے نعرے لگاتے ہیں جن کو سمجھدار سمجھا جاتا ہے۔“ ووڈی ایلن سے لے کر اسپل برگ تک اور لیری کنگ سے لے کر ایلزبتھ ٹیلر تک ان سب کا اجتماعی ضمیر سویا ہوا ہے۔“ ایک دن باتوں باتوں میں احمد سعید نے مجھ سے کہا تھا۔
”ہاں یہ بات تو ہے مگر میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بے شمار یہودی ہیں جو اسرائیل کی صیہونی طرز عمل کو ناپسند کرتے ہیں اس کے خلاف اخبارات میں لکھتے ہیں۔ ان میں صحافی بھی ہیں، ناول نگار بھی اور سیاستدان بھی جو اسرائیل میں رہ کر صیہونیت کی مخالفت کررہے ہیں۔“ میں نے اس سے کہا کہ اسرائیلی کمیونسٹ پارٹی جس طرح سے فلسطینیوں کے حقوق کی بات کرتی ہے ویسے تو مصر اور سعودی حکومتیں بھی نہیں کرتی ہیں۔
وہ ہنس دیا تھا۔ ”تم صحیح کہہ رہے ہو، ایک محدود تعداد ہے یہودیوں کی جو صیہونیت کے خلاف ہیں جو اقبال احمد، ایڈورڈ سعید اور نوم چومسکی کی طرح بات کرتے ہیں جو رابرٹ فسک جیسے صحافیوں کی حمایت کرتے ہیں مگر ان کی تعداد کم ہے اور وہ اس یہودی لابی کے مقابلے میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں جن کا وہائٹ ہاﺅس اور ڈاﺅننگ اسٹریٹ پر اثرونفوز ہے۔ جو دنیا کی قسمت سے کھیلتے ہیں جہاں ہم لوگوں کے طرز زندگی، موت و حیات کا فیصلہ ہوتا ہے جہاں تک مصر ، کویت ، سعودی عرب، اردن اور دوسری عرب حکومتوں کا تعلق ہے وہ فلسطینیوں کے لئے کیا کریں گے یا کرسکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عوام کے حقوق کو پامال کیا ہوا ہے ان پر وہی جبر کررہے ہیں جو اسرائیلی ہم پر کرتے ہیں۔ سعودی عرب کے بارے میں اتنا ہی کہنا کافی ہے یہ کہ کعبہ کے سوداگر ہیں اور مسجد نبوی کے تاجر۔ یہ امریکہ کی گود میں بیٹھے ہوئے دوسری طرف کے اسرائیلی ہیں ان سے تو شکایت بھی نہیں کرنی چاہئیے“ اور اس کے لہجے میں نفرت عیاں تھی۔
”مگر مسئلہ فلسطینیوں کا بھی ہے۔“شارلیٹ بیچ میں بولی تھی۔ ”فلسطینیوں کی مختلف تنظیمیں ایک دوسرے سے لڑتی رہتی ہیں۔ ایک طرف مذہبی انتہا پسندی ہے تو دوسری جانب فلسطینی حکمران بدعنوانی کے گھناﺅنے کردار ہیں۔ قیمت وہ غریب فلسطینی دے رہے ہیں جن کی زندگی میں نہ چند لمحوں کی خوشی ہے نہ ہی عزت کی زندگی ہے اور نہ چین اور سکون۔“
اس کے لہجے میں بلا کی مایوسی تھی اور خوبصورت نیلی آنکھوں میں اُداسی کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ مجھے وہ اچھی لگی تھی اور میں دل ہی دل میں احمد پر رشک کر رہا تھا۔
باتوں باتوں میں سال گزر گیا۔ احمد سعید اور شارلیٹ ڈبلن میں اپنا کام ختم کر کے لندن چلے گئے ۔ کورائی ڈن کے علاقے میں ایک چھوٹے سے مکان میں رہ کر اپنے اپنے تحقیقی موضوعات پر کام نمٹانے میں لگ گئے۔
کچھ ایسا ہوا کہ چھ مہینے میں دو دفعہ مجھے بھی لندن جانا پڑا۔ ایک دفعہ تو مجھے لندن یونیورسٹی کے ایک مذاکرے میں شرکت کی دعوت دی گئی اور دوسری طرف امی جان کی علالت کی وجہ سے پاکستان جانا پڑا تو لندن سے ہوتا گیا۔ واپسی میں میں نے ایک رات ان دونوں کے پاس گزاری۔
دونوں دفعہ وہ دونوں بڑی گرمجوشی سے ملے ۔ رات کا کھانا ہم لوگوں نے ساتھ کھایا۔ میں نے انہیں پاکستانی سیاست کے لطیفے سنائے اورپاکستانی عوام کی جہالت کا رونا رویا اورپاکستانی حکمرانوں کی تنگ نظری، بدعنوانی اور غنڈہ گردی کی داستانیں سنائیں انہوں نے مجھے اسرائیل کی دہشت گردی کے ایسے واقعات سنائے کہ مجھے یقین نہیں آیا کہ آج کے زمانے میں بھی کوئی ریاست اپنے نہتے شہریوں کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے۔ یہ بہت دنوں بعد سمجھ سکا تھا کہ مذہبی جنونی اور ریاستیں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔
مجھے اندازہ ہوگیا کہ اسرائیل کچھ بھی کرسکتا ہے۔ فلسطینیوں کی زندگی میں محرومیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ دونوں میرے ساتھ ایئرپورٹ تک آئے جہاں سے میں ڈبلن واپس آگیا تھا۔
پھر واقعات بڑی تیزی سے ہوئے۔ ایک دن شارلیٹ کا فون آیا کہ اسرائیلیوں نے احمد سعید کو اغوا کرلیا ہے۔
باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے




