نیا نعرہ پرانی باتیں
“ ووٹ کو عزت دو ” یہ نعرہ بہت تیزی سے مقبول ہوا اور ہر سیاست دان کے منھ پر چڑھ گیا، اس کے مقابلے میں ”ووٹر کو عزت دو“ کا نعرہ بلند ہوا، کیا کہنے اس ملک کے لیڈران گرامی کے اپنی مرضی سے ہر بات کرتے ہیں اور اپنے مفاد میں ہر چیز کا جواز ڈھونڈ لیتے ہیں۔
پہلے تو ہمیں یہ سمجھنا ہوگا ووٹ کیا ہے؟ جی ہاں ووٹ وہ حق رائے دہی ہے جو ہر شہری اپنی مرضی سے اپنی پسند کے امیدوار کو دے کر منتخب کرتا ہے، اس کے لیے ہر شہری مین اتنی سمجھ، شعور اور ذمہ داری کا موجود ہونا ضروری ہےجو فی الوقت ناپید ہے۔ ہمارے ملک میں ووٹ دینے کا سادہ سا طریقہ ہے، کس برادری سے تعلق ہے، کس وڈیرے کے ہاری ہیں، کس زمیندار کے کمی ہیں، کس علاقے کے رہنے والے ہیں، اس کے اشارے پہ ہی ووٹ دیتے ہیں چاہے امیدوار اس کا اہل ہے یا نہیں، غریب عوام ذات برادری، محلے داری، سیاسی دباؤ یا کسی احسان کے بوجھ تلے دب کر اسی امیدوار کو ووٹ دیں گے جسے پسند بھی نہیں کرتے تو ووٹ کی عزت تو گئی تیل لینے، ووٹ کی عزت تو اس میں ہے کہ آپ آزادی سے اپنی مرضی کے امید وار کو ووٹ دیں۔ سیاسی جماعتیں اسی لیے وجود میں آئیں کہ آپ اپنی پسند کی جماعت میں شمولیت اختیار کر کے اپنی مرضی کے پارٹی امیدوار کو ووٹ دین لیکن یہاں بھی دھونس دھمکی اور پارٹی کے احسانات تلے دبے کارکن اپنا ووٹ استعمال کرتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کا ایک سا ایجنڈا ایک سی تقریریں ایک ہی طرح کے بیانات، الیکش کے قریب اتحاد بنالینا، مخالفین سے گٹھ جوڑ، ووٹر بھی ووٹ اسی کو دے گا بنا سوچے سمجھے جو اسے دماغ میں بٹھا دیا گیا ہے کہ اس نشان پر ٹھپہ لگاناہے، الیکشن والے دن بھی یہی چیز کار فرما نظر آتی ہے، ووٹر پہ اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ وہ اس نشان پہ ٹھپہ لگاتا ہے
اپنی عقل استعمال نہیں کرتا۔ یہ ہے ووٹ کی عزت جس جماعت نے ذرا سی مالی مدد کی ووٹ اس کا، جس جماعت نے ایک وقت پیٹ بھر کر بریانی کھلادی ووٹ اس کا، ووٹ کی عزت تو بریانی کی ایک پلیٹ پہ لٹ گئی، عزت کہاں سے دیں گے۔ موصوف تین دفعہ وزیراعظم بننے کے بعد، نا اہلی کا تمغہ سجائے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لے کر آگئے، جب اقتدار میں تھے اس وقت کچھ نہ سوچا، اسمبلی کے اجلاس میں حاضر ہونا مشکل کام تھا غیر ملکی دورے آسان، اسمبلی میں کس نے بل پیش کیا کیسے منظور ہوا، اکثریتی جماعت ہے تو سب جائز اب مشکل وقت پڑا تو ووٹ اور ووٹر کی عزت کا خیال دل میں جاگا، بلکہ دوہزار اٹھارہ کے الیکشن کا نعرہ بنانے کا سوچ لیا کہ ووٹ کو عزت دو۔
جن کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آتے ہین ان کی عزت تو چھوڑو بھوک کا بھی خیال نہیں، جیتنے کے بعد اس گلی محلے کا رخ نہیں کرتے اپنا بنک بیلنس بڑھانے میں لگ جاتے ہیں، جبکہ الیکشن کے قریب سڑکوں کی استر کاری ہونے لگتی ہے، زبان میٹھی ہو جاتی ہے، غریب کے گھر بوریے پر بیٹھنے کو تیار ہوجاتے ہیں، کیچڑ بھرے ناسلے سے گزر کر گھر گھر جاتے ہیں ووٹ جو لینا ہے، ان غریبوں کے ہاں ہی تو اصل تعداد ہوتی ہے امیروں کے گھروں میں تو تین چار افراد ہوتے ہیں اور وہ بھی الیکشن کادن سو کر گزار دیتے ہیں جبکہ غریب کو مختلف قسم کے لالچ دے کر ووٹ ڈلوایا جاتا ہے اور جیتنے کے بعدبھول ہی جاتے ہیں کہ کن کے ووٹوں سے اسمبلی میں بیٹھے ہیں، سارا سیشن تنخواہ وصول کرتے ہیں، بیرون ملک کے دورے، تمام سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں اس وقت ذرا دھیان نہیں جاتا کہ عوام کے لیے کام کریں، تھوڑا بہت دکھاوا کرکے دوبارہ وہی سرکس دہرایا جاتا ہے، یہ ہے ہمارے ملک کا الیکشن اور یہ ہیں ہمارے سیاست دان، اس میں ووٹ اور ووٹر کی عزت کا سوال کہاں پیدا ہو گیا۔
اگر ہمارے سیاستدان ذمہ داری سے کام کریں اور تمام وعدے پورے کریں تو ملک کے دوسرے بڑے اداروں کو کیا ضرورت پڑی کہ ان کے کام میں مداخلت کریں۔ یہ لوگ کرپشن کا بازار گرم کرکے چاہتے ہیں کہ کوئی پوچھنے والا نہ ہو اور جب پوچھ گچھ ہو تو ووٹ کی ع
عزت کا خیال آتا ہے، کیوں نہیں پہلے ہی قبلہ درست رکھتے ہیں جب قبلہ درست کروایا جاتا ہے تو چیخیں نکلتی ہیں۔
اب ملک میں دوبارہ الیکشن کا بازار گرم ہونے جارہا ہے، مروجہ دھاندلی کو روکنے کے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے، دنیا بھر میں الیکشن کے سلسلے میں مختلف اصلاحات ہوچکیں ہیں ہمارے ملک میں وہی پرانا طریقہ کار ہے، وہی موروثی سیاست، وہی لوٹ مار پھر کہاں سے ووٹ کی عزت کا سوال پیدا ہوگا۔ ووٹ کو عزت اس وقت ہی دی جاسکتی جب ووٹ بنا کسی دباؤ بنا کسی زور زبردستی کے مستحق امیدوار کو دیا جائے۔ اس لیے خیال خام چھوڑیئے کچھ تعمیر ِ دروبام کا سوچیے ورنہ وقت بڑی ظالم چیز ہے اوقات دکھا دیتا ہے


