سانس کی بلند دستاری اور کاسہ سر کی ننگی ہڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کنگ ایڈورڈ اناٹومی ہال میں جہاں شعبہ طب سال اور و دوم کے طلبہ حصول علم الابدان و جراحی بذریعہ نشتر کرتے ہیں وہاں سبجیکٹ انسان ہوتا ہے بلکہ انسانی جسم حنوط شدہ اصلی انسانی ابدان جو زندگی کی رمق سے محروم ہوتے ہیں اور جن کے جسم کی رگوں میں ڈورنے والا خون فارملین سے تبدیل کر دیا جاتا ہے تاکہ جسم گلنے سڑنے سے محفوظ رہے اور نرم و تازہ رہے اسی صورت طالب علموں کے ننھے منھے نشتر ان نعشوں کے مختلف حصوں کی آرٹسٹک انداز میں تہیں الگ کریں گے۔ ایک ایک رگ پٹھے کی تفصیل سے آغاز سے منزل تک تلاش کریں گے ہر پٹھے کا جوڑ یا ہر جوڑ کا پٹھا تلاش کرتے کرتے کبھی چہرہ کے نقش و نگار سے مانوس ہو جاتے ہیں تو کبھی کوئی جسمانی شناختی علامت اس نعش کی پہچان بن جاتی ہے۔ یہ سب لاوارث نعشیں ہوتی ہیں جن کی چیر پھاڑ کے بعد تمام جسمانی گوشت تیزاب میں گھلا دیا جاتا ہے اور سفید صاف ستھری چمکتی دمکتی ہڈیاں میڈیکل اسٹوڈنٹس اپنے گھر یا ہاسٹل لے جاتے ہیں۔ انسانی جسم کی 206 ہڈیوں میں سے ہر ہڈی کی بناوٹ اور اس پر موجود نشانات، گرووز اور سوراخوں سے اس کی الگ الگ پہچان کی جاتی ہے۔ شریر طلبہ، کمزور دل طلبہ کو یا اپنے گھر والوں کو یہی معصوم ہڈیاں دکھا دکھا کر ڈراتے بھی ہیں۔

ہماری ایک استاد پروفیسر تقیہ ہوا کرتی تھیں وہ ریٹائرڈ پروفیسر تھیں اور انہیں ان کی گراں بہا خدمات کے عوض تاحیات اناٹومی کی پروفیسر شپ حاصل تھی۔ وہ غیر شادی شدہ تھیں اور ان کی وصیت کی وجہ سے وہ پراسرار سی شہرت کی مالک تھیں ان کی وصیت تھی کہ میری وفات کے بعد میری باڈی ڈائسیکشن ہال کو عطیہ کر دی جائے وہ سب کچھ جو ہم روز اپنے سامنے دیکھتے تھے، پھر بھی اس سب کو جانتے بوجھتے وہ انجام خود اپنے لیے پسند کرنے کی ہمت کرنا جگر والوں کا کام ہے یا سنکی ذہنوں کا ۔

کبھی کبھار کوئی ڈائسیکشن، آرٹ کا بہترین نمونہ ٹھہرتی ہے اور اسے شیشے سے بنے بڑے سے خوبصورت مرتبان میں شفاف فارملین میں ڈالکر آنے والے طلبہ کی نئی پود کے لیے محفوظ کر لیا جاتا ہے ڈائسیکشن کرنے والے طالب علم کا نام اس جار پر ٹیگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ بہت باعث شرف مانا جاتا ہے۔ اناٹومی ہال میں ایک نعش، ایک جوان توانا مرد کی بھی لائی گئی وہ کسی ایکسیڈنٹ میں جاں کی بازی ہارا تھا لیکن جسم پر ضرب کا کوئی نشان نہ تھا۔ بس یوں لگتا تھا سفید چادر اوڑھے کوئی بارعب انسان پرسکون نیند سو رہا ہو۔ اس باڈی کے ارد گرد رش زیادہ رہتا کہ غیر معمولی طور پر اس کا جسم نرم تھا اور بالکل بھی بو کا احساس نہ ہوتا سوائے فارملین کی بو کے جس کا عادی ہر میڈیکل سٹودنٹ آغاز سے ہی ہو جاتا ہے اس لیے مچھیرے کی بہو کی مانند اناٹومی ہال کی بو بھی چند روز میں مر چکتی ہے۔ جب ڈائی سیکشن کرتے کرتے نعش کی کمر کی باری ائی تو یکایک نعش سے خون رسنے لگا ملی جلی نسوانی چیخوں سے سب اس طرف متوجہ ہوئے۔ نعش جو قریب تین ہفتے پرانی تھی اس سے تازہ خون رسنا ایک حیران کن واقعہ تھا بہرحال اس روز ڈائسیکشن ہال میں یہ خبر گردش کرنے لگی کہ ہو نہ ہو یہ جوان نعش اللہ کے کسی نیک بندے، کسی شہید کی ہے۔ اس روز کے بعد سے اس نعش کے احترام اور رعب میں اضافہ ہو گیا اور ڈائی سیکشن کے بعد اس نعش کی باقاعدہ تدفین کی گئی۔ ایک ہم جماعت جو اسی نعش کی ڈائسیکسن پر مامور تھی وہ تو علی الاعلان کہا کرتی کہ آئی لو مائی کےڈیور (Cadaver نعش)۔

ایک اور باڈی ایک دبلے پتلے سانولے مرد کی بھی تھی جس نے اپنے بائیں بازو پر نیلاہٹ مائل سیاہ روشنائی سے اپنا نام اردو مین لکھوایا ہوا تھا غالبا نور الہی اس کے جسم پر چربی نہ ہونے کے برابر تھی اور ہر رگ پٹھا بالکل تندرست حالت میں الگ الگ واضح تھا غالبا جسمانی طاقت کا کام کرنے والے کسی مزدور کی نعش تھی ہمارے ایک ہم جماعت نے اس باڈی پر اتنی باریک بینی سے ڈائسیکسن کی کہ اس کی ہر نس ہر رگ واضح نظر اتی تھی خصوصا اس کا بایاں بازو ہمارا وہ ہم جماعت اس بازو کی حفاظت اپنے کسی قیمتی اثاثے کی طرح کرتا اور ڈائی سیکشن کے بعد اسے فارملین سے بھیگی روئی میں بحفاظت لپیٹ کر جاتا۔ کسی ماہر فنکار کی سی چابکدستی اور باریکی سے اس بازو کی ڈائسیکشن مکمل ہوئی اور وہ بازو اپنے کھدے ہوئے نام کے ساتھ اناٹومی ڈائسیکشن ہال کے میوزیم میں رکھے تاریخی مرتبانوں میں سے ایک میں جا ٹھہرا اس کی کلائی میں سنہرے ست رنگے ربن کے ساتھ واٹر پروف پیکنگ میں ڈایسیکسن آرٹسٹ میرے ہم جماعت کا نام جگمگا رہا تھا۔ تمام ہم جماعت رشک اور فخر سے اسے دیکھتے تھے یہ رتبہء بلند ملا جس کو، مل گیا۔

مجھے تب بھی سوچنے اور الجھنے کی بیماری تھی۔ آج تک میری یہ خلش دور نہیں ہوئی کہ اتنی واضح شناختی علامت کے باوجود وہ نعش لاوارث کیوں رہی؟ کیا وہ اس دنیا میں تنہا تھا یا اتنا غریب تھا کہ اس کی تدفین کے خرچے کے ڈر سے اس کے وارث بھی اس کی شناخت سے منکر ہو گئے۔ کس کا انجام کب، کہاں ،کیسے ہونا ہے، کسی کو علم نہیں۔ اللہ کریم باعزت زندگی اور باعزت موت سے نوازے اور روز حساب عزو شرف کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت میں جنت کا مکین بننا نصیب کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •