عقیدت کی فائر وال


کہتے ہیں کہ انسان خطا کا پتلا ہے، یعنی ہر انسان غلطی کرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو۔ہم اپنے مخصوص تحفظات کی بنا پر جس شخص سے عقیدت رکھتے ہیں یا جس کی عظمت کے قائل ہیں، اگر وہ بھی انسان ہیں تو اس قانون سے مبرا نہیں ہوسکتے، وہ بھی غلطیاں کرسکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر شعبہ حیات میں ‘عظمت’ کو ‘تقدس’ کا نعم البدل قرار دے دیا گیا۔ سیاست، مذہب حتیٰ کہ ادب میں بھی عظمت کے ہاتھی دانت کے مینار پر بیٹھی شخصیتوں کی غلطیوں کو بھی قابل نفاذ قوانین کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ تقدس نما اس عظمت کا دائرہ اتنا وسیع کردیا ہے کہ ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ ان شخصیتوں سے جن سے ہم عقیدت رکھتے ہیں، غلطیاں سرزد ہوسکتی ہیں اور کبھی کبھی یہ غلطیاں خطرناک بھی ہوسکتی ہیں لیکن ہم بجائے اس کا محاسبہ کرنے کے یا تو ان غلطیوں کا تاویلات سے دفاع کرنا شروع کردیتے ہیں یا پھر آنکھیں بند کرکے اندھوں کی طرح اتباع کرنا شروع کردیتے ہیں۔ دراصل عقیدت ایک ایسی "فائر وال” ہے جو ان پر تنقید تک کو ممنوع بنا دیتی ہے جس سے معاملہ مزید سنگین ہوجاتا ہے۔

کسی شخص کے عظیم کہلانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ تمام بشری کمزوریوں سے آزاد ہوگیا اور نہ ہی ان غلطیوں پر تنقید کرنے کا لازمی مطلب اس کی توہین یا اہانت ہے۔ جو قومیں اپنے عظیم لوگوں کے کارناموں اور ان کی غلطیوں کے درمیان تفریق نہیں کرتیں وہ ان غلطیوں کو آہستہ آہستہ اپنے اندر سموتی چلی جاتی ہیں جس کا نتیجہ ان معاشروں کے انتشار کی صورت میں نکلتا ہے اور پھر اتنی دیر ہوجاتی ہے کہ ان غلطیوں سے جان چھڑانا اگر نا ممکن نہیں تو مشکل تر ضرور ہوجاتا ہے، ایسی قوم کی حالت نا گفتہ بہ ہوجاتی ہے اور وہ ہر میدان میں پیچھے رہ جاتی ہے کیونکہ یہ ایک سیدھا سا اصول ہے کہ اگر بنیاد ٹیڑھی ہو تو عمارت سیدھی کھڑی نہیں کی جاسکتی اور اگر کوئی ‘حیلہ ‘ کر بھی لیا جائے تو بھی وہ زیادہ دیر ٹکنے نہیں پاتی اور جلد ہی ڈھیر ہوجاتی ہے۔

انسان کی سیرتِ حیات ہی فیصلہ کرتی ہے کہ وہ عظمت و احترام کا حقدار ہے یا نہیں، لیکن اب ہو یہ رہا ہے کہ عظمت نہ صرف ایک مسلمہ حیثیت اختیار کر چکی ہے بلکہ ایک ایسا نقطہ آغاز اور معیار بن چکی ہے جس کی بنیاد پر ہم کسی انسان کے بارے میں منقول میراث کو قبول یا رد کرتے ہیں۔ حالاں کہ یہ میراث ہی وہ معیار ہونا چاہیےتھی جس کی بنیاد پر ہم ایسے لوگوں کو عظیم و محترم گردانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم اس میراث کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ اس عظمت کے عین مطابق ہوجائے جو ہم نے پہلے ہی اسے دے رکھی ہے۔ اس کے برخلاف ضروری یہ تھا کہ ہم اس میراث پر تحقیق کرتے پھر عظمت کا فیصلہ کرتے۔ یاد رہے کہ میراث پر تحقیق اس سے استفادہ حاصل کرنے اور اس کی غلطیوں سے بچنے کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ اس میں عظمت و تقدس تلاش کرنے کے لیے۔ میراث کو پہلے سے تخلیق کردہ عظمت و تقدس کے مطابق تبدیل کرنے کا عمل عقل کے فقدان کی جانب پہلا قدم ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھے گا کم نہیں ہوگا، جس کے مظاہر ہم آج زندگی کے ہر شعبے میں آج بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ عظمت و تقدس کا وہ ابوالہول جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے تخلیق کیا، آج ہم اس کی قیمت اپنی عقل، نسل اور معاشرے میں چکا رہے ہیں اور قریب قریب ہمارے جاگنے کی کوئی امید نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

اشعر نجمی، ممبئی، ہندوستان

اشعر نجمی ممبئی کے سہ ماہی جریدے ”اثبات“ کے مدیر ہیں۔

ashar-najmi has 4 posts and counting.See all posts by ashar-najmi