امریکیو یہ بھی تو دہشت گردی ہے


دہشت گردی انتہا پسندی یہ سب کیا ہے، معصوم جانیں اس کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی اور ہم اپنے بچوں کے پھول سے لاشے یونہی اٹھاتے رہیں گے۔ اس قسم کا واقعہ اگر پاکستان میں ہوا ہوتا تو آج ساری دنیا کی انگلیاں ہم پر اٹھ رہی ہوتیں اور سر جھکائے لعن طعن سن رہے ہوتے، شرمندہ شرمندہ سے سوچ رہے ہوتے کہ ہمارا ملک بہت خراب حالات کا شکار ہے اور اس وقت سونے پہ سہاگہ ہوتا اگر اس دہشت گردی میں کوئی غیر ملکی مارا جاتا تب تو ساری دنیا کو صفائیاں دے دے کر تھک جاتے پھر بھی دہشت گرد ملک، دہشت گرد قوم کہلاتے۔

اس وقت ساری دنیا کے ان داتا ریاست ہائے متحدہ امریکہ جس کے اشارے پر دنیا کا ہر اچھا برا کام ہورہا ہے، اسی امریکہ میں سال بھر کے عرصے میں اسکولوں میں دہشت گردی کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ ہم خبر سنتے ہیں اور افسوس کر کے چپ ہوجاتے ہیں لیکن گذشتہ دن ہونے والے واقعے میں ہمارے ملک کی ہونہار اور ذہین طالبہ سبیکا شیخ کی زندگی کا چراغ گل ہوگیا، یہ ذہین بچی اسٹوڈنٹ ایکسچینج پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کرنے امریکہ کی ریاست ٹیکساس پچھلے سال ہی گئی تھی۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن کے نزدیک ہائی اسکول میں اسی اسکول کے طالب علم کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے دس طلبہ میں کراچی کی سبیکا شیخ بھی شامل تھی۔ جو گزشتہ سال اکیس اگست کو کینڈی لوگر یوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی پروگرام کے تحت امریکا گئی تھی۔ اس پروگرام کے لیے چھ ہزار طلبہ میں سے 75 کو منتخب کیا گیا تھا، سبیکا ان میں شامل تھی۔ وہ بہت ذہین اور ہونہار طالبہ تھی اور ہمیشہ پہلی یا دوسری پوزیشن لاتی تھی، کراچی میں اس کے ماں باپ کو اب تک یقین نہیں آرہا کہ ان کی ذہین بیٹی اس دنیا میں نہیں رہی۔ اسے 9 جون کو واپس آنا تھا لیکن اب پاکستانی پرچم میں لپٹا اس کا تابوت پاکستان آئے گا۔

کیا امریکہ میں ان واقعات کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے، کیا اس طرح کے واقعات کا سد باب کیا جانا ضروری نہیں، امریکہ میں اسلحہ کے آزادانہ استعمال پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ جبکہ امریکہ سپر پاور ہے اور ساری پہ اس کا سکہ چلتا ہے۔ اپنے ملک میں تواتر سے ہونے والے ان واقعات کی روک تھام کے لیے کچھ کیوں نہیں کیا جارہا، کھلے عام اسلحہ کی خریداری بند کی جائے۔ شخصی آزادی ضروری ہے لیکن وہ آزادی جو دوسروں کی جان لے لے اسے روکنا ضروری ہے، اس کے لیے امریکی حکومت کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ اسلحہ کے آزادانہ استعمال نے کتنی معصوم جانیں لی ہیں، اپنے معاشرے میں نفسیاتی مسائل کا حل ڈھونڈنا ہوگا، اس بات پر سوچنا ہوگا کہ اس قسم کے واقعات اسکولوں میں ہی کیوں ہو رہے ہیں۔ معاشرہ مغرب کا ہو یا مشرق کا اس میں بگاڑ سے ہی نفسیاتی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ امریکہ کو اس کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے متاثرہ خاندان سے تعزیت کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے ہلاک ہونے والی پاکستانی طالبہ کے اہل خانہ سے تعزیت کی انھوں نے اپنے جاری کردہ بیان مین کہا، ” میں سینٹانے ہائی اسکول میں رونما ہونے والے سانحے میں ہلاک ہونے والی سبیکا شیخ کے اہل خانہ اور دوستوں سے تعزیت کرتا ہوں“، امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ”اس کم عمر طالبہ کی ناگہانی موت کا سوگ پاکستان اور امریکہ میں منایا جائے گا“۔

ظاہر ہے موت پر سوگ اور تعزیت ہی کی جاتی ہے لیکن جن حالات میں یہ اموات ہوئیں ان سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ بھی دہشت گردی کہلائے گی۔ اس دہشت گردی کا خاتمہ بھی ضروری ہے تاکہ ساری دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکے۔
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھا، بہت لا دوا نہ تھے

Facebook Comments HS