دنیا کا سب سے کم سِن قاتل


کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد بس آخرکار جیل پہنچ گئی۔ قیدیوں کو کسی نہ کسی طرح یہ خبر ہوگیئی تھی کہ دنیا کے سب سے کم سِن قاتل کو اس جیل میں لایا جارہا ہے لہذا سارے قیدیوں نے جیلر صاحب سے درخواست کرکے اس قاتل کو ایک بار دیکھنے کی اجازت لے لی تھی اور اب قطاریں بنا کر جیل کے احاطے میں کھڑے تھے۔ پولیس کے جوانوں نے چاروں طرف پوزیشنیں لے رکھی تھیں۔ جیسے ہی بس آکر رُکی کوئی دو درجن کے مسلح دستے نے فوراً اسے گھیرا ڈال لیا۔

ایک پولیس افسر ننھنے قاتل کو ہاتھوں میں اُٹھاےٴ بس سے نیچے اُترا اور آہستہ آہستہ بہت ہی خطرناک قیدیوں کیلیے بنائی گی کال کوٹھڑی کی طرف بڑھنے لگا۔ جیل کے اندر ایک شوروغوغا مچا ہوا تھا آنے والے مجرم کو لے کر، مگر وہ اس وقت بڑے اطمینان سے پولیس افسر کے ہاتھوں میں سو رہا تھا۔ قیدیوں کا جوش وخروش دیکھ کر پولیس افسر کچھ دیر کے لیے کھلی جگہ پر کھڑا ہوگیا تاکہ قیدی اچھی طرح سے اس کا نظارہ کر لیں۔ تھوڑی دیر مجمع پورے زور وشور سے چلاتا رہا مگر پھ رسب قیدیوں کو چپ سی لگ گیئی۔ بیچ بیچ میں ہلکی ہلکی سی سرگوشیوں کی آواز آتی اور پھر جیسے سرگوشی کرنے والا اپنی ہی آواز سے خوفزدہ ہوگیا ہو، فوراً چپ کر جاتا، پھر کسی دوسرے کونے سے سرگوشی سنائی دیتی اور ابھی مجمے والے ادھر کو منہ موڑ ہی رہے ہوتے کہ بولنے والے کی آواز غایب ہوجاتی جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ پولیس افسر بھی کچھ دیر اسے لے کر وہاں کھڑا رہا اور پھر جیسے سرگوشیاں سننے میں ناکام ہوگیا ہو اسے لے کر کوٹھڑی میں چلا گیا۔ جہاں ایک چھوٹا سا گدا پڑا تھا جس پر اُسے لٹا کر اور دودھ کی بوتل ساتھ رکھ کے باہر آگیا۔ ایک مستعد سپاہی نے فوراً سلاخوں والے دروازے کو تالا لگا دیا اور بندوق تان کر سامنے کھڑا ہوگیا۔

مُنا شام کو سو کر اُٹھا تو اندھیرے میں پہلے تو زور زور سے رونا شروع کردیا مگر پھر کسی خیال سے چپ سادھ لی۔ پھر آہستہ آہستہ گِھسٹ گِھسٹ کر اپنے گدے سے نیچے اُترا اور چوپاےٴ کی طرح چلتا ہوا داییں طرف کے کونے میں پہنچا اور وہاں زمین پر ہاتھوں کو رگڑنے لگا۔ کافی دیر تک کونے میں اِدھر سے اُدھر گھومتا رہا جیسے کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر زمین کو ناک لگا کر سونگھنا شروع کردیا۔ ایسے میں کتنی ہی بار گِرا اور چوٹیں لگیں مگر تھوڑی دیر بعد پھر سے پہلے کر طرح مصروف ہوجاتا۔ کتنے ہی گھنٹے گزر گیے۔ کبھی غصے میں عجیب سی آوازیں نکالتا اور کبھی زور زور سے نیچے ہاتھ پاوٴں مارتا، تقریباً آدھی رات کا وقت ہوگا جب ایک جگہ پہ رک گیا اور "ماں ماں” کرکے زمین پہ نرم نرم ہاتھ پھیرنے لگا اور کسی چیز کو سونگھنے لگا۔ پھر زمین کو چاٹنے لگا جیسے بھوکے بچے نیچے گرنے والے دودھ کو چاٹتے ہیں۔ جب کال کوٹھڑی کا محافظ سپاہی رات گیے اسے ڈھونڈنے میں ناکام ہوکر اندر آیا تو دیکھا کہ وہ اپنے گدے سے کافی دور ایک کونے میں گہری نیند سو رہا تھا زمین پر گر کر خشک ہوجانے والے دودھ کے اُوپر۔ سپاہی پچھلے پاوٴں چلتے ہوےٴ بغیر آواز پیدا کیےٴ کوٹھڑی سے باہر آیا اور سلاخوں کا دروازہ جلدی سے بند کرکے کوئی دس فٹ کے فاصلے پر جا کھڑا ہوا۔ اسے کال کوٹھڑی میں پہرہ دیتے ہوے کئی سال گزر گیے تھے اور بڑے بڑے مجرموں کو یہاں رہتے دیکھ چکا تھا، مگر اس نے پہلے کبھی اتنا مطمعن مجرم نہیں دیکھا تھا۔ اسے جھرجھری سی آگیئی اور وہ جلدی جلدی "جل تُو جلال تُو آئی بلا ٹال تُو پڑھنے لگا۔

وہ صبح کو دیر گیے تک سوتا رہا، کچھ قیدی سورج نکلنے کے ساتھ ہی اُس کی کوٹھڑی کے سامنے آکھڑے ہوےٴ پہرہ دینے والے سپاہی سے کوئی بیس قدم کے فاصلے پر۔ اور لگے وہ مدھم آواز میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ بیچ بیچ میں ایک آدھ قیدی تھوڑی دیر بعد نظر اُٹھا کر اُس کی کوٹھڑی کو غور سے دیکھنے لگتا جیسے جاننا چاہ رہا ہو کہ وہ اُٹھ گیا ہے یا نہیں۔ کوٹھڑی کے سامنے کھڑے سپاہی کے کان قیدیوں کی سرگوشیوں پر مرکوز تھے، مگر وہ فاصلے اور قیدیوں کے محتاط اندازِ گفتگو کی وجہ سے کچھ سُن نہیں پا رہا تھا۔ مگر تھوڑی حیرانی سے دیکھ رہا تھا کہ کبھی وہ مُنے کی کوٹھڑی کی طرف اشارہ کرتے اور کبھی اس کی گَن کی طرف۔ بیچ میں ایک دو قیدیوں کی ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

جب مُنا سو کر اُٹھا تو کافی دن چڑھ آیا تھا اور وہ بھوک سے نڈھال ہورہا تھا۔ چوپایوں کی طرح چلتے ہوےٴ وہ دودھ کی بوتل کے پاس پہنچا اور اسے اُٹھا کر تیزی سے پینے لگا۔ نیچے کچھ خون کے دھبے دیکھ کر جیسے اسے کچھ یاد آگیا ہو جس پر فوراً دودھ کی بوتل پرے پھینک دی اور غصے سے باہر کھڑے سپاہی کو دیھکنے لگا جو اِس وقت کسی اور طرف متوجہ تھا۔

 اس کے اُٹھنے تک زیادہ تر قیدی جا چکے تھے۔ جو ابھی موجود تھے وہ اسے جاگتا دیکھ کر ٹکٹکی باندھے گُھور رہے تھے اور دوسرے اس کی کوٹھڑی کے سامنے سلفیاں بنا کر دوستوں اور گھر والوں کو بھیجنے لگے۔

یہ قیدی روزانہ ایسے ہی اس کی کوٹھڑی کے سامنے جمع ہوجاتے صبح سویرے اور اس کے جاگنے سے ذرا پہلے تتر بتر ہوجاتے۔ سرگوشیاں کرتے ہوےٴ کبھی تو وہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو جاتے اور کبھی بہت ہی سنجیدہ اور خاموش جیسے کسی سے خوفزدہ ہوں۔

ملک کے بڑے بڑے اخباروں اور ٹی وی چینلز کے صحافی اُس کی کوٹھڑی کے بلاناغہ چکر لگاتے، باہر کھڑے ہوکر تصویریں کیھنچتے، کال کوٹھڑی کے پہرہ دار کے انٹرویوز کرتے، کبھی کبھی قیدیوں کے گروہ سے بات چیت کرتے اور پھر توبہ توبہ کہتے چلے جاتے۔

مُنا صبح اُٹھنے سے لے کر رات گیےٴ تک کوٹھڑی کے کونوں کو چھانتا جیسے کچھ ڈھونڈ رہا ہو۔ اگر کبھی خون کا کوئی دھبا نظر آجاتا تو اس پر پیار سے بار بار اپنے نرم نرم ہاتھ پھیرنے لگ جاتا۔ کبھی اگر عورتوں کے بال نظر آتے تو اکٹھے کرکے جھولی میں ڈال لیتا اور دیر تک روتا رہتا۔ شروع شروع میں کوٹھڑی کے اندر دودھ کے دھبے بکھرے پڑے تھے جو اس نے چاٹ چاٹ کر صاف کردیے۔ پتہ نہیں کیا خاص مزا آتا تھا اس کو زمین پہ بھکرا دودھ چاٹنے سے کہ دودھ کی بھری بوتلیں جو پولیس کا سپاہی چھوڑ کر جاتا تھا انہیں چھوڑ کر زمین والے دودھ کو چاٹتا۔ ایک بار تو دودھ کی بوتل لانے والا سپاہی اتنا برا مان گیا کہ اس نے جاکر جیلر سے شکایت کی۔

سَر میرے خیال سے اس قاتل بچے کو سرکار کا خرچ کرکے دودھ پلانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو اپنی بھوک زمین پر گرے سوکھے ہوےٴ دودھ کو پی کر مٹاتا ہے۔ جیلر کو جیسے کچھ یاد آگیا ہو جس پر وہ مسکراتے ہوےٴ بولا کوئی بات نہیں دل ہلکا مت کرو کتنے دن چاٹے گا ماں کے دودھ کو۔ آخر کو تو سرکار کے دودھ پہ ہی آنا ہوگا۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3