دنیا کا سب سے کم سِن قاتل
ایک دن منا تھکاوٹ کی وجہ سے دیر تک سوتا رہا۔ کوٹھڑٰی کے باہر کھڑے پہرہ دار کو غایب دیکھ کر قیدی دروازے کے پاس آکر کوٹھڑی کے اندر کا جایزہ لینے لگے۔ چونکہ کوٹھڑی میں اندھیرا تھا اس لیے وہ سلاخوں سے لگ کر اندر جھانک رہے تھے۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیے کہ ملک بھر کا مشہور قاتل کچھ ہی دنوں میں سوکھ کر ہڈیوں کا ڈھانچا بن چکا تھا۔ پیٹ سوکھا ہوا، گال پچکے ہوےٴ، بازو تیلیوں جیسے پتلے، اور چھاتی کی پسلیاں پنجر بنی ہوئی۔
کوٹھڑی کے اندر پڑے ہوےٴ بکرے کے ایک سینگ کو دیکھ کر ایک نوجوان قیدی نے پوچھا یہ بکرے کا سینگ یہاں کیا کر رہا ہے۔ جس پرایک بوڑھے قیدی نے اس عجیب وغریب بکرے کی بیس سال پرانی داستان سنائی جس نے قربانی کی عید پر اپنی جان بچانے کیلیے اپنے مالک کے پورے خاندان کو اپنے تیز سینگوں کے ساتھ رات کو سوتے میں قتل کردیا تھا۔ اور پھر اپنے پیچھے لگے گاوٴں والوں کو چکما دے کر رات کی سیاہی میں فرار ہوگیا۔ اور شاید کبھی بھی پکڑا نہ جاتا اگر ایک بہت ہی ذہین پولیس والا اس کے سر پر لگے خون کے دھبوں سے پہچان کر اسے ایک ریوڑ میں سے گرفتار نہ کر لیتا۔ وہ پولیس والا بھی کیا کمال تھا جو سب ساتھیوں اور افسروں کے سمجھانے اور منع کرنے کے باوجود دس سال تک قاتل بکرے کی تلاش میں ملک کے کونے کونے میں گھوما۔ ایسے محنتی جوان روز روز پولیس میں بھرتی نہیں ہوتے بوڑھے قیدی نے کہانی ختم کرتے ہوےٴ کہا۔
گدھے کا ایک سوکھا کان پڑا دیکھ کر بوڑھے قیدی نے مجمے کو اس ظالم گدھے کی کہانی سنائی جس نے چینی سیاحوں کیلیے کام کرنے والے ایک قصاب جو گدھوں کی کھالوں کا کاروبار کرتا تھا کو دن دیہاڑے درجنوں لوگوں کے سامنے دولَتیاں مار مار کر مار دیا تھا اور نہ صرف بیچارے قصائی کو بلکہ اُن سب ایک سو پندرہ لوگوں کو جو اُسے چھڑوانے آےٴ۔ پورے علاقے میں کہرام مچ گیا اور اتنا خوف وہراس پھیل گیا کہ مقتولین کی لاشیں کئی دن تک وہیں پڑی رہیں، گدھا اتنا نڈر تھا کہ وہیں بیٹھا رہا جیسے کہ اپنے ظلم کا شکار بننے والوں کی لاشیں دیکھ کر مزے لے رہا ہو۔ آخر کارلاھور سے دس پولیس پارٹیاں جدید ہتھیاروں سے مسلح ہو کر اسے پکڑنے آئیں۔ اور کوئی ہفتہ بھر کوششیں کرکے بڑی مشکل سے اسے قابو کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ یہ گدھا اتنا خطرناک تھا کہ ملک بھر کے ٹی وی چینلز اس کا انٹرویو کرنے کو بے چین تھے جبکہ پورے پاکستان کا کوئی جج اس کا کیس سننے کو تیار نہ ہوا۔ آخرکار حکومت نے ججوں کو پردے کے پیچھے سے کیس سننے کا قانون پاس کیا، تو تب جاکر ایک جج اس گدھے کا کیس سننے کو تیار ہوا جس نے اسے سو سال قید بامشقت، ایک سوپندرہ کوڑے اور پانچ پھانیسوں کی سزا سنائی اور دولاکھ پچپن ہزار روپے جرمانہ کیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں دس سال کی مزید قید کا حکم دیا۔ جج صاحب نے سزا تو سُنادی مگر گدھے کے خوف سے اسی دن سورج ڈھلنے سے پہلے جانبِ مغرب جانے والی آخری پرواز لے کر اپنے خاندان سمیت ہمیشہ کیلیے ملک سے باہر چلے گیے۔
"جب تک وہ گدھا اس کال کوٹھڑی میں رہا ہم میں ہمت نہیں تھی اِدھر آنے کی” بوڑھے قیدی نے کہا۔
پہرہ دار جو کافی دیر سے کہیں گیا ہوا تھا آتا دکھائی دیا تو بوڑھے قیدی نے آنکھ کے اشارے سے سب کو وہاں سے چلنے کو کہا۔
یوں یہ قیدی روزانہ مُنے کی کوٹھڑی کے باہر جمع ہونے لگے جہاں وہ بوڑھے قیدی سے کوٹھڑی میں رہنے والے پرانے قیدیوں کی کہانیاں سنتے۔ بوڑھے قیدی کی نظر بہت تیز تھی جو ہمیشہ کوٹھڑی کے اندر پڑی ہوئی پرانے قیدیوں کی چھوٹی چھوٹی چیزیں ڈھونڈ لیتی۔ اس کی یاد داشت بھی بہت اچھی تھی جو کسی قیدی سے متعلقہ ایک آدھ چیز دیکھ کر اس کی پوری کہانی تازہ کر لیتی۔ مثلاً ایک دن ایک زنگ آلود چاقو کو وہاں دیکھ کر اس نے ایک پچانویں سالہ وحشی بوڑھے کی کہانی سنائی جس نے ایک سو آدمیوں پر مشتمل پورے کے پورے جرگے کو کسی چھوٹی سے بات پر مشتعل ہوکر قتل کر دیا تھا۔ اور اس کے بعد وہ ایک عادی مجرم بن گیا اور ہر ناقابلِ یقین جرم کرنے لگا۔ جس میں کراچی کے اندر گھروں میں سوتے ہوےٴ سینکڑوں لوگوں کے ہتھوڑوں سے قتل جو کہ اصل میں اس نے چاقو سے کیے تھے۔ بلوچستان میں کام کرنے والے پنجابی مزدورں کے درجنوں قتل، عزت کے نام پر قتل ہونے والی عورتوں کے بے شمار قتل، ذلت کے نام پر مرنے والے سینکڑوں ہزارہ لوگوں کے قتل، غرضکہ پاکستان بھر کا کوئی بہیمانہ قتل ایسا نہ تھا جو اس سفاک نے اپنے چاقو سے نہ کیا ہو۔ آخرکار خداخدا کرکے وہ پکڑا گیا اور کچھ دن اِس کال کوٹھڑی میں بند رہا۔ ایک دن جب کوئی پچاس پولیس والوں کی پارٹی اسے لے کر ایک بیابان جنگل میں چھپاےٴ ہوےٴ زنگ آلود چاقو کی برآمدگی کرکے واپس آرہی تھی تو اس نے ایک چھپا ہوا پستول نکال کر ویرانے میں سے گذرتے ہوےٴ اپنے اُوپر پوری پچاس گولیاں چلا کر خود کشی کرلی۔
یوں یہ بوڑھا قیدی اس کال کوٹھڑی کے پرانے رہایشیوں کے بارے میں روز ایک انوکھی کہانی اپنے ساتھیوں کو سناتا۔ ایک دن جب یہ قیدی منے کی کال کوٹھڑی کی طرف آرہے تھے تو کوٹھڑی کے سامنے لگے جمگھٹے کو دیکھ کر ٹھٹھک گیے۔ درجنوں کے قریب پولیس والوں نے کوٹھڑی کو گھیرا ڈال رکھا تھا ایک ایمبولینس بھی وہاں کھڑی تھی جس کے ساتھ کچھ ڈاکٹرز اور نرسیں بھی موجود تھے۔ جیل میں پھیلی دہشت سے لگ رہا تھا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران بھی آےٴ ہوےٴ تھے۔ پولیس نے کوٹھڑی کے اردگرد "جاےٴ وقوعہ” کے بورڈ لگا رکھے تھے۔ بوڑھے قیدی نے اپنے ساتھیوں کو آنکھ سے اشارہ کیا اور وہ سارے چپ چاپ وہاں سے واپس ہو لیےٴ۔ تجسس کی وجہ سے قیدی کئی روز تک کوٹھڑی کو دیکھنے آتے رہے مگر وہاں موجود پولیس والوں کو دیکھ کر واپس چلے جاتے۔ پھر وہ کوٹھڑی کو بھول کر کسی اور شغل میں مصروف ہوگیےٴ۔ بہت دنوں بعد ایک دن جب وہ کوٹھڑی کا جایزہ لینے لوٹے تو وہ خالی پڑی تھی۔
"چلو دیکھتے ہیں نیا رہایشی کیسا ہوگا” بوڑھے قیدی نے اپنے ساتھیوں سے کہا۔


