عدنان خان کاکڑ،”ہم سب” کا پیام برق الکاہل اور سانپ جزیرہ


پچلھے دنوں کاکڑ صاحب نے کالم "کتنا لکھیں، کیسے لکھیں اور کیسے شائع کروائیں؟” لکھا اور "مضمون شائع نہ ہونے کی اطلاع کیوں نہیں دیتے؟” کے عنوان سے پوسٹ کیا ۔ دونوں بہت ہی اچھے لگے۔ لیکن پوسٹ کے جملے "ریگولر شائع ہونے والے مصنفین مضمون شائع نہ ہونے کی صورت میں دو دن کے بعد یاددہانی کی ای میل ڈال دیا کریں” نے خیالی پلاؤ کے خداداد صلاحیت کو جلتی پہ تیل کی طرح یوں متحرک کیا کہ ہم خوش فہمی کی دنیا میں گم ہوکر اپنے تازہ تحریر کے ‎شائع ہونے کی بجائے دو دن پورے ہونے کے لئے ستم ظریف وقت کے منٹوں حتی کہ سیکنڈوں کا حساب کرنے لگے ۔ تاکہ دو دن پورے ہوتے ہی یاد دہانی کا پیام برق رفتار داغ دیا جاۓ۔ ابھی ہم اسی سوچ میں غلطاں تھے اور "ریگولر مصنفیں” کی صف میں بزعم خود بنفیس نفیس موجود ہونے کے دلفریب خیال سے گرمیوں کا روزہ لگنے کی بجاۓ لطف دے رہا تھا، کہ اک عجب سی بے چینی نے دھر لیا ۔ ہم چوں چاں کی چیں چیں سننے کا پریاس کر ہی رہے تھے کہ شاید کوئی چینی (آج کل ارض پاک پہ ان کی طرح ان کی بہتات ہے) نازل ہو گیا ہے۔ کہ یکایک محسوس ہو ا کہ بے چینی خارجہ نہیں بلکہ داخلہ ہے، اور مجرم بے ربط تخیل کے جرم (Muse) میں ملوث ہو نے کی وجہ سے ہے۔ اور اس جرم کی سنگ بنیاد ڈالنے میں پیش پیش ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے تخلیقی چشمے کی تخلیقی بارش نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے۔

یقینا اس موڑ پہ ادب سے نابلد کچھ تیز طرار میوس (Muse) کی اصطلاحی پوشاک کو چاک چاک ہوتے "میوس” کے بے باک ہونے کے شدت سے منتظر ہوں گے۔ چل ہٹ شرارتی ہمیں "می ٹو ” کے ہتھے چڑھانے کا ارادہ ہے کیا؟ لیکن ہم زبردستی ان کی میوس کو زنگ لگنے سے بچانے کے لئے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے "تخلیقی بارش سے تخلیقی چشمے۔۔” میں غرقاب ہونے کے لئے دھکیلیں گے۔ ویسے تخلیقی چشمے کا پانی سر سے گزرنے والوں کے لئے عرض ہے۔ کہ حتی الوسع ایسی خودکش مغزماری سے دور ہی رہیں تو بہتر ہے ۔کیوںکہ میوس زیادہ بروۓ کار لانے سے یہ "سانپ جزیرے” کے سنگم پہ واقع بحر پیام برق الکاہل کے پیندے میں پہنچ کر فیوز ہوسکتا ہے۔ آپ یقینا اتنی پوش پوش اصطلاحات پر آ‎پے سے باہر ہو رہے ہيں۔ جس میں آپ کا کوئی قصور نہیں کیوںکہ آج کل تھوڑی پوش ہونے کا زمانہ ہے ۔ اور اس سے پہلے کہ بعض چشموں سے مغلظات کی سیل رواں جاری ہو ہم آپ کو روزہ لگنے سے بچانے کے لئے سانپ جزیرے کی ٹھنڈی فضا میں لے چلتے ہيں۔ لیکن سیر کے لئے بالغ ہونے کی صورت میں اپنا اور بچہ ہونے کی صورت میں والدین کا مائل و قائل نامہ ساتھ ہونا لازمی ہے ۔کہ وہاں بڑے بڑوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ اور ہم اتنے رستم زمان تھوڑی ہیں، کہ سانپ جزیرے کے طائفہ ناگوں و دلفریب ناگنوں کو زیر دام لا سکیں۔ تو جناب ہر مسافر اپنے سامان کا خود ذمہ دار ہے لہذا خان ہونے کے باوجود ہم سے کسی قسم کی توقع نہ رکھنا ہی بہتر ہے۔

تو یہ جناب "ہم سب” کا بحر "پیام برق الکاہل” ہے اور یہ ساتھ جڑا رنگ برنگ نگینوں سے مزین اور طائفہ وحشی ناگوں و دلفریب ناگنوں سے بھرا سانپ جزیرہ ہے۔ جب کبھی "میوس” بے ربط تخیل والے تخلیقی میدان میں آوارہ گردی کے نتیجے میں آزاد الیکٹرانوں کا شوشہ چھوڑتا ہے۔ اور برقی پیام کے لفٹ سیل رواں پر تخلیقی اڑان کا یہ آڑن کھٹولہ پیام سے بھرپور یہاں کے برقی میدان کے کشش سے جڑنے لگ جاتا ہے۔ تو جزیرہ پر ناگوں اور دلفریب ناگنوں کی بہتات کی وجہ سے آڑن کھٹولہ لینڈ ہی نہیں کرپاتا۔ اور بالاتفاق کسی طرح لینڈ کر ہی جاۓ تو وہاں ٹکنے نہیں پاتا ۔ مثلا رنگ برںگے ناگ/ناگنوں کا طائفہ اپنی موجودگی کا احساس دلا کر اسے کاکڑ صاحب (جو ساتھ واقع "ہم سب” لائٹ ہاو‎س کے مدیر ہیں) کی نگاہوں سے اوجھل کۓ رکھتا ہے، تاکہ لائٹ ہاوس کی روشنی میں آپ کے تخیل کی روشنی کا اضافہ نہ ہو۔ اور اگر بالاتفاق پیام تخیل کی دزدیدہ نگاہیں کسی درزسے موقع پاتے ہی کاکڑ صاحب کو اپنا دیدار کرا ہی لیتی ہیں۔ تو عین اسی وقت ناگ پھن پھیلاۓ پیام تخیل کو وحشی انداز میں ڈستے ہو‎‎ ۓ روندے چلے جاتے ہیں ۔ اگر بطور معجزہ تخیلاتی سر چشمہ زندہ و جاوید رضیہ کی طرح غنڈوں میں پھنس کر بھی کرشمہ ساز اندیشہ بن کر سر اٹھاتا ہے۔ تو یہ ڈس ڈس کر دھکیلتے ہوۓ بحر کے پیندے میں پڑے انبار پیام اور اپنے انجام تک پہنچ ہی جاتا ہے۔ یوں کاکڑ صاحب کو "ہم سب ” کے محفل رنگین میں کئی بیچارے مصنفین کے غائبانہ تعارف تک کا موقع بھی نہیں مل پاتا۔

 نوٹ: واضح رہے کہ تمثیل (ناگ، ںاگن) فقط ایمیلز اور جزیرہ / بحر ان باکس تک محدود ہے ۔

Facebook Comments HS