ملین مارچ کی ناکامی کے قوی امکانات ہیں

ملین مارچ کی کامیابی کے امکانات تقریبا نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مارچ کے ملتوی ہونے کے بھی تھوڑے سے امکانات موجود ہیں، لیکن چونکہ مولانا صاحب نے اپنے جانثاروں کو اسلام آباد کی طرف رخت سفر باندھنے کا کہہ دیا ہے، تو ہونے کا امکان زیادہ ہے۔ بہرحال چند مندرجہ ذیل وجوہ کی بنیاد پر اس مارچ کے ناکامی کے قوی امکانات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن ایک پیج پہ نہیں۔ اپوزیشن کا ایجنڈا نہ تو ایک

Read more

مولانا صاحب کا قریشی سیٹھ

سنا ہے سیٹھ اتنے زور سے بلبلا اٹھے ہیں۔ کہ ایوانوں میں ذلزلہ آ رہا ہے۔ تبدیلی کے بادل سمٹ رہے ہیں۔ طوفان میں کشتی کو سنبھالنے والے ناخدا کو کشتی سے دور کیا جا رہا ہے۔ اور تو اور کسی نے یہ بھی بے پر کی آڑائی ہے۔ کہ قریشی سیٹھ کو وڈے وزیر بنانے کی تگ و دو ہو رہی ہے۔ اور ان کو وڈے وزیر بنانے کے لئے مولانا صاحب کے مجاہدے بھرے حلقے کا پرنور آغا‌ز

Read more

پی ٹی ایم کو اپوزیشن کی تحریک کے نرغے سے دور رکھیں

اگر آپ لفظ ”استحصال“ کے معنی سے نا آشنا ہیں۔ تو اسے پوری طرح سے سمجھنے کے لئے پاکستانی سیاست کا مطالعہ شروع کر دیں۔ اگر آپ منافقت کے اصطلاحی معنی جاننا چاہتے ہیں۔ تو پاکستان کے سیاسی کرداروں کی شکل میں بہترین شاہکار موجود ہیں۔ اگر آپ لوگوں کو بہترین انداز میں دھوکہ دینے کا فن سیکھنا چاہتے ہیں۔ تو کسی پاکستانی سیاسی جماعت میں شامل ہو جائیں۔ اگر پاکستانی سیاست کے بے شمار کرداروں کو گدھ کی طرح عوام کی لاش کا تیاپانچہ کرنے سے تشبہہ دی جائے تو یہ کہنا غلط نہیں بلکہ کار ثواب ہوگا۔

Read more

پنجابی بادشاہت، وراثتی سیاست یا قائد جمہوریت مولانا فضل الرحمن؟

سنا ہے کہ اپو‌زیشن نے مولانا صاحب کو عمران خان کو وزات عظمی سے ہٹانے کے لئے قائد نامزد کیا ہے۔ سیاسی ماحول کو گرم رکھنے اور تخت کو تختہ کرنے میں مولانا صاحب کا کوئی ثانی نہیں۔ اسی لئے تو اپوزیشن نے اس امید کی بنا‎‌ پر انھیں اپنا قائد مان لیا ہے، تاکہ وہ اپنی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کر سکیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے۔ کہ مولانا صاحب اپو‌زیشن کی اس تحریک کے روح و رواں

Read more

حنا کے رنگ میں پھیل چکا لہو

کیا افغانی کا ریپ اور قتل جائز ہے؟ درندوں کے بیچ جب زندگی دم توڑتی نظر آ‎ئے۔ جب ہوس کے پجاری ننھی کلیوں کو مسلتے ہوئے شیطانی کارندے بن جائیں۔ جب زندگیوں اور عزتوں کے محافظ جرم کو قانون کا جامہ پہنائیں۔ جب شیطان کے سامنے انسانی شیطانوں کا جادو سر چڑھ کر بولے۔ جب زندگی کے حسیں رنگوں میں خون کے رنگت کی امیزش لازمی ٹھرے۔ جب انسان درندہ بن کے انسانیت کا خون کرے۔ جب ظلم مصلحت اور منافقت کے دبیز چادر تلے دب جائے۔ جب ظلم کی درجہ بندی قومیت کی آڑ میں ہو۔ جب انسانوں کی بستی سے انسانیت روٹھ جائے۔ تب ایسی بستی میں ایسے سوال لا معنی ہیں۔

Read more

کیا عمران خان کی حکومت کو خطرہ ہے؟

عیدالفطر کے بعد دما دم مست ہونے کا قوی امکان ہے۔ کیوں کہ اپوزیشن سیاسی دھمال ڈالنے کے لئے سخت بے چین ہے۔ وقت کے تیور بدل رہے ہیں۔ لگتا یوں ہے کہ عمران خان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ اور ان کی سیاسی بساط لپیٹنے کے لئے حالات موزوں بنائے جا رہے ہیں۔ تو کیا عمران خان کی حکومت خطرے میں ہے؟ یہ کہنا یقینا قبل ازوقت ہے۔ لیکن ایک بات بہرحال یقینی ہے۔ کہ انتہا‏ئی

Read more

عوام الناس، باس اور کیڑے مکوڑے

”عوام الناس“ اردو اور عربی زبان کے زبردستی جوڑ توڑ سے بنایا گیا عرب و عجم کا اک سنگین قسم کا عامیانہ سا ملاپ ہے۔ خصوصا ترقی جیسی ستم ظریف ہستی کے پیچھے صرف رو رو کر ہلکان ہونے والے ناکام عاشق کی طرح دربدر ممالک میں یہ طائفہ وافر مقدار میں موجود ہے۔ تاریخ گواہ ہے، بلکہ اب تو یہ بات ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔ کہ جس کسی کو خصوصا باس کو کبھی بھی اپنا الو سیدھا کرنا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر سب سے پہلے ”عوام الناس“ کے بے جان کندھوں کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن اس کی سب سے قابل رحم صورت اس وقت سامنے آتی ہے جب کوئی خمار میں آ کے پوری کی پوری بستی کے عوام الناس کا الو سیدھا کرنے کے لئے خواہ مخواہ با الجبر و الرضا آناً فاناً بڑی تندہی اور جان فشانی سے تیوری چڑھائے پوری قوت سے ترنگ میں آکر کہہ جاتا ہے ”میرے عزیز ہم وطنو“ ۔

Read more

عمران خان نے ناممکن کو ممکن کرنا ہے

ہم غالبا دنیا کی واحد منفرد قسم کی بے حس قوم بن چکے ہیں کہ جس کے ضمیر کو جگانا تقریبا ناممکن ہو چکا ہے۔ جس نے نہ تو ماضی سے سبق سیکھا ہے۔ نہ ہی حال کو درست سمت پہ گامزن کیا ہے اور نہ ہی مستقبل کی فکر کی ہے۔ ہم اخلاقی پستی میں مدغم وہ زوال پذیر قوم ہیں۔ جسے پستی اور غلامی میں جینے کا مزا آ تا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا عمران

Read more

قوم شہباز شریف کی وزارت عظمی سے بچ گئی

قوم کی خوش قسمتی اور شہباز شریف کی بدقسمتی دیکھیے کہ آخرکار شہباز شریف کے وزارت عظمی کے خواب چکنا چور ہوئے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان کے وزارت اعلی کے دور کا خاتمہ بھی ہوا ۔ یعنی نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔ اگر خدا نخواستہ شہباز شریف وزیر اعظم بن جاتے تو محرومیاں اور بڑھتیں اور کشیدہ حالات مزید خراب ہوتے۔ کیونکہ ان میں قومی رہنما کے خواص بالکل بھی نہیں پائے جاتے۔ دوسری طرف ان

Read more

پرویز خٹک دوبارہ وزیر اعلی کیلئے موزوں ہیں

پرویز خٹک کے دوبارہ وزیراعلی بننے میں کوئی عیب نہیں۔ انھوں نے تجربے، صلاحیتوں اور ٹیم ورک سے پارٹی کو 65 سیٹوں کے ساتھ بہترین پوزیشن پہ لا کھڑا کیا ہے۔ اور یہ ان کی اور پارٹی کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تحریک انصاف کو انھیں کوئی اور ذمہ داری سونپنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کیونکہ پرویز خٹک کی پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ہم آہنگی مستحکم ہو چکی ہے اور نئے تجربے کی صورت میں پارٹی اگلے انتخابات

Read more

عمران خان زرداری کو اپنا لیں

عمران خان زرداری پر ماضی میں شدید تنقید اور چند پارٹی رہنما‎ؤں کے ناقص سیاسی مشوروں کی وجہ سے زرداری کو اپنانے سے گریزاں ہیں۔ ایک طویل ترین مشق کے ذریعے چھوٹی چھوٹی پارٹیوں اور آزاد امیدواروں کے پیچھے پارٹی رہنماؤں کو ہلکان کر رہے ہیں۔ ان کے بے جا ناز نخروں کے آگے سر تسلیم خم کر رہے ہیں۔ لیکن دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ زرداری کو صدر بنا کر پیپلز پارٹی کے ساتھ اک مستحکم

Read more

کیا شہباز شریف واقعی اپوزیشن میں بیٹھنے جا رہے ہیں؟

لگتا تو یہی ہے کہ شہباز شریف تحریک انصاف کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اپوزیشن میں بیٹھنے کی بیان بازی کر رہے ہیں۔ لیکن درپردہ وہ وزارت عظمی کے خواب آنکھوں میں سجاتے ہوئے اک آخری ناکام کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ وزارت عظمی کے حصول کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔ اسی لئے تو انھوں نے مولانا فضل الرحمن کے حلف نہ لینے کی بات پہ غور و خوض کے لئے وقت مانگ لیا۔ لیکن

Read more

کون سی پارٹی کتنی سیٹیں حاصل کرے گی؟

انتخابات 2018 میں نشستیں جیتنے کے امکانات کے حوالے سے قیاس آرائی کی جائے تو تحریک انصاف 80 سے 90 نشستوں کے ساتھ پہلی، مسلم لیگ ( ن) 66 سے 72 نشستوں کے ساتھ دوسری اور پیپلزپارٹی 42 سے 46 نشستوں کے ساتھ تیسری بڑی پارٹی بن سکتی ہے۔ خیبر پشتونخوا پنجاب سندھ بلوچستان

Read more

انتخابات 2018: وزیر اعظم عمران خان، صدر زرداری

انتخابات 2018 کے حوالے سے قیاس آرائی کی جائے تو سیٹوں کے لحاظ سے تحریک انصاف پہلی، مسلم لیگ ( ن) دوسری اور پیپلزپارٹی تیسری بڑی پارٹی بن سکتی ہے۔ البتہ پاکستان میں انہونی چونکہ ایک عام سی بات ہے۔ لہذا مسلم لیگ (ن) کو ہمدردی اور مظلومیت کے لبادے کی آڑ میں برتری بھی دلائی جاسکتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان، صدر زرداری اس بلاک میں تحریک انصاف، پیپلزپارٹی، آزاد امیدوار، ایم ایم اے اور ایم کیو ایم اتحاد

Read more

عمران خان کے پھٹیچر ریلو کٹے

با ادب کے فرشتوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ خان صاحب ”لغات“ میں اتنے اختراع پسند ہیں، جیسے تبدیلی، جنون، پھٹیچر، ریلوکٹا وغیرہ۔ یہ بہرحال اک ”باسی“ اختراع ہے کہ بے ادب ہجو گوؤں نے ” لغات ” زبان زد عام کرکے اس قدر ”لغویات“ کر دیں۔ کہ پھٹیچر ریلوکٹوں نے بنی گالہ کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ وہاں ”آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے“ کے مصداق جب تبدیلی تیل سے ان کی مالش ہوئی۔

Read more

کیا مسلم لیگ (ن) ہار رہی ہے؟

شہباز شریف کے قومی حکومت کی تشکیل والے بیان سے لگتا یہی ہے۔ کہ مسلم لیگ (ن) کو اپنی ہار یقینی نظر آرہی ہے۔ چند سالو‎ں سے مسلم لیگ (ن) حیرت انگیز طور پر قوم پرست جماعتوں کی چہیتی بنی ہوئی ہے۔ یہی قوم پرست جو چند سال پہلے مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی پارٹی، نوازشریف کو ایک متعصب لیڈر اور پنجاب کی نا انصافیاں ذکر کرتے نہیں تھکتے تھے۔ آج کل ان جماعتوں کے رہنما اور پیروکار نواز

Read more

قاضی القضاۃ، کفن پگڑی، دیوی اور جالب

  جب کبھی میں انصاف کی دیوی کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھتا ہو ں۔ مجھے علاؤالدین خلجی کے عہد حکمرانی میں قاضی القضاۃ کی کفن پگڑی یاد آجاتی ہے۔ وقت کتنا بدل گیا ہے۔ انصاف کی دیوی کا بول بالا ہے۔ اچھی بات ہے، لیکن انصاف کی دیوی کی حق کے ساتھ پرانی آشنائی تھوڑی پھیکی پھیکی سی پڑ گئی ہے، جو بہرحال پریشان کن ہے۔ سٹینلے لین پول لکھتے ہيں کہ علاؤ الدین خلجی نے ایک بار قاضی القضاۃ سے

Read more

"ہم سب” کے مدیر کے نام سنگریزوں بھرا خط

  جناب مدیر صاحب جب سے "ہم سب” کیلئے قلم آٹھایا ہے، بھرپور کوشش کی ہے کہ فن تحریر کے ساحل سمندر سے رنگ برنگے سنگریزے اٹھا کر خوب تراش تراش کرکے پیش کر سکیں۔ ساحل سمندر کا پینگوئن پرندہ اپنے محبوب کیلئے سب سے خوبصورت سنگریزہ تلاش کرتا ہے ۔ اس سے نکتہ دان "ہم سب” کے ساتھ ہمارے لگاؤ کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ لیکن بعض تحریر وں کے شا ئع ہونے کیلئے طویل انتظار کر نا

Read more

و‌زیر اعظم  عمران خان، چڑ کا چڑھتا جنون

عمران خان واحد رہنما ہیں۔ جنھوں نے استقامت اور ثابت قدمی سے ایک سیٹ والی پارٹی کو تیسری بڑی پارٹی کے طور پر لاکھڑا کیا۔ وہ ڈنکے کی چوٹ پہ سچ بولتے ہیں۔ یقینا بعض اوقات پارٹی کے مفاد کی خاطر مصلحتا خاموش رہتے ہیں۔ آپ چاہے ان کی شخصیت میں تبدیلی برپا کرنے کا خاصہ دیکھتے ہیں یا سیاسی فلسفے کے شدید ناقد، بحرحال آپ کو بالرضا یا چار وناچار یہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا۔ کہ وہ یقینا

Read more

نواز  شریف  زرداری  کی پیٹھ  میں  چھرا  گھونپ  رہے  ہیں؟

بقول آصف علی زرداری پیٹھ میں چھرا گھونپنا نواز شریف کا وطیرہ ہے۔ یعنی نواز شریف سیاسی سودے بازی اور سیاسی یکجہتی کے لئے قابل اعتبار شخصیت نہیں۔ حالیہ دنوں زرداری اور نواز شریف کی آئندہ انتخابات کے لئے سیاسی ڈیل کی خبریں گردش میں تھیں۔ اگر اطلاعات مصدقہ ہیں، تو زرداری اک بار پھر پیٹھ میں چھرا سہنے کے لئے اتنے بے چین کیوں ہیں؟ جیسے ہی زرداری نے انتخابات کے بعد ضرورت پڑنے پر عمران خان سے ممکنہ

Read more

خادم اعلی کا سیاسی پکوان

مسلم لیگ (ن) کی اسٹبلشمنٹ اور خصوصا عدلیہ کے ساتھ رواں دواں تناؤ ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی اور 2018 کے انتخابات کے لئے اپنے آپ کو توانا رکھنے کے لئے ایک بھرپور حکمت عملی نظر آتی ہے۔ تنا‎ؤ کے اس پڑا‎ؤ میں غازی بننے کی شرف یابی حاصل کرنے کا کاروبار کامیابی سے جاری وساری ہے۔ یہ شرف حاصل کرنے اور سب سے بڑے غازی مرد میدان بننے میں وڈے میاں صاحب کا پہلا نمبر ہے۔ پنجہ آزمائی اور

Read more

ریحام  خان  اور  "می ٹو”  ٹرائینگل

عائشہ گلالئی، میشا ظفر اور ریحام خان کا می ٹو مثلث ہوبہو برمودا مثلث کی طرح ہے۔ اس مثلث میں عائشہ گلالئی اور ریحام خان نے سیاسی جبکہ میشا ظفر نے پیشہ ورانہ میدان میں جنسی ہراسانی کا رنگ بھرا۔ اس بحرغرقاب میں عزت نام کی پو شاک مبینہ طور پر غرق ہوئی اور سطح پہ جو بچھے کچھے چیتھڑے اچھل رہے تھے، انھیں خوب اچھالا گیا۔ حسینوں کی عزت کا ٹائی ٹینک جنسی ہراسانی کے برفانی تودے سے ٹکرا

Read more

سیاسی مسکراہٹیں

پاکستان کے سیاسی مسکراہٹوں کی دوڑ میں جناب آصف علی زرداری دل موہ لینے والی مسکراہٹ کےساتھ“اک زرداری سب پہ بھاری ”والی قول پہ صادق اترتےہیں۔ مسکراہٹوں پہ یقینا آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کا اطلاق نہیں ہوتا ہوگا۔ مسکراہٹ کیا ہے۔ اک دلکش سیاسی ادا ہے۔ تلخ سے تلخ بات ایسے شیریں انداز میں کر دیتےہیں۔ کہ شک پڑجاتاہے۔ کہیں میڈیا والوں نے ڈبنگ تو نہیں کی ہے؟ ویسےکیا یہ معجزے سے کم ہے، کہ پاکستانی جیلوں میں اتنےسالوں رہنے کے

Read more

عدنان خان کاکڑ،”ہم سب” کا پیام برق الکاہل اور سانپ جزیرہ

پچلھے دنوں کاکڑ صاحب نے کالم "کتنا لکھیں، کیسے لکھیں اور کیسے شائع کروائیں؟” لکھا اور "مضمون شائع نہ ہونے کی اطلاع کیوں نہیں دیتے؟” کے عنوان سے پوسٹ کیا ۔ دونوں بہت ہی اچھے لگے۔ لیکن پوسٹ کے جملے "ریگولر شائع ہونے والے مصنفین مضمون شائع نہ ہونے کی صورت میں دو دن کے بعد یاددہانی کی ای میل ڈال دیا کریں” نے خیالی پلاؤ کے خداداد صلاحیت کو جلتی پہ تیل کی طرح یوں متحرک کیا کہ ہم

Read more

پنگے باز سجنا

پنگا لینے کی سیاست میں میاں صاحب کا کوئی ‎ثانی نہیں۔ ان کے لئے پنگا لینا کسی مشغلے سے کم نہیں۔ پنگا لینے کا عظیم الشان مظاہرہ آپ میاں صاحب کا کمانڈو جرنیل کے ساتھ اپنی آنکھوں سے بخوبی دیکھ چکے ہیں، جس کے اثرات یقینا ابھی تک پڑ رہے ہیں۔ آپ شاید تیراندازی کے مشغلے سے شغف رکھتے ہوں گے اورتیر چلانا آپ کو پسند ہوگا۔ یا آپ غالبا بلے بازی کے شوقین ہیں۔ اور یقینا آپ کو بلے

Read more

شہبازشریف وزارت عظمی کے خواب دیکھنے لگے

جب سے وڈے میاں صاحب سیاسی شطرنج سے آوٹ کلاس کر دیے گئے ہیں۔ تب سے سیاسی افق پہ چھوٹے میاں صاحب اک نئی آن بان سے جلوہ گر ہوکر وزارت عظمی کے خواب دیکھنے لگے ہیں۔ خواب دیکھنے میں ویسے کوئی برا‏‏ئی تو نہیں۔ نہ یہ کسی کی جاگیر ہیں اور نہ ہی شجر ممنوعہ۔ ہاں البتہ تخت طاوس کے خواب کی تعبیر اپنے حق میں پانے کیل۔ ئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ اور سیانے تو ناقابل یقین

Read more

سعادت یار خان رنگیں، ریختی اور "می ٹو”

جب سے ہم نے مرد الناس حضرات (عوام و خواص) کیلۓ”می ٹو” کمپین کے بینر تلے آنکھیں پھوڑنے کی مرضی والی دھمکی سنی ہے۔ تب سے مجھے بکر و زید کی "ضرب” گردان کے آثرات”می ٹو” کمپین پر اثر انداز دکھائی دے رہے ہیں۔ اورغالبا وہ دن دور نہیں۔ جب آنکھیں پھوڑنا ایک گردان، محاورہ اور مستقبل بعید میں ایک ضرب المثل (ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ کہ ہالی ووڈ کی ایک فرنگی نازنین نے ایک "”می ٹو” کمپین کی

Read more

بے ربط تخیل، بکھرے آنسو، ٹوٹتے تارے، بجھتے مشال

جب سے دنیا میں روشنی کا ظہور ہواہے۔تب سے اندھیر نگری کے باسیوں اور عقل کے دشمنوں نے ایسے کئی مشال بجھا‎ۓہیں۔تب سے منصور دارپہ چڑھا ہے۔ انسانیت کئ بار سسک سسک کے مری ہے۔ اور مٹی کی سوندھی خوشبو بہتے خون کے فواروں سے آلودہ ہو ئی ہے۔تب سے شہید کا جام شہادت حق کے منبر پر ٹوٹے پیمانے سے رس رس کر گرا ہے۔ میں اک ٹوٹا پیمانہ اک چھلکتا ہوا جام اک بے ربط تخیل اک فسانہ

Read more