کشمیر: کیا جنگ ہی حل ہے؟
مجھے ایجنٹ وغیرہ ڈیکلئیر کرنے سے پہلے، آئیے ذرا حقائق دیکھتے ہیں۔
انڈیا کے زیرتسلط کشمیر کی آبادی تقریبا سوا کروڑ ہے۔ اور اس خطہ نے پچھلے تیس سالوں، یعنی سنہ 1989 سے مسلسل تشدد کا سامنا کیا ہے۔ گویا تقریبا دو نسلیں ہیں جو تشدد کی فضا میں بڑی اور بڑھی ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں انڈین ریاستی اداروں کے ہاتھوں وہاں قتل و غارتگری کے تئیس بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں ہزاروں بےگناہ افراد کو شہید کر دیا گیا۔ اس سال، یعنی 2018 کے پہلے ساڑھے چار مہینوں میں 120 بےگناہ کشمیری شہید کردیے گئے ہیں اور وہاں اضطراب کی اک مسلسل کیفیت ہے۔
15 فروری 2016 کو اقوام متحدہ میں جمع کروائی گئی اک رپورٹ کے مطابق سنہ 1991 سے تب تک تقریبا ایک لاکھ افراد تشدد کا شکار بنا کر قتل کر دیے گئے، 10000 افراد کا کچھ اتا پتہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں کھو گئے ہیں، زندہ ہیں یا مردہ، کسی کو معلوم نہیں، 7000 ایسی قبریں ہیں جن میں موجود لاشوں کی شناخت کا کسی کو معلوم نہیں۔ یہ اعداد و شمار آج سے دو برس قبل کے ہیں۔ پچھلے دو برس میں حالات مزید دگرگوں ہوئے ہیں۔
پچھلے پندرہ سالوں میں تقریبا ساڑھے تین سو بچے بھی قتل کیے گیے۔ 2012 کی، سیو دا چلڈرن کی اک رپورٹ کے مطابق، 215000 بچے یتیم ہیں اور چونکہ گھر میں کمانے والا ہاتھ موجود نہیں، ان کی حالت اور حالات بھی قابل رحم ہیں۔ 2016 کے احتجاجی مظاہروں میں 10000 افراد کو چھروں والی بندوقوں سے نشانہ بنایا گیا اور سب سے چھوٹی عمر کے بچوں میں پانچ برس کی برینہ اور آٹھ برس کے ظفیر بھی شامل ہیں جو اپنے ابو کے ساتھ ایندھن خریدنے کے لیے گھر سے باہر نکلے اور نشانہ بن گئے۔
آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (افسپا) کے تحت تو ایسا بھی ہوا کہ بچوں تک کو گرفتار کیا گیا اور ٹی آر ٹی ورلڈ کی 4 مئی 2018 کی اک رپورٹ کے مطابق، 145 بچوں کو دوران گرفتاری جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
30 نومبر 2016 کو ڈان کی اک رپورٹ کے مطابق، دس لاکھ انڈین فوجی، کشمیر میں تعینات ہیں، جبکہ سکرول ڈاٹ اِن کے 21 جولائی 2016 کے اک تھریڈ کے مطابق یہ تعداد 700000 ہے۔ اگر سکرول ڈاٹ ان کی تعداد بھی مان لے جائے تو ہر 17 کشمیریوں پر، اک انڈین فوجی تعینات ہے۔
ریاستی مشینری انسانی حقوق کی پامالی کی خبروں کی کھوج کرنے والی تنظیموں اور افراد کو ہراساں کرتے اور بسا اوقات تشدد کا سامنا بھی بناتے ہیں تو کچھ کٹی پھٹی معلومات کے مطابق تقریبا تین ہزار خواتین ایسی ہیں جو ”نیم بیوائیں“ کہلواتی ہیں کہ ان کے خاوند اٹھا لیے گئے اور خاندان کو معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہیں یا قتل کر دیے گئے ہیں۔ 8000 سے زائد خواتین ”پوری بیوہ“ ہیں۔
سماجی اور انتظامی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ، جو ہر قسم کے سیاسی و معاشرتی تشدد کا اک فطری نتیجہ ہوتا ہے، کی صورتحال یہ ہے کہ کشمیر پولیس کے اہلکاروں کو ”آتنک وادی“ مارنے پر تقریبا تیرہ لاکھ انڈین روپوں تک کے انعام کا لالچ دیا جاتا ہے، اور ان روپوں کی لالچ میں وہاں پر اہلکار اور مقامی لوگ اپنی دشمنیوں کے بدلے بھی لے لیتے ہیں۔ انعام کے لالچ کا یہ اعلان کشمیر پولیس کے انسپیکٹر جنرل، جاوید مجتبیٰ گیلانی نے 12 فروری 2016 کو اک اخبار کو انٹروئیو دیتے ہوئے کیا۔
وہاں پر جاری ریاستی جبر اور سیاسی تشدد کیسے کشمیریوں کی نسلیں کھا گیا، اس کے لیے محترم بشارت پیر صاحب کی 2008 میں چھپنے والی اک کتاب، دا کرفیوڈ نائٹ کسی بھی حساس شخص کو رلا دینے کے لیے کافی ہے۔
وہاں جاری تشدد کو کسی بھی مقدس خیال سے جوڑ کر آپ اسے اپنی مرضی کا کوئی بھی نام دینے سے پہلے وہ حالات بھی ذہن میں لائیے جو پاکستان میں سنہ 2007 میں لال مسجد آپریشن کے بعد سے کم و بیش 2016 تک جاری ہے۔ ہزاروں مقتولین، ہزاروں زخمیوں کے علاوہ، نفسیاتی طور پر مضروب لاکھوں، شاید کروڑوں پاکستانیوں کا سوچیں گے تو خیال میں کچھ Clarity آئے گی۔
اب آئیے انڈین دفاع کی جانب۔ انڈیا کی فوج کی تعداد 14 لاکھ ہے، جبکہ 21 لاکھ ریزرو فوجی ہیں۔ ان کے علاوہ 13 لاکھ کے قریب پیراملٹری فورسز ہیں۔ 2017 میں انڈیا کا دفاعی بجٹ 53 ارب ڈالر تھا جو دنیا میں پانچویں نمبر پر تھا جو اب دس ارب ڈالر کے اضافے کے ساتھ 63 ارب ڈالر ہے۔ مگر یہ فوجی تیاری، کچھ اندازہ ہے کہ پاکستانی فوج کو ڈراتی نہیں، مزید تیاری کی جانب لے کر جاتی ہے۔ میرے خاندان اور حلقہءاحباب میں دو چار فوجی ہیں اور میں نے انہیں، اپنے باقی دوستوں کی طرح، انڈیا سے مرعوب یا خوفزدہ بالکل نہیں پایا۔ مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ٹکر مار دی جائے۔
پاکستان اور انڈیا کی مجموعی آبادی ایک ارب چون کروڑ لوگوں پر مشتمل ہے۔ دونوں ممالک کے پاس ایٹم بم کی صلاحیت موجود ہے۔ دونوں ممالک اپنی چار نسلیں جنگی جنون کی نذر کر چکے۔ دونوں ممالک اک دوسرے کو فوجی لحاظ سے نہ ہرا سکتے ہیں اور نہ ہی اک دوسرے پر قابض ہو سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج Battle Ready اور مضبوط افواج ہیں۔ دونوں ممالک کو اک دوسرے سے لڑنے کا تجربہ ہے، اور شاید شوق بھی، مگر یہ نقصان دہ شوق ہے۔ دونوں ممالک نے اپنے اپنے بچوں کو اپنی اپنی مرضی کی تاریخ کا شکار بنایا ہے جس کا نتیجہ باہمی نفرت میں نکل رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کر کے آگے بڑھنے کے کروڑوں مواقع موجود ہیں جن سے فائدہ نہ اٹھا کر دونوں ممالک ہی نقصان میں ہیں۔ دونوں ممالک میں مثبت ممکنات کی تعداد لامحدود ہے، دونوں ممالک ہی مگر ان ممکنات سے آنکھیں چرانے کے شوقین ہیں۔
ممکنات کے اس اوقیانوس میں چھلانگ مارنے کا مقصد اور مطلب یہ بالکل نہیں کہ کشمیر میں پچھلے تیس سال سے جاری شورش، تشدد اور قتل و غارتگری کو غیرضروری جان کر بہا دیا جائے، مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ یہ قتل و غارتگری اگلے تیس سال بھی جاری رہے۔ کشمیر میں ہونے والے ظلم کا اک طویل تاریخی پس منظر ہے، مگر اس ظلم کے جاری رہنے میں مجھے کوئی فائدہ یا مقصد نظر نہیں آتا۔ کشمیر کے قضیہ کی پہلی ذمہ داری انڈیا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ علاقہ جہاں مسلسل شورش ہے، اس کے سیاسی فریم ورک کا حصہ ہے، جب کہ دوسری سطح کی ذمہ داری پاکستان پر ہے کہ وہ اک تاریخی تنازعہ کا فریق ہے۔
دونوں ممالک کی ہیئت مقتدران کو معلوم ہے کہ جنگ سے اس مسئلہ کا حل نہیں ہوگا۔ جنگ سے دونوں ممالک کے مابین کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہو گا تو میں حیران ہوتا ہوں کہ ان ممالک کی اجتماعی سیاسی و فوجی دانش کیوں اپنے مسائل، بشمول کشمیر کا اک سفارتی و سیاسی حل تلاش نہیں کر پاتے؟ خون ہے کہ بہے چلا جاتا ہے۔ کبھی اِدھر، کبھی اُدھر!
شورش میں اک گھر ترقی نہیں کر پاتا، ڈیڑھ ارب سے زائد لوگوں کا یہ خطہ کیسے آگے بڑھے گا؟ کوئی سمجھائے گا، پلیز؟


