ہزارہ پاکستانیوں کے خلاف دہشت گردی: اک غیرمقبول خیال

آج کل ہزارہ پاکستانیوں کے حوالے سے پاکستان میں اک سوشل میڈیائی گفتگو جاری ہے، تو سوچا کہ ان کے قضیہ کے دو پہلو، جو میرے ذاتی تجربات ہیں، آپ تک پہنچاتا جاؤں۔ تو عرض کیا ہے کہ:

1۔ 2011 میں جب ملک شام میں ”عرب سپرنگ“ پہنچی تو مجھے میرے اک دوست، نوید صاحب نے آبپارہ میں پاکستان میں موجود شامی طلبا و طالبات سے گفتگو کرنے کا موقع فراہم کیا۔ وہ بے روزگاری کے دن تھے اور دانشوری کا بھوت سوار تھا۔ عین موجودہ پاکستانی سنت کے مطابق، اک ویہلا آدمی ہی دانشور ہو سکتا ہے تو خادم نے وہاں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنی اور شیعہ تفاوت کو چھوڑئیے اور کوشش کریں کہ آپ کے ملک میں جو بھی قانون جس بھی حالت میں موجود ہے، اس میں ہی رہ کر اپنے لیے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں۔

اپنے حقوق اور ریاستی جبر کے خلاف ہتھیار اٹھانا بے کار کی مشق ہے۔ میری یہی لائن تھی تو بچوں اور آرگنائزرز نے بلند آواز میں مجھے پھکڑ تولنے شروع کر دیے۔ مجھ سے پہلے، اک ائیرمارشل صاحب سمیت، تمام افراد شام میں در آنے والی عرب بہار کے حق میں تقاریر کر چکے تھے۔ میں ہی اک گندہ انڈہ تھا تو وہاں سے میں نے فورا بھاگنے میں عافیت سمجھی۔ شام میں کتنی اک بہار آئی ہے، یہ آپ سب جانتے ہیں۔

Read more

بلوچستان دھماکہ۔ اک غیرمقبول نقطۂ نظر

کوئٹہ میں آج صبح بم دھماکے میں 20 سے زائد افراد کے شہید اور 48 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اور کیا ہی شرم کا مقام ہے کہ میرے ہزارہ بھائی، پولیس کے پہرے میں اپنے علاقوں سے اپنی ضروریات کے لیے پولیس کے پہرے میں سبزی لینے آ رہے تھے، جب آلوؤں کی اک بوری میں چھپائے ہوئے بم کو، شاید ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے شہریوں کو امن و امان سے زندہ رہنے کی ضمانت اور موقع فراہم کرنا، ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اور ہر ریاست یہ ذمہ داری، قانون لاگو کرنے والے اداروں کے ذریعہ ادا کرتی ہے۔ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، اکبربگتی صاحب کی شہادت کے بعد سے مسلسل گولیوں اور دھماکوں کی زد میں ہیں۔ اس حماقت میں پہل ریاست نے کی جب مشرف صاحب، جو آج کل دبئی میں عافیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، نے اک سیاسی معاملہ کو ذاتیات کے دائرہ میں گھسیٹ لے جا کر اپنے تئیں ”حل“ کرلیا۔

Read more

بلوچستان دھماکہ – اک غیرمقبول نقطہ نظر

کوئٹہ میں آج صبح بم دھماکے میں 16 سے زائد افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اور کیا ہی شرم کا مقام ہے کہ میرے ہزارہ بھائی، پولیس کے پہرے میں اپنے علاقوں سے اپنی ضروریات کے لیے سبزی، جی ہاں، پولیس کے پہرے میں سبزی لینے آ رہے تھے، جب آلوؤں کی اک…

Read more

نیوزی لینڈ مسجد پر حملہ: پاکستان میں جلدی سے کرنے والے چھ کام

کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر حملے کے نتیجے میں ابھی تک کی خبروں کے مطابق 49 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ زخمیوں کی درست تعداد فی الحال معلوم نہیں۔ معلوم تو یہی ہورہا ہے کہ یہ حملہ دہشتگردی کی ہی نیت اور پلاننگ کے تحت کیا گیا، اور اس میں کارروائی کرنے والے دو افراد تو بہرحال شامل تھے۔ جوں جوں وقت گزرے گا، تحقیقات آگے بڑھیں گی تو عین ممکن ہے کہ Sleeper Cell بھی سامنے آ جائیں۔

ہمارے ملک کی تاریخ رہی ہے کہ مسلمانوں پر دنیا میں کہیں بھی ہونے والے ظلم پر، پاکستان میں بسنے والے غیرمسلموں کی آبادیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ان حملوں میں سینکڑوں شہادتیں بھی ہو چکی ہیں۔ یہ رویہ بہت ہی شدت والا غلط ہے اور پاکستان کی مسلم اکثریت میں سے کسی کو بھی ایسے رویے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور بالکل بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان میں بسنے والے غیرمسلم، پاکستانی ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ پاکستانی سیاست کی ذمہ داری ہیں۔ پاکستانی معاشرت کی ذمہ داری ہیں، اور دنیا میں کہیں بھی ہونے والے ظلم کا بدلہ ان سے لینا بھی ظلم، بدنیتی، نا انصافی اور دہشتگردی ہے۔

Read more

فیاض چوہان صاحب، اثاثہ نہیں، بوجھ ہیں

مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کی بہاریں ہیں، جو محترمی جنرل ضیا الحق مدظلہ علیہ کہ مہربانی سے وطن عزیز کے ذہین لوگوں پر پچھلے چالیس برس سے طاری ہیں۔ جیسے ہی مجھ جیسے گمراہ لوگ مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کا نام لیتے ہیں تو میرے وطن کے محب الوطن اور پاکباز فورا سے بھی پہلے جذباتیت میں ردعمل دے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان علامات پر بات کرنا ہی آپ کو کم محب الوطن اور اک کمزور مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔میں تعلیمی ماہر تو نہیں، مگر میرے خیال میں تو پرائمری جماعت کے بعد سے یہ دونوں مضامین بچوں پر بوجھ ہی ہیں۔ مجھ پر بھی تھے اور اب میری بیٹیوں پر بھی ہیں۔ اک گمراہ خیال ہے کہ ان مضامین کی مسلسل تکرار کی مطلب تو یہی ہے کہ ہمارے بچے سولہ سولہ برس کی تعلیم کے باوجود بھی اچھے پاکستانی اور پکے مسلمان نہیں بن پاتے۔ تو لہذا ان دونوں مضامین کی گُھٹیاں زبردستی دیتے چلے جانا بہت ضروری ہے۔

Read more

پاک۔ بھارت کشیدگی۔ الباکستانیوں کے لیے چار سبق

جذباتیت کا اک گندا نالہ تھا، جو بھارت نے بہا دیا۔

اس نالے سب سے پہلے میں جاوید اختر بہے، شبانہ اعظمی بہیں۔ پریانکا چوپڑا بہہ نکلیں۔ رنویر سنگھ نے بھی خوب ڈُبکیاں لگائیں۔ اجے دیوگن بھی مونچھوں پر کڑوا تیل ملے نظر آئے۔ ٹنڈولکر صاحب بھی ”ہندوستانی حملے“ پر خوشی سے پھوٹ پڑے۔ اپنی باقی ماندہ ساری عمر شناختی بحران میں زندہ رہنے پر مجبور، عدنان سمیع خان بھی بالا کوٹ پر ہندوستانی سینا کے یُدھ پر خوشی کے پھولے نہیں سما رہے تھے۔

اور یہ تمام کے تمام وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے پیشوں کے حوالے سے ”امن کے پیامبر، خوشیاں بانٹنے والے“ وغیرہ وغیرہ ہیں۔ یہ ان جیسے امن پسندوں کا حال تھا، تو جو بھارتی جنگ پسند ہیں، ان کی ٹھاٹھیں آپ خود ہی تصور کر لیجیے۔

Read more

انڈیا کا ”حملہ:“ میں عمران، جوان اور جرنیلان کے ساتھ ہوں

پاکستان سے بھاگ نکلنے والے ”ترقی پسند“ دانشوران، اور پشتون تحفظ تحریک کے چند ارکان علاوہ خود ترحمی کے مارے ہوئے ڈیڑھ پنجابی دانوں اور مقامی سرخیلوں کے برعکس، راقم حضرت میکاولی کے خیال سے جنم لینے والی کلاسیکی ریاست کا حامی ہے اور اس کی غلطیوں میں سے لطف کشید نہیں کرتا۔

لطف کشید نہ کرنے کی وجہ ذاتی لالچ پر بنیاد کرتی ہے اور کلاسیکی ریاست کے وجود کے قائم رہنے کے حوالے سے اک قومی اعتماد پر بھی۔ ذاتی لالچ اس لیے کہ راقم چونکہ دانشور نہیں تو لہذا موقع اور وسائل رکھنے کے باوجود پاکستان سے بھاگ نکلنے کا کوئی شوق نہیں اور ارادہ بھی نہیں۔ اور ریاست کے وجود سے جڑا قومی اعتماد اس لیے کہ پچھلے چالیس سالوں میں افغان، وسطی ایشیائی، صومالی، کانگوی، سرے لئیونی، فلسطینی، بوسنیائی، عراقی، شامی اور یمنی ریاستوں کے گرنے کی وجہ سے ان کے شہریوں کی دربدری دیکھ رکھی ہے۔ ان تمام ریاستوں کا قومی وجود اور نقشہ تو آج بھی ویسے کا ویسا ہی قائم ہے، کیا وہاں ریاستیں موجود ہیں؟ اس کا جواب آپ خود ہی تلاش کر لیجیے۔

Read more

انڈیا کا ”حملہ:“ میں عمران، جوان اور جرنیلان کے ساتھ ہوں

پاکستان سے بھاگ نکلنے والے ”ترقی پسند“ دانشوران، اور پشتون تحفظ تحریک کے چند ارکان علاوہ خود ترحمی کے مارے ہوئے ڈیڑھ پنجابی دانوں اور مقامی سرخیلوں کے برعکس، راقم حضرت میکاولی کے خیال سے جنم لینے والی کلاسیکی ریاست کا حامی ہے اور اس کی غلطیوں سے لطف کشید نہیں کرتا۔ لطف کشید نہ…

Read more

پلوامہ میں بہتا ہوا بھارتی خون مجھے پریشان کرتا ہے

کل بھارتی کشمیر میں اک فوجی بس پر حملے کی ذمہ داری نیٹ پر گردش کرتی ہوئی ایک ویڈیو کے مطابق جیشِ محمد نے قبول کی ہے۔ جیش محمد نے اس بارے میں کوئی تردیدی یا تصدیقی بیان آفیشلی جاری نہیں کیا ہے۔ جیش کے سالار، محترم مولانا مسعود اظہر صاحب ہیں اور سنہ 2000 میں جیش کو بنانے میں جناب مفتی نظام الدین شامزئی کا بھی بہت بھرپور کردار رہا تھا۔ بعد میں وہ بہرحال پچھتائے اور دیگر معاملات کے ساتھ، اپنے پہلے والے نظریات سے رجوع کرنے کی قیمت انہوں نے اپنی جان دے کر ادا کی۔

جیشِ محمد کی بنیاد اس وقت کی حرکت المجاہدین، جو پہلے حرکت الانصار تھی، کی زمین پر اٹھائی گئی تھی۔ حرکت المجاہدین کے تب کے امیر جناب مولانا فضل الرحمٰن خلیل تھے اور یہ تب کے زمان و مکاں کے تناظر میں کاسٹ اینڈ بینیفٹ کا سلسلہ تھا۔ جیشِ محمد نے حرکت کے مقابلے میں کم خرچ بالا نشین کی آپشن فراہم کی تھی۔

Read more

پلوامہ میں بہتا ہوا بھارتی خون مجھے پریشان کرتا ہے

کل بھارتی کشمیر میں اک فوجی بس پر حملے کی ذمہ داری نیٹ پر گردش کرتی ہوئی ایک ویڈیو کے مطابق جیشِ محمد نے قبول کی ہے۔ جیش محمد نے اس بارے میں کوئی تردیدی یا تصدیقی بیان آفیشلی جاری نہیں کیا ہے۔ جیش کے سالار، محترم مولانا مسعود اظہر صاحب ہیں اور سنہ 2000…

Read more