تحریک عدم اعتماد اور ملک گیر احتجاج کی کال: کل کیا ہو گا؟

اس سوال کا مختصر ترین جواب تو یہ ہے کہ ”کل عدم اعتماد ہو گا اور بہت امید ہے کہ دیسی مسولینی اپنے گھر جائیں گے۔“ مگر تھوڑی سی بات اس سراسیمگی پر جو سوشل میڈیا پر پھیلی ہوئی ہے جس میں مزید اضافہ جناب عمران نیازی صاحب نے ابھی چند منٹ قبل خطاب نے کیا جب انہوں نے ”نوجوانوں“ کو ملک گیر احتجاج کی کال دی اور پاشا تحریک انتشار کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس انہیں کل ڈی۔ چوک، اسلام

Read more

عمران نیازی مستقبل کے میاں اظہر ہیں

صاحبان، اصل والی سیاست میں معجزات نہیں ہوتے۔ اصل والی سیاست میں سیاستدان گلی گلی پھرتے، لوگوں کی پھٹکار سہتے اور پھر کئی برسوں بعد اس قابل ہوتے ہیں کہ ریاست کے سنجیدہ معاملات کو سمجھ سکیں۔ ہاں مگر، آپ کی ”قمر“ پر اگر ”پشوری لالے“ کا ہاتھ ہو تو حمید گل مرحوم کا 1997 میں شروع کردہ نوائے وقت والا ”نرم انقلاب“ سیٹھ میڈیا کی طاقت سے اٹھارہ لوگوں کے مجمع کو 2014 میں بیس بیس گھنٹوں کی کوریج

Read more

عمران نیازی صاحب کا جانا کیوں ضروری ہے؟

سوشل میڈیا پر اک گفتگو چل رہی ہے کہ ساڑھے تین برس تو نکال لیے، اگلے ڈیڑھ بھی نکل جانے تھے تو لہذا متحدہ اپوزیشن کو عمران نیازی صاحب کو عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے نکالنے میں کوئی حکمت موجود نہیں۔ میرے خیال میں، جس کی کم از کم میرے لیے تو اہمیت ہے، انہیں طاقت کی پوزیشن سے نکالنا اک بڑی اور چار اس سے جڑی ذیلی وجوہات کی بنا پر بہت ضروری ہو چکا تھا۔ 1۔ فوج

Read more

ریاست کے سگے کیا ایسے کرتے ہیں؟

مؤرخہ 4 اپریل کو پاکستان کے موجودہ وزیرخزانہ، جناب شوکت ترین نے قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف سے 2019 میں کیا جانے والا معاہدہ پاکستان کے ساتھ ”اک بڑا ظلم اور نا انصافی“ ہے۔ قوسین میں الفاظ انہی کے ادا کردہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے موجودہ معاہدے کے تحت، پاکستان اپنے کسی ترقیاتی پروگرام پر اگلے تین برسوں تک قطعاً کوئی عمل نہیں کر پائے گا، اور اگر یہ معاملات ایسے ہی چلتے رہے اور سالانہ جی ڈی پی 5 فیصد تک نہ آیا تو پھر ملک کا ”اللہ ہی حافظ“ ہے۔

اس کمیٹی میں اپنے بیان میں انہوں نے یہ بھی اک دلچسپ لطیفہ سنایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے اہلکار انہیں پچھلے دس برسوں سے تنگ کر رہے تھے، اور انہوں نے اک مرتبہ بھرپور فائل بنا کر سرکاری افسران کو دی، تو وہ فائل ان افسران نے ”گما دی۔“

Read more

مریم نواز، میں آپ سے مخاطب ہوں

مریم نواز، میں محمد مبشر اکرم بٹ، اک پاکستانی شہری، آپ سے مخاطب ہوں۔ اور اس لیے ہوں کہ میں اپنے وطن سے محبت اور آپ کی بطور سیاست دان قدر کرتا ہوں۔

آپ کی آج کی پریس کانفرنس اور آپ کے والد صاحب کے ویڈیو بیان نے شدید تشویش میں مبتلا کر ڈالا ہے۔ اس لیے کہ میں اپنی عمر میں ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے قتل دیکھ چکا ہوں اور اپنی 49 سالہ زندگی میں سے 35 سال براہ راست یا بالواسطہ مارشل لاء کے دیکھے ہیں۔ ان میں جنرل ضیا کے 11 برس، 1988 سے لے کر 1999 تک کا پتلی تماشا ، 1999 سے 2008 تک جنرل مشرف کا مارشل لاء اور پھر پچھلے تقریباً 3 برس کی موجودہ حکومت۔

Read more

اعتماد کا ووٹ اصل میں بدلتا کیا ہے؟

زندگی گزارنے کے حوالے سے مشہور مینیجمنٹ پریکٹیشنر، سٹیو کوی نے اک کتاب تحریر کی تھی جس میں پراثر اور کامیاب لوگوں کی سات عادات کا تذکرہ تھا۔ اس میں سے ایک عادت یہ تھی کہ کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے، اس کے اختتام پر نظر ہونی چاہیے۔ زندگی کے دباؤ میں یہ اصول عموماً نظروں اور ذہن سے اوجھل ہو جاتا ہے، مگر ذاتی یا پیشہ وارانہ بحران میں اس کا یاد آ جانا عمومی تسلی کا باعث بنتا ہے۔

پچھلے دو ہفتوں سے پاکستانی سیاست بہت گرم ہے۔ سینیٹ کے الیکشنز تھے اور اس میں اک سیٹ، پاکستان کے اک محکمے کی کبھی ڈھکی اور کبھی کھلی مدد رکھنے والی جماعت کے ہاتھ سے نکل گئی۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس کے طوفان نے اک ایٹمی ریاست پر بظاہر حکمرانی کرنے والے شخص کو اتنا جذباتی اور غصیلا کر دیا کہ انہوں نے خود سے ہی اعتماد کا ووٹ لینے کی ٹھانی۔

Read more

”ڈسکہ ڈانس“ اور پاکستانی امور سے لاتعلقی کیوں ضروری ہے؟

میں اس برس اپنی عمر کے 50 ویں برس میں داخل ہو جاؤں گا۔ تین روز قبل ڈسکہ میں الیکشن کے دوران، اسلامی جمہوری اور ایٹمی ریاست میں ہونے والے تماشے نے خیال کا ایک دائرہ شروع کیا، جو ابھی تھوڑی دیر قبل مکمل ہوا تو، اپنے جیسے غریب گھروں سے تعلق رکھنے والے، یا غربت کا پس منظر رکھنے والوں کے نام، کہ جن کی اکثریت ہے، پورے خلوص سے کچھ تحریر کرنے کا سوچا۔ تو یارو، یہ تمھارے نام ہے۔ پڑھ لو، باقی مرضی تمھاری ہے۔

میں پانچ برس کا تھا جب جنرل ضیاء کا مارشل لاء پاکستان پر نازل ہوا۔ اپنے ابو کے پہلو میں بیٹھے، گلی امرتسریاں ملکوال میں، باجی نگو اور (جگت) خالہ کے گھر بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی جنرل ضیاء کو سیاہ عینک پہلے، اپنے سیاہ نامہ اعمال کا آغاز کرتے ہوئے دیکھا۔ بہت مبہم سی یاد، مگر موجود ہے۔ جب جنرل ضیاء کا سایہ، خدا کے فضل و کرم سے، میرے وطن پر سے آموں کی ایک پیٹی کے طفیل اترا، میں 16 برس کا ہو چکا تھا، اور ان 11 برسوں میں پاکستان فی الحال کی گھڑی تک تو بدلا جا چکا تھا۔

Read more

فواد چوہدری اور بلوچ: بات کچھ غلط تو نہیں

کل سے فواد چوہدری صاحب کی اک ٹویٹ پر فیشن ایبل طوفان جاری ہے۔ چوہدری صاحب نے یہ کہا کہ بلوچ مائیں پنجاب میں احتجاج کر سکتی ہیں، یہاں شناختی کارڈ دیکھ کر کوئی گولی نہیں مارے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن پنجابی ماؤں کے بچوں کو ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر گھسیٹ کر گولیاں مار دی گئیں، ان کے دکھوں کا کیا کیا جائے۔

فواد چوہدری صاحب کوئی بہت زیرک یا بہت قابل احترام ادبی شخصیت نہیں ہیں کہ جن سے اک خاص ادبی معیار کی تخلیقات متوقع ہوں۔ وہ سیاستدان ہیں اور انہیں اپنی رائے کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ عین اسی طرح، جیسے ان کی اس بات کے جواب میں احباب اپنے آرا دے رہے ہیں۔ گو کہ ہمارے مقتدر طبقات پاکستان کو برما، شمالی کوریا اور مصر بنانے کی بھرپور پرانی کوشش کر رہے ہیں، مگر ابھی تک تو، کم از کم، رائے زنی کی حد تک تو بری طرح سے ناکام ہیں۔ پاکستانیوں نے مزاحمت، جہاں کہیں ممکن ہو سکی، کی، اور کثیر الجہت معاشروں میں ایسے ہی چلتا ہے۔

Read more

کیا ادب کا مسلک ہو سکتا ہے؟

پرسوں اپنے اک دوست، علی سجاد شاہ سے اک مختصر بات ہوئی تو اس میں علی اکبر ناطق کی حالیہ کتاب، کماری والا، پر پاکستانی شیعیت کی چھاپ کا حوالہ ابھر کر سامنے آیا۔ باوے سے عرض کیا کہ (ماخوذ) اک لکھاری کو اس کے مسلک کا حق حاصل ہے اور ادب کو مسلک کی گفتگو سے ماورا اور الگ رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ شاہ جی اور میں اکثر اختلاف کر بھی جائیں تو بھی یہ مہذب ہی رہتا ہے، اور ایسا ہی رہے گا بھی۔ تعلق کے علاوہ اخلاق کا تقاضا ہے کہ بات کہہ کر آگے بڑھ جایا جائے، اور نہ کہ بات کی چیونگم بنا لی جائے۔

Read more

کریمہ بلوچ اور دلیل کا مقدمہ

خادم کا بنیادی مقدمہ عقلیت اور دلیل ہے۔ اور اس کی اک بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ اب ہر قسم کا لیجنڈ اپنی بنت میں احمقانہ محسوس ہوتا ہے۔

بہن کریمہ بلوچ مبینہ طور پر 20 دسمبر کو ٹورنٹو سے غائب ہوئیں اور پھر دو دن بعد ، یعنی 22 دسمبر کو ان کی لاش ملی۔ خادم ان کے سیاسی مقدمے میں دو رخ دیکھتا ہے :

Read more

عمران خان کی سیاست کو سمجھنا ناممکن کیوں ہے؟

یارو، عمران خان صاحب کی سیاست کو سمجھنا مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہے۔ آپ کو معلوم ہی نہیں ہو گا، مگر میں بتاتا ہوں کہ چند دن پہلے جناب زلفی بخاری پاکستان سے واپس برطانیہ کیوں گئے تھے۔ اس سوال کا جواب آپ کل میاں صاحب کی تاریخی تقریر میں تلاش کر سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان صاحب نے گورننس اور معیشت میں اپنے کامیابی اور شاندار مہارت کے جب جھنڈے گاڑ دیے تو ہی انہوں نے اس بات کا فیصلہ کیا تھا کہ یہ وقت مناسب ہے کہ سیاست کے میدان میں بھی شانداریت کی معراج پر پہنچا جائے۔

جناب عمران خان صاحب نے، بھولے بھالے، میاں صاحب کو عین اپنے اس مقصد کے لیے استعمال کیا کہ سیاستدانوں اور پاکستان میں سیاست کی آزادی کا اک بھرپور مقدمہ عوام کے سامنے رکھا جائے اور عوام کو اس بات کا شعور مزید فراہم کیا جائے کہ عمران خان صاحب، پاکستان کی انتظامی، معاشی اور اب سیاسی بقا کے لیے بھی کتنے اشد ضروری ہیں۔

Read more

مریم نواز کی حمایت کیوں ضروری ہے؟

صاحبو، بنیادی مقدمہ پاکستان میں سیاسی جمہوریت کی طرف پیشقدمی اور پھر اس کے قیام کا ہے۔ بے دماغ انقلابی احباب اکثر سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ موجودہ بلغم زدہ نظام کی مخالفت، اس کو جمہوریت تسلیم کرنے سے انکار، یا پھر اس پر تنقید، ہم جیسوں کو پٹواری یا جیالا ثابت نہیں کرتی۔ وہ جو کہ سنہ 1977 سے اس ملک میں سیاسی مداخلتوں کے تماشے دیکھتے چلے آئے ہیں، اب وہ، مجھ سمیت، تھک چکے ہیں۔

بہت سال قبل، محترمہ ثمینہ پیرزادہ نے، جناب محمد رؤف صاحب کے پروگرام، 50 منٹ میں اک بار بہت جذباتی انداز میں کہا تھا کہ: ہم اس خطے اور دنیا میں عزت اور وقار سے جینا چاہتے ہیں۔

بات صرف اور صرف یہی ہے۔ کوئی دوسری بات نہیں۔

Read more

میز، سیاستدان، جنرل صاحبان اور پاکستانی

کل پاکستان کے محترم صحافی، جناب طلعت حسین صاحب کی دو تین ٹویٹس تھیں جن میں خبریت سے کہیں زیادہ جذباتیت تھی۔ ان ٹویٹس کے سکرین شاٹس موجود ہیں۔ آپ بھی پڑھ لیجیے۔ پڑھیں گے تو اک امپریشن ایسا ملے گا کہ جناب جنرل باجوہ صاحب اور جناب جنرل فیض صاحب نے ہاتھ میں بید پکڑ رکھے تھے اور ساری کی ساری سیاسی لیڈرشپ کو کان پکڑوائے رکھے۔ اور مزید یہ کہ بہت ہی سخت افسوس کی بات ہے کہ

Read more

شیعہ اور سُنی نوجوان عقل کا دامن پکڑیں

یہ ستمبر 2012 کی بات ہے۔ میری شدید مشکلات کے دن تھے اور اسلام آباد جیسے شہر میں زندہ رہنے کی جہد میں مبتلا تھا۔ انہی دنوں، میں اسلام آباد سے شائع ہونے والے اک انگریزی اخبار میں کالم نویسی کرتا تھا۔ ستمبر کے مہینے میں ڈنمارک میں شائع ہونے والے اک اخبار میں آقا محمدﷺ کے خاکوں کے خلاف اسلام آباد میں احتجاج کا موسم تھا۔ میں اس معاملہ کو اک طالبعلم کی حیثیت سے دیکھ رہا تھا۔

انہی دنوں اک بڑے احتجاجی جلوس کا اعلان ہوا تو میں نے سوچا کہ جلوس کا حصہ بن کر، اس کے شرکاء سے گپ شپ کرتے ہوئے ان کے خیالات کے بارے میں تو کچھ جانا جائے۔ میں فیض آباد سے جلوس کا حصہ بنا اور راول ڈیم چوک تک ساتھ رہا۔ اس جلوس میں میری تقریباً ایک درجن شرکاء سے گفتگو رہی، اور میں یہ بات حلفا کہہ رہا ہوں کہ ان تمام کو موضوع کی جزئیات کا کچھ معلوم نہ تھا اور وہ راولپنڈی کے اک محلہ، صادق آباد سے مولوی صاحب کے کہنے پر جلوس کا حصہ بنے تھے جس کے اختتام پر انہیں پلاؤ کھلایا جانا تھا۔

Read more

واہ فرانس، آہ پاکستان!

صبح سے لاہور موٹر وے ریپ پر تقریباً 99.9 ٪ سوشل میڈیا ایک ہی سمت میں بہہ رہا ہے۔ اس بہاؤ کے بیانیہ کے تحت پاکستان شاید ”ریپستان“ ہے اور یہاں گویا ہر طرف مرد حضرات اسی ایک فعل میں مصروف ہیں۔

صبح سے اس پر صرف ایک ہی بات کی ہے کہ ہر قسم کا جرم اک گھناؤنا فعل ہوتا ہے، اور بالخصوص ایسے جنسی جرائم کہ جن میں ایسی بے بسی، مجبوری اور خود پر گرتا ہوا قہر محسوس کیا جائے، وہ گویا سینہ چیرے چلے جاتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ پنجاب پولیس ایسے جنسی جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ کرتی کیا ہے اور وہ جو کرتی ہے، بہت معذرت، مجھے، موجودہ پاکستانی عدالتی نظام کی موجودگی میں، اس پر کچھ زیادہ اعتراض کرنا بنتا بھی نہیں۔

Read more

پاکستان بمقابلہ اسرائیل: جناب، آپ کی اوقات ہے کیا؟

مجھے سنہ 2011 میں اسلام آباد کی اک یونیورسٹی نے پاکستان کی سماجی ترقی اور سیاسی معاملات کے حوالے سے اک راؤنڈ ٹیبل میں مدعو کیا۔ میری گفتگو کے بعد، اپنی تعلیم کے سولہویں برس میں موجود ذہین پاکستانی طالبعلموں میں سے ایک نے سوال داغا کہ مغربی ممالک اور ادارے، بالخصوص وہ جو ”یہودیوں اور عیسائیوں“ کا ایجنڈا پاکستان میں لاگو کرنا چاہتے ہیں، وہ پاکستان کی سماجی ترقی اور سیاسی معاملات میں سٹیبلٹی کی خواہش کیوں کرتے ہیں؟

میں نے جواب میں سوال داغا کہ آپ خود اپنے سوال کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟ جواب میں آئیں بائیں شائیں۔ میں نے اپنا سوال اک بار پھر دہرایا اور کہا: ”میرے نوجوان دوست، سوال کی بھی حرمت ہوتی ہے، اور اس حرمت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کو خود اپنے سوال کے بارے میں پتا ہو۔ میں یہاں اک ’انفارمڈ ڈسکشن ‘ کے لیے آیا ہوں، اپنا اور آپ کا وقت ضائع کرنے نہیں۔“ میرے اس آرگیومنٹ کے جواب میں اپنی تعلیم کے سولہویں برس میں موجود ذہین طالبعلم، خواتین طالبات سمیت، اک دم ”مہذب“ بھی بن گئے اور مجھ پر ہوٹنگ شروع کر دی۔ میں خاموش بیٹھا رہا۔ ماڈریٹر نے ماحول تھوڑا قابو کیا، اور پھر پچھلے دس برسوں میں مجھے دوبارہ مدعو نہ کیا۔ میں نے بھی وہاں جانا قطعاً مس نہ کیا۔

Read more

ہم فوج کے نہیں، سیاست میں مداخلت کے مخالف ہیں

اس تمام کائنات میں انقلاب کے کل تین دبستان اور معیار موجود ہیں۔ اک کارل مارکس کا ہے اور دو جناب آصف محمود اور جناب عامر ہاشم خاکوانی صاحب کے۔ ان تین کے علاوہ، انقلاب نہ تو کسی نے چاہا ہے، نہ لکھا ہے اور نہ ہی بعد از کسی نے نوچا ہے۔ خیر مارکس تو بعد از انقلاب نوچنے کی کیفیت سے پہلے ہی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ باقی دو دبستان چونکہ وطن عزیز میں موجود ہیں،

Read more

دوست کی بیٹی کو کورونا، اللہ میاں سے گلہ اور گزشتہ الیکشن

میرے اک قریبی دوست کی بیٹی کو کرونا ہو گیا ہے۔ آج اس بیماری سے لڑتے ہوئے ہماری بیٹی کو تیسرا دن ہے اور ان کی صحت و حالت درست نہیں۔ رینڈم نیس اور بے مقصدیت کے بنیادی اصولوں پر چلتی ہوئی اس دنیا میں، ویسے ہی رینڈم اور بے مقصد انسانی زندگی کے پیراڈائم میں، ہماری بیٹی کے لیے اگلے چند دنوں میں کیا موجود ہے، میں نہیں جانتا۔ مگر اس معاملہ نے بہت شدت والا غم دے ڈالا ہے اور ذہن پر بہت دباؤ کی کیفیت ہے۔

Read more

فوج کے سیاسی کردار سے بیزاری بڑھ رہی ہے

آج تک ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ فوج کے سماجی و سیاسی کردار سے جڑے ہوئے معاملات پر بات کی ہو تو کسی دوست نے بھلے مذاقا ”ویگو ڈالے“ والا جملہ نہ کسا ہو۔ جب ایسے اظہارئیے، عام معاشرت میں در آئیں، تو معاشرے بھلے مہذب نہ بھی ہوں، مگر مہذب ادارے اور ان کے فیصلہ ساز بہرحال سرجوڑ بیٹھتے ہیں کہ کرنا کیا ہے۔ ادارے، بھلے وہ بلدیہ ملکوال کا محکمہ صفائی ہو، یا جی ایچ کیو

Read more

یہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے بھائی؟

میرا ماننا ہے، مشاہدہ اور تجربہ بھی ہے کہ سیاست میں معاملات خود بخود یا ایویں ہی میں نہیں ہو جایا کرتے۔ بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو پردہ سکرین پر ظاہر نہیں ہوتا، مگر موجود ہوتا ہے۔ اس کے پردہ سکرین پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے، اس کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہوتا۔ تھوڑا سنجیدہ خیال ہے کہ پاکستان میں اس وقت بہت عمدہ، شاندار اور میرے خیال میں تاریخی اہمیت کی گریٹ گیم کھیلی جا

Read more

خیال کیجیے، پاکستان بکھر رہا ہے

میں اکثریتی معاملات میں اک غیرجذباتی شخص ہوں۔ زندگی میں اب شغل میلے پر یقین رکھتا ہوں۔ اپنی بساط اور اوقات سے بڑے معاملات پر سوچ بچار یا جاری شدہ کسی بھی بڑے بھنور میں، بھلے بھرپور خلوص کے ساتھ ہی، کود پڑنا شدید ترین حماقت تصور کرتا ہوں۔ مجھے اپنے اور پرائے اس طبیعت کی وجہ سے سناتے بھی رہتے ہیں۔ میں سنتا بھی رہتا ہوں مگر جاری شدہ کسی بھی ”ٹرینڈ“ کے گزر جانے کے بعد، سوشل میڈیا

Read more

موجودہ پاکستانی سیاست: آئیے "اینجائے کریں!”

پچھلے چند روز میں جناب پرویز الہٰی اور جناب شجاعت حسین صاحب اک دم ہی ابھر کر پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر سامنے آئے ہیں اور سیٹھ میڈیا کا ٹی وی اک بار پھر پاکستان میں بونوں کی تشکیل کر رہا ہے۔ چوہدری برادران نے سرعام کہا ہے کہ وہ عمران نیازی صاحب کو کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو کسی بھی شرط کے بغیر باہر جانے کی اجازت دی جائے۔ ان کی اس بات پر احباب اپنی

Read more

مجھے کیلا کھانے پر اعتراض نہیں

ملک خضر حیات میرے دوست ہیں۔ ان کا تعلق پنڈی گھیپ کے اک نواحی دیہات سے ہے جہاں ان کی ہمشیرہ، خواتین کے اک پولنگ سٹیشن میں پولنگ ایجنٹ تھیں۔ الیکشن کے وقت کے اختتام کے بعد، انہیں زبردستی گھر بھیج دیا گیا۔ ان کے پولنگ سٹیشن کا نتیجہ اگلے دن تیار کر کے ان کے حوالے کیا گیا۔ گوجرانوالہ کے اک سیاسی رہنما میرے دوست ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے کئی پولنگ سٹیشنز کا رزلٹ رات ساڑھے

Read more

مولانا کا آزادی مارچ: جسے مات ہو، وہ گھر جائے!

آئیے ذرا آج کے دن مولانا فضل الرحمٰن کے لانگ مارچ سے قبل کے حالات کا اک طائرانہ جائزہ لیتے ہیں۔ یہ جائزہ احباب کو آج کے دن کی صورتحال سمجھنے میں مدد دے گا۔ پاکستان میں سیٹھ میڈیا پر پاکستانی شہریوں اور بالخصوص پاکستانی سیاستدانوں کو ڈی-ہیومینائز، یعنی ان کو اوسط انسان کے درجے سے کمتر "مخلوق” دکھانا، کرنے کا عمل پرانا ہے۔ یہ کام پہلے جب صرف پی ٹی وی تھا، کچھ کم درجے کا تھا۔ مگر سیٹھ

Read more

ٹویوٹا فارچونر اور فرشتوں کا معاشرہ

پچھلے دو دنوں سے موٹروے پر ٹویوٹا فارچونر کے حوالے سے معاملات کو پڑھ رہا ہوں۔ گھومتے پھرتے وٹس ایپ پر وہ ویڈیو مجھ تک بھی آن پہنچی۔ تجسس تھا تو دیکھ لی۔ اس میں اک بہت ہی مبہم سا اشارہ ہے کہ جس واقعہ کی طرف انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں، وہ ہو رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ، جنس کے ساتھ جڑے اس واقعہ کے نہ ہونے کی بھی اتنی ہی مضبوط دلیل ہے۔ احباب نے ٹویٹر

Read more

فوج کو سوچنا ہو گا، زخم بہت گہرا ہوتا جا رہا ہے

یہ خیال، اک الگ موضوع کا تقاضہ کرتا ہے، مگر سامنے کی تین چار باتیں احباب کی نذر ہیں۔ پاکستانی فوج، یعنی پیادہ فوج کی سیاست میں مداخلت، اور یہ میں نہیں صالح ظافر صاحب کی خبر کہہ رہی ہے، اس بار بھی پاکستان کے حق میں نہ رہی۔ آرمی چیف نے مولانا کو بلایا۔ مولانا نے جا کر سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا۔ مگر ظاہراً بات نہ بن سکی۔ ظافر صاحب کی خبر کے مطابق تو یہ رہا کہ

Read more

میں 47 سال کی عمر میں کیا سوچتا ہوں؟

چند دن بعد، میں اپنی عمر کے 47ویں سال میں داخل ہو جاؤں گا۔ گویا نصف سنچری سے صرف تین سال اِس طرف۔ اس موقع پر، میری پارٹنر، عترت اسد اور میرے عزیز دوست، جواد شکیل، جس کو میں دلہا میاں کے نام سے یاد کرتا ہوں، نے پوچھا کہ میں اوسطا مہیا کی گئی زندگی کا اک بڑا حصہ گزار لینے پر کیا سوچتا ہوں؟ وعدہ کیا کہ کچھ تحریر کروں گا۔ اگر تحریر کرنے بیٹھوں تو تجربات، مشاہدات

Read more

پاکستان، کشمیر پر کچھ بھی نہیں کر سکتا

آپ کے جذباتی خیالات، آپ کو اک ذہنی و روحانی لذت بھلے دیتے ہوں، مگر یہ آپ کی زندگی کے موجود اور دانت نکوستے ہوئے مسائل حل نہیں کرتے۔ یہ دنیا معیشت سے جڑی سیاسیات، اور سیاست سے جڑی معاشیات کی دنیا ہے۔

آپ کی جذباتیت بھلے لال قلعے اور یروشلم پر سبز ہلالی پرچم لہرواتی پھرے، مگر آپ کے خیال سے اختلاف کرتا ہوا ڈیٹا کا اک سٹروک، آپ کے جذبات کے درجنوں تربیلا ڈیمز پر بھاری ہے۔ تو آئیے، ذرا انڈیا اور پاکستان کے ڈیٹا کی دنیا میں چلتے ہیں۔

Read more

پروپیگنڈہ کیا ہوتا ہے اور یہ کرتا کیا ہے؟

آئیے، پہلے جانتے ہیں کہ پروپیگنڈے کی اہمیت کیا ہے۔

یووال ہریری کی کتاب، ہومو سیپئنز، اک حیران کر دینے والی کتاب ہے۔ اس میں انسانی ارتقاء کی داستان کے علاوہ، منظم معاشرے اور منظم ریاست کی پُرکاریوں پر بھی بہت عمدہ اشارے موجود ہیں۔ اپنی کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ہومو سیپئنز اصیل افریقن تھے اور اپنے ارتقاء کے عمل کے دوران ان میں موجود چند طاقتور افراد نے بنیادی طور پر اپنی طاقت اور کنٹرول کی حرکیات (The dynamics of power and control) کو دوام بخشنے کے لیے مختلف مقدس نظریات تخلیق کیے۔

Read more

جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے نام کھلا خط

محترم جناب جنرل باجوہ صاحب:

آپ نومبر 1960 کی پیدائش ہیں، اور میں ستمبر 1972 کی۔ آپ کی اور میری عمر میں محض 12 برس کا ہی فرق ہے۔ مگر آپ کے اور میرے جہانوں میں فرق سات زمینوں اور سات آسمانوں سے بھی زیادہ ہے۔ آپ جہاں ہیں، وہاں خوش ہیں۔ میں جہاں ہوں، میں بھی وہاں بہت خوش ہوں۔ آپ کے نام پہلے بھی دو خط لکھنے کی جسارت کی، تیسرا بھی اسی لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ کے اور میرے درمیان مراتب کے بے پناہ فرق کے باوجود، آپ کی اور میری جنریش ایک ہی ہے۔ کیونکہ جنریشن گیپ کی کلاسیکی تعریف، اک نسل کو تقریبا 30 برس پر محیط رکھتی ہے۔

Read more

شکریہ عمران خان: جنرل حاجی ضیا کا دور یاد آ گیا

کافی دنوں سے کچھ لکھا نہیں تو سوچا کہ ایویں میں پڑھنے والوں کو متاثر کرنے کی خاطر، اک عہد ساز امریکی ماہرِ عمرانیات، ایلون ٹافلر کا اک قول ہی سناتا چلوں (ماخوذ): سیکھنے سے زیادہ مشکل، سیکھے ہوئے کو ان-سیکھنا ہوتا ہے اور اس سے بھی زیادہ مشکل، دوبارہ سے اور درست سیکھنا ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ عمرانیات سے مراد سوشیالوجی ہے۔ گو کہ ہمارے ہینڈسم وزیر اعظم صاحب کے کہے اور کرنے کو سمجھنے کے لیے اک

Read more

لڑکیاں شادی کب کریں؟

یہ خیال میں اپنی دونوں بیٹیوں، یسریٰ فاطمہ اور نور فاطمہ کے نام کرتا ہوں۔ مجھے ابھی تک باپ-بیٹی سے زیادہ خوبصورت رشتے کی تلاش ہے۔ اس تلاش میں، میں ناکام ہوں اور سوچ کا اک گوشہ کہتا ہے کہ میں ناکام ہی رہوں گا۔ ہمارے معاشرے کے بہت دلدر ہیں۔ بہت۔ شاید ہر اس معاشرے کے رہے ہوں گے جس نے زرعی قبائلیت سے صنعتی جدت کی طرف ہجرت کی۔ وہ جو صنعتی جدت کی جانب اکثریت سے ہو

Read more

پاکستانیو: نوکریاں آ نہیں رہیں، نوکریاں جا رہی ہیں!

آئیے کہ کچھ زمین کی سطح کے سچ پڑھتے ہیں۔

اسلام آباد میں اک جاننے والے، احمد مشہود صاحب، ایڈورٹائزنگ ایجنسی اور کمیونیکیشن کی خدمات والے کاروبار سے منسلک ہیں۔ سیلف میڈ آدمی ہیں اور اک لمبے عرصے کی جدوجہد کے بعد کاروبار اور مقامی معیشت میں اپنا نام بنایا ہے۔ کوئی دس دن قبل انہیں اک سخت فیصلے کا سامنا تھا: سٹاف میں کمی کریں یا تنخواہوں میں؟ ان کا اکثریتی سٹاف، ان کے ادارے جتنا ہی پرانا ہے، تو ان کو ملازمت سے نکالنے کا حوصلہ نہ تھا، مگر پچھلے ایک سال کی عظیم انقلابی حکومت کی شاندار معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ادارے میں کاروبار اور معاش کی اتنی موجودگی باقی نہ تھی کہ اسی تعداد کے ساتھ کام چلایا جاتا رہے۔

Read more

مفتی پوپلزئی، پشتون معاشرت اور کیلا ریاست

اب ”پوپلزئی“ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ”نام ہی گارنٹی ہے“ ایک دن پہلے چاند کی!
مگر بظاہر اس سادہ سے نظر آنے والے تماشے میں، جو کہ صرف رمضان اور عید کے موقع پر ہی لگتا ہے، کئی سنجیدہ اشارے اور اعشاریے چھپے ہوئے ہیں۔

اس طرف مگر جانے سے قبل پوپلزئی بریگیڈ کے جانثاران سے پوچھنا مگر یہ ہے کہ ایک دن پہلے چاند کا جھگڑا باقی کسی اسلامی مہینے میں کیوں ظاہر نہیں ہوتا؟ رمضان و شوال کے علاوہ خیر سے دس مہینے مزید ہیں اسلامی، ان دس مہینوں میں چاند اتفاق کی چاندنی لیے کیوں ہوتا ہے؟ چاند بدل جاتا ہے، یا ویسی اشتہار بازی ملنے کی امید نہیں ہوتی جیسی رمضان و شوال کے مواقع پر ممکن ہوتی ہے؟ اس سارے قضیے میں بنیادی طور پر کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ مذہب کے اس ظاہری کسٹرڈ میں کس کس کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی فوائد کی انگلیاں موجود ہیں؟

Read more

پی ٹی ایم کا کیا بنے گا؟

بحیثیت اک پنجابی، جب بھی بلوچ اور پشتون معاملات پر لکھا، بلوچ اور پشتون دوستوں کی جانب سے اکثریتی تبریٰ ہی موصول ہوا۔ لِکھ اور بول اس لیے دیتا ہوں کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں رگڑا کھانے اور بسا اوقات اپنی جان سے بھی چلے جانے والوں میں سے اکثریت مجھ جیسا ہی غربت، محرومی اور اک مسلسل کوشش کا سا پس منظر رکھتی ہے۔ بحثیت پنجابی قوم کے اک فرد، میں بلوچوں اور پشتونوں سے اگر کوئی تعلق نہ بھی بنا پاؤں، تو مارکسسٹ نظریہ یہی کہتا ہے کہ خود کو ایک ہی قوم کا فرد سمجھنے کے لیے سماجی، معاشرتی اور معاشی حوالہ جات کے مشترکات ہی کافی ہوتے ہیں۔

Read more

تحریک انصاف کی بیکار حکومت اور مسلم لیگ کی مزید بیکار اپوزیشن

مسلم لیگ نواز کو اب خود پر مسلط کردہ مسلسل سوگ کی کیفیت سے باہر نکلنا چاہیے اور اپنے لیے کوئی راہ متعین کر لینی چاہیے کہ کرنا کیا ہے۔

تصادم کی جس راہ پر ان کا خیال ہے کہ چل کر وہ پاکستان میں کوئی بہت بنیادی سیاسی، شہری اور جمہوری تبدیلی لا سکتے ہیں، تو یہ مکمل خام خیالی ہے، پاکستان کی شہری و دیہاتی سیاسی سماج نظریاتی طور پر تشکیل شدہ ہے ہی نہیں کہ جس میں عوام اور شہری اپنے آپ کو کسی بھی نظریہ کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتے ہوں اور اس نظریہ کے تحفظ کے لیے وہ اندرونی جبر اور استبداد کی کسی بھی قوت کے سامنے اپنی جماعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔

یہ ممکن نہیں!

Read more

مسلسل تفریح پر مائے گارڈ، مائے لارڈ اور مائے ہینڈسم کا شکریہ

دنیا سے بانوے کو پیارے ہو جانے والے اک عظیم روحانی دانشور کے بقول، پاکستانی دنیا کی تیسری ذہین ترین قوم ہیں۔ ذہانت کے نالہ لئی چونکہ ہر طرف اور ہر روز ہی بکھرے دیکھنے کو مل جاتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ یہی قوم تیسرے نمبر پر ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر متمکن کیوں نہیں ہے۔ شاید کہ بانوے والوں کے تیل کے سرور میں، یہی عظیم روحانی دانشور یہ کام بھی کر گزریں۔

Read more

پی ٹی ایم اور ریاست کی سرخ لکیر

آج جناب آصف غفور صاحب نے پی ٹی ایم کو افغانستان اور انڈیا کی جانب سے فنڈنگ دینے کے حوالے سے واضح بات کر کے اک سرخ لکیر کھینچ دی ہے۔ میں پی ٹی ایم کا کبھی بھی معترف نہیں رہا، اور شروع دن سے اس بات کا اک سیاسی اندازہ رکھتا تھا کہ یہ حقوق کے رستے سے بہت جلد نسل پرستی پر اتر آئیں گے۔ وہ اتر آئے، مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ریاست کی

Read more

میاں نواز شریف صاحب کا دور ختم ہو گیا ہے

دور تو ویسے ہمارے ہینڈسم وزیرِ اعظم، جناب عمران نیازی صاحب کا بھی ختم ہو گیا ہے۔ مگر اس پر آنے والے چند اک دنوں میں سہی! میاں نواز شریف صاحب کی اٹھان بہت دلچسپ کہانیاں لیے ہوئے ہے۔ اندرونِ خانہ ان کے جنرل جیلانی اور بعد میں جنرل ضیاءالحق کے ساتھ کیا معاملات رہے، یہ صرف وہ یا ان کے چھوٹے بھائی، جناب شہباز شریف صاحب ہی جانتے ہیں۔ آپ کے اور میرے پاس تو بس سینہ گزٹ ہی

Read more

ہزارہ پاکستانیوں کے خلاف دہشت گردی: اک غیرمقبول خیال

آج کل ہزارہ پاکستانیوں کے حوالے سے پاکستان میں اک سوشل میڈیائی گفتگو جاری ہے، تو سوچا کہ ان کے قضیہ کے دو پہلو، جو میرے ذاتی تجربات ہیں، آپ تک پہنچاتا جاؤں۔ تو عرض کیا ہے کہ:

1۔ 2011 میں جب ملک شام میں ”عرب سپرنگ“ پہنچی تو مجھے میرے اک دوست، نوید صاحب نے آبپارہ میں پاکستان میں موجود شامی طلبا و طالبات سے گفتگو کرنے کا موقع فراہم کیا۔ وہ بے روزگاری کے دن تھے اور دانشوری کا بھوت سوار تھا۔ عین موجودہ پاکستانی سنت کے مطابق، اک ویہلا آدمی ہی دانشور ہو سکتا ہے تو خادم نے وہاں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنی اور شیعہ تفاوت کو چھوڑئیے اور کوشش کریں کہ آپ کے ملک میں جو بھی قانون جس بھی حالت میں موجود ہے، اس میں ہی رہ کر اپنے لیے حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں۔

اپنے حقوق اور ریاستی جبر کے خلاف ہتھیار اٹھانا بے کار کی مشق ہے۔ میری یہی لائن تھی تو بچوں اور آرگنائزرز نے بلند آواز میں مجھے پھکڑ تولنے شروع کر دیے۔ مجھ سے پہلے، اک ائیرمارشل صاحب سمیت، تمام افراد شام میں در آنے والی عرب بہار کے حق میں تقاریر کر چکے تھے۔ میں ہی اک گندہ انڈہ تھا تو وہاں سے میں نے فورا بھاگنے میں عافیت سمجھی۔ شام میں کتنی اک بہار آئی ہے، یہ آپ سب جانتے ہیں۔

Read more

بلوچستان دھماکہ۔ اک غیرمقبول نقطۂ نظر

کوئٹہ میں آج صبح بم دھماکے میں 20 سے زائد افراد کے شہید اور 48 کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اور کیا ہی شرم کا مقام ہے کہ میرے ہزارہ بھائی، پولیس کے پہرے میں اپنے علاقوں سے اپنی ضروریات کے لیے پولیس کے پہرے میں سبزی لینے آ رہے تھے، جب آلوؤں کی اک بوری میں چھپائے ہوئے بم کو، شاید ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے شہریوں کو امن و امان سے زندہ رہنے کی ضمانت اور موقع فراہم کرنا، ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ اور ہر ریاست یہ ذمہ داری، قانون لاگو کرنے والے اداروں کے ذریعہ ادا کرتی ہے۔ بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے، اکبربگتی صاحب کی شہادت کے بعد سے مسلسل گولیوں اور دھماکوں کی زد میں ہیں۔ اس حماقت میں پہل ریاست نے کی جب مشرف صاحب، جو آج کل دبئی میں عافیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں، نے اک سیاسی معاملہ کو ذاتیات کے دائرہ میں گھسیٹ لے جا کر اپنے تئیں ”حل“ کرلیا۔

Read more

بلوچستان دھماکہ – اک غیرمقبول نقطہ نظر

کوئٹہ میں آج صبح بم دھماکے میں 16 سے زائد افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اور کیا ہی شرم کا مقام ہے کہ میرے ہزارہ بھائی، پولیس کے پہرے میں اپنے علاقوں سے اپنی ضروریات کے لیے سبزی، جی ہاں، پولیس کے پہرے میں سبزی لینے آ رہے تھے، جب آلوؤں کی اک بوری میں چھپائے ہوئے بم کو، شاید ریموٹ کنٹرول سے اڑا دیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے شہریوں کو امن و امان

Read more

نیوزی لینڈ مسجد پر حملہ: پاکستان میں جلدی سے کرنے والے چھ کام

کرائسٹ چرچ، نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر حملے کے نتیجے میں ابھی تک کی خبروں کے مطابق 49 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ زخمیوں کی درست تعداد فی الحال معلوم نہیں۔ معلوم تو یہی ہورہا ہے کہ یہ حملہ دہشتگردی کی ہی نیت اور پلاننگ کے تحت کیا گیا، اور اس میں کارروائی کرنے والے دو افراد تو بہرحال شامل تھے۔ جوں جوں وقت گزرے گا، تحقیقات آگے بڑھیں گی تو عین ممکن ہے کہ Sleeper Cell بھی سامنے آ جائیں۔

ہمارے ملک کی تاریخ رہی ہے کہ مسلمانوں پر دنیا میں کہیں بھی ہونے والے ظلم پر، پاکستان میں بسنے والے غیرمسلموں کی آبادیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملے کیے جاتے ہیں۔ ان حملوں میں سینکڑوں شہادتیں بھی ہو چکی ہیں۔ یہ رویہ بہت ہی شدت والا غلط ہے اور پاکستان کی مسلم اکثریت میں سے کسی کو بھی ایسے رویے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور بالکل بھی خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان میں بسنے والے غیرمسلم، پاکستانی ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ پاکستانی سیاست کی ذمہ داری ہیں۔ پاکستانی معاشرت کی ذمہ داری ہیں، اور دنیا میں کہیں بھی ہونے والے ظلم کا بدلہ ان سے لینا بھی ظلم، بدنیتی، نا انصافی اور دہشتگردی ہے۔

Read more

فیاض چوہان صاحب، اثاثہ نہیں، بوجھ ہیں

مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کی بہاریں ہیں، جو محترمی جنرل ضیا الحق مدظلہ علیہ کہ مہربانی سے وطن عزیز کے ذہین لوگوں پر پچھلے چالیس برس سے طاری ہیں۔ جیسے ہی مجھ جیسے گمراہ لوگ مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کا نام لیتے ہیں تو میرے وطن کے محب الوطن اور پاکباز فورا سے بھی پہلے جذباتیت میں ردعمل دے دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان علامات پر بات کرنا ہی آپ کو کم محب الوطن اور اک کمزور مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔میں تعلیمی ماہر تو نہیں، مگر میرے خیال میں تو پرائمری جماعت کے بعد سے یہ دونوں مضامین بچوں پر بوجھ ہی ہیں۔ مجھ پر بھی تھے اور اب میری بیٹیوں پر بھی ہیں۔ اک گمراہ خیال ہے کہ ان مضامین کی مسلسل تکرار کی مطلب تو یہی ہے کہ ہمارے بچے سولہ سولہ برس کی تعلیم کے باوجود بھی اچھے پاکستانی اور پکے مسلمان نہیں بن پاتے۔ تو لہذا ان دونوں مضامین کی گُھٹیاں زبردستی دیتے چلے جانا بہت ضروری ہے۔

Read more

پاک۔ بھارت کشیدگی۔ الباکستانیوں کے لیے چار سبق

جذباتیت کا اک گندا نالہ تھا، جو بھارت نے بہا دیا۔

اس نالے سب سے پہلے میں جاوید اختر بہے، شبانہ اعظمی بہیں۔ پریانکا چوپڑا بہہ نکلیں۔ رنویر سنگھ نے بھی خوب ڈُبکیاں لگائیں۔ اجے دیوگن بھی مونچھوں پر کڑوا تیل ملے نظر آئے۔ ٹنڈولکر صاحب بھی ”ہندوستانی حملے“ پر خوشی سے پھوٹ پڑے۔ اپنی باقی ماندہ ساری عمر شناختی بحران میں زندہ رہنے پر مجبور، عدنان سمیع خان بھی بالا کوٹ پر ہندوستانی سینا کے یُدھ پر خوشی کے پھولے نہیں سما رہے تھے۔

اور یہ تمام کے تمام وہ لوگ ہیں جو اپنے اپنے پیشوں کے حوالے سے ”امن کے پیامبر، خوشیاں بانٹنے والے“ وغیرہ وغیرہ ہیں۔ یہ ان جیسے امن پسندوں کا حال تھا، تو جو بھارتی جنگ پسند ہیں، ان کی ٹھاٹھیں آپ خود ہی تصور کر لیجیے۔

Read more

انڈیا کا ”حملہ:“ میں عمران، جوان اور جرنیلان کے ساتھ ہوں

پاکستان سے بھاگ نکلنے والے ”ترقی پسند“ دانشوران، اور پشتون تحفظ تحریک کے چند ارکان علاوہ خود ترحمی کے مارے ہوئے ڈیڑھ پنجابی دانوں اور مقامی سرخیلوں کے برعکس، راقم حضرت میکاولی کے خیال سے جنم لینے والی کلاسیکی ریاست کا حامی ہے اور اس کی غلطیوں میں سے لطف کشید نہیں کرتا۔

لطف کشید نہ کرنے کی وجہ ذاتی لالچ پر بنیاد کرتی ہے اور کلاسیکی ریاست کے وجود کے قائم رہنے کے حوالے سے اک قومی اعتماد پر بھی۔ ذاتی لالچ اس لیے کہ راقم چونکہ دانشور نہیں تو لہذا موقع اور وسائل رکھنے کے باوجود پاکستان سے بھاگ نکلنے کا کوئی شوق نہیں اور ارادہ بھی نہیں۔ اور ریاست کے وجود سے جڑا قومی اعتماد اس لیے کہ پچھلے چالیس سالوں میں افغان، وسطی ایشیائی، صومالی، کانگوی، سرے لئیونی، فلسطینی، بوسنیائی، عراقی، شامی اور یمنی ریاستوں کے گرنے کی وجہ سے ان کے شہریوں کی دربدری دیکھ رکھی ہے۔ ان تمام ریاستوں کا قومی وجود اور نقشہ تو آج بھی ویسے کا ویسا ہی قائم ہے، کیا وہاں ریاستیں موجود ہیں؟ اس کا جواب آپ خود ہی تلاش کر لیجیے۔

Read more

انڈیا کا ”حملہ:“ میں عمران، جوان اور جرنیلان کے ساتھ ہوں

پاکستان سے بھاگ نکلنے والے ”ترقی پسند“ دانشوران، اور پشتون تحفظ تحریک کے چند ارکان علاوہ خود ترحمی کے مارے ہوئے ڈیڑھ پنجابی دانوں اور مقامی سرخیلوں کے برعکس، راقم حضرت میکاولی کے خیال سے جنم لینے والی کلاسیکی ریاست کا حامی ہے اور اس کی غلطیوں سے لطف کشید نہیں کرتا۔ لطف کشید نہ کرنے کی وجہ ذاتی لالچ پر بنیاد کرتی ہے اور کلاسیکی ریاست کے وجود کے قائم رہنے کے حوالے سے اک قومی اعتماد پر بھی۔

Read more

پلوامہ میں بہتا ہوا بھارتی خون مجھے پریشان کرتا ہے

کل بھارتی کشمیر میں اک فوجی بس پر حملے کی ذمہ داری نیٹ پر گردش کرتی ہوئی ایک ویڈیو کے مطابق جیشِ محمد نے قبول کی ہے۔ جیش محمد نے اس بارے میں کوئی تردیدی یا تصدیقی بیان آفیشلی جاری نہیں کیا ہے۔ جیش کے سالار، محترم مولانا مسعود اظہر صاحب ہیں اور سنہ 2000 میں جیش کو بنانے میں جناب مفتی نظام الدین شامزئی کا بھی بہت بھرپور کردار رہا تھا۔ بعد میں وہ بہرحال پچھتائے اور دیگر معاملات کے ساتھ، اپنے پہلے والے نظریات سے رجوع کرنے کی قیمت انہوں نے اپنی جان دے کر ادا کی۔

جیشِ محمد کی بنیاد اس وقت کی حرکت المجاہدین، جو پہلے حرکت الانصار تھی، کی زمین پر اٹھائی گئی تھی۔ حرکت المجاہدین کے تب کے امیر جناب مولانا فضل الرحمٰن خلیل تھے اور یہ تب کے زمان و مکاں کے تناظر میں کاسٹ اینڈ بینیفٹ کا سلسلہ تھا۔ جیشِ محمد نے حرکت کے مقابلے میں کم خرچ بالا نشین کی آپشن فراہم کی تھی۔

Read more

پلوامہ میں بہتا ہوا بھارتی خون مجھے پریشان کرتا ہے

کل بھارتی کشمیر میں اک فوجی بس پر حملے کی ذمہ داری نیٹ پر گردش کرتی ہوئی ایک ویڈیو کے مطابق جیشِ محمد نے قبول کی ہے۔ جیش محمد نے اس بارے میں کوئی تردیدی یا تصدیقی بیان آفیشلی جاری نہیں کیا ہے۔ جیش کے سالار، محترم مولانا مسعود اظہر صاحب ہیں اور سنہ 2000 میں جیش کو بنانے میں جناب مفتی نظام الدین شامزئی کا بھی بہت بھرپور کردار رہا تھا۔ بعد میں وہ بہرحال پچھتائے اور دیگر معاملات

Read more

عمار علی جان اور رضی دادا کی گرفتاری اور سِول سوسائٹی کا رویہ

راقم سنہ 1997 سے پاکستان کے سیاسی اور معاشرتی موضوعات کے ساتھ ذاتی اور پیشہ وارانہ حیثیتوں سے جڑا ہوا ہے۔ زندگی کے گرداب گھماتے پھراتے ہوئے اس دائرہ میں لے گئے جسے ہمارے پاکباز اور محبِ وطن لوگ ”این جی او مافیا“ کہتے ہیں، یہ جانے بغیر کہ یہ کتنا شدت سے مشکل والا کام ہے۔

مختلف حیثیتوں میں پاکستان کی سیاسی اور سماجی حرکیات سے جڑے ہوئے موضوعات پر تقریبا پورے پاکستان میں کام کرنے کا اک مناسب سا تجربہ بھی موجود ہے۔ اس عرصے میں میرا بھی ارتقاء ہوا اور بہت سارے خیالات و معاملات پر اپنے خیالات کے زاویے بدلے اور نئے زاویے بھی تلاش کیے۔ انہی زاویوں کے بدلنے کے فرق کو میں اپنے سیکھنے کا عمل گردانتا ہوں۔

گو کہ پاکستان کے سِول سماج سے تعلق رکھنے والے طویل القامت لوگوں کی جدوجہد کے سامنے میری کوئی حیثیت نہیں، مگر پاکستان کے شہری ہونے کی حیثیت سے اپنی رائے رکھنا اور اس رائے کو اسلوب و پیرائے میں بیان کرنا، بہرحال میرا بنیادی حق ہے۔

Read more

پشتون تحفظ تحریک اور پاکستانی ریاست کی حساسیت

پشتون تحفظ تحریک بنیادی طور پر محسود تحفظ تحریک کے نام سے 2014 میں گومل یونیورسٹی، ڈیرہ اسمٰعیل خان، سے شروع ہوئی۔ اس تحریک کے بانیان بنیادی طور پر وزیرستان کے محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے چند طلبا تھے، اور انہوں نے اپنے علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جو ان کے نزدیک ان کے علاقے کے لوگوں کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہی تھیں۔ ان میں بنیادی

Read more

سانحۂ ساہیوال کا منطقی انجام کیا ہو گا؟

بنیاد تو یہ ہے دوستو کہ میرا وطن پاکستان اک مضبوط سیاسی ریاست ہے۔ مگر یہ اک ذمہ دار جمہوری ریاست نہیں ہے۔ سچ یہ ہے کہ جنوبی ایشیاء کے تمام اور دنیا کے اکثریتی ممالک، سیاسی ریاستیں ہیں، مہذب جمہوری ریاستوں کی تعداد بہت کم ہے۔

اس پر دو طرح کے دلائل آ سکتے ہیں۔

پہلی دلیل تو یہ ہے کہ ہمیں دل و جان سے اس سیاسی ریاست کو اک ذمہ دار جمہوری ریاست بنانے کے لیے تگ و دو کرنی چاہیے، چاہے اس کے لیے ہمیں کچھ بھی کرنا پڑے۔ یہ وہ رومانوی خواب ہے جو پاکستان کے آغاز میں ترقی پسند دانشوروں نے دیکھا اور دکھایا۔ اور بعد میں کچھ ترقی پیپلز پارٹی نے اپنے تئیں آئینی جمہوریت کے مقدمہ کو پاکستانی معاشرت میں آگے بڑھا کر کی۔

Read more

پاکستان ہی میں بے توقیر ہوتی ہوئی پاکستانی ریاست

سچ کہتا ہوں کہ اس موضوع پر خیال کا دائرہ اک عرصہ سے مکمل تھا، مگر اعتراف کرتا ہوں کہ خوف کا بھی شکار تھا اور اب بھی ہوں۔ خوف اس لیے کہ میرے وطن میں قانون میری سمت میں، میرے سر پر چھتری کی چھاؤں بن کر نہیں کھڑا ہوا۔ مجھے لکھنے، بولنے، کہنے پر اٹھا لیے جانے کا خوف ہے اور یہ خوف بلاوجہ اس لیے بھی نہیں کہ اپنے ہی حلقہء ارباب میں چند دوست اٹھائے گئے اور ان میں سے ایک تو قریباً ایک سال کے بعد ایسا برآمد ہوا کہ پہچاننے میں ہی نہ آتا تھا۔ شاید اٹھا لیے جانے والوں کی محض تذلیل مقصود تھی جو پاکستانی شہریوں کے سر پر بنیادی آئینی حقوق کی چھتری میں سینکڑوں ہزاروں چھید دیکھ کر، بہت دھڑلے سے کی گئی۔

خوش قسمت تھے کہ رہا کر دیے گئے۔ رہا نہ بھی کیے جاتے تو کسی نے اہلکاروں اور ان کے اداروں کا کیا بگاڑ لینا تھا۔ میرا سر تو پچھلے 46 برس سے ننگا ہے، اب تو اپنی کمر کے ننگے ہونے کا بھی احساس شدید تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

یہ گزارشات بالکل بھی تحریر نہ کرتا، اگر ساہیوال والا واقعہ نہ ہوا ہوتا۔ شاید اگر ساہیوال والا واقعہ ہوا بھی ہوتا تو بھی خاموش رہتا، مگر ان دو بیٹیوں اور ان کے بھائی کی ایک تصویر نے اپنے وجود و ذہن پر مسلسل خوف کے باوجود بات کہنے پر مجبور کر دیا۔

Read more

پاکستان میں مسالک و مدارس کا ارتقا

آپ کے خادم نے گزشتہ تحریر، پاکستانی مدارس دھشت گرد نہیں ہیں میں یہی موضوعاتی بنیاد رکھنے کی کوشش کی اور اپنے اس بھرپور اور مضبوط تیقن کا اظہار کیا تھا کہ پاکستانی مدارس، ان میں پڑھنے، پڑھانے والے اور ان کے مہتمین و اکابرین نہ صرف دھشتگرد نہیں ہیں، بلکہ ان کی اک بہت/بہت بڑی اکثریت ہر قسم کی دھشت گردی کے خلاف بھی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام کی چار بڑی تشریحات مروج ہیں۔

Read more

پاکستانی مدارس دہشتگرد نہیں ہیں

میں ملکوال میں پیدا ہوا اور وہاں جب چھوٹے ہوتے ہوئے گلیوں میں کھیلا کرتے تھے تو وہاں اک عام فہم بات یہ تھی کہ مغرب کی اذان سے پہلے پہلے گھر واپسی لازم ہے اور اگر نہ آئے تو ”پٹھان آئیں گے، تمھیں اٹھا کر لے جائیں گے اور پھر خرکار کیمپوں میں پتھر تڑوائیں گے۔ “ جاتی ہوئی جوانی میں کچھ شعور آیا تو معلوم ہوا کہ ہماری درسگاہیں بھی خرکاری کے کیمپوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں جہاں مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کے مضامینی پتھر پورے سولہ برس کوٹنے پڑتے ہیں۔ نتیجہ پھر بھی بالآخر تحریک انصاف کے ٹائگرز اور ٹائگریسز کی صورت میں نکلتا ہے۔ ماشاءاللہ!

اسی دمدمے میں اپنے پشتون بھائیوں سے کہتا چلوں کہ پنجابی دال خور اور بے غیرت بھی نہیں۔ بالکل ویسے ہی کہ جیسے آپ خرکار نہیں۔ اور اگر نسل پرستی کے تفاخر میں پنجابی دال خور اور بے غیرت ہی ہیں، تو جناب، خرکاری کا میڈل بھی آپ کا ہوا۔

Read more

پاکستان انسانی تاریخ کی شانداریت کی معراج پر ہے

صاحبان، قدردان و فارغ نقادان، مانتا ہوں کہ راقم پچھلے کئی ہفتوں سے لکھنے یا نہ لکھنے کی بے مقصدیت کا شکار ہے۔ یار دوست، عزیز اور رشتے دار بھی کہتے ہیں کہ مت لکھا کرو، ملتا کیا ہے، ہوتا کیا ہے اور فرق کیا پڑتا ہے؟ میرے پیارے اور میں اس خوف کابھی شکار ہیں کہ کوئی شدید ذہین صاحب یا صاحبہ، میری ایویں کی لکھی ہوئی کسی بونگی کو اپنی رپورٹ میں یہ لکھ کر نہ اوپر بھیج دیں کہ مبشر اکرم، پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی عین مخالفت میں یہود و نصاریٰ و ہنود و افغانوں و پٹواریوں اور اپنے گھر میں پالی ہوئی بِلی، لُونا، کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔

مشاہدہ یہی ہے کہ نیچے کا لکھا ہوا، اوپر تک بے مہار ہی دگڑ دگڑ دوڑے چلا جاتا ہے اور کہیں تو ظہور الہٰی صاحب کو بھینس چوری میں سزا ہوتی ہے تو کہیں پاکستان کی نظریاتی اور قانونی سرحدوں کی محافظ منصف عدالتیں بھٹو صاحب کو پھانسی پر جھولا دینے کے تیس برس بعد، جیو ٹی وی پر افتخار احمد صاحب کے پروگرام جوابدہ میں کہہ دیتی ہیں کہ پھانسی کا فیصلہ شاید درست نہیں تھا۔

Read more

مولانا طارق جمیل صاحب، میں آپ کے خلاف مزاحمت کروں گا

پاکستان کی موجودہ مسلم اکثریت بنیادی طور پر ریاست کے اس کھوکھلے، نقلی اور جھوٹے بیانیہ کی پیداوار ہے جس کا اصولی سلسلہ جنرل ایوب نے شروع کیا اور اس کو آٹھویں آسمان تک جنرل ضیا لے کر گئے۔

1956 کے آئین نے عوامی جمہوریہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ڈھالا، اور اصولی طور پر وہ بنیاد رکھی جس پر کھڑے ہو کر جنرل ایوب اور پھر جنرل ضیا نے پاکستان میں مذہب کے نام کی شدت والی جذباتیت والی اس پرتشدد ڈائن کے خونی پنجے آزاد کیے جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ پاکستانیوں کے خون سے وضو کیا اور میرے وطن کو ایک ایسی کھائی میں جا دھکیلا کہ جہاں دنیا 22 کروڑ لوگوں کی اس اک ریاست کے تمام شہریوں کو دہشتگرد کے طور پر دیکھتی ہے۔

Read more

مطالعہ نیا پاکستان

سنہ عیسوی 1997 میں پاکستان میں ہر طرف تاریکی تھی۔ لوگ ایک دوسرے کو نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔ اس وقت کوئی بارہ کروڑ آبادی رکھنے والا عظیم ملک بجلی، پانی، گیس سے محروم تھا اور ایسا محسوس ہوتا تھا کہ فطرت بھی اس ملک سے منہ نہوڑے ناراض بیٹھی ہے۔ ہر طرف ہاہاکار مچی ہوئی تھی اور زندگی گزارنے کی تمام امید اور جینے کے تمام آدرش تباہ و برباد ہو چکے تھے۔ گھٹا ٹوپ اندھیرا تھا جو ہر طرف تھا۔ دن کے بارہ بجے بھی رات کے دو بجے والی تاریکی موجود ہوتی تھی۔ دنیا کی تیسری ذہین ترین قوم کو معلوم ہی نہ تھا کہ کب دن ہوا، کب رات ہوئی، کہ رات کا سفر پچھلے پچاس برس، یعنی پرانے پاکستان کے قیام کے فورا بعد سے ہی جاری ہو گیا تھا۔

گو کہ بیچ درمیان میں فطرت کبھی کبھار پاکستان پر مہربان ہوتی تھی اور ذی مقام سکندر مرزا صاحب، ایشائی ڈیگال ایوب خان صاحب، فاتح بنگال یحیٰ خان صاحب اور سکندرِ افغانستان جنرل ضیا صاحب جیسے جنتی انعامات لوگوں پر نازل ہو جاتے تھے، مگر کیا ہی بدقسمتی تھی کہ یہ ساری تجلیاں مل کر بھی پاکستان کے دلدر دور نہ کر سکی تھیں۔

Read more

آقا حضرت محمدﷺ سے ایک گزارش

کالی کملی والے سردارﷺ، سچ کہتا ہوں کہ آپؐ کو مخاطب کرنے کا نہ تو میرا مقام ہے، نہ حوصلہ، نہ ہمت اور نہ ہی اوقات۔ آپؐ کہاں، میں کہاں۔ میری مجال اور اوقات تو مدینہ کی گلیوں کی گرد سے بھی کمتر، اور وہ خوش نصیب ٹھہرے جنہیں آپؐ کے در کا دیدار اور آپؐ کے شہرِ محبت کی گلیوں کے پھیرے نصیب ہوتے ہیں۔

آپؐ سب کچھ ہیں۔ میں کچھ نہیں۔ بلکہ کچھ نہیں سے بھی نیچے کہیں۔

اپنی تمام تر کمی، کجی اور بے اوقاتی کے باوجود اک وصف، جو مجھ میں بہرحال ہے جو مجھ سے آپ کے دین کا کوئی بھی خودساختہ رہنما نہین چھین سکتا: میں آپؐ کا، اور صرف آپؐ کا اُمتی ہوں۔ اور روزِ قیامت، جب میری ماں بھی مجھے پہچاننے سے انکاری ہوگی، آپؐ کی شفاعت کا اک خیال ہے جو حوصلہ اور ہمت بندھائے رکھتا ہے۔ آپؐ سے نسبت کا بس اک حوالہ ہی تو ہے جو اس بات کی تسلی دیتا ہے کہ اللہ میرے گناہوں، کمیوں، کجیوں، گستاخیوں اور شرارتوں کی باوجود بھی، محشر میں مجھ پر رحمت کرے گا، اور کہے گا کہ ”تم ساری عمر شریر اور گناہگار ہے۔ سفارش مگر تمھاری تگڑی ہے۔ انکار ممکن نہیں۔ جاؤ، بخشے گئے ہو! “

Read more

ٹرمپ، امریکہ اور غیرت شیرت!

امریکی صدر، جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے کل پھر اپنے ٹرمپ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے پاکستان کے بارے میں کچھ خرافات فرمائیں۔ یہ ان کی Stated Political Position ہے اور کافی عرصہ سے ہے۔ اسی سال، یکم جنوری کو بھی محترم امریکی صدر نے یہی کچھ فرمایا تھا، اور جب سال تقریبا ختم ہونے کو آ رہا ہے تو اسی قسم کی "گل افشانی” اک بار پھر کر دی گئی۔ اس سال کے شروع میں جنابِ ٹرمپ کا جواب، اس

Read more

فاطمہ کا معاشرہ بکھر رہا ہے

میرے گاؤں کے بازار سے تمھاری دادی تمھارے لیے چوڑیاں اور پراندے لاتی تھیں اور میں تمھیں اپنے کندھوں پر بٹھا کر اس چھوٹے سے بازار میں لے جایا کرتا تھا۔ گاؤں میں چھوٹی، مگر زندگی تھی۔

پھر مگر چند بدعقل مگر با اختیار لوگوں نے مقدس لوگوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ملائے۔ میرا گاؤں برباد ہوتا چلا گیا۔ خون بہا۔ مظاہرے ہوئے۔ بم پھٹے۔ لاشے بکھرے۔ بچے قتل کر دیے گئے۔ جوان کاٹ دیے گئے۔ بزرگ مار دیے گئے۔ تقدس و تقدیس کے نام پر انفاق کو نفاق بنا ڈالا ان بدعقل، با اختیار اور مقدس لوگوں نے۔

ہم یہ سب کہیں بہت دور پیچھے چھوڑ چلے آئے ہیں۔ میرے گاؤں میں خون ہے۔ آسمان سے بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ روز نازل ہوتی ہیں۔ ہر وقت نازل ہوتی ہیں۔
سمندر کنارے بیٹھے، اس یخ بستہ ساحل پر ہم سب ہیں : پنجابی، بلوچ، سندھی، پشتون، سرائیکی، مہاجر۔ سب!

Read more

بہت مزہ آ رہا ہے We are proud of you!

اپنی تمام زندگی میں دو اقسام کے لوگوں کا کبھی انجام بخیر نہیں دیکھا: ایک وہ جس کے بارے میں عوام کی اکثریت یہ گمان کر لے کہ اس نے توہین رسالتؐ کی ہے۔ اور دوسرا وہ جس کے بارے میں کوئی صوبیدار صاحب یہ تحریر کر دیں کہ اس نے توہینِ فوج کی ہے۔ بھلے دونوں صورتوں میں یہ محض الزامات ہی ہوں، مگر بے کار ذہنوں کی اکثریت، کتب دشمنی، گفتگو سے دور، بحث کے قریب، اپنے خیال

Read more

پاکستانی شناختی بحران کے تین حوالے

وطنِ عزیز کو شناختی بحران کا سامنا پیدائش سے ہی رہا۔ جناح اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں کے ذہنوں میں شناخت کے حوالہ جات کافی واضح تھے۔ مطالعہ پاکستان، اسلامیات اور نسیم حجازی کے علاوہ، قدرت اللہ شہاب، اشفاق احمد اور دیگران کی تحاریر میں موجود ”تاریخ“ سے متاثرہ شاید جانتے ہی نہ ہوں کہ پاکستان کو اسلامی جمہوریہ جناب جنرل ایوب خان صاحب نے بنایا۔ محترم فیلڈ مارشل کے مارشل لاء سے قبل، پاکستان میں اسلام بھی

Read more

محبت کا ایورسٹ

مُحبی ظفر عمران نے پچھلے کچھ عرصہ میں ناسٹیلجیا لکھنے کی "ات” مچا رکھی تھی۔ اک دم ہی خاموش ہو گئے، یا بیلن کا دیدار کروا کر خاموش کروا دیئے گئے۔ ابھی اس بات کا فیصلہ باقی ہے۔ مگر خدا بھلا کرے فطرت کے گھومتے ہوئے نظام کا، جسے شاید زمان و مکاں سے مبرا ہی کوئی ہستی ہی سمجھ سکتی ہو، میری سمجھ سے تو باہر ہے۔ اس نظام کے گھومتے گھمانے میں خادم ایک تو مستنصر حسین تارڑ

Read more

پاکستان، سعودی عرب کو جواب میں کیا دے گا؟

میں بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدگیوں کا ماہر نہیں اور نہ ہی میں ان گھمن گھیریوں کا پریکٹیشنر ہوں۔ بہت ہوا تو اک طالب علم ہوں اور اپنے سے زیادہ علم رکھنے اور جاننے والوں کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اپنا فخر سمجھتا ہوں۔ بین الاقوامی تعلقات کی پیچیدگیوں کا بہت ہوا تو میرا علم ان کتابوں کے مطالعہ پر مشتمل ہوتا ہے جنوبی ایشیا، بشمول افغانستان، کی سیاست اور تاریخ پر لکھی گئی ہوتی ہیں۔ اب دیکھیے نا

Read more

کوک سٹوڈیو اور مومنہ مستحسن کے حق میں

کوک سٹوڈیو اور مومنہ مستحسن کے حق میں
مبشر اکرم

سچ تو یہ ہے کہ لیپ ٹاپ گھر اس لیے لے کر آیا تھا کہ مزدوری کر کے دو چار کام جو دن میں اٹکے رہے، ختم کر دوں گا، مگر پھر موئے ٹویٹر پر جانا ہوا، تو محترمہ شیریں مزاری صاحبہ کی اک ٹویٹ، جس کا جواب مومنہ مستحسن نے دیا، سے شروع ہونے والے سلسلہ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس سے قبل بھی پچھلے تین دنوں سے سوشل میڈیا پر کوک سٹوڈیو پر مسلسل تنقید، تبری، طنز اور کئی مرتبہ تضحیک کا اک نہ رکنے والا سلسلہ دیکھنے کو مل رہا ہے تو دل بہت کھٹا ہوا۔

کیوں؟ بتاتا ہوں۔

بقول استاد ۔۔۔۔ ، جو #گدھےکےبچے کی حالیہ شبنم افشانی کی وجہ سے بھی مشہور ہوئے ہیں، ہم پاکستانی دنیا کی تیسری ذہین ترین قوم ہیں۔ اپنی جان بچانے کے لیے کہتا ہوں کہ استاد ۔۔۔۔ کی عظیم کنیت بھی اک مشہور کالم نگار چوہدری صاحب کی دین ہے جنہوں نے شاید سنہ 2006 میں استاد کے ساتھ ہونے والی اک کالمی جنگ میں، یہ عظیم صحافتی ”راز“ سرِعام کیا۔

Read more

آؤ اور نئے پاکستان کا سواد لو!

میرے اک حاضر سروس دوست نئے پاکستان کے حامی ہیں۔ بہت بڑے حامی ہیں۔ اتنے بڑے حامی ہیں کہ آپس کے تقریبا 15 سال پرانے تعلق کو بھی قریب قریب سیاست کی نذر کر ہی ڈالا تھا کہ اگر اک تیسرا دوست درمیان میں آ کر انہیں ٹھنڈا میٹھا نہ کرتا تو۔ ان کی حب الوطنی ایسی ہے کہ ٹائیٹینیم کو بھی پگھلا ڈالے۔ چند دن قبل اپنے انہی صلح کروانے والے تیسرے دوست کی بابت معلوم ہوا کہ میرے

Read more

نظریاتی چوہا دوڑ میں، میں بھی اک چوہا تھا

مجھے اپنے گھر میں، اک مناسب سا آزاد ماحول ملا۔ مگر ریاست کا تخلیق کردہ بیانیہ گھر سے باہر پوری شدت سے موجود تھا۔ اس بیانیہ کے تحت، ہندوستان ہمارا دشمن تھا، ہندو بہت برے، تنگ ذہن اور سازشی لوگ تھے جو اپنے گھر بھی تنگ بناتے تھے، جبکہ مسلمان کشادہ دل تھے اور ان کے گھر بھی کھلے ہوتے تھے (مطالعہء پاکستان)، سکھوں اور ہندوؤں نے تخلیقِ پاکستان کے وقت مسلمانوں کو چن چن کر کاٹ مارا، جبکہ بٹوارہ کی لکیر کے اِس جانب، مسلمانوں نے اپنی حفاظت میں سکھوں اور ہندوؤں کو اس پار پہنچایا (مطالعہء پاکستان و عام فہم خیال تھا)، پاکستان کو اللہ نے سب کچھ دیا ہوا تھا (میری مٹی میں لعلِ یمن)، پاکستان اسلام کا قلعہ تھا اور مسلم دنیا کا رہنما تھا (اسلامی سربراہی کانفرنس 1974)، پاکستانی افواج دنیا کی بہادر ترین افواج تھیں جس میں ایک مسلمان سپاہی، دس ہندوؤں پر بھاری تھا اور اگر وہ مسلمان سپاہی مجھ جیسا نکما مسلمان نہ ہو، بلکہ محترم جنرل ضیاءالحق غازی شہید جیسا مسلمان ہو تو وہ سو ہندوؤں پر بھاری تھا (اے مردِ مجاہد جاگ ذرا، اب وقت شہادت ہے آیا)، پاکستانی قوم دنیا کی ذہین و محنتی ترین قوم تھی جس کے مقدر میں مسلم دنیا اور اس خطے کے لیے اک رہنما کردار ادا کرنا تھا (ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں)۔

Read more

روحانی جمہوریہ پاکستان، الحمدللہ!

آج کل میری ریاست پیر پرست بریلوی یاروں کے ویسے ہی وارے وارے جا رہی ہے جیسے پچھلے چالیس سال سے دیوبندی اور سلفیوں کے وارے وارے جا رہی تھی۔ میں چونکہ اک ڈرپوک اور گمراہ انسان ہوں، تو اسلام آباد کی برستی ہوئی رومانوی بارش میں سوچا کہ کیوں نہ ریاست کی ہاں میں ہاں ملا کر میں بھی روحانیت کے اس اوقیانوس سے فیض حاصل کرلوں جس کا "ڈکا” جناب ندیم ملک صاحب نے چند روز قبل، خاتون

Read more

احمدیوں کو معاف کر دیجیے

تحریر سے قبل، پیشِ تحریر: میں احمدی نہیں، شکریہ۔ مہاتما گاندھی کہہ گئے تھے کہ کسی بھی معاشرے کے مہذب ہونے کا اک پیمانہ یہ ہے کہ دیکھا جائے وہ معاشرہ اپنے ہاں موجود جانوروں کو کیسے ٹریٹ کرتا ہے۔ انسانی تہذیب تھوڑا آگے بڑھی تو جدید جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھے ممالک نے یہ اصول بھی متعین کر دیا کہ کسی ریاست کے مہذب ہونے کا اک پیمانہ یہ ہے کہ وہاں اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا

Read more

پاکستان کا کوئی جمہوری مستقبل نہیں ہے

وقار بن الہٰی اپنی کتاب ”ماں میں تھک گیا ہوں“ میں لکھتے ہیں کہ (ماخوذ) ہم اساتذہ، جنرل ایوب کے مارشل لا کے خلاف راولپنڈی میں اک مسلسل بھوک ہڑتالی احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے اور اس بات کو بہت سے دن ہو چکے تھے۔ تھکن تھی، پیاس تھی، بھوک تھی، مگر اک لگن تھی جو ہمیں اس بات پر مجبور کیے ہوئی تھی کہ مقصد سے پیچھے نہیں ہٹنا اور ڈٹ کر رہنا ہے۔ نجانے کتنے دن

Read more

پاکستان کی ضائع شدہ نسلیں اور انقلاب

پاکستان کو پاکستانی الیکشن کے ذریعہ فتح کر لینے پر راقم محمکہ زراعت اور پاکستان ڈیمز ڈیپارٹمنٹ کو بالخصوص مبارکباد پیش کرتا ہے اور پرسوں سے اس انتظار میں ہے کہ سیٹھ۔ میڈیا کے اک المشہور اینگر پرسن کے بچوں کا چوری ہونے والا دودھ اب نہر کی شکل میں کب میرے گھر کے سامنے سے بہے گا۔ نئے پاکستان میں دودھ کی نہر کے ساتھ ساتھ اگر میرے گھر کے سامنے سے المشہور گنڈا پوری شہد کی نہر بھی

Read more

پاکستان بچانا ہے تو خلائی مخلوق کو ہرانا ہے!

سنہ 2005 میں، میں محترمی شاہد پرویز گیلانی، جو تب جماعت اسلامی میں تھےکی میزبانی میں، اسلام آباد کے اک مشہور ریسٹورنٹ، پاپا سالِس میں جناب لیاقت بلوچ صاحب سے ملا۔ گپ شپ کے دوران بات جماعت کی پرویز مشرف صاحب کے لیے حمایت، اور پھر اک شارٹ کٹ کے ذریعے سے فوجی آمروں کی حمایت کرتے ہوئے، دیوبندی۔ اسلام کے نفاذ کی کوششوں کی طرف جا نکلی اور محفل کا مزاج تھوڑا بگڑ گیا۔ تلخی نہ ہوئی، مگر تناؤ

Read more

پاکستانیو: اپنے ووٹ کا پہرہ دو!

عام احمقانہ بیانیہ کے برعکس، جو پچھلے ستر سال سے جاری ہے، پاکستان آج کل واقعتاً ہی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ یہ دور حقیقت میں پُرخطر ہے اور اس بات کو بار بار ثابت کرتا چلا جا رہا ہے کہ میرے دیس اور میرے لوگوں کے غم، باہر والوں کی زیادتیوں سے زیادہ، اندر والوں کی ”مہربانیوں“ کے سبب ہیں۔ تاریخ سے شُدھ بُدھ رکھنے والے اس بات سے واقفیت رکھتے ہیں کہ مولوی تمیزالدین مرحوم کے اک

Read more

پاکستان تحریک انقلاب کا الیکشن ہارنا کیوں ضروری ہے؟

محترم جناب جنرل حمید گل مرحوم نے سنہ 1996 اور 1997 میں پاکستان کی ”نظریاتی سرحدوں“ کے خود ساختہ ترجمان اور محافظ اک لاہوری اخبار میں کالمز کی اک سیریز شروع کی اور پاکستان کو ”نرم انقلاب“ کی اصطلاح دی۔ پنشن سے پیار ہو، سماج میں، بھلے بے سمت جذباتیت پر ہی کھڑی مگر عقیدت کا اظہار ہو، رتبے کی وجہ سے لوگ جھک کر ملتے ہوں، تو نرم انقلاب ہی سوجھتے ہیں کہ ایسے انقلاب بہت منتخب کر کے

Read more

میں بلوچستان سے محبت کرتا ہوں

تین برس قبل، بلوچ یاروں کی گالیاں اور اپنے بارے میں سازشی نظریات سُن سُن اور سہہ سہہ کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ بلوچستان جانے، بلوچ جانیں کہ جب حسن ظن کا جواب دشنام ہو اور خلوص کے نامے بھی مسلسل طنز کے نشتر سے کھولے جائیں تو خاموشی ہی بہتر محسوس ہوتی ہے۔ پھر اک معاملہ، جو شاید میری بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ کا ہے، وہ "اپنی نبیڑ تُو” کے دائرہ میں آن گرا۔ ویسے بھی

Read more

جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے نام دوسرا اور آخری کھلا خط

محترم جناب جنرل باجوہ صاحب: اسلام علیکم۔ آپ کے نام یہ میرا دوسرا مکتوب ہے۔ پہلے کھلے خط کے بھی آپ تک پہنچنے کی امید نہ تھی اور اس کی بھی نہیں۔ مگر سیاست اور تاریخ کے ساتھ رومانویت کا اک مزاج ہے جو مجھے کم از کم اپنی حد تک ہی اپنے تئیں تاریخ کے بہاؤ کے درست سمت کھڑا ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ تو لہذا، یہ جسارت اک بار پھر کر رہا ہوں۔ 23 مئی، 2018 کو

Read more

میرا ووٹ اب نواز شریف کی امانت ہے

جب 1956 میں باڑ نے کھیت کو کھانا شروع کیا تو اس وقت پاکستان میں اصلی اور زمین سے جڑے ہوئے سیاستدانوں کی اک فصل موجود تھی، جن کی اپنی کمیاں، کوتاہیاں اور ساتھ ساتھ میں خوبیاں بھی تھیں۔ تسمے کی نوک سے لکھی گئی تاریخ میں پاکستانی بچوں کو مگر یہ پڑھایا گیا کہ وہ تمام کے تمام بالکل نکمے، کرپٹ، بدکار اور بےکار لوگ تھے۔ یہ الگ بات کہ جس گوادر پر پاکستانی مور کی طرح اپنی دم

Read more

غلاظت سے بنا ہوا پلاسٹک شاپنگ بیگ اور ہم پاکستانی

پلاسٹک کے سمندر پر تیرتا پاکستان اسلام، قومیت، حب الوطنی کے جذبات اور قومی ترانے کا تو بالکل بھی معلوم نہیں، مگر جن چیزوں کے بارے میں بھرپور یقین ہے کہ یہ پاکستانیوں کو اک دوسرے کے ساتھ جوڑتی ہیں، ان میں سرِ فہرست ”شاپڑ بیگ“ سے محبت، اشیاء کو استعمال کر کے انہیں اک شانِ بےنیازی سے باہر پھینک ڈالنے کی عادت، تربت سے لے کر خنجراب تک مل جانے والی بدذائقہ چکن کڑاہی، پانی کا بدعقلی سے ضیاع،

Read more

کشمیر: کیا جنگ ہی حل ہے؟

مجھے ایجنٹ وغیرہ ڈیکلئیر کرنے سے پہلے، آئیے ذرا حقائق دیکھتے ہیں۔ انڈیا کے زیرتسلط کشمیر کی آبادی تقریبا سوا کروڑ ہے۔ اور اس خطہ نے پچھلے تیس سالوں، یعنی سنہ 1989 سے مسلسل تشدد کا سامنا کیا ہے۔ گویا تقریبا دو نسلیں ہیں جو تشدد کی فضا میں بڑی اور بڑھی ہیں۔ پچھلے تیس سالوں میں انڈین ریاستی اداروں کے ہاتھوں وہاں قتل و غارتگری کے تئیس بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں ہزاروں بےگناہ افراد کو شہید

Read more

جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کے نام اک کھلا خط

محترم جناب جنرل صاحب: میری عمر اب چھیالیس برس ہے اور میں عین اسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں جس کے ضائع ہونے کے بارے میں آپ نے چند ماہ قبل جرمنی میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ (ماخوذ) چالیس سال قبل افغانستان میں تشدد کی حمایت کرنا پاکستان کی غلط پالیسی تھی اور اس پالیسی نے پاکستان کی نسلوں، طرزِ معاشرت اور شہریوں کے اذہان کو مسلسل خرابی کے گھن چکر میں ایسا رکھا کہ پاکستانی نسل، معاشرت

Read more

میرے چند پچھتاوے

میری زندگی کا اک بہت دلچسپ مرحلہ مارچ 2015 سے شروع ہوا اور فروری 2017 پر ختم ہوا۔ اس مرحلے کے دوران چند اک بہت کلیدی سبق سیکھے اور ان تمام میں سے سب سے عمدہ سبق یہ پڑھا کہ اب ساری عمر بات جو بھی ہو، جیسی بھی ہو، کسی قسم کی جھجھک کے بغیر نرمگی سے مگر سیدھے سیدھے انداز میں کر دیا کرنا ہے، اس کے ساتھ فیصلہ کیا کہ میری زندگی، میری زندگی ہے۔ کسی اور

Read more

گولی سب پر چلے گی

خالد حسن، پرائم منسٹر بھٹو کے پہلے پریس سیکریٹری تھے۔ سنہ 2002 میں انہوں نے اپنی زندگی کی چار محبتوں پر اک کتاب تحریر کی اور اس کا ٹائٹل A Rearview Mirror رکھا۔ کتاب میں وہ پرائم منسٹر بھٹو کے ساتھ اپنی اک مختصر گفتگو کا ذکر کرتے ہیں جو اس موقع پر تھی جب 1974 میں تحریک نفاذِ نظامِ مصطفےٰ کی لاہور میں توڑ پھوڑ، گھیراؤ جلاؤ کے بعد ہونے والے تشدد میں ہونے والی قتل و غارت پر

Read more

ایک پنجابی، بلوچ کو خدا حافظ کہتا ہے

میرے بلوچ بھائی، اسلام علیکم: تم نہیں جانتے، مگر بلوچستان سے میرا رشتہ، میری پیدائش سے بھی پہلے کا ہے۔ میری والدہ، محترمہ نسیم اختر بتایا کرتی تھیں کہ انکے بڑے بھائی، میرے مرحوم ماموں، محترم مقبول احمد بٹ صاحب کوئٹہ میں ریلوے کی جانب سے گارڈ بھرتی ہو کر وہاں شاید انیس سو پچاس کی دہائی کے آخر یا انیس سو ساٹھ کی دہائی کے بالکل شروع میں، متعین ہوئے تھے۔ وہ وہاں گئے تو کچھ عرصہ کے بعد

Read more

میں علی ظفر کے ساتھ ہوں

میرے خاندان پر اچھا معاشی وقت تھا تو ملکوال، موجودہ ضلع منڈی بہاؤالدین، میں میرے والد اور چچا صاحبان کی اک کریانہ کی بڑی دکان تھی، اور ہماری دکان کے بالکل سامنے اک تنگ، مگر بہت چلنے والی منیاری کی دکان تھی۔ منیاری کی دکان کو آج کل جنرل سٹور کہتے ہیں۔ وہ منیاری کی دکان والے اپنے وقت کے بہت عمدہ انٹرپرینیور تھے اور بہت سارے چھوٹے چھوٹے، مختلف مگر چل جانے والے کام مسلسل کرتے رہتے تھے۔ انہی

Read more

پاکستانی بھولے کا اسلام۔ حصہ دوم

پیشِ تحریر: ”ہم سب“ والوں کو کہنا یہ ہے کہ جنابانِ من، آپ بڑے بڑے نابغوں کی نابغانہ چوہدراہٹی عقل کے بغیر ہی، اور صرف اپنی محنت و ذہانت کی بنیاد پر ہم سب کو اک مقام پر لے کر آئے تھے۔ اس کی ندرت اور بنیادی خیال کو زندہ رکھیں۔ آپ کی ویب سائٹ پر ٹریفک اور ہِٹس کی بلاشبہ اپنی اہمیت ہے۔ اس پر جو شائع ہوتا ہے، اس کی بھی بہرحال اپنی اہمیت ہے۔ خیال، تخلیق، خواب،

Read more