ایکس کی موت
دانش منزل میں خلافِ توقع گہما گہمی نظرا ٓرہی تھی ، ایکس ٹو نے پوری ٹیم کو خصوصی کال کے ذریعے فی الفور دانش منزل پہنچنے کا حکم دیا تھا۔ ممبران دانش منزل کے میٹنگ روم میں بیٹھے ایک دوسرے سے استفسار کر رہے تھے کہ آخر ایسی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ایکس ٹو نے بغیر کچھ بتائے ہمیں یک دم کال کر لیا۔
’’ہوگا کوئی عمران کا پاگل پنا، اپنے پیسے بنانے کے لیے ایکس ٹو کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھتا رہتا ہے‘‘۔۔۔ تنویر نے بھنائے ہوئے لہجے میں کہا۔
کیپٹن شکیل مسکراتے ہوئے گویا ہوا۔۔۔ ’’ لیکن یہ عمران صاحب آخر خود کہاں ہیں اور باس بھی کچھ نہیں بول رہے ‘‘۔
’’میں نے عمران کو کال کرکے اس ایمرجنسی میٹنگ کی وجہ جاننے کی کوشش کی تھی لیکن اس سے رابطہ نہیں ہوسکا، گھر پر فون کیا تو سلیمان نے کہا کہ صاحب کسی کی میت میں گئے ہوئے ہیں‘‘۔۔ جولیا نے اطلاع دی
انتقال کا سن کر ممبران کے چہرے یکد م سنجیدہ ہوگئے، ایسے میں میٹنگ روم کا دروازہ ایک دھماکے سے کھلا اور علی عمران اندر داخل ہوا اور ٹیم کو سلام کرتے ہوئے خلافِ توقع خاموشی سے اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ گیا۔
فوراً ہی کمرے میں لگا اسپیکر جاگ اٹھا اور ایکس ٹو کی سرد اوربارعب آواز کمرے میں گونجی۔۔ ’’ممبران ! آپ کے لیے ایک بری اطلاع ہے، ایکس سینئر( ابنِ صفی) کی موت ہی ہمارے لیے کیا کم صدمہ تھی کہ اب ایکس جونیئر ( مظہر کلیم ایم اے ) بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔‘‘
یہ سننا تھا کہ ممبران کے چہرے پر غم کے آثار نمودار ہوگئے،،، جولیا اور صالحہ کی تو آنکھوں میں باقاعدہ آنسو آ گئے۔ عمران جو مشکل ترین لمحات میں سنجیدہ نہیں ہوا کرتا تھا۔اس وقت سنجیدہ تھا۔
عمران صاحب ! یہ سب کیسے ہوا ؟۔۔۔۔ بمشکل تمام کیپٹن شکیل گویا ہوا۔
عمران جو کہ سرجھکائے کسی گہری سوچ میں غرق تھا، اس نے سر اٹھایا اور کہا۔۔۔ کیپٹن شکیل! تم تو جانتے ہو کہ ایک مشن وہ ہوتے ہیں جو ہم انجام دیتے ہیں ، ایک مشن وہ ہے جو پردے کے پیچھے رہ کر پہلے ایکس سینئر اور اب ان کے بعد ایکس جونیئر انجام دیا کرتے تھے۔ ان کے مشن ہمارے مشن سے بھی زیادہ دشوار ہوا کرتے ہیں‘‘۔
کیا مطلب ؟ مشن تو ہم ہی مکمل کرتے ہیں نہ!۔۔۔۔ تنویر کی آواز میں جھنجلاہٹ نمایاں تھی۔
عمران نے تنویر پر ایک اچٹتی ہو ئی نظر ڈال کرکہا۔۔۔۔۔ ’’ہاں تنویر ! مشن تو ہم ہی مکمل کرتے ہیں لیکن اگر ایکس سینئر یا ایکس جونیئر نہ ہوتے تو پھر مشن ہی نہ ہوتے اور خود سوچو اگر مشن ہی نہیں ہوتا تو ہم کیا کرتے‘‘۔
ہممم۔۔۔۔۔ تنویر نے ایک طویل ہنکارا بھرا۔
تو میں کہہ رہا تھا کہ ایکس جونیئر کو جو مشن درپیش تھا وہ ہمارے تمام سابقہ مشنوں سے زیادہ مشکل تھا ، یہ زندگی کا مشن تھا ، وہ اپنے پیش رو کی طرح ساری زندگی اپنی جان پر کھیل کر ہمیں بچاتے رہے اور کامیابیاں دلاتے رہے لیکن اس جنگ میں بالاخر وہ اپنی زندگی کی بازی ہار گئے۔۔۔۔ عمران نے ایک سانس میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، اس کے لہجے میں اداسی نمایاں تھی۔
’’تو عمران تمہارے خیال میں کیا اب یہ سیکرٹ سروس ختم ہوجائے گی ، یا ایکس جونیئر کی جگہ کوئی اور سنبھالے گا‘‘۔۔۔۔ جولیا کی آواز میں فکر مندی نمایاں تھی۔
’’فی الحال تو تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی، آپ تمام ممبران اگر کہیں چھٹیوں پر ایک ساتھ جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں۔ تب تک میں اور عمران ’سپر ایکس‘ ( نئے مصنف) کی تلاش جاری رکھیں گے، جیسے ہی ہمیں وہ مل جائے گا، آپ سب کو دوبارہ کال کر لیا جائے گا‘‘۔۔۔۔ ایکس ٹو کی آواز اسپیکر پر گونجی۔
’’ باس! معذرت کے ساتھ ، لیکن کیا میں جان سکتا ہوں کہ سپر ایکس جس کی تلاش کی جائے گی اس میں کون کون سی خوبیاں ہونی چاہیے ہیں‘‘۔۔۔ صدیقی نے استسفار کیا۔
’’ وہ تمہیں عمران بتادے گا کہ ہم کس قسم کا شخص اپنی کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے ڈھونڈ رہے ہیں لیکن ایک بات واضح کردوں۔۔ سپر ایکس جو بھی ہوگا ، اس کا علی عمران سے زیادہ ذہین اور آج کی دنیا سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے‘‘۔۔۔ ایکس ٹو نے کہا، اور اس کے ساتھ ہی اسپیکر خاموش ہو گیا۔
ممبران عمران کی جانب متوجہ ہوئے، لیکن یہ کیا وہ تو آنکھیں بند کیے سورہا تھا ، اس کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان تھا جیسے اس نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب پاکیشیا کی بقا کے اس عظیم ترین مشن کو آگے کون بڑھائے گا۔


