نیوزی لینڈ حملے کے ردعمل میں کارفرما نفسیات

تربیت ہی آدمی کو انسانیت کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ ایک غیر تربیت یافتہ ذہن کبھی بھی تربیت یافتہ ذہن کا مقابل نہیں بن سکتا۔ اسی کو قرآن میں یوں کہا گیا ہے کہ ”اے نبی، کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں۔ نصیحت تو وہی حاصل کرتے…

Read more

عورت راج، سماج اور ہم

اچھا جناب تو آٹھ مارچ یا عورت مارچ کا قیامت خیز دن گزرچکا اور اس کے بعد دو دن اور بھی گزر گئے۔ کیا اب ہم کچھ ہوش مندی کی باتیں کرنے کے موڈ میں ہیں یا ابھی بھی ماں بہن اور باپ بھائی ہی ایک کرنا ہیں؟اگر سنجیدہ بات کرنے کا ارادہ ہے تو دل تھام کر پڑھیں۔عورت مارچ کے پوسٹر آپ کو نازیبا لگے، شاید وہ تھے بھی۔ کم از کم میرے گھر میں یہ زبان استعمال نہیں ہوتی۔ لیکن مجھے اس سے پریشانی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں ظہورکرنے والے آخری حکیم جون ایلیا نے ہمیں سمجھایا تھا کہ ’اگر میں اپنے جھوٹ کے ساتھ خوش ہوں تو تم مجھ پر اپنا سچ مسلط کرنے والے کون ہوتے ہو‘ ۔ سو اگر وہ پوسٹر نازیبا تھے بھی تو وہ ان کا جھوٹ ہے۔ مجھے اور آپ کو پروا اپنے سچ کی ہونی چاہیے۔

Read more

قیامِ امن کے لیے جنگیں بہت ضروری ہیں

”قیامِ امن کے لیے جنگیں بہت ضروری ہیں“۔ ہیں! کیا کہا؟ قیامِ امن کے لیے جنگیں ضروری ہیں۔ آپ یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ کیسی واہیات بات کردی میں نے۔ بھلا جنگ بھی کبھی امن کی ضمانت ہوسکتی ہے۔ اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ جملہ یقیناً کسی ایسے شخص کا تحریر کردہ ہے جسے خبر نہیں ہے کہ جنگوں کی تباہ کاری کیا ہوتی ہے۔ شاید ایسا ہی ہو، شاید میں واقف نہیں کہ جنگوں کی تباہ کاری کیا ہوتی ہے کہ میرے ملک پر براہ راست جنگ مسلط نہیں ہوئی۔

لیکن میں اس ریاستِ پاکستان کے شہر کراچی کا باشندہ ہوں جو کہ گزشتہ اٹھارہ سال سے حالتِ جنگ میں ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ جنگ سرحدوں پر نہیں بلکہ ہمارے شہروں اور بازاروں میں لڑی گئی ہے۔ اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ دو دہائیوں سے جاری اس جنگ میں اب تک صرف پاکستان نے مجموعی طور پر 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے اور یہ جانی نقصان افغانستان اور عراق سے زیادہ ہے جہاں جنگ براہ راست لڑی گئی، اور یقیناً فاٹا اور خیبر پختونخواہ کی طرح کراچی نے بھی۔

Read more

منٹو پڑھنا منع ہے

عدالت کھچا کھچ بھری ہوئی تھی کہ منصف کے سامنے ایک ایسے انسان کا مقدمہ پیش کیا جانے والا تھا جو کہ کئی دہائیاں قبل وفات پا چکا تھا۔ مقدمے کا لبِ لباب یہ تھا کہ سعادت حسن منٹو نامی ایک مصنف طبی موت پاجانے کے باوجود اپنی حرکتوں سے باز نہیں آرہا اور مسلسل معاشرے میں بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔
ہرکارے نے آواز دی۔
سعادت حسن منٹوحاضر ہو۔

دنیا نے دیکھا کہ سادہ سا لباس پہنے، خدائی عذاب میں مسلسل مبتلا رہنے کے سبب مدقوق الحال منٹو، اپنی لاش گھسیٹتا ہوا کٹہرے تک پہنچا۔ ایک نظر زمینی خدا پر ڈالی اور پھر مجمعے کی جانب دیکھنے لگا۔

Read more

زینب کے قاتل کو پھانسی، کچھ سوال تختہ دار پر جھول گئے

رواں سال کے پہلے مہینے میں قصور شہر کے ایک کوڑے کے ڈھیر سے ننھی زینب کی لاش برآمد ہوئی۔ سوشل میڈیا پر اس کی تصویر اور ظلم کی داستان وائرل ہونے سے حکومت اور پولیس پر بے پناہ دباؤ آیا اور جلد ہی عمران نامی مجرم کو دھرلیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کا تیز…

Read more

یا خدا تو عذاب ہی بھیج دے

ماضی بعید میں خدا جن قوموں سے ناراض ہوا کرتا تھا ان پر عذاب بھیجا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ قوم توبہ کی جانب مائل ہوتی یا صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی تھی، ہر دو صورت میں ان کی دنیاوی تکالیف کا خاتمہ ہوجاتا تھا، آخرت کا معاملہ خداکا ہے تو اسی کے…

Read more

دوام – ماحولیاتی تبدیلیوں پراردو ادب کا پہلا ناول

میں ہمیشہ سے اس بات کا قائل ہوں کہ بحیثیت زبان اردو کے دامن میں بے پناہ گنجائش ہے اوراس میں وہ تمام لوازمات موجود ہیں جو کسی بھی زبان کو بین الاقوامی زبان بننے کے لیے درکار ہوتے ہیں۔ اردو ادب پر ناقدین کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہاں موضوعات…

Read more

ایکس کی موت

دانش منزل میں خلافِ توقع گہما گہمی نظرا ٓرہی تھی ، ایکس ٹو نے پوری ٹیم کو خصوصی کال کے ذریعے فی الفور دانش منزل پہنچنے کا حکم دیا تھا۔ ممبران دانش منزل کے میٹنگ روم میں بیٹھے ایک دوسرے سے استفسار کر رہے تھے کہ آخر ایسی کیا وجہ ہوسکتی ہے کہ ایکس ٹو…

Read more

تاریخِ انسانیت کا محسن۔ کارل مارکس

جدید انسانی معاشروں میں جن افراد نے اپنے نقوش چھوڑے ہیں ان میں سب سے زیادہ واضح اثرات کارل مارکس کے ہیں۔ کچھ لوگ جغرافیے تبدیل کرتے ہیں، کچھ اقوام کو بدلتے ہیں لیکن کارل مارکس نے صدیوں سے اپنے محور پر بہتےہوئے معاشی نظام کا دھارا یکسر تبدیل کرکے تاریخ کا رخ ہی پلٹ…

Read more